Thursday, August 8, 2024

بنگلہ دیش

 ناہید اسلام کی عمر 26 سال ہے اور یہ ڈھاکا یونیورسٹی کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم ہے‘ یہ حسینہ واجد کی پالیسیوں کا مخالف تھا‘ جون میں اس نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی‘ طالب علم اس کے گرد جمع ہونے لگے اور وہ تحریک شروع ہو گئی جو آگے چل کر حسینہ واجد کے 16سالہ اقتدار کے خاتمے کی بنیاد بن گئی‘ ان دو ماہ میں حکومت نے ناہید اسلام کو دہشت گرد بھی قرار دیا‘ اس پر کریک ڈاؤن بھی کیا اور اسے پولیس گھر سے بھی اٹھا کر لے گئی‘ اس پر بہیمانہ تشدد کیا گیا‘ یہ جب مکمل بے ہوش ہو گیا تواسے ڈھاکاکے ایک پل کے نیچے پھینک دیا گیا‘ اسے 26 جولائی کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا لیکن اس وقت تک حالات بدل چکے تھے۔

پولیس خوف زدہ ہو چکی تھی‘ طالب علم آگے بڑھتے رہے اور حکومت پسپا ہوتی چلی گئی اور یہ پسپائی آخر میں پانچ اگست کو حسینہ واجد کے فرار پر ختم ہوئی لیکن سوال یہ ہے کیا یہ حالات چند دنوں میں پیدا ہوئے تھے‘ کیا بنگلہ دیش میں چند دنوں میں تبدیلی آئی تھی؟جی نہیں پانچ اگست 2024کا بیج دراصل 7 دسمبر 1970میں بویا گیا تھا‘ اس دن مشترکہ پاکستان کا آخری الیکشن ہوا تھا جس میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں قومی اسمبلی کی 162 سیٹوں میں سے 160 سیٹیل حاصل کر لیں جب کہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 81 سیٹیں لی تھیں۔

شیخ مجیب الرحمن کی اکثریت تھی‘ اخلاقی اور دستوری لحاظ سے حکومت اس کا حق تھا لیکن صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے اسے یہ حق نہیں دیا‘ شیخ مجیب الرحمن اخلاقی‘ دستوری اور سیاسی لحاظ سے درست تھا‘ ریاست کو اسے حق حکمرانی دینا چاہیے تھا‘یہ معاملہ یہاں تک ٹھیک تھا لیکن آگے چل کر شیخ مجیب نے جو راستہ استعمال کیا وہ غلط نکلا‘ وہ ریاست کے ساتھ لڑ پڑا اور اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا‘ اس نے 16 دسمبر 1971 کو بھارت کی مدد سے پاک آرمی کو سرینڈر پر مجبور کر دیا‘یہ مجیب الرحمن کی بڑی سیاسی غلطی تھی اور اس کا خمیازہ بعدازاں اسے اور اس کی نسل کو بھگتنا پڑا۔

شیخ مجیب نے سقوط ڈھاکا کے دوران عوام کو یقین دلایا تھا بنگالی مغربی پاکستان اور پاک آرمی کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں‘ ہم اگر مغربی پاکستان سے جان چھڑا لیں تو ہم خوش حال بھی ہو جائیں گے اور ترقی یافتہ بھی‘ وہ بنگالیوں کو بھارت کے قریب بھی لے آیا تھا اور اس کھیل میں وہ یہ بھول گیا تھا بنگالی پنجابیوں سے زیادہ بھارت سے نفرت کرتے ہیں‘ یہ پنجاب (مغربی پاکستان) کے ساتھ 24 سال نکال گئے ہیں مگر یہ بھارت کے ساتھ دس سال بھی گزارہ نہیں کر سکیں گے۔

دوسرا قوموں میں خوش حالی محنت اور سکل سے آتی ہے‘ نعروں سے نہیں لہٰذا جب بنگلہ دیش آزاد ہوا اور عوامی لیگ کی حکومت بن گئی تو عوام کو دور دور تک سونے کے وہ پہاڑ نظر نہ آئے جن کے لیے انھوں نے قربانی دی تھی‘ جن کے لیے یہ مغربی پاکستان سے الگ ہوئے تھے‘ شیخ مجیب1971تک بنگالیوں کی محرومی پنجاب کے کھاتے میں ڈالتے رہے تھے لیکن بنگالی آزادی کے بعد کیوں پس ماندہ اور محروم ہیں؟ اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا‘ دوسری طرف بھارت ’’تاوان جنگ‘‘ میں بہت کچھ وصول کر رہا تھا‘ بنگلہ دیش اس زمانے میں جیوٹ کی صنعت میں دنیا میں پہلے نمبر پر تھا‘ شیخ مجیب کے زمانے میں جیوٹ کی صنعت اور منڈیاں بھارت شفٹ ہو گئیں جس سے بھارتی تاجرمزید امیر اور بنگالی مزید غریب ہو گئے۔

تحریک پاکستان ڈھاکہ سے شروع ہوئی تھی لاہور یا کراچی سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ بنگالیوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کو بنگال میں 1937ء میں حکومت دلوا دی تھی جبکہ قرارداد پاکستان اس کے تین سال بعد 23مارچ 1940ء کو منظور ہوئی۔ شیخ مجیب الرحمان تحریک پاکستان میں بہت سرگرم تھے۔ بنگالیوں کی کانگریس سے لڑائی کا آغاز بندے ماترم کو قومی ترانہ بنانے پر ہوا تھا۔ جب مسلم لیگ نے بندے ماترم کو قومی ترانہ بنانے کی کھل کر مخالفت کی تو بنگال میں کانگریس کو پیچھے چھوڑ گئی۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ 6جولائی 1938ء کو کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں بیگم سکینہ فرخ سلطان نے قرارداد پیش کی کہ اسکول ٹیچرز کی ٹریننگ میں ہندی کے ساتھ اردو کو بھی لازمی مضمون قرار دیا جائے جس پر ہنگامہ ہو گیا۔ بندے ماترم پر بنگالی مسلمان اتنے ناراض تھے کہ مولانا ابو الکلام آزاد کو اکتوبر 1938ء میں کلکتہ کے مسلمانوں نے نماز عید کی امامت سے ہٹا دیا اور مولانا آزاد سبحانی کی امامت میں نماز عید ادا کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب تحریک پاکستان کا اصل مرکز بنگال تھا اور 1946ء میں لیاقت علی خان اور مولانا شبیر احمد عثمانی جیسے غیر بنگالیوں کو پاکستان کے نام پر بنگال سے مرکزی اسمبلی کا رکن بنوایا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد بنگالیوں کے ساتھ کیا ہوا اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کیا کچھ کیا؟ یہ ایک لمبی کہانی ہے 1958ء میں مشرقی پاکستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر شاہد علی خان ایوان کے اندر تشدد سے زخمی ہو کر چل بسے۔ ان کی موت کا شیخ مجیب نے بہت فائدہ اٹھایا 1965ء میں شیخ مجیب نے ایوب خان کے مقابلے پر محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہرا دیا گیا اور پھر 1970ءکا الیکشن آیا شیخ مجیب کو اکثریت مل گئی۔ انہیں اقتدار منتقل کرنے کی بجائے فوجی آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا، یہ وہ زمانہ ہے جب ایسٹ بنگال رجمنٹ کے میجر ضیاء الرحمان نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کرنل رشید جنجوعہ کو گولی مار دی اور چٹاگانگ ریڈیو پر قبضہ کر کے 27مارچ 1971ء کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ میجر ضیاء الرحمان نے دو اعلان کئے پہلا اعلان اپنی طرف سے کیا عوامی لیگ والوں نے اعتراض کیا تو دوسرا اعلان شیخ مجیب کے نام پر کیا جو پاکستانی فوج کی حراست میں تھے۔ یہ میجر ضیا اور شیخ مجیب میں غلط فہمیوں کا آغاز تھا۔ میجر ضیاء اپنے آپ کو آزادی کا ہیرو سمجھتا تھا لیکن سیاسی دبائو پر اسے شیخ مجیب کو بنگلہ بندھو تسلیم کرنا پڑا۔ 15اگست 1975ء کو بنگلہ دیشی فوج کے جن افسران نے شیخ مجیب کے خلاف بغاوت کی ان میں لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الرحمان بھی شامل تھے جو بعد میں بنگلہ دیش کے صدر بن گئے اور پاکستان میں ان کی بہت آئو بھگت کی جاتی تھی۔ جنرل ضیاء الرحمان پی ایم اے کا کول کے تربیت یافتہ تھے پاکستانی فوج میں ان کے بہت تعلقات تھے لہٰذا انہوں نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کرنل رشید جنجوعہ کے ساتھ جو کیا اسے بھلا دیا گیا لیکن جنرل کے ایم عارف اس درندگی کو نہ بھولے وہ اپنی کتاب ’’خاکی سائے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جب ضیاء الرحمان بنگلہ دیش کے صدر کی حیثیت سے پاکستان آیا تو میں نے بطور ڈپٹی آرمی چیف اس کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں شرکت سے معذرت کر لی کیونکہ میں کرنل جنجوعہ کے قتل کو فراموش نہ کر سکا تھا۔ ضیاء الرحمان نے عوامی لیگ کا مقابلہ کرنے کیلئے جماعت اسلامی سے اتحاد کیا انہوں نے بنگلہ دیش کے آئین میں بہت سی تبدیلیاں کیں یہاں تک کہ بنگلہ دیش کا قومی ترانہ بدلنے کی کوشش کی جو رابندر ناتھ ٹیگور کا لکھا ہوا ہے۔ وہ قومی ترانہ او رقومی پرچم بدلنے کے منصوبے بنا رہے تھے کہ انہیں چٹاگانگ میں اپنی فوج کے کچھ افسروں نے 1981ء میں قتل کر دیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں 1971ء میں انہوں نے کرنل رشید جنجوعہ کو قتل کیا تھا۔ 1975ء سے 1995ء تک بنگلہ دیش میں عوامی لیگ زیر عتاب تھی۔ شیخ مجیب کو بنگلہ بندھو کی سرکاری حیثیت نہیں ملتی تھی۔ 1996ء میں حسینہ واجد وزیراعظم بنیں تو انہوں نے اپنے والد کی حیثیت کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ 


عوامی لیگ نے کیوں کہ آزادی چھینی تھی لہٰذا یہ سیاسی جماعت سے غنڈہ پارٹی بن گئی اور اس کے کارندوں نے ملک بھر میں قبضے شروع کر دیے‘ کرپشن اور غنڈہ گردی بھی عام تھی‘ شیخ مجیب اور بھارت دونوں بنگالی فوج کے خلاف تھے‘ ان دونوں نے مل کر فوج کو بھی رگڑا لگانا شروع کر دیا‘ اس کھیل کا اختتام 15 اگست 1975 کی رات ہوا‘ بنگلہ دیشی فوج کا ایک دستہ دھان منڈی میں شیخ مجیب الرحمن کی رہائش گاہ پر پہنچا اور اسے اس کے خاندان‘ ملازمین اور دوستوں سمیت قتل کر دیا‘ آپریشن کے بعد شیخ مجیب کی لاش گھر کی سیڑھیوں پر پڑی رہی‘ اس کی دو بیٹیاں حسینہ اور ریحانہ ملک سے باہر تھیں ‘ یہ بچ گئیں جب کہ باقی خاندان ختم ہو گیا‘ بنگلہ دیش میںاس کے بعد انارکی شروع ہوئی اور یہ مختلف وقفوں میں 2024 تک جاری رہی‘ حسینہ واجد نے 1981 میں سیاست شروع کی۔

یہ والد کی جماعت عوامی لیگ کی سربراہ بنی اور پھر مارتی دھاڑتی آگے بڑھتی چلی گئی‘ یہ 2024 تک مجموعی طور پر 20 سال بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں اور یہ اس لحاظ سے دنیا کی واحد طویل المدت خاتون وزیراعظم ہیں‘ ان کا آخری دور 2009 سے شروع ہو کر 2024 تک مسلسل 15 سال جاری رہا‘ یہ دور معاشی لحاظ سے بنگلہ دیش کے لیے اچھا تھا‘ ایکسپورٹس 45 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں‘ انفرااسٹرکچر اور سوشل ڈویلپمنٹ بھی ہوئی جب کہ دوسری طرف پاکستان کی معیشت مسلسل ہچکولے کھاتی رہی جس کے نتیجے میں ہمارے سیاست دانوں (بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف اور عمران خان) نے بنگلہ دیش کی مثالیں دینا شروع کر دیں‘ ہم ان تینوں کے منہ سے مختلف اوقات میں آج بنگلہ دیش کو دیکھیں‘ یہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا‘ وقت نے ثابت کر دیا شیخ مجیب غدار نہیں تھا‘ ہم بھی اگر فوج سے جان چھڑا لیں تو ہم بھی بنگلہ دیش بن جائیں وغیرہ وغیرہ سنتے رہے اور ہمیں ان باتوں پر یقین بھی آتا رہا مگر ہم اس یقین کے دوران ایک بات بھول جاتے تھے اور وہ بات حسینہ واجد کی سوچ تھی۔

قدرت نے حسینہ واجد کو بہت بڑا موقع دیا تھا‘ اس کو چاہیے تھا یہ نفرت کی سیاست ترک کر کے محبت کو اپنا بیانیہ بناتی مگر یہ بدقسمتی سے نفسیاتی طور پر 1975 سے آگے نہ بڑھ سکی‘ اس کی نفرت نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا‘ عوامی لیگ اور عوامی لیگ کے مخالف‘ یہ اپنے مخالفین کو رضا کار کہتی تھی( رضا کار کی اصطلاح نے 1971 میں جنم لیا تھا‘ اس زمانے میں پاک فوج کے ہمدرد رضا کار کہلاتے تھے) اس نے اپوزیشن‘ جماعت اسلامی اور پاکستان کے ہمدرد بہاریوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا‘ جماعت اسلامی کے درجنوں رہنماؤں کو پھانسی لگا دی گئی‘ خالدہ ضیاء کو2018 میں جیل میں پھینکا گیااوریہ اس کے بعد باہر نہیں آسکی۔

نوبل انعام یافتہ معاشی ماہر ڈاکٹر یونس کے خلاف 174 مقدے بنا دیے گئے اور یہ جلاوطن ہونے پر مجبور ہو گئے‘ حسینہ واجد نے اپنے خاندان اور پارٹی کے لوگوں کو پولیس‘ عدلیہ اور فوج میں گھسا دیا‘ پولیس اس کے گھر کی لونڈی تھی‘ عدلیہ عوامی لیگ تھی اور فوج کی سربراہی اس کے خاندان میں تھی‘ موجودہ آرمی چیف جنرل وقار الزمان بھی حسینہ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ اس نے ایک بار نواز شریف سے کہا تھا ’’ہماری فوج سے جس دن کاکول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے والا آخری کیڈٹ ریٹائر ہوا ہم نے اس دن ترقی کا پہلا زینہ طے کیا‘‘ یہ بھارت کو بھی مزید ملک کے اندر لے آئی‘ اس کی بھارت نوازی کی وجہ سے بنگلہ دیش بھارت کی 29ویں ریاست (صوبہ) کہلانے لگا تھا‘ اس کے اندر ایک بدترین ڈکٹیٹر چھپا ہوا تھا ‘ مخالفین کو قتل کرانا‘ ججوں کے ذریعے فیصلے لینا اور فوجی افسروں کو سرعام ذلیل کرنا اس کامعمول تھااور آخر میں اس کا نتیجہ پانچ اگست 2024کی شکل میں نکلا‘ طالب علموں کی تحریک شروع ہوئی اوریہ آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔

وزیراعظم نے 23 جون کو اپنے رشتے دار جنرل وقار الزمان کو آرمی چیف بنایا تھا‘ اس کا خیال تھا یہ اس کی حکومت‘ سیاست اور مال و دولت کی حفاظت کرے گا لیکن صرف سوا ماہ بعد جنرل وقار الزمان اس کے سامنے بیٹھا تھا اور اسے مشورہ دے رہا تھا میڈم آپ کے پاس صرف 45 منٹ ہیں‘ آپ استعفیٰ دے کر نکل جائیں ورنہ ہجوم وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہو کر آپ کو قتل کر دے گا‘آرمی چیف نے اس پیش کش سے قبل ہیلی کاپٹر اسٹارٹ کرا دیا تھا لہٰذا حسینہ واجد دوڑ کر ہیلی کاپٹر میں بیٹھی اور یہ اسے لے کر انڈین شہر اگر تلہ چلا گیا‘ حسینہ واجد جب اگر تلہ اتری تو اس کے پاس ہینڈ بیگ اور تن کے کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا اور یوں حسینہ واجد کا طویل ترین سیاہ کیریئر اختتام پذیر ہو گیا۔

پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کا اس وقت محبوب ترین موضوع بنگلہ دیش ہے‘ ماہرین مختلف زاویوں سے بنگلہ دیش کا تجزیہ کر رہے ہیں لیکن ایک زاویہ ابھی تک ان کی نظروں سے اوجھل ہے اور وہ ہے فوج کا کردار‘ حسینہ واجد نے بنگلہ دیشی فوج کو بڑی حد تک پولیس بنا دیا تھا‘ یہ سلیوٹ اور وزیراعظم کو سیکیورٹی دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی لیکن اس کے باوجود فوج ملک کا سب سے بڑا اور مضبوط ادارہ رہا اور اس نے پانچ اگست کو آگے بڑھ کر حالات کنٹرول کر لیے‘ جنرل وقار الزمان نے رشتہ دار ہونے کے باوجود حسینہ واجد سے استعفیٰ بھی لیا اور ہجوم کو بھی قابو کر لیا اگر فوج نہ ہوتی تو اس وقت بنگلہ دیش کی کیا حالت ہوتی؟ بنگلہ دیش کے ہنگاموں میں اب تک ساڑھے چار سو لوگ قتل ہوئے ہیں اگر فوج نہ ہوتی تو اس وقت گلیوں میں تین چار لاکھ لوگوں کی لاشیں پڑی ہوتیں اور تمام سرکاری املاک کو آگ لگی ہوتی اور عوامی لیگ کے لوگوں کا نام ونشان تک مٹ چکا ہوتا‘ فوج کا سیاسی کردار دنیا کے ہر ملک میں غلط ہوتا ہے۔

ہمارے ملک میں بھی غلط ہے‘ فوج کو سیاست سے باہر ہونا چاہیے لیکن اس کردار کے باوجود بہرحال یہ حقیقت ہے فوجیں ملک کی بقا کی ضامن ہوتی ہیں اگر آج امریکا‘ چین اور روس کی فوجیں ختم ہو جائیں تو کل آپ ان ملکوں کی حالت دیکھ لیجیے گا‘ 1992میں سوویت یونین کی فوج ذرا سی کم زور ہوئی تھی اور ایک سال میں 15نئے ملک بن گئے تھے‘ آج اگر بنگلہ دیشی آرمی بھی نہ ہوتی تویہ بھی گیا تھا لہٰذا یاد رکھیں جس دن ہماری آرمی گئی اس دن ہم بھی پانچ حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے مگر اس تقسیم سے پہلے خانہ جنگی ہو گی اور لاکھوں لاشیں گلیوں میں پڑی ہوں گی لہٰذا سیاسی جدوجہد ضرور کریں‘فوج کا سیاسی کردار بھی صفر پر لے جائیں مگر اس کے ساتھ ساتھ فوج کی حفاظت بھی کریں‘ یہ ملک اس کے بغیر بچ نہیں سکے گا‘ ہم مانیں یا نہ مانیں۔

Monday, March 18, 2024

کلٹ زدہ معاشرے

 کلٹ زدہ معاشرے

اظہر عباس 


پی ٹی آئی یورپی یونین کو پاکستان کا تجارتی اسٹیٹس ختم کرنے، آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض نہ دے کر دیوالیہ کروانے اور بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔  


خدا کا شکر ہے کہ مغربی دنیا میں زیادہ تر حلقوں میں عمران خان اور ان کی جماعت کو ایک پاپولسٹ اور آمرانہ سوچ کی حامل جماعت سمجھا جاتا ہے، مگر ایک لمحے کے لیے فرض کیجیے کہ انہیں سنجیدہ لیا جا رہا ہوتا تو پاکستان واقعی خوف ناک حالات میں پہنچ جاتا۔   


اقتدار تک پہنچنے کے لیے یہ جس حد تک جا سکتے تھے، جا رہے ہیں۔


انتہائی غیرجانبداری سے کہہ رہا ہوں کہ پی ٹی آئی ایک زہرآلود سوچ کا نام ہے جو ایک کلٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے


ماضی میں ایسا ہی ایک کلٹ قرامطہ کے نام سے ابھرا۔ جس نے پہلے تو مصر میں فاطمی حکومت قائم کرنے میں مدد  کی لیکن پھرفاطمیوں سے لڑ کے بحرین اور جنوبی عراق میں اپنی حکومت قائم  کر لی، کوفہ کو کئی بار برباد کیا، حاجیوں کے قافلوں پر حملے کرتے تھے، ہزاروں حاجیوں کو  ہلاک کیا اور انکا مال  لوٹا، انکی خواتین کی بیحرمتی کی- عباسیوں پر حملے کرتے رہے، لیکن 930  میں مدینہ اور مکّہ پر بھی حملہ کیا، انکا خیال تھا کہ حج کوئی اسلامی عبادت نہیں اور ہجر اسود صرف ایک پتھر ہے اس کو  مقدس ماننا شرک  ہے


خانہ کعبہ پر حج کے دوران حملہ آور ہوئے، سینکڑوں حاجیوں کو شہید کیا اور چاہ زم زم کے پاس انکی لاشیں پھینک دیں جس سے وہ بند ہو گیا اور ہجر اسود کو اکھاڑ کے اپنے ساتھ لے گئے، اسکے ٹکڑے کر کے اپنے ٹوائلٹ کے قدمچے بنا کے انکی نا قابل بیان بیحرمتی  کی۔ عباسیوں کو ان سے ہجر اسود کی واپسی کے لئے مذاکرات کرنا پڑے جو ایک طویل عرصہ چلے پھر بہت بڑی رقم لے کرتئیس سال بعد  ہجر اسود  کے ٹکرے عباسیوں کے حوالے کئے، یوں عباسیوں نے ان ٹکڑوں کو جوڑ کے دوبارہ پرانی جگہ لگایا۔ تئیس سال تک طواف بغیر ہجر اسود کے ہوا-


قرامطہ کا ظالمانہ عھد تقریبا سو سال رہا تا  آنکہ عباسیوں نے انکا خاتمہ کیا-


قرمطہ کی لوٹ مار وہی زمانہ ہے جب محمود غزنوی بھرپور طاقت میں تھے ان دنوں حاجیوں کو لوٹنا قتل کرنا قرامطہ اور بدویوں کا پیشہ بن گیا تھا، ان ہی دنوں مسلمانوں کا گروہ محمود غزنوی کے پاس شکایت لیکر حاضر ہوا کہ قرامطیوں، بدویوں کی لوٹ مار کی وجہ سے مسلمان حج کے ثواب سے سالوں سے محروم ہیں اس ضمن آپ ہی کچھ کریں، تو پھر محمود غزنوی نے اپنے قاضی محمد ناصر کو حاجیوں کے قافلے کا امیر مقرر کیا اور تیس ہزار سونے کی اشرفیاں دیکر روانہ کیا راستے میں ان کا قرامطیوں سے نہیں بلکہ بدویوں سے مقابلا ہوا اتفاق سے لٹیروں کے سردار کو تیر لگ گیا جس پر بدویوں کا قافلا بھاگ گیا اور غزنی کا قافلہ صحیح سلامت حج کرکے واپس غزنی لوٹ آیا۔


جب دوسرا سال ہوا تو حاجیوں کا قافلہ سفر کی امان کے لئے محمود غزنوی پاس گیا لیکن اس نے قرامطیوں کی دشمنی لینے سے ڈرتے ہوئے ڈاکوؤں سے صلح کے بدلے اشرفیاں دینے اور اپنی فوج کے دستے دینے سے مسلمان حجاج کو انکار کردیا تھا۔ پھر کئی سال تک غزنی کے لوگ حج سے محروم رہے تھے


کلٹ ہمیشہ چند مخصوص طریقوں سے لوگوں کو برین واش کرتا ہے 


کسی شخص کی شناخت کو توڑنا: کلٹ آپ کی شخصیت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیر یقینی کا شکار ہوں۔ وہ انہیں آسانی سے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔


جرم کا احساس پیدا کرنا: مذہب کو یہ لوگ ہتھیار کے طور پر لیتے ہیں۔ اگر کوئی ان کے ساتھ شامل نہیں ہوتا اور کلٹ کے عقائد اور ہدایات پر عمل نہیں کرتا تو اسے احساس دلائیں گے کہ وہ غلط کر رہا ہے۔


احساس محرومی اور تنہائی کا شکار افراد: کسی احساس یا کسی وجہ سے تنہائی کا شکار افراد کلٹ کے آسان شکار ہوتے ہیں۔ کلٹ انہیں ایک خاص ماحول میں الگ تھلگ کر کے جس میں وہ ان کے حواس کو اس پیغام کے ساتھ اوورلوڈ کر سکتے ہیں جو وہ انہیں دینا چاہتے ہیں، وہ ان کے پیغام سے متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے پیچھے ہٹنے کا امکان کم ہوتا ہے۔


فائدہ مند سلوک: اگر آپ ایسا کرتے ہیں جو کلٹ چاہتا ہے تو آپ کو اجر ملے گا۔ اگر نہیں کرتے تو سزا ہے۔


محبت کی بمباری: کلٹ اس یقین کو تقویت دے گا کہ صرف وہی آپ سے محبت کرتے ہیں۔ اگر آپ کے خاندان اور دوست کلٹ میں آپ کے کردار کی حمایت نہیں کرتے ہیں، تو وہ واقعی آپ سے محبت نہیں کرتے۔ وہ آپ کے شعور کو اس خیال سے بھر دیں گے کہ صرف فرقے کے رہنما اور اراکین ہی آپ سے سچی محبت کرتے ہیں۔


عام طور پر صرف ایک لیڈر ہوتا ہے۔


وہ کنٹرول کرتے ہیں کہ آپ کس سے بات کرتے ہیں۔


ان کے پاس بھرتی کے فریب کارانہ حربے ہیں۔


کلٹ ہر وقت بہت خوش رہتے ہیں۔ ان کا جوش و خروش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس خوشی اور جوش کو پیدا کرنے کیلئے ڈرگز کا استعمال بھی کلٹ میں عام ہوتا ہے


اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ایسے کئی کلٹ زدہ نظر آئیں گے۔ اوپر دی گئی علامتیں اگر آپ کے گھر میں نظر آ رہی ہیں تو اب بھی وقت ہے کہ آنکھیں کھولئے اور معاشرے کو قرامطہ زدہ ہونے سے بچائیے

Thursday, December 14, 2023

مشرق وسطی کی صورتحال




اظہر عباس
غزہ کی حالیہ کشیدگی کی ابتدا میں راقم نے اکتوبر 2023 کے اواخر میں جو کالم لکھا تھا اس کا اختتامی پیرا گراف درج ذیل تھا:
"اسرائیل ان حملوں کے بعد 50 سال پیچھے چلا گیا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل رک چکا ہے۔ اسرائیل ایک غیر مستحکم ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک قیام امن ناممکن نظر آ رہا ہے جس کی وجہ سے خطے کے کئی منصوبے ردی کی ٹوکری میں جاتے نظر آ رہے ہیں۔"
"اسرائیل بے شک یہ جنگ جیت جائے لیکن اسٹرٹیجک محاذ پر بہت کچھ ہار چکا ہے۔"
مزید لکھا کہ:
"عالم اسلام کی نظروں سے اسرائیلی وحشت ہے مناظر محو ہو چکے تھے اور تعلقات کے مناظر چھائے ہوئے تھے۔
ایک بار پھر سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے مناظر سامنے آنے سے تعلقات کی باتیں اب پیچھے اور مظلوم فلسطینیوں کی بربادی سامنے آنے سے پورا نقشہ بدل جائے گا
حماس اور اس کے حمایتی یہی چاہتے تھے
اب عالم عرب کے ساتھ دوستی، انڈیا سے حیفہ براسطہ مشرق وسطی، اور 27 مسلم اقوام کا اسے تسلیم کرنے کا منصوبہ تو بہت پیچھے چلا گیا۔
بونس میں سرد علاقوں کی جنگ اب گرم علاقوں میں پہنچ گئی ہے اور شام کی جنگ اب غزہ منتقل ہو گئی ہے
فلسطین پر اسرائیل جتنی بمباری کرے گا مشرق وسطیٰ کی عوام اسرائیل کے علاوہ امریکہ سے بھی نفرت کرے گی، نتیجے میں بادشاہتیں گھبراہٹ کا شکار اور عوام کے ساتھ چلنے پر مجبور ہوں گی یا مزید بادشاہی آمریت کی طرف راغب ہوں گی۔"
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ غزہ اور عرب ممالک کی تازہ پوزیشن کیا ہے۔ معاملات کہاں تک پہنچے اور کہاں جانے والے ہیں۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گزشتہ دنوں منعقدہ 50 سے زائد عرب اور مسلم ریاستوں کے سربراہان کے اجلاس میں غزہ میں اسرائیل کے فوجی ردعمل کی شدید مذمت کی گئی۔ لیکن اجتماع کے حتمی بیان سے جو چیز غائب تھی وہ فلسطینی انکلیو کے 2.3 ملین شہریوں کے لیے کوئی فوری حل تھا، جن میں سے نصف سے زیادہ اب تقریباً چھ ہفتوں کی لڑائی کے بعد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔
جب کہ حتمی قرارداد میں "غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی جارحیت" کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور فلسطینیوں کے لیے انسانی اور مالی امداد کی پیشکش کی گئی، لیکن ایک بھی ملک 1.5 ملین شہریوں کے لیے، یہاں تک کہ عارضی طور پر، قابل عمل حل کے ساتھ آگے نہیں آیا جو اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب پٹی کے جنوبی حصے میں اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔
جیسے جیسے غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ہزاروں شہری تنازعہ سے بچنے کیلئے جنوب کی طرف جا رہے ہیں جو کہ محفوظ سمجھا جا رہا ہے اور جہاں خوراک، پانی اور ادویات کے ٹرک روزانہ مصر کے ساتھ واقع رفح کراسنگ کے راستے آتے ہیں۔
عرب ریاستوں کا کردار
عرب ریاستیں تاریخی طور پر فلسطینی عوام کے بارے میں اپنے موقف اور متعدد دیگر اہم مسائل کے حوالے سے منقسم رہی ہیں۔ اگرچہ یہ ریاستیں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں، لیکن وہ سب سے مؤثر طریقہ کار کے بارے میں مختلف نظریات رکھتی ہیں۔
بعض ممالک، بشمول عرب خلیج، اردن، مراکش اور مصر دو ریاستی حل کی وکالت کرتے ہیں، جو ان کے خیال میں سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ایران اسرائیل کو ختم کرنے اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے نظریے کی حمایت کرتا ہے۔ "دریا سے سمندر تک' کے نعرے کے ساتھ۔
اعتدال پسند ریاستوں کے، جن میں سے اکثر کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں، غزہ میں شہری آبادی کی مدد کے لیے عملی اقدامات نہ کیے جانے کی بنیادی وجہ حماس اور اس کے اہداف سے ان کی نفرت ہے۔ بہت سے عرب ممالک کو تشویش ہے کہ غزہ کی مدد کرنے سے حماس کو نادانستہ طور پر فائدہ ہو سکتا ہے، اس لیے کہ یہ تنظیم غزہ میں تقریباً ایک نسل سے حکومت کر رہی ہے۔ حماس اخوان المسلمون کے نیٹ ورک سے وابستہ ہے، اور اخوان المسلمون ہر عرب بادشاہ کی مخالفت کرتی ہے۔ اس سے مذکورہ ریاستوں کو اہم اندرونی خطرات لاحق ہیں۔
اخوان المسلمین کے نظریات عرب بادشاہتوں کے خاتمے اور ایک سنی انقلابی اسلامی جمہوریہ کے قیام کی وکالت کرتے ہیں، جو ایران سے مشابہت رکھتا ہو لیکن سنی جہادیت کے جھنڈے تلے کام کرے۔ چونکہ حماس ایران کے لیے ایک ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہے، جس کے نتیجے میں عرب بادشاہوں کے لیے ایک اضافی خطرہ ہے، اس لیے ان ممالک کی اکثریت کو خدشہ ہے کہ غزہ کے لیے ان کی امداد حماس کے مقصد میں کام آ سکتی ہے۔
فلسطینیوں کی ہجرت کا تصور
دونوں طرف اسرائیل کی سرحد سے متصل دو عرب ممالک - مصر اور اردن ہیں اور دونوں نے واضح طور پر غزہ سے کسی بھی تعداد میں فلسطینیوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ اردن میں پہلے ہی فلسطینیوں کی ایک بڑی آباد ہے۔
اس ماہ کے شروع میں، مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے بے گھر فلسطینیوں کے صحرائے سینا میں دوبارہ آباد ہونے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک کسی بھی قیمت پر اپنی سرزمین اور خودمختاری کا تحفظ کرے گا۔ ان کے تبصرے ایک اسرائیلی انٹیلی جنس دستاویز کے انکشاف کے بعد سامنے آئے جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ غزہ پٹی کے رہائشیوں کو سینائی کے خیمہ شہروں میں منتقل کیا جائے کیونکہ اسرائیلی فوج حماس کو تباہ کرنے کے لیے آپریشن کر رہی ہے۔
اردن اور مصر دونوں کے اپنے اپنے اندرونی خدشات ہیں، دونوں ممالک ان فلسطینیوں کو پناہ دینے سے انکار کر رہے ہیں جو اب لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "اردن کوئی آپشن نہیں ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ اس کی سرحد غزہ سے نہیں ملتی اور لاجسٹک طور پر لاکھوں غزہ کے باشندوں کو وہاں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔
عبد الحسین نے کہا کہ مصر کی مزاحمت صدر عبدالفتاح السیسی کے حماس کے بارے میں نظریہ سے پیدا ہوئی ہے، جو اخوان المسلمون کی ایک فلسطینی شاخ ہے
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "غزہ کے باشندوں کو، ہزاروں ممکنہ حماس کے کارکنوں یا حامیوں کے ساتھ، اپنے سینائی میں منتقل کرنا، جہاں اس نے ISIS سے لڑا، مصریوں کو تھوڑا سا خوفزدہ کر سکتا ہے۔"
حسین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگر مصر غزہ کے پناہ گزینوں کو لینا بھی چاہتا ہے تو ملک کے مالی عدم استحکام نے اسے ناممکن بنا دیا ہے۔
اگرچہ ان دونوں عرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ عملی دلائل قابل فہم ہیں، لیکن خطے کی تاریخ میں ایک گہری، نظریاتی اور حتیٰ کہ جذباتی وجہ بھی موجود ہے، جو زیادہ تر 1948 میں اسرائیل کی تخلیق سے متعلق ہے۔
درحقیقت حالیہ دنوں میں غزہ سے آنے والی بہت سی تصاویر کا موازنہ اس دور سے کیا گیا ہے جسے فلسطینی نقابہ، یا "تباہ" کہتے ہیں، جب ایک اندازے کے مطابق 700,000 فلسطینیوں کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اور جو اسرائیل کے قیام کے دوران بے گھر اور پڑوسی ممالک میں بھاگنے پر مجبور ہوئے۔
عرب عوام محسوس کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کو ایک اور ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے اور مصر یا اردن جیسے ممالک کے انہیں قبول کرنے سے دراصل ان کی آبادی کے فلسطینی حامی طبقات کا غصہ بڑھے گا، جو محسوس کریں گے کہ وہ فعال طور پر ایک "دوسرے نقابہ" کی سہولت فراہم کر رہے ہیں، اس طرح کا اقدام عوام میں اس قدر غیر مقبول ہو گا کہ اس سے کچھ ممالک غیر مستحکم بھی ہو سکتے ہیں۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام ڈائریکٹر جوسٹ ہلٹرمین نے کہا، "عرب ریاستیں محسوس کرتی ہیں کہ انہیں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے تنازعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے، جو کہ ان کے نزدیک اس خطے کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔" . "ان کے نزدیک، اسرائیل، قابض طاقت کے طور پر، فلسطینی آبادی کی فلاح و بہبود کی مکمل ذمہ داری رکھتا ہے۔"
ہلٹرمین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فلسطینی "فلسطین چھوڑ کر دوبارہ پناہ گزین نہیں بننا چاہتے، اور مصر اور غزہ کی فلسطینی آبادی دونوں کو خدشہ ہے کہ یہ عارضی اقدام مستقل ہو جائے گا، خاص طور پر اگر اسرائیل غزہ کو غیر آباد کر دے۔
مشرق وسطی میں عوام کیا سوچ رہے ہیں
مصر اور خلیج فارس کی کچھ ریاستوں میں، کبھی ہلچل مچانے والے سٹاربکس اور میک ڈونلڈز کے آؤٹ لیٹس امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی بدولت خالی پڑے ہیں۔ اور بیروت، تیونس اور دیگر عرب دارالحکومتوں میں، مظاہرین نے امریکی سفارتی مشنوں پر مارچ کیا اور امریکی جھنڈے جلائے۔
پورے مشرق وسطیٰ میں رائج نظریہ یہ ہے کہ اسرائیل جو لڑائی لڑ رہا ہے، یہ ایک امریکی جنگ ہے۔ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ ہائی ٹیک جنگی سازوسامان کے بغیر اسرائیل غزہ میں "حماس کے خاتمے" کے لیے شروع کیے گئے بڑے آپریشن کو انجام دینے کے قابل نہیں ہے جس کے بارے میں اس ہفتے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ "یہ ایک مکمل اور سراسر قتل عام ہے۔"
انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپوں نے، ملبے سے نکالے گئے معذور یا بے جان فلسطینی بچوں کی تصاویر سے گھبرا کر خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی ردعمل غیر متناسب ہے اور اس میں ممکنہ طور پر جنگی جرائم شامل ہیں
قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر نوحہ بکر نے کہا کہ "تاریخ کے ایک انتہائی اہم لمحے میں، جب اصولوں کو آزمایا گیا، وہ دنیا کو ناکام کر گئے۔"
مشرق وسطیٰ کے سیاسی تجزیہ کاروں نے اسرائیل کی جنگ کے لیے واشنگٹن کی حمایت کو ایک لاپرواہی کا مقام قرار دیا ہے جو اس خطے کو الگ کرنے کے طویل المدتی سفارتی، سلامتی اور اقتصادی اثرات کے لیے ذمہ دار ہے جہاں حریف، یعنی چین، گہرے قدم جما رہا ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ، انہوں نے کہا، جنگ نے امریکہ کو اس کی اخلاقی بلندی سے گرا دیا ہے، بائیڈن کے روس کو یوکرین میں شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے بارے میں لیکچرز کے ساتھ اب اس کے مزید خاموش بیانات کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں اسکولوں اور ہسپتالوں پر بمباری کی ہے۔
سوشل میڈیا پر، کیفے پر اور تقریباً ہر علاقائی اشاعت میں، عرب فلسطینیوں کے مصائب پر امریکی ردعمل پر مایوسی اور غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ X یعنی ٹویٹر پر بائیڈن کے بیان کے تحت درجنوں تبصروں نے اس غلطی کو اجاگر کیا ہے اور اس پیغام کی مختلف حالتوں کے ساتھ جواب دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صدر کی میراث "خون میں بھیگی" ہوگی۔
"وہ امریکی اقدار کہاں ہیں جن کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ اقتدار میں آنے کے بعد سے بات کر رہی ہے؟"
قاہرہ میں ایک تھنک ٹینک، مصری سینٹر فار سٹریٹیجک سٹڈیز میں ایک امریکی مطالعاتی محقق، ماہا علام سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ "امریکہ کے پاس اپنے کمپاس کو دوبارہ ترتیب دینے کے متعدد مواقع تھے،" "لیکن ایسا نہیں ہوا۔"
بائیکاٹ کی تحریک نوجوان عربوں کے لیے غزہ پر اپنے غصے کو ٹیلی گراف کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے اور خطے کے بادشاہوں اور آمروں کی طرف سے مسلط کیے گئے عوامی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کیے بغیر، جو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کوئی بھی بدامنی ایک دہائی سے زائد عرصے کی جمہوریت نواز بغاوتوں کو دوبارہ جنم دے سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق عرب دنیا میں اب "جوانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے"، جس میں خطے کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم ہے۔ . یہاں تک کہ اگر وہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر اپنی تنقید میں اتنا آواز نہیں اٹھا سکتے ہیں، تو وہ فلسطینی پرچم کے ساتھ کلائی پر پٹیاں باندھ کر یا تربوز کے میمز اور ایموجیز کا اشتراک کرکے، جو کہ فلسطینی کاز کی ایک مقبول علامت ہے، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
بغداد میں، عراق کی امریکن یونیورسٹی نے 10 اکتوبر کو ایک ای میل کے ساتھ ایک ہنگامہ برپا کر دیا جس میں علاقے کے روایتی نمونوں والے سکارف پر پورے کیمپس میں پابندی لگائی گئی تھی، جس میں فلسطینیوں سے وابستہ سیاہ و سفید کفایہ بھی شامل تھا۔ ای میل، جسے واشنگٹن پوسٹ نے دیکھا، ڈریس کوڈ میں جاری نظرثانی کے حصے کے طور پر پابندی کا سہارا لیا، لیکن الفاظ نے واضح کر دیا کہ یہ مسئلہ کفایہ ہے۔
گھنٹوں کے سوشل میڈیا پر ردعمل کے بعد، منتظمین نے "غلط فہمی" کے لیے معذرت کر لی۔ اگلے دن طلباء نے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا، کیمپس میں کفایہ پہن کر انہوں نے شہریوں کے قتل کی مذمت کی۔
بیروت میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار محمد عبید نے کہا کہ امریکہ شروع سے ہی اس تنازعے کا ایک فریق بن گیا، جس نے سیاست دانوں یا سفارت کاروں کو بھیجنے سے پہلے اسرائیل کی حمایت کے لیے جنگی جہاز بھیجے۔
وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اعلان کیا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے ایک دن بعد ایک طیارہ بردار بحری جہاز کے اسٹرائیک گروپ کو مشرقی بحیرہ روم میں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن چار دن بعد اسرائیل پہنچے۔
عبید نے کہا، "سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے سفارت کار بھیجنے سے پہلے، انہوں نے اپنے جنگی جہاز اور ہتھیار بھیجے اور جوابی دھمکی دی،" عبید نے کہا۔ ’’لہٰذا وہ دراصل اس جنگ میں اسرائیل کی خاطر شامل ہوئے، امریکہ کی خاطر نہیں۔‘‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے بلین چیک کی حمایت کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ امریکی صدر کی طرف سے آنے والے فلسطینی مخالف بیانات اور اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی تنقید کو قبول کرنے سے انکار کہ اسرائیل کا ردعمل اجتماعی سزا کے مترادف ہے، پر حیران تھے
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق مرنے والوں میں تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔
بائیڈن کو مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بائیڈن نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے حماس کے بچوں کے سر قلم کرنے کا دعوی بھی بار بار پھیلایا - جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے
دیگر خدشات یہ ہیں کہ بائیڈن کے موقف سے عسکریت پسند گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جو پہلے ہی عراق اور شام میں امریکی اہداف پر حملہ کر چکے ہیں، اور امریکی حکومت کے کچھ قابل اعتماد عرب اتحادیوں کے استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
اردن، مصر اور سعودی عرب جیسی اقوام امریکہ کے ساتھ اپنے مشترکہ مفادات کی حفاظت اور ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتے ہوئے عوامی غصے کے درمیان پسی ہوئی ہیں۔
اسرائیل اور خلیج فارس کی ریاستوں بشمول سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کا سست اور حساس راستہ – جو خطے میں امریکی پالیسی کا ایک نمونہ ہے – اب برف پر ہے۔
اقوام متحدہ کا کردار
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بدھ کے روز پہلی بار اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 99 کو اٹھایا، جس میں اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری جنگ کے باعث "غزہ میں انسانی بنیادوں پر نظام کے خاتمے کے شدید خطرے" کا حوالہ دیا گیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر، جوزے جاویئر ڈی لا گاسکا لوپیز ڈومینگیز کو لکھے گئے خط میں، گوٹیریس نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ "انتہائی مایوس کن حالات کی وجہ سے عوامی نظم مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا، اور یہاں تک کہ محدود انسانی امداد بھی ناممکن ہو جائے گی۔"
آرٹیکل 99 کی درخواست اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو اجازت دیتی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی توجہ "کسی بھی معاملے کی طرف مبذول کرائے جو ان کی رائے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہو"۔
گٹیرس نے محصور علاقے میں پھیلنے والی "اور بھی بدتر" صورتحال سے خبردار کیا، جس میں وبائی امراض اور بے گھر شہریوں کو آس پاس کے ممالک میں بھیجنے کے لیے دباؤ میں اضافہ شامل ہے۔
یہ خط اقوام متحدہ کے سربراہ کے ایک نادر اور اہم اقدام کی نشاندہی کرتا ہے، جس نے 2007 سے حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور تباہی کے درمیان اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا بار بار مطالبہ کیا ہے۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 16,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
خوراک، پانی اور ایندھن سمیت بنیادی ضروریات پر اسرائیل کے محاصرے نے علاقے میں انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔
گٹیرس نے کہا کہ موجودہ حالات انسانی بنیادوں پر کارروائیوں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کو "ناممکن" بنا دیتے ہیں۔
"جبکہ رفح کے ذریعے سامان کی ترسیل جاری ہے، مقدار ناکافی ہے اور وقفہ ختم ہونے کے بعد سےہم غزہ کے اندر ضرورت مندوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں"
گٹیرس نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ "انسانی تباہی سے بچنے کے لیے دباؤ ڈالے" اور "بقا کے ذرائع کو بحال کرنے اور غزہ تک امداد کی محفوظ اور بروقت ترسیل کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی فوری اپیل" کا اعادہ کیا ہے۔

ریاستہائے متحدہ نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا جس کی حمایت سلامتی کونسل کے تقریباً تمام اراکین اور درجنوں دیگر ممالک نے کی جس میں غزہ میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔ حامیوں نے اسے ایک خوفناک دن قرار دیا اور جنگ کے تیسرے مہینے میں مزید شہریوں کی ہلاکتوں اور تباہی سے خبردار کیا۔
15 رکنی کونسل میں ووٹ 13-1 تھے، برطانیہ نے حصہ نہیں لیا۔ امریکہ کا الگ تھلگ موقف غزہ پر اسرائیل کی مہینوں سے جاری بمباری پر واشنگٹن اور اس کے کچھ قریبی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ فرانس اور جاپان جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کرنے والوں میں شامل تھے۔

Wednesday, November 15, 2023

مشرق وسطی میں کیا ہو رہا ہے





اظہر عباس
(حصہ اول)

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ابھی چند دن پہلے ہی اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر اپنے شیخی والے بھاشن میں اپنے نئے عرب شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک نیا مشرق وسطیٰ بنانے کا اعلان کیا تو اپنے افسانوی علاقائی نقشے میں انہوں نے فلسطینیوں کو سرے سے نکال ہی دیا تھا جنہیں نے اب اسرائیل کو ایک سیاسی اور تزویراتی ہر لحاظ سے بھرپور چپت لگائی ہے۔ 

فلسطینیوں نے گھٹنوں کے بل ذلت کی موت پر کھڑے ہوکر عزت کی موت کو ترجیح دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے بے عیب منصوبہ بندی کے ساتھ زبردست طریقے سے عملدرآمد کرتے ہوئے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ غزہ سے اسرائیل میں خشکی، سمندر اور فضا سے داخل ہوئے۔

اسی دوران ہزاروں میزائل ایک ساتھ اسرائیلی فوجی اور سویلین علاقوں میں پھینکے گئے جس کے نتیجے میں سیکڑوں اسرائیلی ہلاک ہوئے اور درجنوں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ سیکڑوں سویلینز کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

حماس نے اہم صیہونی کمانڈر نمرود ایلونی کو گرفتار کر لیا ہے۔ حماس کی جانب سے پوسٹ کی گئی تصاویر میں ڈیپتھ کور کے کمانڈر جنرل نمرود ایلونی کو ٹی شرٹ اور انڈویئر پہنے ہوئے ننگے پائوں پریڈ کرائی ہے۔ دی جیوئش کرونیکل کے مطابق کمانڈر نمرود ایلونی اسرائیلی ڈیفنس فورسز ( آئی ڈی ایف ) کی ڈیپتھ کور اور ملٹری کالجرز کا سربراہ ہے اور اسے رواں برس ہی اسرائیلی وزیر دفاع ’ یوآوو گالنت‘‘ نے اس کور کا کمانڈر مقرر کیا تھا۔ حماس کے ڈپٹی چیف صالح العروری نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ حریت پسند فلسطینی تنظیم نے بڑی تعداد میں سینئر اسرائیلی افسران کو حراست میں لے لیا ہے ۔ اسرائیل کے حملے کے بعد حماس کے ارکان نے کئی بھاگتے ہوئے فوجیوں کو گرفتار بھی کرلیا، اسرائیلی ٹینکوں ، فوجی بکتر بند گاڑیوں اور دیگر جنگی گاڑیوں پر قبضہ کرلیا، اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حماس نے کئی فوجی کمانڈرز اور شہریوں کوحراست میں لے لیا ہے جنہیں غزہ منتقل کردیا گیا ہے،حماس نے حراست میں لئے گئے اسرائیلیوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے جبکہ گرفتار اہم صیہیونی کمانڈر سمیت کئی عہدیداروں کی پریڈ بھی کروائی ہے 

یہ اسرائیل کے غزہ پر حملوں، مسجد اقصیٰ کی بار بار بے حرمتی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی کارروائیوں کیخلاف حماس کا جوابی ایکشن تھا، عرب اسرائیلی جنگ کی پچاسویں سالگرہ پر علی الصبح حماس نے پہلی بار غزہ سے بیک وقت بری ، بحری اور فضائی کارروائی کی، حماس نے اسرائیلی کے جنوبی شہروں میں فوجی اڈوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوجیوں سمیت 290 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ’آپریشن الاقصیٰ طوفان‘ کے تحت فلسطینی مجاہدین کی بڑی تعداد غزہ کی سرحد پر موجود باڑ ہٹاتے ہوئے زمینی راستے سے اسرائیل کے شہر اشکلون سمیت جنوبی شہروں میں داخل ہوئی جبکہ سمندری راستے اور پیراگلائیڈرز کی مددسے بھی متعدد حماس ارکان نے حملہ کیا ، حماس نے 20 منٹ میں 5ہ زار راکٹ برسائے، کامیاب آپریشن پر غزہ کے کئی علاقوں میں فلسطینیوں کا جشن، حماس کے حملے سے اسرائیل کے مختلف شہروں میں شدید خوف وہراس پھیل گیا، چھوٹے بڑے شہروں میں سائرن بجائے جاتے رہے جبکہ غزہ کی قریبی آبادی سے اسرائیلی فوجی بھاگتے اور شہری نقل مکانی کرتے رہے، لاشوں اور زخمیوں کو ایمبولنسز کے ذریعے سے اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی سرحد کے قریب 22 مقامات پر سڑکوں پر لڑائی جاری ہےجن میں 5 مقامات پر شدید لڑائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اسرائیل کے جنوبی علاقوں سمیت تل ابیب کیلئے بھی پروازیں منسوخ کردی گئیں ہیں، اسرائیلی فورسز نے غزہ میں آبادی پر فضائی بمباری کردی جس کے نتیجے میں 280 فلسطینی شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، اسرائیلی طیاروں نے اسپتالوں اور ایمبولنسز کو بھی نشانہ بنایا، مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی جھڑپیں شروع ہوگئیں، اسرائیلی فورسز نے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کردی، حماس کے فوجی کمانڈر محمد الضیف نے ’آپریشن الاقصیٰ فلڈ‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینیوں سے ہر جگہ لڑنے کی اپیل کی، انہوں نے کہا کہ یہ زمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی جنگ کا دن ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے غاصب (اسرائیل) کے تمام جرائم کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اُن کی بلا احتساب اشتعال انگیزی کا وقت ختم ہو گیا، ٹیلی گرام پر پوسٹ کئے گئے ایک بیان میں حماس نے مغربی کنارے میں مزاحمت کرنے والے جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ عرب ممالک سمیت دیگر مسلم اقوام سے جنگ کا حصہ بننے کی اپیل کی ہے، حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ ہم نے قابض اسرائیل کے تمام جرائم ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،حماس کے مطابق انہوں نے غزہ پر صہیونی فورسز کی جانب سے رہائشی عمارتوں پر حملوں کے جواب میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر بھی 150راکٹ حملے کئے ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ پر2ہزار سے زائد فضائی حملے کئے ہیں، میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتوار کو 3بجے اسرائیل فلسطین تنازع پر اجلاس بلالیا ہے۔

اسرائیل میں ہونے والے حماس کے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیے جانے والے حملے کو روکنے میں اسرائیلی انٹیلی جنس سروس بری طرح ناکام ہو گئیں اور اسرائیلی میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ 

اسرائیلی حکام سے جب سوال کیا گیا کہ اس قدر بیشمار وسائل کے ہوتے ہوئے آپ کو حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ملی تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ایسا بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ 

اسرائیل کی داخلی انٹیلی جنس سروس ’’شن بیت‘‘ اور بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور اسرائیلی فوج کے تمام تر وسائل کے باوجود دنیا کیلئے حماس کی یہ کارروائی اچانک اور حیران کن ثابت ہوئی ہے کیونکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ 

اور اگر یہ مان بھی لیں کہ انہیں کسی بڑے حملے کا اندازہ تھا تو وہ اسے روکنے میں ناکام ہوگئے۔ 

اسرائیل کے پاس مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ وسیع اور سب سے زیادہ فنڈنگ کی حامل انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں۔ اسرائیلی ایجنسیوں کے مخبر ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور وہ فلسطینی گروپس کے ساتھ لبنان، شام اور دیگر مقامات پر بھی موجود ہیں۔ 

انہی مخبروں کو استعمال کرتے ہوئے ماضی میں اسرائیل نے کئی فلسطینی رہنمائوں کو قتل کیا ہے۔ بعض اوقات یہ حملے ڈرونز کے ذریعے اس وقت کیے جاتے ہیں جب مخبروں کی جانب سے مطلوب فلسطینی کی گاڑی پر جی پی ایس ٹریکر لگا دیا جاتا ہے۔ 

سیکورٹی حصار کی بات کی جائے تو غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ سرحدی باڑ پر کیمرے، گراؤنڈ موشن سینسرز اور فوج کا باقاعدہ گشت رہتا ہے۔ 

خیال کیا جاتا ہے کہ خاردار تاروں والی باڑ بالکل اس طرح کی دراندازی کو روکنے کیلئے تھی جو موجودہ حملے کیلئے کی گئی ہے۔ 

حماس کے عسکریت پسندوں نے اس باڑ کو بلڈوز کیا اور اسرائیلی حدود میں داخل ہوگئے۔ کچھ عسکریت پسند سمندر سے پیرا گلائیڈرز کے ذریعے بھی داخل ہوئے۔ 

حماس کی جانب سے غیر معمولی انداز سے پیچیدہ پلاننگ جس میں مربوط انداز سے سیکورٹی بریچ کرنا اور پھر سیکڑوں راکٹ فائر کرنا یقینی طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے کیونکہ یہ سب کچھ اس کی ناک کے نیچے ہوا ہے۔ 

تعجب نہیں کہ اسرائیلی میڈیا اس انٹیلی جنس ناکامی پر اپنے فوجی اور سیاسی رہنماؤں سے سوالات کر رہا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے۔ 

حیران کن بات ہے کہ 50؍ سال قبل بھی اکتوبر (1973ء کی کپور وار) کے مہینے کے دوران اس وقت اسرائیل پر اچانک حملہ کیا گیا تھا جب اسرائیلی اپنا مذہبی تہوار یومِ کپور منا رہے تھے۔ اس ناکامی پر اسرائیل میں ایک بڑی انکوائری شروع ہوئی ہے جس میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ 

لیکن اس وقت اسرائیل کی ترجیحات میں اہم ترین کام سرحدی علاقہ جات میں اُن رہائشی مقامات سے عسکریت پسندوں کا کنٹرول چھڑانا ہے جن پر اب حماس کا قبضہ ہے۔ 

ممکن ہے کہ اپنے یرغمال شہریوں کی آزادی کیلئے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑے۔ 

اس کے علاوہ، اسرائیل اُن مقامات کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کرے گا جہاں سے اسرائیل پر راکٹ داغے جا رہے ہیں تاہم اس میں شاید اسرائیل کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے کیونکہ حماس کے مسلح افراد کسی ایک خاص مقام سے راکٹ فائر نہیں کرتے۔ 

اس کے ساتھ ہی ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر حماس نے مدد کیلئے آواز دی اسرائیل اسے کیسے روکے گا کیونکہ لبنان کے ساتھ اس کی شمالی سرحد پر حزب اللّٰہ کے جنگجو بھی اس لڑائی میں کود سکتے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز لکھتا ہے جنگ ممکنہ طور پر سعودی اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کی بائیڈن کی سفارت کاری کو متاثر کرے گی۔پولز بتاتے ہیں کہ سعودیوں کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی مخالفت کرتی ہے یہاں تک کہ ولی عہد محمد بن سلمان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودیوں میں فلسطینی کاز کے لیے ہمدردی اور اسرائیل کے لیے دشمنی زیادہ ہے۔ ممکنہ طور پر ایک مکمل جنگ ان جذبات کو منظر عام پر لائے گی اور انہیں مزید بھڑکا دے گی جو کہ سعودی حکومت کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کرے گی۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جھڑپ سے علاقائی تنازع بننے کا خطرہ ہے، صدر بائیڈن اور ان کے معاونین کی جانب سے سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیےجاری کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکی حکام کی توجہ جنگ کو روکنے پر ہے، نہ کہ سعودی اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے پر سفارت کاری پر۔ امریکی تھنک ٹینک ’اٹلانٹنک کونسل‘ کے مطابق اگر یہ حملہ حماس یا ایران کی طرف سے سعودی اسرائیل کے درمیان معمول پر آنے والی بات چیت کو روکنے کی کوشش ہے، تو اس کا رد عمل ہوگا۔ اسرائیل غزہ کو غیر معمولی موجودگی اور پابندیوں کے ساتھ بند کر دے گا۔ یہ وہ نئی بنیاد ہوگی جہاں سے اب ریاض کو فلسطینیوں کے لیے آگے بڑھنے کے راستے پر بات چیت کرنی ہوگی جس پر انہوں نے اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے دوران اصرار کیا ہے۔ حماس نے تمام فلسطینیوں کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ سعودی عرب، عالمی سطح پر مسلمانوں کے گاڈ فادر کے طور پر اپنے کردار میں، اب غزہ کے سویلین لیڈروں کو ریاض مدعو کرنے کا انتخاب کر سکتا ہے، تاکہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت جاری رہے۔ لیکن ایجنڈا حماس کے بغیر مستقبل کے غزہ پر مرکوز ہو گا، اور یہ ایک ناقابل گفت و شنید نقطہ آغاز ہو گا۔ امریکی ٹی وی بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق حماس نے مشرق وسطیٰ کے ازسرنو تشکل کے لیے بائیڈن کے معاہدے کو آگ لگادی۔حماس سعودیوں اور اسرائیلیوں کے ساتھ امریکی معاہدے کو پسند نہیں کرتی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حماس کو امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کی سفارت کاری اور عظیم حکمت عملی میں ویٹو حاصل تھا۔ وہ تین ممالک کسی حد تک خاموشی سے، اور وائٹ ہاؤس کے زور پر - تین طرفہ معاہدے کی طرف بڑھ رہے تھے جو خطے اور اس سے باہر کی جغرافیائی سیاست کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ لیکن یہ صورت حال فلسطینیوں کو پس پشت ڈال دیتی ہے لہذا حماس نے اسے اڑا دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے تیل کے لئے، یہ دوبارہ 1973 نہیں لیکن اس سے بدتر ہو سکتا ہے۔ اکتوبر 2023 اور اکتوبر 1973 کے درمیان کے مماثلتوں کو کھینچنا آسان ہے اسرائیل پر اچانک حملہ اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ۔ عالمی معیشت ایک اور عرب تیل کی پابندی کا شکار ہونے والی نہیں ہے جس سے خام تیل کی قیمت تین گنا بڑھ جائے گی۔ اس کے باوجود، دنیا کو تیل کی طویل قیمتوں کا سامنا کرنے کے امکانات کو کم کرنا ایک غلطی ہوگی۔ یہ بحران اکتوبر 1973 کا اعادہ نہیں ہے۔ عرب ممالک متحد ہو کر اسرائیل پر حملہ نہیں کر رہے ہیں۔ مصر، اردن، شام، سعودی عرب اور باقی عرب دنیا واقعات کو کنارے سے دیکھ رہے ہیں خود تیل کی منڈی میں اکتوبر 1973 سے پہلے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اس وقت، تیل کی طلب بڑھ رہی تھی، اور دنیا نے اپنی تمام اضافی پیداواری صلاحیت ختم کر دی تھی۔ آج، کھپت میں اضافہ معتدل ہے، اور الیکٹرک گاڑیوں کے حقیقت بننے کے ساتھ ساتھ مزید سست ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس کافی اضافی صلاحیت ہے جسے وہ قیمتوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ 2023 اور 2024 میں تیل کی منڈیوں پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ سب سے زیادہ فوری اثر اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اسرائیل یہ نتیجہ اخذ کرے کہ حماس نے تہران کی ہدایات پر عمل کیا۔ اس صورت حال میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ اگر اسرائیل فوری طور پر ایران کو جواب نہیں دیتا ہے، تب بھی اس کے اثرات ایرانی تیل کی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تیل کے کسی بھی بحران سے روس کو فائدہ ہوگا۔ اگر واشنگٹن ایران کے خلاف پابندیاں لگاتا ہے، تو یہ روس کے اپنے منظور شدہ بیرل کے لیے مارکیٹ شیئر جیتنے اور زیادہ قیمتیں حاصل کرنے کے لیے جگہ پیدا کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر آنکھیں بند کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سے روس کو نقصان پہنچے۔ بدلے میں، وینزویلا کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے لکھا کہ تعلقات معمول پر لانے کے اقدامات کے باوجود سعودی عرب نے اسرائیل کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ولی عہد نے کہا کہ انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ریاض یروشلم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک تاریخی معاہدے کے قریب تھے۔یورپی کونسل آن فارن ریلیشن تھنک ٹینک کے سینئر پالیسی فیلو نے کہا یہ بیان کافی غیر جانبدار اور اس بات کا عکاس ہے کہ ریاض کس طرح مختلف مفادات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بات پر تشویش ہوگی کہ یہ وسیع تر علاقائی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کے جاری معمول پر آنے والے مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر ایرانی اثر و رسوخ کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق سعودیوں میں سے صرف 2 فی صد اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر چاہتے ہیں اکانومسٹ کے حوالے سے لکھا سعودی عرب اور اسرائیلی حکومت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے داخلی رکاوٹیں اہم ہیں ، صرف 2 فیصد نوجوان سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کرتے ہیں۔ ریاض کی جانب سے معمول پر لانے کا محرک امریکہ کے ساتھ ایک نیا اسٹریٹجک اتحاد ہے۔امریکی میڈیا’دی ہل ‘ کے مطابق سعودی عرب، قطر، ایران کا موقف ہے کہ حماس کے حملوں کا ذمہ دار صرف اسرائیل ہے۔

سابق پاکستانی سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ عرب ممالک تنازع فلسطین پس پشت ڈال کر اسرائیل سے تعلقات قائم کررہی ہے، حماس کا حملہ اس سب کا فطری ردعمل ہے، فلسطینی سمجھتے ہیں وہ اس ساری صورتحال میں نظرانداز ہورہے ہیں، سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا بہت بڑا قدم ہوگا، سعودی عرب نے مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر اسرائیل کو تسلیم کیا تو فلسطین کا معاملہ ختم ہوجائے گا،مجھے نہیں لگتا سعودی عرب مستقبل قریب میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھائے گا، عرب دنیا اس وقت اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتی ہے۔ عبدالباسط کا کہنا تھا کہ حماس نے حملہ کر کے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کو نقصان پہنچایا ہے، ا س وقت ایک ہزار کے قریب اسرائیلی زخمی ہیں جبکہ 35 حماس کے قبضے میں ہیں، مغربی ممالک حماس کو دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی ریاستی دہشتگردی بھول جاتے ہیں، یو اے ای نے ویسٹ بینک میں آبادکاری روکنے کی شرط پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے مگر ایسا نہیں ہوا، ایسا لگتا ہے اسرائیل دو ریاستی حل سے پیچھے ہٹ گیا ہے، اسرائیل میں انتہاپسند حکومت ہے وزیراعظم نیتن یاہو کرپشن کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سابق سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ حماس کے حملے سے ایران اور سعودی عرب میں تعلقات کی بحالی کا عمل آستہ ہوسکتا ہے، سعودی عرب اسلامی دنیا کی قیادت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر توجہ دے، اسرائیل اب غزہ میں فضائی حملے کر کے بہت تباہی مچائے گا لیکن مکمل قبضہ نہیں کرے گا۔

دنیا بدل چکی ہے

 دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس  اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...