Thursday, January 5, 2017

خوبصورت موڑ"(Urdu Poetry)

"خوبصورت موڑ"

چلو اِک بار پھر سے ، اجنبی بن جائیں ھم دونوں
نہ میں تم سے کوئی اُمید رکھوں ، دلنوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو ، غلط انداز نظروں سے

نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھرائے ، میری باتوں سے
نہ ظاہر ھو ، تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے

تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ھیں ، کہ یہ جلوے پرائے ھیں

میرے ھمراہ بھی ، رُسوائیاں ھیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی ، گزری ھُوئی راتوں کے سائےھیں

تعارف روگ ھو جائے ، تو اُس کا بُھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے ، تو اُس کا توڑنا اچھا

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ، نہ ھو ممکن
اُسے اِک خوبصورت موڑ دے کر، چھوڑنا اچھا

چلو اِک بار پھر سے ، اجنبی بن جائیں ھم دونوں

”ساحر لدھیانوی“

No comments:

Post a Comment

دنیا بدل چکی ہے

 دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس  اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...