انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار
Thursday, April 20, 2023
انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار
Tuesday, April 18, 2023
عدالتی انتشار
عدالتی انتشار
اظہر عباس
اگر میں یہ کہوں کہ معاشی تباہی اور سیاسی انتشار کے بعد اب ملک اداراتی انہدام کی جانب چل نکلا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔
کچھ عرصہ کیلئے تھوڑا ماضی میں جا کر سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کا دور یاد کریں جب پی سی او ججز کو فارغ کیا گیا تو مختلف ہائی کورٹس میں ایک خلا پیدا ہوا جسے افتخار چوہدری نے مختلف سینئیر وکلا کے چیمبرز میں کام کرتے ان کے ایسوسی ایٹس/ عزیز و اقارب اور دوست و احباب سے پر کیا۔ مختلف حلقوں سے کچھ کمزور آوازیں بھی اس اقدام کے خلاف اٹھیں تاہم اس وقت افتخار چوہدری صاحب انصاف کے دیوتا کے منصب پر فائز ہو چکے تھے اس لئے ان کمزور آوازوں کو یا تو دبا دیا گیا یا پھر ان کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن ان کے اس اقدام کا خمیازہ آج پوری قوم اور دنیا دانتوں میں انگلیاں دبائے دیکھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں موجود لاہوری گروپ اپنے غیر محدود اختیارات کو بروئے کار لا کر نا صرف آئین کی نئی تشریحات کر رہا ہے بلکہ جہاں انکی تشریحات کام نا کریں وہاں آئین کو دوبارہ تحریر کرنے سے لے کے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کو جنم لینے سے پہلے اسقاط سے بھی دریغ نہیں کر رہا۔
کیا مذاق کہ چیف جسٹس نے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے پسندیدہ ججوں کا 8 رُکنی بینچ تشکیل دے ڈالا۔CONFLICT OF INTEREST پر ہچکچائے نہ شرمائے۔ جبکہ تمام اہل شعور اس کی نشاندہی کر چکے تھے۔
چند دنوں میں تین واقعات، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریویو پٹیشن پر فیصلہ محفوظ، الیکشن کمیشن کے 14 مئی کے انتخابات پر حکومتی افسران کی طلبی اور سب سے بڑھ کر سپریم کورٹ کے انتظامی امور پر بل جو ابھی نافذ العمل ہی نہیں ہوا اُس پر 8 رُکنی بینچ کی تشکیل اور اسٹے آرڈر سپریم کورٹ کی اندرونی دھینگا مُشتی، مقننہ اور ایگزیکٹو سے ٹکراو پر توہینِ عدالت اور پارلیمان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم بربادی کو تیز کرے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑا کر ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ مملکت ایسے موڑ پر ہے جہاں عمران خان بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ لڑائی اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چُکی ہے اور مملکت منہ کے بل اوندھی پڑی ہے۔
جنگ/ جیو کے معاشی امور کے ماہر اور رپورٹر مہتاب حیدر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے انعقاد کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 21 ارب روپے کی رقم جاری کرنے کی ہدایت کو اختیار پر کنٹرول کے طور پر سمجھا گیا ہے جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت فنانس ڈویژن کے پاس ہے۔
کابینہ اور وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی رضامندی کے بغیر وزارت خزانہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری اور جاری نہیں کر سکتی جس کے لیے بعد ازاں قومی اسمبلی کی پوسٹ فیکٹو (قانون جس کا اطلاق زمانہ ماقبل سے ہو) منظوری درکار ہے۔
پی ایف ایم ایکٹ 2019 واضح طور پر اس کی وضاحت کرتا ہے کہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کی تحویل کے عنوان کے تحت فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کا آپریشن وفاقی حکومت کی مجموعی نگرانی کے تحت فنانس ڈویژن میں کام کرے گا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک الیکشن کے اخراجات کے لیے 21 ارب روپے کا فنڈز جاری کرتا ہے تو آئی ایم ایف اس پر اعتراض کرسکتا ہے جس سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاملات میں مشکلات پیش آسکتی ہیں.
یاد رہے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں بھی الیکشن کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔
Monday, March 20, 2023
انتشار یا انارکی ؟
https://e.dailyauthority.pk/page.php?Page=2&date=20-03-2023&city=isb
Friday, March 3, 2023
کرامویل کی کہانی - برطانوی تاریخ سے ایک ورق
پوگو دیکھئے
اظہر عباس
ہمارے سب کے لاڈلے عمران خان صاحب سے آپ چاہے جتنا اختلاف کر لیں لیکن وہ جو چاہتے ہیں وہی کرتے ہیں، چاہے اس سے سب کو کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت کے رہنما بھی ان سے اختلاف کررہے ہوتے ہیں مگر وہ وہی کرکے دکھاتے ہیں جو انہوں نے کہہ دیا ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی تنقید یا اختلاف کی پروا نہیں کرتے۔ مخالفین اسے ضد کہیں یا انا، تکبر کہیں یا خوداعتمادی، وہ کسی کی پروا کیے بغیر وہی سب کچھ کرتے چلے جارہے ہیں جو ان کے جی میں آتا ہے۔ اس میں وہ ملک کے نفع و نقصان کی بھی کوئی پروا نہیں کرتے، صرف اپنی مرضی کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں جب انہیں معلوم ہے کہ پارٹی میں ان کے علاوہ کوئی اور تو ہے نہیں۔ وہی سب کچھ ہیں، پارٹی ان ہی کی ہے۔ اگر آسان الفاظ میں کہیں تو وہی پی ٹی آئی ہیں۔ ان کے بغیر پی ٹی آئی کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہ جو چاہیں گے پارٹی میں وہی ہوگا، جو نہیں چاہیں گے وہ نہیں ہوگا، چاہے اس کےلیے کوئی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے۔ ان کی مرضی کے بغیر پی ٹی آئی میں کوئی پتّہ تک نہیں ہل سکتا۔ وہ جسے چاہیں گے وہ پارٹی میں رہے گا، جس سے ان کا جی بھر جائے گا تو اس کی تمام تر خدمات، اس کی اے ٹی ایم، اس کے جہاز، سب کچھ فراموش کرکے اسے پارٹی سے نکال پھینکا جائے گا۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں عمران خان کی محض ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ان کے دیرینہ رفقا، تحریک انصاف کے اہم عہدیداران اور اہم ترین خدام کو نکال باہر کیا۔ بلکہ بہت سے پی ٹی آئی کے بانیان کو بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔
دل و جان سے ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ایسے بھی ہیں جو اب بھی عمران خان کو نہایت عزیز رکھتے ہیں، خان صاحب کسی بھی حال میں ہوں یا کچھ بھی کریں، وہ خان صاحب کی محبت میں آنکھیں بند ہی رکھتے ہیں
انکی جماعت سہاروں پر ہی چلتی آرہی ہے، جیسے وفاق میں سہارا کھینچا گیا تو دھڑام سے گرگئی، اسی طرح پنجاب میں بھی سہاروں کو قائم رکھنے کےلیے ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
بہرحال بات وہیں آجاتی ہے کہ عمران خان اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو جی میں آئے کر گزرتے ہیں اور ایک بار جو فیصلہ کرلیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ جیسے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ انہوں نے کرلیا تو پرویزالہٰی جو پنجاب میں ان کی حکومت قائم رکھنے کا واحد ذریعہ ہیں، ان کی بھی نہیں چلنے دی اور اسمبلی کی تحلیل پر ان سے دستخط کرا کے ہی دم لیا۔ جس سے معلوم ہوا وہ ایک ایسے شخص ہیں کہ جس بات کی ٹھان لیں وہ کر گزرتے ہیں، چاہے اس سے ان کا ذاتی نقصان ہو یا ملک کا، وہ کسی بات کی پروا نہیں کرتے۔
بائیس سالہ جہدوجہد کا خاتمہ ترین و علیم کے جہازوں پر ہوا۔ بھر بھر کر تبدیلی کے کھلاڑی لائے گئے۔ حیران کن طور پر اس پورے عمل کو جمہوری بھی کہا گیا اور بہترین بھی۔ آزاد پنچھی لانا غیر جمہوری رویہ نہیں تھا، لیکن جہازوں کی جس طرح تشہیر کی گئی اس سے ایک بات یقینی ہوگئی کہ کہانی گنتی سے شروع ہوکر یقیناً گنتی پر ختم ہوتی ہوگی۔ بہرحال طاقت مل گئی۔ لیکن اس طاقت کو حاصل کرنے کے بعد کیا ہوا؟
پاکستانی معاشرے کا باشعور طبقہ یقینی طور پر اس بات کا حامی تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اہم ہے۔ کرپشن کے راستے روکنا ضروری ہے۔ معاشی لحاظ سے پاکستان کو آگے لے جانا اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن نہیں جناب! ہم نے بائیس سالہ جہدوجہدِ پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلیے کی ہی نہیں تھی، بلکہ ہمارا مقصد ہی بس طاقت کا حصول تھا، جس کےلیے ہم نے ہر حربہ آزمایا۔ عمران خان نے پہلی تقریر کے برعکس چن چن کر انتقامی سیاست کےلیے لوگ ڈھونڈے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ پہلے ملک کو مضبوط بناتے پھر چوروں پر بھی ہاتھ ڈالتے۔ واویلا شروع کردیا گیا، چن چن کر من پسند افراد کو عہدے دیے جانے لگے، جو اس سے پہلے بھی ہورہا تھا۔ معاشی ٹیم؟ پچاس لاکھ گھر؟ ایک کروڑ نوکریاں؟ ایشین ٹائیگر؟ اقوام عالم میں مقام؟ متنازع معاملات میں مضبوط موقف؟ یہ سب تو تب ہوتا جب عمران خان طاقت حاصل کرنے کے بعد عاجزی سے ملک کی خدمت کو اپنا شعار بناتے۔ نہ تو واضح لائحہ عمل تھا اور نہ ہی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلیے کوئی سمت، لہٰذا ایک ہی ایجنڈا باقی بچا غصہ، غصہ اور صرف غصہ۔
اور کچھ نہ ہوا تو بیوقوفانہ فیصلے کیے جانے لگے۔ ترقی کی طرف توجہ کے بجائے سیاسی انتقام کی جانب سوچ کے پیادے دوڑا لیے گئے۔ عقل کے اندھے اس حقیقت سے دور ہوگئے کہ تین سال کم از کم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے اور اس کے بعد چن چن کر چوروں کو سولی پر لٹکا دیتے تو آپ کی واہ واہ بھی ہوتی اور عالمی برادری میں نام بھی۔ لیکن حال یہ ہے کہ پلستر زدہ ٹانگ کے علاوہ انتخابی مہم میں کچھ دکھانے کو نہیں۔
کیا ان کے چاہنے والوں کو ابھی بھی احساس نہیں ہوا کہ کیسے ان کا جذباتی استحصال کیا گیا ؟ خان صاحب اور ان کے پیچھے بیٹھے عیاروں نے اپنا مشن بہت کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے گھٹنے زمین سے لگوا دئے ہیں۔ کشمیر مقبوضہ سے نکل کر انڈیا کا حصہ بن گیا۔ ملک انارکی اور ادارے انتشار کا شکار ہو چکے ہیں
ملین ڈالر کا سوال ہے کہ پندرہ برس میں ایسا کیا ہوا کہ ساٹھ سال کے قرضے چھ ہزار ارب روپے سے بڑھ کر پچاس ہزار تک جا پہنچے۔ ڈالر ساٹھ روپے سے تین سو تک جا پہنچا۔ کیا ایک جامع منصوبے کے تحت پچھلے پندرہ برس میں پاکستان کو اس حال تک پہنچایا گیا؟ ایسا کوئی منصوبہ اگر بنایا گیا تھا تو کامیاب ہو چکا۔ پراجیکٹ عمران خان کامیابی سے ہم کنار ہو چکا۔ اس انارکی کے ذمہ داروں کو پہچانیں۔ عمران خان کو کیوں کوستے ہیں وہ تو Puppet تھا۔ اس کٹھ پتلی کو بنانے اور نچانے والوں کو ان کی Safe Heavens سے نکالیں۔ ان سے وصولیاں کریں۔ شجاع پاشا، ظہیرالاسلام، فیض حمید کو پکڑیں۔ باجوہ، کیانی اور راحیل شریف کو کٹہرے میں لائیں۔
ہے کسی میں ہمت ؟
اگر کچھ نہیں کر سکتے تو POGO دیکھیں۔ ٹم ہارٹن جائیں، کافی پئیں اور موج کریں
Friday, February 10, 2023
کیا ہم پوچھ سکتے ہیں ؟
کیا ہم پوچھ سکتے ہیں ؟
اظہر عباس
ہم اپنی گزشتہ تحریروں میں بارہا کہہ چکے کہ پاکستانی معیشت دو ملکوں کی معیشت کا بار اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے سے قاصر ہے اور صرف یہی عنصر ڈالر کی اونچی اڑان اور اندرون ملک میں مہنگائی کا سبب لیکن اب امریکی نشریاتی ادارے ’’بلوم برگ‘‘کی تازہ ترین رپورٹ میں لگی لپیٹی رکھے بغیر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سے یومیہ 50 لاکھ ڈالر غیر قانونی طور پر افغانستان اسمگل کئے جا رہے ہیں۔
افغانستان کو ہر روز تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر درکار ہوتے ہیں، ان میں سے نصف اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم ہوجاتے ہیں کیونکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ہفتے 4کروڑ ڈالر کی امداد نقد فراہم کی جاتی ہے جبکہ باقی ماندہ ڈالر غیر قانونی طور پر ڈالروں کی اسمگلنگ سے پورے کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی روپیہ اس خطے کی سب سے کمزور کرنسی بن چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر محض 3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جبکہ افغانی اس خطے کی سب سے مضبوط کرنسی بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر طالبان کے کابل پر قابض ہونے کے بعد دسمبر 2021ء میں ایک امریکی ڈالر 124.18 افغانی میں دستیاب تھا مگر اب افغان کرنسی 89.96 افغانی میں ایک ڈالر دستیاب ہے۔ اسکے برعکس پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر جو دسمبر 2021ء میں 176.51 روپے کا تھا اب 274.70 روپے کا ہوچکا ہے۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ اسمگلنگ کیسے ممکن ہوئی اور اس کی روک تھام پر مامور ادارے کیا کر رہے ہیں ؟
پوچھنے کو تو بہت سے سوال ہیں لیکن چند سوالات جو ہم پوچھ سکتے ہیں وہ ہمارے ذہنوں میں ہی جنم لیتے اور کچھ عرصے ہمیں خلجان میں رکھنے کے بعد کسی نئے سوال کا موجب بنتے ہیں مثلا 274 بلین ڈالرز کا قرض ہم اپنے اوپر چڑھا چکے ہیں مگر آج بھی ہمیں تعلیم، صحت، روزگار، ترقی اور سکون میسر نہیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ اتنے قرضوں کے باوجود بھی ہم بھوکے کیوں ہیں؟ اتنا قرض لینے کے باوجود بھی ہم دنیا میں آگے کے بجائے پیچھے کیوں جارہے ہیں۔ اور اتنا قرض لینے کے بعد بھی ہم مزید قرضوں کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں؟
معیشت کو سنبھالنے کےلیے آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کی باتیں کی جارہی ہیں، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قرضوں سے ہمیں کیا ملا؟ ہم عوام کیوں مزید قرض تلے دب گئے؟ ہم نے تو کبھی بینکوں کا رخ بھی نہیں کیا، ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ قرض کب اور کیوں لیا گیا، کس کی اجازت سے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے پاس گئے؟ ہم تو روزانہ مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ ہمارے نام پر اگر کسی نے قرض لیا تو اس قرض سے ہمیں ریلیف کیوں نہیں ملا ؟
اگر یہ قرض تعلیم کے نام پر لیا گیا تو ہمیں بتایا جائے کہ آج ہمارے بچے پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں کیوں تعلیم حاصل کررہے ہیں؟ اگر یہ قرض صحت کےلیے لیا گیا تو ہمیں بتایا جائے کہ کیوں ہم پرائیوٹ اسپتالوں میں پریشان ہورہے ہیں؟ اگر یہ قرض سڑکوں کی تعمیر کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے ہم کیوں آج بھی کھنڈرات پر چل رہے ہیں؟ اگر یہ قرض تعمیر و ترقی کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے کہ ہم کیوں پھر تنزلی کا شکار ہیں۔ کیوں ہم اس قرض کی بدولت ترقی کے بجائے آج ڈیفالٹ کی حالت پر پہنچ گئے؟
اگر یہ قرض بچوں کی دیکھ بھال کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے کہ ملک میں غریب کا بچہ کیوں پیدا ہوتے ہی مررہا ہے؟ اگر یہ قرض یوٹیلٹی اسٹورز پر دی جانے والی سبسڈی کےلیے لیا گیا تو بھی ہمیں یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ وہ کون سی اشیا ہیں جن پر سسبڈی دی گئی، جو ہمیں آج تک نہیں ملی؟ اگر یہ قرض سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر خرچ کیا گیا تو بھی ہمیں بتایا جائے کہ کس ادارے کو کتنا نوازا گیا ؟ دنیا سے ملنے والی بھیک اور قرض کہاں خرچ ہوا، یہ جاننا عوام کا حق ہے اور یہ عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ قرض جنہوں نے لیا وہ کیوں مالدار ہوگئے؟ ان لوگوں کے ہاتھوں میں کون سا قارون کا خزانہ لگ گیا جس سے یہ لوگ راتوں رات امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور عوام غریب سے غریب تر
اگر کسی کے پاس ان سوالات کے جواب ہوں تو ہمیں بھی ارسال فرمائیں لیکن یہ قرض پر چلنے والی معیشت کا ماڈل کب تک چلے گا۔ اب تک ہم قرض لیکر اثاثے بنانے اور پھر ان پر مزید قرض لینے کے معاشی ماڈل پر چل رہے ہیں۔ کیا اسے تبدیل کرنے کا وقت نہیں آ گیا ؟
Sunday, February 5, 2023
آسانیاں تقسیم کیجئے
آسانیاں تقسیم کیجئے
اظہر عباس
اب سے 23 برس قبل زوگے اور وانیا کونٹینو کے والد نے انہیں جنگ زدہ یوگوسلاویہ سے طیارے میں بٹھا کر روانہ کر دیا تھا۔ اس غیر یقینی صورتحال میں دونوں نو عمر بہنیں امریکا پہنچیں تو دورانِ پرواز ان گم سم اور خوفزدہ بہنوں کو ایک خاتون نے لفافے میں 100 ڈالر کی رقم دی تھی جس سے ان کی مشکلات کم ہوئی تھیں۔
اس لفافے پر خاتون کے متعلق صرف اتنا لکھا تھا کہ وہ ٹینس کھیلتی ہیں، ان کا نام ٹریسی پیک ہے اور وہ بلین، منی سوٹا کی رہائشی ہیں۔ دورانِ پرواز دونوں بہنوں نے اپنی شکستہ انگریزی میں ٹریسی کو اپنا دکھڑا سنایا تھا۔ جہاز سے باہر آتے وقت ٹریسی نے انہیں ایک لفافہ دیا جس پر لکھا تھا:
"مجھے افسوس ہے کہ آپ کے ملک میں بمباری جاری ہے اور آپ کا خاندان مصائب کا شکار ہے۔ امید کرتی ہوں کہ امریکا میں آپ کا رہنا محفوظ اور بامسرت ہوگا۔ امریکا میں خوش آمدید، برائے مہربانی اسے اپنی مدد میں استعمال کیجئےگا۔"
طیارے میں آپ کی دوست
ٹریسی
جب زوگے اور وانیا نے لفافہ کھولا تو اس میں 100 ڈالر کی رقم تھی جو ان کے بہت کام آئی۔ یہاں تک کہ دونوں بہنوں نے 23 برس تک لفافہ سنبھال کر رکھا۔ تاہم انہیں معلوم نہ تھا کہ ایک دن شفیق اجنبی عورت کی یہ نشانی انہیں ملانے کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔ ہاتھ سے لکھے اس لفافے پر اب تک ایک شکن بھی نہیں آئی ہے۔
یہ کہانی امریکی نیوز چینل پر پہنچی تو انہوں نے اس کی شناخت شروع کردی اور جلد ہی ٹریسی کا پتا چل گیا آخرکار انہیں سی این این ہیرو نامی پروگرام میں مدعو کیا گیا۔
ٹریسی کے پہنچنے سے قبل زوگے اور وانیا دونوں کرسمس درخت کے پیچھے چھپ گئیں اور جیسے ہی ٹریسی قریب آئیں تو دونوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور بغل گیر ہوکر تینوں دیر تک روتی رہیں۔ اس حیرت انگیز کہانی پر پورے امریکا سے ہزاروں پیغامات اور ای میل موصول ہوئیں اور لاکھوں افراد نے یہ پروگرام دیکھا.
1999 میں وانیا کونٹینو کی عمر 17 اور زوگے صرف 12 سال کی تھیں جب ان کے والدین نے بحالت مجبوری انہیں الوداع کہا تھا۔ اب وانیا کنیکٹکٹ میں ایک کامیاب انیستھیسیا لوجسٹ ہیں جبکہ 35 سالہ زوگے بوسٹن میں خاتونِ خانہ ہیں۔
انسان کی ترقی کا آغاز ہی سوچ سے ہوتا ہے۔ ہم اپنے خیالات اور رویوں کو تبدیل کر کے اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اپنے اندر کی صلاحیتوں اور خوبیوں کو تلاش کر کے دوسروں کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں
کائنات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فائدہ مند سب کے لئے ہونا ہے- بنیادی چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے لازم ہیں وہ بلا معاوضہ ہیں۔ آکسیجن، زمین جو غذا دیتی ہے، فصل اگاتی ہے، سمندروں میں مچھلیاں بلا معاوضہ ہیں جو غذائی ضروریات پوری کر سکتی ہیں، سورج کی روشنی بلا معاوضہ ہے، بارش سب کے لئے ہے۔ جنگلی حیات سب کے لئے ہے۔
تو قدرت نے تو زندگی برقرار رکھنے کے سب انتظامات ہمیں مہیا کر دئے تھے۔
ایک اصول یہ بھی ہے کہ خیر اور مفید ہونے کا سلسلہ پھلتا پھولتا یے۔ قدرت تو چاہتی ہے کہ سب جیتیں سب کو یکساں مواقع ملیں۔
اگر ہم اپنی سوچ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں تو ہم بھی ایک دوسرے کیلئے مفید ہو جائیں گے-
ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس سے ہمیں تو فائدہ ہو ہی ہو لیکن نیت یہ رکھیں کہ ہمارے کئے سے دوسروں کو بھی خیر ملنا چاہیے تو قدرت کی طاقتیں ہماری نیت کے ساتھ ایک فریکوئنسی پر کام کرنے لگتی ہیں-
جو بھی کر رہے ہیں اس پر غور کریں اگر جیت صرف آپ رہے ہیں تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ اگر آپ دوسروں کا راستہ آسان کر رہے ہیں تو آپکو ایسے اسباب اللہ کی رحمت سے میسر ہوں گے جو آپکی سوچ سے باہر ہوں گے۔
ترقی یافتہ ملکوں نے یہ زاویہ سمجھ لیا ہے- ان ملکوں میں مواقع سب کے لئے ہیں۔ پارک سب کے لئے ہیں۔ سڑکیں سب کے لئے ہیں۔ عزت نفس مجروح کئے بغیر ماحول دوستی کے نام پر مناسب استعمال شدہ اشیاء ارزاں قیمت پر سب بخوشی استعمال کر لیتے ہیں۔ اس لئے کم ازکم کپڑوں، جوتوں، گھر کے فرنیچر، اشیائے صرف کی بنیاد پر امارت غربت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
خود کو مفید بنا لیں-
خود غرضی جانے دیں-
جب آپ دوسروں کا بھلا کریں گے تو کائنات کا مالک آپ کی مدد کرے گا کیونکہ آپ اس کے بندوں کی زندگی آسان کرنے میں اپنی توانائی استعمال کر رہے ہیں- یہ کلیہ سمجھ لیں اور دیکھیں زندگی کیسے بدلتی ہے۔
جو دوسروں کیلئے راحت کا اہتمام کرتے ہیں اللہ تعالٰی کی خاص رحمت ان کا مقدر بن جاتی ہے.
دوسروں میں آسانیاں تقسیم کریں. آپ کا راستہ خود بخود ہموار ہو جائے گا. اگر اپ جاننا چاہتے ہیں اللہ تعالی اپ کے ساتھ کیا معاملہ کریگا- تو اپ دیکھیں کہ اپ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں-
رب العالمين اپنی خاص رحمت سے آپ اور آپ کے گھرانے پر ہمشیہ مہربان رہے اور اپنی شان اور صفات کے مطابق خوب رحمتیں نازل فرمائے۔
آمین
Thursday, January 12, 2023
کیا پروجیکٹ عمران ختم ہوا ؟
کیا پروجیکٹ عمران ختم ہوا ؟
اظہر عباس
جن لوگوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتیں ختم ہوتے اور پھر ان کو پابند سلاسل ہوتے، جیلوں کی نظر ہوتے اور ایک سے دوسری عدالت کے چکر لگاتے دیکھا ہے کیا وہ دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دے سکتے ہیں کہ پراجیکٹ عمران ختم ہوا۔ مجھ سے پوچھیں گے تو میرا جواب ہو گا کہ "نہیں"
پراجیکٹ عمران ختم نہیں ہوا بلکہ ہائبرڈ رجیم کا تجربہ ختم ہوا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ پراجیکٹ بھی جاری رہے گا اور دہشت گردی بھی کیونکہ اب طالبان کا وہ رول شروع ہوا ہے جس کیلئے انہیں امریکیوں نے لا کر بٹھایا تھا۔ اگر کسی نے قومی سلامتی کمیٹی کا بیان اور اس پر طالبان کے جواب پر غور نہیں کیا تو اس کو اب کرنا چاہئیے
ملکی سیاست اب 1990 کی دہائی پر پہنچی۔ ڈیموکریٹس اب کئی اکائیوں میں بٹ چکے اور پراجیکٹ کے معماروں کا ایکا۔ عین وہی سچویشن جو بےنظیر بھٹو اور نواز کی جنگ کے اوائل میں تھی اور یہ بادشاہ گر ہوا کرتے تھے۔
اس لئے نئی سچویشن میں فکر سیاست کی نہیں اپنے ہمسایہ کی یلغار کی کیجیے۔ سیاست کا نقشہ سامنے نظر آ رہا ہے کہ وہی دہشت گردی اور وہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورتحال۔ آپس میں لڑتے رہئیے اور انکا پیٹ پالتے رہئیے
ایک پورا طبقہ اکٹھا کر کے اسے ایک دیوتا دینا اور پھر اپنا کھیل کھیلنا کوئی آسان کام ہے ؟ داد دیں انہیں جنہوں نے یہ کھیل کھیلا
جنرل ضیاء الحق نے ایک جعلی اشرافیہ کو پروان چڑھایا ۔ جس کا مقصد ہی ریاستی وسائل پر قبضہ کر کے عیش و عشرت کرنا تھا۔ یہ اشرافیہ آج بھی پورے پاکستان پر حکومت کر رہی ہے۔ کسی اہم ترین مقتدر شخص کو پرکھ لیجیے۔ اس کا یا اس کے خاندان کا جادوئی عروج‘ جنرل ضیاء کی حکمرانی سے منسلک ہو گا۔ اس اشرافیہ نے اب تمام ملکی وسائل پر نہ صرف قبضہ کر لیا ہے بلکہ اپنے اتنے حواری بھی پیدا کر لیے ہیں جو بذات خود اب حقیقی منفی نظام بن چکے ہیں۔ اور ہر سیاسی رہنما کو ان کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ایک لحاظ سے تمام ملکی سیاست دان انھی کے مرہون منت ہو چکے ہیں۔ اس ابتری کو موجودہ معروضی حالات میں ختم کرنا ناممکن ہے۔
آنے والے دنوں میں ہمارا ملک کس مزید خرابہ میں جاتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ غریب اب بربادی کی انتہا تک پہنچ جائے گا۔ کسی قسم کا سیاسی چورن ان کے مصائب کوکم نہیں کر سکتا۔ دراصل ہمارے پورے نظام میں بہت کم ایسے معتبر لوگ موجود ہیں جن کا ہاتھ لوگوں کی نبض پر ہو۔ جو غریب اور عام آدمی کے درد کو اصل میں محسوس کر سکیں۔
جعلی اشرافیہ تو بہر حال کوئی نیک کام نہیں کر سکتی۔ ہاں‘ یہ کوئی نہ کوئی معاملہ گھڑ کر اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹا ضرور سکتی ہے۔
ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے 1971 کے بعد اور روس کے زوال کے بعد 2 سبق سیکھے ہیں:
۔ سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنا
۔ وسائل کو اپنے کنٹرول میں رکھنا
لمبی بحث ہو جائے گی لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہی 2 اسباب تمام مسائل کی جڑ ہیں جب تک ان کا حل نہیں نکلے گا تب تک یہ ملک ایسے ہی چلے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے والوں کے وارے نیارے اور قوم خستہ حال ہی رہے گی۔ اب ان سے نکلنے کیلئے جو بھی کوشش کرے گا اسکا حال "مجھے کیوں نکالا" ہو گا یا پھانسی لگے گا یا گولی کھائے گا۔ اس کے کارکن کوڑے کھائیں گے یا وطن بدری ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ آپ یقین رکھیں جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے- اس ملک میں ایک لا وارث نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی۔
1977 کے بعد سے ان کا وسائل اور سیاست پر قبضہ کسی نا کسی شکل میں برقرار ہے۔ آخری تجربہ ہائیبرڈ رجیم کی شکل میں کیا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان کے گلے پڑ گیا میں ان سے کہتا ہوں کہ یہی تو وہ چاہتے تھے کہ قوم کو ایشوز سے نکال کر بھٹو، نواز شریف، الطاف اور عمران کی جنگوں میں الجھائے رکھیں تاکہ اس ملک کے عوام گروہوں میں بٹے رہیں اور یہ لوگ بطور ایک طبقہ ان پر حکمران رہیں۔ یہ تقسیم انہیں سوٹ کرتی ہے۔ ان کا خمیر ہی اسی سے اٹھا ہے۔ میثاق جمہوریت کے بعد انہیں ایک نئے اینٹی ہیرو کی ضرورت تھی جو پراجیکٹ عمران کی شکل میں اب سامنے ہے۔ اس پراجیکٹ کو کتنی دیر جاری رکھا جا سکتا ہے یہ اس پر منحصر ہے کہ اس کلٹ کے فالوورز کو کتنی دیر تک اس سحر میں مبتلا رکھا جا سکتا ہے
گزرے برسوں کی زیاں کاری کے خدوخال ایسے سنگین ہیں کہ انہیں کس طور قابل فہم بیان میں ڈھالا جائے۔ خواب میں دیکھی پریشاں حال بستی سے تو بیدار ہوا جا سکتاہے۔ پون صدی کے اس کابوس کی کیا تعبیر کی جائے جہاں امیر علی ٹھگ اپنے کارندوں سمیت ہر رات یلغار کرتا ہے۔ ہر صبح گزشتہ شب کی حکایت بیان کی جاتی ہے مگر شب آئندہ کی پیش بندی نہیں کی جاتی۔ شہر پناہ کے دمدموں پر پہرہ نہیں بٹھایا جاتا۔ لٹنے والوں کی دادرسی نہیں کی جاتی۔ لوٹنے والوں کا احتساب نہیں ہوتا
لیکن میری یہ بات یاد رکھئیے کہ یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے
Tuesday, January 10, 2023
پیپلز پارٹی
Friday, December 30, 2022
دنیا میرے آگے
دنیا میرے آگے
اظہر عباس
صدر بائیڈن 80 سال کے ہو چکے اور اس طرح وہ امریکہ کے سب سے معمر صدارت کرنے والے صدر بن گئے ہیں
جب کہ بائیڈن نے عوامی طور پر دوسری مدت کے لئے انتخاب لڑنے کے اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے، کم از کم ایک ڈیموکریٹک حکمت عملی کے ماہر نے کہا کہ صدر کو اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہیے کہ وہ مرکز کے بائیں بازو کے رہنماؤں کی اگلی نسل کے لیے پل بنیں گے۔
ڈیموکریٹک سیاسی حکمت عملی کے ماہر کولن سٹروتھر نے کہا، "صدر بائیڈن کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہوگی کہ ہم اگلی نسل کی پارٹی بن سکیں - نہ کہ پرانی نسل کی،" "[ہاؤس اسپیکر نینسی] پیلوسی چلی گئی ہیں، مچ میک کونل نے ثابت کیا ہے کہ وہ وقت سے پیچھے ہیں، اور صدر کی عمر کے کسی فرد کے اس مشکل کام کو اچھی طرح سے انجام دینے کے بارے میں جائز خدشات ہیں۔"
اگر بائیڈن 2024 میں دوبارہ انتخابات سے دستبردار ہونے کا انتخاب کرتے ہیں تو ڈیموکریٹس کے پاس ترجیحات یہ ہیں:
ہیرس کو بائیڈن کے سیکنڈ ان کمانڈ کے طور پر، ڈیموکریٹس کے لیے ایک منطقی انتخاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کیلیفورنیا کی سابق سینیٹر، 58 سالہ ہیرس ملک کی تاریخ میں پہلی خاتون نائب صدر ہیں۔ وہ پہلی افریقی امریکن اور پہلی ایشیائی امریکن بھی ہیں۔ وہ مختلف عالمی سربراہی اجلاسوں میں وائٹ ہاؤس کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں۔
لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق، پیچیدہ معاملات یہ ہیں کہ ہیریس کی عوامی سرویز میں رینکنگ بائیڈن سے بھی کم ہے۔
ڈیموکریٹس کے دوسرے امیدوار ٹرانسپورٹ سیکرٹری حال ہی میں وسط مدت کے دوران نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ امیدواروں میں سے ایک تھے۔ آئیووا کاکسز جیتنے کے بعد ان کی پروفائل کو بڑھانے میں مدد کی ہے۔ بٹ گیگ کی امیدواری کو اگرچہ سنگین رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن سکریٹری اگلے سال GOP کانگریس کی تحقیقات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں کہ انفراسٹرکچر کی رقم کیسے خرچ کی گئی ہے۔ ریپبلکن قومی ریل ہڑتال کو کم کرنے اور سپلائی چین کے بحران کو کم کرنے کے لئے بٹ گیگ کی کوششوں کو دیکھنے کے لئے بھی بے چین ہیں۔
ٹرانسپورٹیشن کے سکریٹری کو پچھلے سال پیرنٹس کیلئے مخصوص چھٹی لینے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس نے عین اس وقت یہ چھٹی لی جب وائٹ ہاؤس اپنے بنیادی ڈھانچے کے قانون کی منظوری کو محفوظ بنانے اور سپلائی چین کے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اگرچہ بائیڈن سے زیادہ عمر کے، 81 سالہ برنی سینڈرز نے وائٹ ہاؤس کی دو ناکام کوششوں کے بعد اپنا سیاسی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ ورمونٹ سے ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار 2022 میں انتخابی مہم کے لیے سرگرم ہیں اور ان کی ایک نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے جو نوجوان ووٹروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اگرچہ کچھ لوگ توقع کرتے ہیں کہ سینڈرز ایک اور صدارتی انتخاب لڑیں گے، انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کے اندر حمایت کی گہری بنیاد درکار ہے۔ ان نچلی سطح کے حامیوں نے سینڈرز کو اس کی 2016 اور 2020 کی مہموں میں کئی اپ سیٹوں میں مدد دی۔ اس نے سینیٹر کو مہم چلانے کے لیے درکار فنڈ ریزنگ کی کوششیں بھی فراہم کیں اور بڑے پیسے والے عطیہ دہندگان پر انحصار نہیں کیا
سینڈرز نے اپنی دونوں قومی مہموں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے بنیادی حلقہ، بوڑھے افریقی امریکی ووٹروں تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔
کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹ کھنہ نے بھی 2024 کے اوائل میں ڈیموکریٹک نامزدگی کے مقابلوں میں کنسلٹنٹس کو اپنے پے رول پر رکھا ہوا ہے۔ جب کہ انہوں نے بائیڈن کے خلاف انتخاب لڑنے سے انکار کیا ہے، لیکن اس نے مستقبل میں وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں اپنی دلچسپی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تاہم، کھنہ کو اپنے کیلیفورنیا ضلع سے باہر بہت کم جانا جاتا ہے۔
ڈیموکریٹس کے پاس متعدد مقبول گورنر ہیں جو بائیڈن کو ایک اور مدت کو مسترد کرنے پر ایک موثر مہم چلا سکتے ہیں۔
مشی گن کی سوئنگ سٹیٹ میں، گورنمنٹ گریچن وائٹمر نے ریپبلکنز کی جانب سے پرجوش چیلنج کا سامنا کرنے کے باوجود اس ماہ 10 فیصد سے زیادہ پوائنٹس سے دوبارہ انتخاب جیت لیا۔ وائٹمر کے مزدور یونینوں سے بھی مضبوط تعلقات ہیں، جو ایک بنیادی گروپ ہے جو 2020 کی ڈیموکریٹک نامزدگی کے لیے بائیڈن کی مہم میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
وسط مغرب سے باہر، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم کو وائٹ ہاؤس کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ نیوزوم، وائٹمر کی طرح، صرف دوسری مدت کے لیے بڑے مارجن سے دوبارہ منتخب ہوئے۔
دوسری طرف چین کے صدر شی جن پنگ نے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات میں "ایک نئے دور" کی تعریف کرتے ہوئے رواں ماہ سعودی عرب کے ساتھ کئی اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے صارف چین کے رہنما کا تیل سے مالا مال ملک کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا۔
شی جن پنگ کی گاڑی کو سعودی رائل گارڈ کے ارکان نے عربی گھوڑوں پر سوار اور چینی اور سعودی پرچم اٹھائے ہوئے بادشاہ کے محل تک پہنچایا۔
شی نے سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی۔
دونوں نے پویلین میں قدم رکھا جب ایک فوجی بینڈ نے ملکوں کے قومی ترانے بجائے۔
یہ ڈسپلے جولائی میں امریکی صدر جو بائیڈن کے کم اہم استقبال کے بالکل برعکس تھا۔
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مملکت کی توانائی کی پالیسی اور 2018 میں امریکہ میں مقیم واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں، جس نے جولائی کے عجیب و غریب دورے پر پردہ ڈال دیا۔
جمعرات کو، شاہ سلمان نے شی کے ساتھ ایک "جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے" پر دستخط کیے جس میں، سرکاری میڈیا کے مطابق، سرمایہ کاری کے لیے 34 سودے شامل تھے۔
سودوں میں سے ایک چینی ٹیک کمپنی ہواوے شامل ہے جس میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سعودی شہروں میں ہائی ٹیک کمپلیکس بنانا شامل ہے۔
خلیجی خطے میں Huawei کے بڑھتے ہوئے قدم کے درمیان چینی فرم کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر امریکی سلامتی کے خدشات کے باوجود یہ معاہدہ طے پایا۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے کہا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان فریقوں کا انتخاب نہیں کریں گے اور قومی اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کے لیے شراکت داروں کو متنوع بنا رہے ہیں۔
ایک بوڑھے ہوتے بائیڈن کے پاس اب دنیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے منشور کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی پالیسیوں کو مضبوط کرنے کے علاوہ کوئی ترجیح نہیں۔ وہ ایک بوڑھے مدبر کی طرح اپنی طاقت اپنے ملک کو اندرونی طور پر طاقتور بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، میڈ ان امریکہ کے سلوگن کو اختیار کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے پر خرچ کر رہے ہیں تاکہ امریکی اندرون ملک روزگار ڈھونڈ سکیں۔ بیرون ملک ان کی توجہ چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کا مقابلہ کرنے پر مرکوز ہے اور وہ جنگ و جدل کی بجائے ڈپلومیسی سے کام لیتے ہوئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کی توجہ اپنی معیشت کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے تاکہ اپنی پارٹی کو اگلے الیکشن میں ریپلکنز کے سامنے ایک مضبوط حیثیت دے سکیں۔
Monday, December 26, 2022
پاکستان چل رہا ہے
دنیا بدل چکی ہے
دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...
-
As said earlier , happiness is many things to many people. For one thing, it means we need to know and accept ourselves for who we are. Ha...
-
When I was studying in my 12 grade, a teacher, sent me a post card having these lines. "Don't be afraid of problems. Meet them,...





