Tuesday, September 19, 2023

چین سے براستہ پاکستان یورپ بمقابلہ امارات سے یورپ براستہ اسرائیل

 

اظہر عباس
بھارت میں جی ٹوئنٹی کے اجلاس کے موقع پر الگ سے ایک پیشرفت میں بھارت سے مشرق وسطیٰ کے راستے یورپ تک تاریخی تجارتی راہداری منصوبے کی نقاب کشائی کی گئی ہے جس میں امریکا بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق چینی منصوبے ون بیلٹ ون روڈ (جسے جدید شاہراہ ریشم بھی کہاجاتا ہے) کے نعم البدل کے طور پر تیار کیے جانے والے اس راہداری منصوبے کو جدید مصالحہ راہداری کہاجاسکتا ہے ۔منصوبے کے تحت دبئی سے اسرائیلی بندرگاہ حیفہ تک ریلوے لائن بچھے گی، کنٹینروں کو نہرسوئز سے نہیں گزرنا پڑے گا اور یورپ سے بھارت تک تجارت کی رفتار40 فیصد تیز ہوجائےگی۔ امریکا، سعودی عرب، یورپی یونین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے مشترکہ طور پر لانچ کیے جانے والے اس اقدام میں ریلوے، بندرگاہوں، بجلی ، ڈیٹا نیٹ ورک اور ہائیڈروجن پائپ لائن کے رابطے قائم کیے جائیں گے۔ اگرچہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر تجارت پرمرکوز ہے لیکن اس کے بہت وسیع مضمرات ہوں گے جن میں ماضی کے دشمنوں اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین تعلقات نارمل کرنا بھی شامل ہے۔ ایونٹ کی لانچ کے موقع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ’’ یہ واقعی ایک حقیقی بڑی اور تاریخی ڈیل ہے‘‘۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان دیرلین نے کہا کہ بھارت، مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ کی یہ اقتصادی راہداری صرف ایک ریلوےیا ایک کیبل تک محدود نہیں ہے ۔ یہ ایک براعظموں اور تہذیبوں کے مابین ایک سبز اور ڈیجیٹل پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا ہی ایک مجوزہ منصوبہ مشرق وسطیٰ بشمول متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب ، اردن اور اسرائیل کو ریل سے جوڑنا ہے اور اس سے بھارت اور یورپ کے مابین تجارت کی رفتار 40 فیصد بڑھ جائے گی۔ یوریشیا گروپ کے سربراہ پرامیت پال چوہدری نے ککہا ہے کہ آج جو کنیٹینر نہر سوئز کے راستے یورپ سے ممبئی پہنچتا ہے وہ اب یورپ سے براہ راست اسرائیلی بندرگاہ حیفہ سے ریل کے ذریعے دبئی پہنچے گا جس سے وقت اور رقم دونوں بچیں گے۔ اے ایف پی کو جو تفصیلات ملی ہیں ان کے مطابق ’ سبز ہائیڈروجن‘ کی تیاری اور ٹرانسپورٹ کےلیے انفراسٹرکچر بھی اسی اقتصادی راہداری کے ذریعے بنایاجائےگا۔ یہ ٹیلی کمیونی کیشن اور ڈیٹا ٹرانسفر کو بھی زیرسمندر کیبل کے ذریعے مضبوط بنائے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا تھا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پلان کو حقیقت کی شکل دی جائے۔ ان پروجیکٹس سے مشرق وسطیٰ کی معدنی تیل میں ڈوبی ہوئی معیشتوں کو اپنی معیشتوں کا انحصار معدنی تیل پر کم کرنے کا موقع ملے گا۔ ولسن سینٹر میں سائوتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم ردعمل بن سکتا ہے۔ چین کے بی آر آئی منصوبے سے یورپ، افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا میں چینی اثرورسوخ، سرمایہ کاری اور معیشت کو فروغ ملا تھا۔ کوگلمین کے مطابق اگر یہ منصوبہ جس کا مقصد بھارت اور مشرق وسطیٰ کے مابین ارتباط کو طاقتور کرنا اور بی آر آئی کے منصوبے کور وکنا ہےوہ اگرکامیاب ہوجاتا ہے تو یہ گیم چینجر ہوگا۔ س منصوبے پردستخط کرنے والوں کو امیدہے کہ بھارت کی ایک ارب 40 کروڑ افراد کی منڈی کو مغرب سے منسلک کرکے اسے چینی انفراسٹرکچر پر خطیر اخراجت کے پروگرام کے نعم البدل کے طور پر لایاجاسکے گا۔ اس کے علاوہ اس سے مشرق وسطیٰ کی معیشتوں کو فروغ ملے گا جبکہ اسرائیل اور خلیج کی عرب ریاستوں کے مابین تعلقات بھی نارمل ہوسکیں گے۔
بہت ہی دلچسپ پہلو یہ ہے کہ G20کی اٹھارویں کانفرنس کا موٹو : ’’ایک دھرتی، ایک خاندان اور ایک مستقبل‘‘ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے نعرے ’’انسانیت کے مشترکہ مقدر کی (عالمی) برادری جس کا مستقبل سانجھا ہو‘‘۔ کے ہم معنی ہے۔
جی 20 میں یقیناً بھارت ایک ابھرتی ایشیائی طاقت بن کر عالمی اسٹیج پر نمودار ہوا ہے لیکن نئی دہلی کو بھاجپا کے رنگوں اور مورتیوں سے اربوں روپے خرچ کر کے خوب سجایا تو گیا لیکن غریبوں کی جھونپڑیاں مسمار کر کے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بڑا معاہدہ ہے لیکن ایسا گیم چینجر نہیں جیسا کہ گوادر
گلف کے ممالک پہلے ہی زمینی راستے سے ملے ہوئے اور تجارت کر رہے۔ صرف اسرائیل کی بندرگاہ کو استعمال کرنا ایک چونکا دینے والا اقدام ہے۔
ویسے بھی اس میں امریکی صدر نے کلینر کر دیا ہے کہ یہ ایک ریجنل انویسٹمنٹ ہے۔ یعنی اسکا بل انڈیا اور گلف ممالک دیں گے۔
بہرحال یہ معاہدہ ابراہام کی ایکسٹینش ہے جو یو اے ای سے حیفہ تک جائے گی اور اس میں انڈیا کو اب شامل کیا گیا ہے لیکن اس میں انڈیا کی جو زیر سمندر ٹنل کا 1000 کلومیٹر کا منصوبہ ہے آپ کے خیال میں اگلے سال بن جائے گی ؟ نہیں یہ کم از کم 20 سال کا منصوبہ ہے
ہاں یہ سمٹ مودی کیلئے ضرور ایک گیم چینجر ہو سکتی ہے جو آنے والے دنوں میں الیکشن میں اسے ایک اسٹنٹ اور اپنے آپ کو عالمی لیڈر کے بیانئے کے ساتھ میدان میں اتریں گے
دوسری طرف پاکستان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے پلیٹ فارم سے اوپن پاکستان کے حوالے سے نئی ویزا رجیم کے متعلق انتہائی اہم فیصلے لیے گئے ہیں جس کے تحت کاروباری افراد اور کاروبار سے منسلک بیرون ملک مقیم لوگ اگر پاکستان آنا چاہیں تو ان ممالک یا بین الاقوامی کاروباری اداروں کی جانب سے جاری ایک دستاویز پر ان کو آسانی سے پاکستان کے تمام مشنز ویزا کا اجرا کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے تمام چیمبرز اور کاروباری افراد پاکستان سے باہر کسی فرد کو ایسی دستاویز جاری کریں گے اس کی بنیاد پر اس فرد کو ویزا کے اجراء میں آسانیاں ہوں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ افراد کے ساتھ درمیانے اور بڑے کاروباری اداروں سے منسلک افراد کو بھی یہ آسان ویزا رجیم کی سہولیات میسر ہوں گی۔
پاکستان کاروبار اور معیشت کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جارہا ہے۔ جس میں یہ دونوں پراجیکٹس ون بیلٹ ون روڈ اور بھارت سے مشرق وسطیٰ کے راستے یورپ تک تجارتی راہداری منصوبے سے یکساں فوائد سمیٹ سکتا ہے



Friday, August 25, 2023

عوام دیوالیہ ہو چکی

اظہر عباس

موضوعات تو بہت تھے کہ جن پر لکھا جاتا۔ کچھ تجزیہ سیاست کا ہوتا مثلا:

- کیا جہانگیر ترین کی پارٹی کو پنجاب میں کھڑا کر کے نون اور پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچایا گیا ؟
- کیا پرویز خٹک کو کے پی کے میں لانچ کر کے جے یو آئی کو نقصان پہنچایا گیا ؟
- کیا میاں نواز شریف کو جو یقین دہانیاں کرائی گئیں ان سے یکدم پیچھے ہٹ گئے ہیں ؟
- کیا باپ کو کھڑا رہنے کا کہہ کے پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود رہنے کا پیغام دیا گیا ؟
- کیا صدارتی ٹویٹ کسی کی آشیرباد سے ہوا یا صدر صاحب خود ہی اپنے آپ کو آشیرباد دے رہے تھے ؟
- کیا چیف جسٹس کا متحرک ہو کے چھوٹی عدالتوں میں زیر سماعت مقدموں پر سماعت شروع کرنا بغیر کسی حمایت سے ہے ؟
- کیا صدر اور چیف جسٹس اپنی آخری جنگ کا آغاز کر چکے ؟

لیکن ہماری ایک ٹوٹر فیلو فرح ذوالقرنین جو کہ ایک ماہر نفسیات ہیں کے ایک ٹویٹ نے توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی۔ دیکھئے وہ کیا کہتی ہیں:

"یہ عمران نامہ بھی اب بند ہونا چاہئیے۔ وہ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ اس نے جو بویا وہ کاٹ لے گا اللہ کا نظام بہت زبردست ہے۔
اپنے معاملات کی طرف توجہ دیں۔ ہنسی مذاق ضرور کریں لیکن ایک حد تک۔ ہر وقت کے عمران نامے نے بھی لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی ہوئی ہے۔

شکریہ!

پارٹی وابستگیوں سے بالا تر ہو کے سوچئیے کہ ہم واقعی اپنے مسائل کی جڑ تک ہم اس لئے بھی نہیں پہنچ پا رہے کہ ہمارا Rationale ایک ہی جگہ پھنس چکا ہے۔ جس دن ہم اس سے نکل آئے شاید ہم اس قابل ہو سکیں کہ معاملے کی جڑ تک پہنچ جائیں اور متعلقہ لوگوں سے پوچھ سکیں کہ ہمارا حق کہاں لگایا جا رہا ہے ؟

5 دہائیوں سےپاکستان کے وسائل کو افغانستان کی بھٹی میں جھونکا جا رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہمیں کیا خوف ہے کہ افغانستان میں اسٹریٹیجک ڈیپتھ ڈھونڈتے پھرتے ہیں ؟

یقین مانیں عوام اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ اس پر کوئی بھی ملک قبضہ جما لے اسے کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔
دو وقت کا کھانا بھی اب ختم ہو کے ایک کے لالے پڑے ہوئے ہیں

ایک ڈالر کا ایک لیٹر پیٹرول تو شاید امریکہ میں بھی نہیں ہوگا۔ کبھی کیلیکولیٹ تو کریں کہ ایک یونٹ بجلی کتنے میں پڑ رہی ہے۔

ان حالات میں بھی جیوڈیشری اور بیورو کریسی چاہے وہ عسکری ہو یا سول مفت بجلی اور مفت پیٹرول کے مزے اڑا رہی ہے۔

کیا مملکت کو بچاتے بچاتے عوام کا دیوالیہ نہیں نکل چکا ؟

ذرا سوچئے !!



Tuesday, August 22, 2023

دنیا کی معاشی جنگ اور پاکستان

https://e.dailyauthority.pk/page.php?Page=2&date=23-08-2023&city=isb




پاکستان اکثر مغربی خبروں میں نہیں ہوتا، لیکن جب یہ ہوتا ہے تو یہ تقریباً ہمیشہ منفی ہی ہوتا ہے۔ 


مغربی پریس میں آپ کو پاکستان سے زیادہ مایوس کن عالمی شہرت والا کوئی دوسرا ملک تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ ان سب کے ساتھ، یہ بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے اور "انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے"


نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو محدود امداد فراہم کرنے پر تو ہمیشہ آمادہ رہا ہے، خاص طور پر فوج کو، جب تک وہ افغان طالبان کے خلاف سرگرم عمل تھا، لیکن 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد سے، وہ بھی کم ہو گئی ہے اور اب امریکہ کی توجہ مرکوز ہے بھارت پر جو اس وقت چین اور روس/ یوکرائن کے بعد دنیا کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔


گزرے مئی میں ہونے والی لزبن، پرتگال میں ہونے والی بلڈر برگ کانفرنس جس میں دنیا کی ٹاپ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور طاقتور ملکوں کی حکومتوں کے نمایندوں نے شرکت کی اور دنیا کے جن معاملات کو موضوع بحث لائے اس میں سرفہرست مصنوعی ذہانت تو تھی ہی لیکن پہلی بار انڈیا کو موضوع بحث بنایا گیا۔


اسی سال اگست سے ایلن مسک نے کھل کر بھارتی نژاد ریپبلکن صدارتی امیدوار وویک راما سوامی کی نا صرف حمایت شروع کی ہے بلکہ اس کا ایجنڈا بھی اپنی ٹویٹس میں زیر بحث لانا شروع کر دیا ہے۔


لگتا ہے کہ طاقتور امریکی لابیاں اب ٹرمپ کے مستقبل سے مایوس ہو کر کسی دوسرے امیدوار کے سر پر ہاتھ رکھنے کی تیاری کر رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں بھارتی نژاد ہی کیوں نظر آیا ؟ یاد رہے کہ اس وقت برسر اقتدار امریکی ڈیموکریٹک نائب صدر بھی بھارتی نژاد ہی ہیں۔


برطانوی جریدہ گارجین کی 20 مئی کی خبر کے مطابق لزبن کی کانفرنس میں شرکت کرنے والی الزبتھ اکانومی جو محکمہ تجارت میں چین کے لیے بائیڈن کے سینئر مشیر کے طور پر اپنے دوسرے بلڈربرگ میں حصہ لے رہی ہیں نے کہا کہ چین کا سب سے بڑا مقصد "عالمی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا ہے"


جس کو اس نے "اپنے اصولوں اور اقدار کے ساتھ ایک چین پر مبنی آرڈر" کہا۔ گارجین کے مطابق بلڈر برگ ایک اشرافیہ کا فورم ہے جس نے تقریباً سات دہائیوں سے مغربی ورلڈ آرڈر کو تشکیل دینے اور فروغ دینے میں مدد کی ہے۔


چین اور ٹیکنالوجی کے دوہری خطرات بلڈربرگ بورڈ کے رکن ایرک شمٹ کی سوچ میں جڑے ہوئے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے گوگل کے سابق باس نے کانگریس کی سماعت میں بتایا تھا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مقابلے کے "مرکز میں AI" ہے۔ اور یہ کہ "چین اب ٹیکنالوجیز، خاص طور پر AI میں امریکہ سے آگے نکلنے کے لیے بہت زیادہ وسائل وقف کر رہا ہے۔"


گویا چین کی عالمی معاشی اور ٹیکنالوجی برتری کے آگے بھارت کو بطور بفر اسٹیٹ آگے بڑھایا جائے گا ؟ کسے معلوم لیکن بی جے پی کی ہندتوا پالیسی اب چلنے والی نہیں۔ اگر اسے عالمی معیشت میں جنگ کا ایک فریق بننا ہے تو اسے اپنے اندرونی تضادات سے نجات حاصل کرنی ہو گی اور مجھے اگلے بھارتی انتخابات میں عام عوام پارٹی اور کانگریس آگے بڑھتی نظر آتی ہیں۔ مودی اپنے ہندتوا کے نظریاتی بوجھ سمیت اگلے الیکشن میں داخل ہوں گے جسے چین جیسے لمبی اعصابی جنگ کے ماہر کا سامنا ہوگا۔


پاکستان کو انہی انتہاوں کے درمیان اپنا راستہ بنانا ہے۔ اپنی امیج بلڈنگ کرنی ہے اور اپنے سیاسی دنگل کو ایک طرف رکھ کر معاشی میدان میں آگے بڑھنا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے قیام کی منظوری دی ہے، جو کہ GCC ممالک اور عمومی طور پر دیگر ممالک کے ساتھ متعلقہ شعبوں میں ملٹی ڈومین تعاون کے لیے ایک 'سنگل ونڈو' کے طور پر کام کرے گی، جس کا مقصد سرمایہ کاری کو آسان بنانا ہے۔ یہ ایک خوش آئیند قدم ہے۔ ایسے اقدامات ملک میں سیاسی استحکام میں مددگار ہونے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی تحفظ کا احساس دیں گے کہ عالمی معاشی ماحول ایسے ہی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

Thursday, July 27, 2023

Gifts

One of my favorite quotes is from a former American president, Theodore Roosevelt, who said: "It is not the critic who counts; not the man who points out how the strong man stumbled, or where the doer of deeds could have done them better. The credit belongs to the man who is actually in the arena, whose face is marred by dust and sweat and blood; who errs and comes short again and again; who knows the great enthusiasms, the great devotions; who spends himself in a worthy cause; who, at the best, knows in the end the triumph of high achievement, and who, at the worst, if he fails, at least fails while daring greatly, so that his place shall never be with those timid souls who know neither victory or defeat."

Does this mean that we all have to be highly gifted?

Not at all. The important thing is that we use the gifts that God has given to each of us and use these to the best of our ability.

Or as Martin Luther King, Jr. said, "If a man is called to be a street-sweeper, he should sweep streets even as Michelangelo painted, or as Beethoven composed music, or as Shakespeare wrote poetry. He should sweep streets so well that all the hosts of heaven and earth will pause to say, 'Here lived a great street-sweeper who did his job well.'




Thursday, July 13, 2023

ہٹ مین کے پیچھے کون ہے

https://e.dailyauthority.pk/page.php?Page=2&date=13-07-2023&city=isb
اظہر عباس پہلے قارئین کو اپنے گزشتہ فروری میں لکھے گئے کالم کے کچھ حصے پیش کرنے پر معذرت خواہ ہوں تاہم چونکہ واقعات اس تیزی سے بیت رہے اور کڑیاں اس طرح مل رہیں کہ یہ نا گزیر ٹھہرتے ہیں "اگر آپ میرے گذشتہ کالم کو یاد کریں تو روتھ شیلڈز فیملی پر میں پہلے ہی تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ آئیے آپ کو اپنے گذشتہ کالم کا وہ حصہ دوبارہ پڑھنے کی زحمت دیں: "ہاوس آف روتھ چائلڈز" روتھ چائلڈز ایک طویل عرصے سے متنازعہ حیثیت کا حامل مالدار یہودی خاندان ہے اور سازشی تھیوریوں والے دنیا کو ان کے کنٹرول میں ہونا ثابت کرتے رہتے ہیں۔ روتھ چائلڈ کا دعویٰ ہے کہ وہ یہودی ہیں، جب کہ حقیقت میں ان کا تعلق خزریا نامی ملک سے ہے جو بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے درمیان کی سرزمین پر قابض تھا۔ جو اب زیادہ تر جارجیا کا حصہ ہے۔ روتھ چالڈز کے یہودی ہونے کا دعویٰ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بادشاہ کی ہدایت پر خزاروں (خزریا کے مقامی باشندے) نے 740 عیسوی میں یہودی عقیدہ اختیار کیا، لیکن یقیناً اس حکم میں ان کے ایشیائی منگول جینز کو یہودیوں کے جینز میں تبدیل کرنا شامل نہیں تھا۔ آپ دیکھیں گے کہ آج دنیا میں تقریباً 90% لوگ جو خود کو یہودی کہتے ہیں درحقیقت خزر ہیں، عرف عام میں آپ انہیں اشکنازی یہودی کہہ سکتے ہیں۔ یہ لوگ دانستہ طور پر دنیا کے سامنے اپنے دعوے کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں کہ اسرائیل کی سرزمین پیدائشی طور پر ان کی ہے، جب کہ حقیقت میں ان کا اصل وطن جارجیا میں 800 میل سے زیادہ دور ہے۔ اسرائیل کا ہر وزیر اعظم اشکنازی یہودی رہا ہے۔ آج دنیا میں اشکنازی یہودیوں کا رہنما روتھ چائلڈز خاندان ہے۔ کہنے والے الزام لگاتے ہیں کہ روتھ چائلڈز نے جھوٹ، ہیرا پھیری اور قتل کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی بلڈ لائن یورپ کے شاہی خاندانوں تک بھی پھیلی ہوئی ہے، اور درج ذیل خاندانی نام: Astor؛ بنڈی کولنز؛ ڈوپونٹ؛ فری مین؛ کینیڈی مورگن؛ اوپن ہائیمر؛ راک فیلر؛ ساسون; شِف؛ ٹافٹ اور وان ڈوئن انہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ گولڈ اسمتھ خاندان جرمن یہودی نسل کا ایک خاندان ہے، جو اصل میں فرینکفرٹ کے ایم مین سے ہے، جو بینکنگ میں اپنی کامیابی کے لیے جانا جاتا ہے۔ 15ویں صدی میں شروع ہونے کے ساتھ، 1614 کی فیٹملچ بغاوت کے بعد اس خاندان کے زیادہ تر اراکین کو فرینکفرٹ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اور وہ 18ویں صدی تک واپس نہیں جا سکے۔ یہ خاندان خاص طور پر روتھ چائلڈ خاندان، مینز کے بِشوف شیم خاندان، اور موناکو کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک بارٹولوم فیملی کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ Bischoffsheim اور Goldschmidt خاندانوں نے مشترکہ طور پر Bischoffsheim، Goldschmidt اور Cie بینک کا انتظام کیا، جسے بالآخر 1863 میں Banque de Crédit et de Dépôt des Pays-Bas میں ضم کر دیا گیا، جو BNP Paribas کا پیش خیمہ تھا۔ خاندان کی انگریزی شاخ نے اپنا نام گولڈسمتھ رکھ دیا، جس کا آغاز فرینک گولڈسمتھ (1878–1967) سے ہوا۔ اس کا سب سے مشہور 20 ویں صدی کا رکن ارب پتی جیمز گولڈ اسمتھ تھا۔ آج سب سے مشہور زیک گولڈ اسمتھ ہیں، جو رچمنڈ پارک کے ایم پی تھے۔ کچھ اندازہ ہوا کہ کچھ کٹھ پتلیوں کی تاریں کہاں تک جا رہی ہیں ؟ ایک غیر مستحکم اور انتشار زدہ پاکستان کسے سوٹ کرتا ہے ؟" 1947 سے لے کر2018 ء تک پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 29ہزار 800ارب روپے تھا جس میں عمران خان کی حکومت کے 36 ماہ میں 24 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا، اس طرح مجموعی قرض 45 ہزار ارب روپے ہو گیا۔ عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو یہ قرض 51ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس وقت پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہے گولڈ اسمتھ فیملی کے داماد کو ذہن میں رکھ کر سوچیں گے تو تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔" اب آئیے جنیوا میں اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس کی طرف جس میں حیرت انگیز طور پر اسرائیلی سفیر نے پاکستان پر تنقید کے تیر برسائے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 53 ویں اجلاس میں پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی جس پر کونسل ممالک بشمول اسرائیل نے گفتگو کی۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی نائب مستقل مندوب آدی فرجون نے پاکستانی مندوب کی موجودگی میں کہا کہ اسرائیل کو پاکستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال پر گہری تشویش ہے جہاں جبری گمشدگیاں، تشدد، پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن، مذہبی اقلیتوں اور دیگر پسماندہ گروپوں کے خلاف تشدد جاری ہے۔ انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ اس حوالے سے اسرائیل اس بات پر مایوس ہے کہ پاکستان کے چوتھے جائزے کے دوران اس کی تمام سفارشات کو نوٹ کیا گیا۔ پاکستان کے حوالے سے کل 340 سفارشات موصول ہوئی تھیں جن میں سے 253 کو پاکستان کی حمایت حاصل ہوئی جب کہ 87 کو صرف نوٹ کیا گیا جن میں اسرائیل کی سفارشات بھی شامل تھیں۔ اسرائیل کا اپنی سفارشات میں مزید کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ پاکستان من مانی گرفتاریوں، تشدد، دوسرے ناروا سلوک کو روکنے، ایسی کارروائیوں کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سزائے موت کے وسیع استعمال،خاص طور پر بچوں اور معذور افراد کے معاملے میں، ختم کرنے کے لیے ہماری سفارشات پر عمل کرے۔ اسرائیل پاکستان پر یہ بھی زور دیتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے مطابق ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت دے اور امتیازی سلوک کے خلاف جامع قانون سازی کرے جو جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا خاتمہ کرے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے حوالے سے قوانین پر نائب مندوب کا کہنا تھا کہ جنوری 2023 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے توہین مذہب کے ان قوانین کو سخت کرنے کی قرارداد منظور کی جو اکثر مذہبی اور دیگر اقلیتیوں کو ہدف اور انہیں جبر کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کیا کسی کو اب بھی کوئی شک ہے کہ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے کھیلے جانے والے کھیل کے کھلاڑی کے پیچھے کون ہیں ؟ اب ائیے اس طرف کہ اس کھلاڑی اور اس کے مینیجرز نے پاکستان کی معاشی تباہی میں کیا کردار ادا کیا ؟ عمران خان کی جمائما سے شادی کے بعد ان کے یہودی لابی سے تعلقات اور ان کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ بش کی کامیابی کیلئے عمران خان کے نوافل ادا کرنے کی باتیں اور اپنے سسرال کی مدد سے وائٹ ہاؤس تک رسائی پانا خاصے معنی خیز واقعات تھے۔ اسی زمانے میں پاکستان کے اندر کچھ دور اندیش لوگوں نے صراحتاً واضح کردیا تھا کہ عمران خان کا پاکستانی سیاست میں آنا محض اتفاقاً نہیں تھا اسے سیاست میں لایا گیا تھا۔ عمران خان سیاست میں متحرک رہے، بیرونی آقاؤں کی مدد سے سوشل میڈیا کے ذریعے سچے جھوٹے قصے بنا کر لوگوں کے دل و دماغ کو قابو کرنے کی سعی میں لگے رہے اور پھر اسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگوں نے بھی ایڈونچر کا شوق پالتے ہوئے انہیں گود لے لیا اور یوں 20 سالہ بیرونی سرمایہ کاری بالآخر اپنی منزل پر پہنچ گئی اور 2018 میں انہوں نے اقتدار حاصل کرلیا۔ کچھ عرصے بعد جب اسٹبلشمنٹ نے اپنا ہاتھ ان کے سر سے اٹھایا تو اس وقت تک ملکی معیشت بیٹھ چکی تھی، چلتی ہوئی گاڑی لڑکھڑا رہی تھی۔ کچھ عرصہ قبل دنیا کے مشہور معاشی قاتل جان پرکنز کی سوانح عمری Confessions of an Economic Hitman شائع ہوئی جس میں جان پرکنز نے یہ انکشاف کیا تھا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے پسماندہ ممالک کو قرضے دے کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور اُن کی معیشتوں کو گروی رکھ لیتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے یہ مالیاتی ادارے ہٹ مین کے ذریعے پسماندہ ممالک کی لیڈرشپ کو قائل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں معیشت کے حوالے سے عالمی مالیاتی اداروں سے بڑی رقوم قرض لیں تاکہ انہیں قرض کے بوجھ تلے دبایا جاسکے۔ جان پرکنز کے بقول یہ ادارے معاشی قاتلوں کا موثر آلہ ہیں جو قدرتی وسائل سے مالا مال پسماندہ ممالک کیلئے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے بڑے قرضوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ ان قرضوں کا ایک بڑا حصہ مغربی مشاورتی کمپنیوں کی کنسلٹنسی فیس کی مد میں ادا کردیا جاتا ہے اور پھر پاور ہائوس، انفراسٹرکچر اور انڈسٹریل پارک جیسے ترقیاتی منصوبے بھی مغربی کمپنیوں کو دے دیے جاتے ہیں جبکہ اِن قرضوں سے ہونے والی کرپشن بھی لوٹ کر واپس مغربی ممالک پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح یہ پسماندہ ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں جنہیں وہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بالاخر اِن ممالک کو عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط ماننا پڑتی ہیں، پھر یہ ادارے ان ممالک کے حکمرانوں کو نادہندگی سے بچانے کیلئے قرضے ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز دیتے ہیں اور اس طرح قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید نئے قرضے دے کر عالمی مالیاتی اداروں کو ان ممالک کی معیشت گروی رکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ان ممالک کے قدرتی وسائل، تیل، گیس اور معدنی ذخائر پر مغربی طاقتوں اور مالیاتی اداروں کی ملٹی نیشنل کمپنیاں کنٹرول حاصل کرلیتی ہیں جبکہ ان ممالک کو مغربی ممالک اپنے فوجی اڈوں کے قیام اور اُن کے راستے دفاعی اشیا کی آمد و رفت جیسے معاہدے کرنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ کچھ اندازہ ہوا کہ عالمی ساہوکاروں نے پاکستان کو معاشی اور معاشرتی طور پر انتشار کا شکار کرنے کیلئے کس ہٹ مین کو میدان میں اتارا تھا ؟ داد دیجئے کہ اب تک اس نے اپنا کام بہت خوبی سے سر انجام دیا ہے

Monday, May 29, 2023

کلٹ کلچر - اینڈ گیم (آخری حصہ)



 کلٹ کلچر - اینڈ گیم

فرقہ عمرانیہ 

(آخری حصہ)

ریسرچ: اظہر عباس 


ایک حقیقی کلٹ کے رہنماؤں کی خصوصیت 'تنقید کے لیے عدم برداشت' ہے اور یہی خصوصیت خان صاحب اپنی ناکام پالیسیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے دکھاتے رہتے ہیں۔ انکی ٹرول بریگیڈ ہر ناقد پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتی پائی گئی یہ دیکھے بغیر کہ وہ ناقد خاتون ہے یا مرد۔


آر اے شہزاد ایک یورپ بیسڈ ویل بئینگ اسپیشلٹ/ ماہر نفسیات ہیں انکا تجزیہ ہے کہ:


نیازی ایک Cult Leader ہے اور Pathological Narcissist ہے ہر کلٹ میں لیڈر کا بت تراشا جاتا اسے قطب ولی بنایا جاتا ہے اور ہر نرگسیت پسند تنقید برداشت نہی کرتا 

اب سوچیں یہ آن لائن ٹرول، گالی بریگیڈ کس نے اور کیوں بنائی ہے؟


مقصدنیازی پر تنقید پر لوگوں کو ڈرا کر ہراساں کر کے روکا جا سکے۔" 


ان کا مزید کہنا ہے کہ: "ایک مشہور ماہر نفسیات ہے جس نے پچھلی صدی کے تمام بڑے کلٹ لیڈران کی پوری زندگیوں پر مکمل ریسرچ کی ایسے تمام لیڈران Pathological Narcissist ہوتے اپنے فالورز سے مکمل وفاداری مانگتے اور تنقید برداشت نہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی برطرفی پر سازشی تھیوریاں تیار کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر قتل کی کوششوں کا دعویٰ کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں اور فوج پر اپنے خلاف گروہ بندی کا الزام لگاتے ہیں، اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ ان کے بغیر پاکستان ٹوٹ جائے گا۔


اپریل 2017 کے لائیو سائنس کے ایک مضمون میں، "کلٹ لیڈرز میں کیا مشترک ہے"، کے عنوان سے، میگن گینن لکھتی ہیں:


'ہر کلٹ لیڈر نرگسیت پسند ہوتا ہے۔' وہ مزید کہتی ہیں کہ کلٹ لیڈر کرشماتی ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وعدے بھی کرتے ہیں، ' وہ یہ بھی مشاہدہ کرتی ہے کہ کلٹ کے رہنما 'افراتفری' پر پروان چڑھتے ہیں، 'بحرانی حالات' پیدا کرتے ہیں اور 'اکثر طاقت کے بھوکے اور آمرانہ رویوں کے حامل ہوتے ہیں۔' کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت کے تحت وہ اپنے پیروکاروں کو مکمل اطاعت پر مجبور کرتے ہیں 'ان کے نزدیک رہنما کے لئے مکمل احترام ایمان کی طرح شرط ہے.'


ضروری نہیں کہ تمام فرقے مذہبی ہوں، کچھ عقائد اور نظریے پر بھی بنتے ہیں۔ عمران خان صاحب نے سیاست کے ساتھ مذہب کو صحیح تناسب میں ملایا ہے، اس طرح مذہب اور بدعنوانی کے غلغلے والی ریاست میں فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔ اپنے پیروکاروں سے بات کرتے ہوئے، انہیں اکساتے ہوئے، عمران خان صاحب کہتے رہے کہ، "پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج/ جیل میں ڈالے جانے کی فکر نہ کریں۔ اس طرح اللہ لوگوں کو آزماتا ہے۔ اگر تم صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسی طرح اجر دے گا جیسا کہ اس نے مدینہ کے مسلمانوں کو دیا تھا۔ پولیس جو آج آپ پر لاٹھی چارج کر رہی ہے کل آپ کو سلام کرے گی"۔ اس طرح کے پیغامات ایسے گمراہ کن لیڈروں کی طرف سے آتے ہیں جو کسی بھی قیمت پر جیت کے خواہاں ہوتے ہیں، اپنے حامیوں کے زخموں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جو انکے طویل مدتی منصوبوں میں غیر متعلق ہوتے ہیں۔


خان صاحب، جیسا کہ زیادہ تر کلٹ لیڈرز کرتے ہیں، لاہور کے زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پر ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہے، اپنے حامیوں کو اس بات پر ایمان لانے پر قائل کیا کہ حکومت انہیں ختم کرنے کے درپے ہے اور اس لیے انہیں تشدد کو استعمال کرنے سمیت گرفتار کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں ان کی نجی فوج نے خان صاحب  کی عزت اور طاقت کے دفاع کے لیے ریاستی افواج کے خلاف سخت لڑائیاں لڑیں۔ 


خان صاحب اس بات سے آگاہ تھے کہ تشدد اور ہلاکتیں ان کے حق میں کام کریں گی، خان صاحب نے تشدد کی حوصلہ افزائی کی اور حکومت کے محدود اختیارات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس نے انہیں ایک قانونی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ 


خان صاحب کی تقاریر، کسی بھی کلٹ کے سربراہ کی طرح، نرگسیت، عظمت، ایمانداری اور پاکستان کو بدلنے کے وعدوں سے بھری ہوئی ہیں۔ وہ فوج کے حاوی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابل قبول ہے لیکن عوام کی خواہش ہے۔ وہ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نظام انصاف سے بالاتر ہیں 


اپنے گھر کے محاصرے کے دوران عالمی میڈیا نیٹ ورکس سے خطاب کرتے ہوئے، خان صاحب نے ذکر کیا کہ وہ سلاخوں کے پیچھے رہنے کو تیار ہیں لیکن ہتھیار نہیں ڈالیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کو ان کے حامیوں کی ہیومن شیلڈ سے لڑنا پڑے گا، اس طرح خون بہے گا اور خان صاحب یہ خون سیاسی طور پر چاہیں گے کہ اسے استعمال کر سکیں۔


خان صاحب نے اپنے کلٹ کی پیروی کو بڑھانے کے لیے ہر طریقہ اپنایا ہے جس میں اپنے برین واشڈ پیروکاروں کی جانیں قربان کرنا بھی شامل ہے۔ عالمی میڈیا کے ساتھ ان کی بات چیت ان کے اس عقیدے کو ظاہر کرتی ہے کہ ریاست کی طاقت کا استعمال ان کے ساتھ اس لیے کیا جا رہا ہے، کہ وہ فوج کی مرضی کے سامنے جھکنے سے انکاری ہیں۔


کلٹ کو متشدد کرنے/ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے کسی ڈرگ پر لگایا جائے۔ گزشتہ دور حکومت  میں اسکولوں، کالجز/ یونیورسٹیز میں آئس عام ہوئی۔ نسوار کو ایک برانڈ کی شکل میں برانڈنگ اور لانچنگ آپ کو یاد ہوگی۔ اس کے Ingrediants آج تک کسی لیبارٹری سے چیک نہیں ہوئے کہ کیا ہیں۔ حالیہ 9 مئی کی جتھہ بند ریلیوں اور حملوں کی ویڈیوز میں آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ پی ٹی آئی کے متشدد حامی کچھ فقرے بار بار دہراتے رہے۔ یہ کیسی برین واشنگ ہے ؟ آپ کو یہ متشدد جتھے اجتماعی طور پر ایک ٹرانس میں نہیں لگے ؟ یہ آئس یا کرسٹل کی تھوڑی مقدار بھی ہو سکتی ہے ٹافی کی شکل میں یا کسی اور پراڈکٹ میں۔


خان صاحب کی رہائش گاہ سے حالیہ پولیس ریڈ کے دوران گولہ بارود اور پیٹرول بموں کی دریافت نے اشارہ دیا ہے کہ خان صاحب ایک طویل محاصرے کے لیے تیار تھے اور کسی بھی پولیس کارروائی کو روک سکتے تھے، یہ دنیا بھر میں کلٹس کے سابقہ واقعات کی یاد دہانی ہے جہاں فرقے کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔


عمرانی فرقہ پاکستان میں گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اگر اسے فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ ایک چیلنج ہو گا، کیونکہ یہ ایک ایسے آمر کے ظہور کے لیے حالات پیدا کر سکتا ہے، جو قانون کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنی خواہشات اور خواہشات کے مطابق حکومت کرے گا، جسے برین واش کیے گئے پیروکاروں کی ایک عوامی تحریک کی حمایت حاصل ہے۔

Saturday, May 27, 2023

کلٹ کلچر - اینڈ گیم (حصہ سوئم)




 کلٹ کلچر - اینڈ گیم

(حصہ سوئم)

ریسرچ: اظہر عباس


پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام پر سوشل میڈیا کی جنگ، دونوں میں جو ایندھن بنی وہ اس بدقسمت ملک کی نوجوان نسل تھی۔ جس نسل کو اس ملک کی ہیومن ریسورس میں شامل ہو کر ویلیو ایڈیشن کرنی تھی اسے سوشل میڈیا کی جنگ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ 


نائن الیون کے بعد ابتدا میں ففتھ جنریشن وارفئیر صرف ایک پراجیکٹ تھا جس کا مقصد نوجوان نسل کو دہشت گردی کے عفریت سے بچانا اور اسے ایک سمت دینا تھا نیز سوشل میڈیا سے جاری نفسیاتی وار فئیر کا توڑ کرنا اور اس کا جواب دینا بھی اس کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا۔ مختلف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل قابل نوجوان آئی ٹی، نفسیات، بزنس غرضیکہ ہر شعبہ کے ماہرین لئے گئے۔ اس دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہمارے حلیف بھی مدد کیلئے اپنی خدمات سمیت حاضر تھے۔ لیکن بدقسمتی سے  رفتہ رفتہ اس کی سمت تبدیل ہوتی گئی۔ 2011 کے بعد اس کی سرگرمیوں کی نوعیت یکدم بدل گئی اور اسے مقامی سیاسی مہمات کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ اس دور میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابل ایک تیسری قوت لائی جائے۔ اسے کھڑا کرنے اور قوت بنانے میں اتنا تردد کیا گیا کہ جو اس قوت کے خالق تھے وہ بھی اس کے سحر میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ نوجوان نسل جو سوشل میڈیا کی نسل تھی اس کیلئے ایک دیوتا کھڑا کیا گیا جو اب ایک عفریت کی شکل میں ریاست کو کھڑا للکار رہا ہے۔


مزید ظلم یہ کیا گیا کہ اس پراجیکٹ کو پراجیکٹ عمران سے Synchronise کرتے کرتے اس کو خان صاحب کے سوشل میڈیا سیل کے لوگوں سے بھر دیا گیا۔ اور بالآخر جب پراجیکٹ عمران کو ترک کیا گیا تو نا صرف اس پراجیکٹ کو پی ٹی آئی نے مال غنیمت کی طرح سمیٹا بلکہ اسے مکمل طور پر خان صاحب کی امیج بلڈنگ پر لگایا۔ اس پر بے تحاشا فنڈز لگائے گئے بلکہ خان صاحب نے ملکی و غیر ملکی کمپنیاں تک ہائر کیں جو انہیں بیانیہ بنا کر دیتیں، ٹرینڈز بلکہ سلوگن تک بنا کر دیتیں۔ سائیکلوجیکل پروفائیلنگ برطانیہ کی کمپنیاں کرتیں۔ یہ ساری واردات میں اپنے سوشل میڈیا کی جنگ پر گذشتہ کالمز کی سیریز میں کر چکا ہوں۔ 


عامر ایچ قریشی ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں۔ وہ اپنے ایک سلسلہ وار ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ "جوزف گوئبلز جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کا پراپیگینڈہ وزیر تھا جس سے منسوب ہے کہ اس نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ "جھوٹ کو اگر بہت کثرت سے دہرائیں تو وہ سچ بن جاتا ہے"- اور اس نے نازی حکومت میں رہتے ہوئے ایسے ہی کیا اور بہت حد تک، چاہے کچھ عرصہ کے لیے ہی سہی، اس میں کامیاب بھی رہا- 


جوزف گوئبلز سے جتنا بھی اختلاف کریں لیکن یہ بات سچ ہے کہ آمروں کو ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا آرٹ جانتے ہوں یا کم از کم جھوٹ کو اتنی مرتبہ ضرور دہرائیں کہ لوگوں کو یہ سچ معلوم ہونے لگے-

چونکہ آمریت ہوتی ہی خلاف قانون ہے اسلئے حقائق کو چھپانا اور جھوٹ پھیلانا اسکی مجبوری ہوتی ہے-


ان کا خیال ہے کہ "پاکستان میں  گوئبلز ڈاکٹرائن کو  اسٹیبلشمنٹ نے کامیابی کیساتھ استعمال کیا-"


"ہائبرڈ حکومت کے دوران گوئبلز ڈاکٹرائن نے اپنا رنگ انتہائی بھرپور طریقے سے دکھا کر جھوٹ بولنے، حقائق چھپانے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے گزشتہ تمام ریکارڈز توڑ ڈالے- میڈیا کو قابو کر کے جھوٹ بولنے کا لامتناہی اور عظیم ترین سلسلہ جاری ہوا-"


وہ مزید لکھتے ہیں کہ:


"اگرچہ قیام پاکستان سے لیکر عمران کی حکومت کے خاتمے تک ملک میں گوئبلز ڈاکٹرائن کی حقیقی وارث اور استاد اسٹیبلشمنٹ رہی لیکن بسا اوقات کوئی شاگرد اپنے اساتذہ سے آگے بھی نکل جاتا ہے- عمران کی سیاست کے گزشتہ 12 سالوں کا تجزیہ کریں تو اسکے ہزاروں جھوٹ، یوٹرنز، منافقت، وعدہ خلافیوں، الزامات اور ڈرامہ بازیوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عمران خان نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر عہد حاضر کا جوزف گوئبلز ہے"


خان صاحب پاکستان کی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کرکٹ کپتان، ایک سیاسی نوخیز تھے، اور کرکٹ کے میدان سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کے سمندر میں ڈبکیاں لگا رہے تھے، جب تک حالات نے ان کے ابھرنے کے لیے دروازے نہیں کھولے۔ جنرل شجاع پاشا نے ان کا ہاتھ تھاما اور کھینچ کر قومی سطح پر لے آئے۔


2016 میں نواز شریف کی معزولی اور شہباز شریف کی طرف سے فوج کی لائن پر چلنے سے انکار کے بعد، عمران وزیر اعظم کے طور پر اگلا انتخاب بن گئے۔


انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے ہر وعدے پر یو ٹرن لینے کے باوجود ایمانداری اور قابلیت کی تصویر بننے کے لئے بطور وزیر اعظم اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھایا۔ اپنے سوشل میڈیا کو استعمال کیا اور اپنی امیج بلڈنگ پر زور دیتے رہے 


جب ان کی معاشی پالیسیاں تباہ ہونا شروع ہوئیں تو خان صاحب کو نااہل سمجھا گیا اور عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے انہیں باہر دھکیل دیا گیا، یہ راستہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنایا گیا تھا اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے جو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے گئے۔


(جاری ہے)

Friday, May 26, 2023

کلٹ کلچر - نوجوان نسل اور اس کے مسائل (حصہ دوئم)



 کلٹ کلچر - نوجوان نسل اور اس کے مسائل

(حصہ دوئم)

ریسرچ: اظہر عباس


9 مئی ہوا ؟ بہت برا ہوا۔ لیکن کیا آپ نے سوچا کہ یہ کیوں ہوا ؟


گزشتہ کئی برسوں سے ہم ان سیاسی دہشت گردوں کے خلاف جہاد مسلسل کرتے رہے ہیں۔ مسلسل آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جو فصل کئی دہائیاں پہلے سیاستدانوں کو بدنام کرنے سے کاشت کرنا شروع کی گئی تھی وہ اب بلآخر کٹنے کو تیار ہے کہ وہ بچہ جو اس وقت دس یا گیارہ برس کا تھا اور اس کے ذہن میں مسلسل زہر بھرا جا رہا تھا کہ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بدعنوان ہیں، کرپشن کا ورد کرکے انہیں برین واش کر دیا گیا تھا، اب 22 سے 35 سال کا ہو چکا اور جب اس کا رخ آپ کی طرف موڑا گیا تو اس نے تہس نہس کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ 


آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کلٹ کیسے وجود میں آیا اور اس کی ریورس انجینئرنگ کر کے ان وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے مملکت، ریاست اور معاشرہ اس تباہی کا شکار ہوا


"کسی بھی قوم کی تقدیر، کسی بھی وقت، اس کے پانچ اور بیس سال سے کم عمر کے جوانوں کی رائے پر منحصر ہوتی ہے۔" 


- گوئٹے۔


اگر گوئٹے کی بات درست ہے تو پاکستان کی تقدیر میں کیا مسئلہ ہے؟ ایک ریسوسز سے بھرپور ملک ہونے کے باوجود اس کی تقدیر مصیبتوں کے بھنور میں کیوں گھوم رہی ہے؟ اس کے 183 ملین افراد میں سے 63% نوجوان ہیں جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ 


پاکستان کو مزید تاریک دور کی طرف دھکیلنے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اور نوجوانوں کا کردار کیا ہے؟


جواب سادہ اور آسان ہے، لیکن اس کا حل، عملی لحاظ سے، پیچیدہ اور مشکل ہے۔


پاکستان اپنی آزادی کے بعد سے سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقائق پر محیط کئی مسائل کے حوالے سے گہری کھائی میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ دیوہیکل راکھشس نوجوانوں کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔ کچھ عناصر نے ان کو اس قدر پیچیدہ طریقے سے جوڑ دیا ہے کہ ملک کی خوشحالی کو برباد کرنے والے، لکڑی کو دیمک کی طرح ڈھانچے سے چمٹے اور کھانے والے ان عفریتوں سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔


کمزور معاشی حالات، خراب تعلیم، غربت، روزگار اور ترقی کے کم مواقع، منفی مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ، امن و امان کی خراب صورتحال اور ناانصافیوں نے نوجوانوں کو بنیاد پرستی، انتہا پسندی، چائلڈ لیبر، جرائم، جہالت اور نفرت کی طرف مائل کیا ہے۔


پاکستان کی آزادی کے بعد سے نوجوان اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ پاکستان کے دنیا کے نقشے پر ابھرنے کے وقت سے ہی حکومت، فوج اور عسکریت پسندوں نے ان کے سماجی، معاشی، شہری، سیاسی اور ثقافتی حقوق کو پامال کیا ہے۔ نوجوانوں کے سماجی و معاشی حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اسکولوں میں طلبہ کا داخلہ مدارس کے اندر طلبہ کی تعداد سے کم ہے اور چائلڈ لیبر بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔


پاکستان میں تعلیم کو تین مختلف معیاروں میں تقسیم کیا گیا ہے: سرکاری ادارے، نجی ادارے، اور مدارس۔ زیادہ تر سرکاری اداروں میں تعلیم کا معیار تسلی بخش نہیں ہے۔ نصاب پرانا ہے اور اکثر غلط تاریخ پر مشتمل ہے، جس کے نتیجے میں نفرت کو فروغ ملتا ہے۔ جبکہ اکثر پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم جدید اور معیاری سرکاری سکولوں سے بہت بہتر ہے، ان کے اخراجات متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ جہاں تک مدارس کا تعلق ہے، وہ ان طلباء کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اسکول کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں پناہ گاہ، خوراک اور روزمرہ کے اخراجات فنڈ کرنے والے برداشت کرتے ہیں، جن میں سے بہت سے مشکوک یا نقصان دہ عزائم رکھتے ہیں۔ ماضی میں یہ مدارس انتہا پسند اور جنونی پیدا کرنے میں ملوث رہے ہیں، جن میں سے بعض کو خودکش بمبار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔


دوسری جانب پاکستان میں بہت سے بچے مزدوری پر مجبور ہیں۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے بین الاقوامی پروگرام (IPEC) کے مطابق پاکستان میں اس عمر کے 40 ملین بچوں میں سے 5 سے 14 سال کی عمر کے 3.8 ملین بچے کام کر رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل معیارات کی چکی میں پس رہا ہے۔


نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو مناسب معیار زندگی کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں اپنی بنیادی ضروریات تک رسائی نہیں ہے۔ ان کے پاس نہ تو کھانے کے لیے کافی خوراک ہے اور نہ ہی اتنے کپڑے جو انھیں انتہا پسند عناصر سے بچا سکیں۔ انہیں صحت کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ بے روزگاری اور ناخواندگی کی وجہ سے نوجوان منشیات اور جرائم کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ناکافی خوراک کی وجہ سے وہ غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔


دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ قبول شدہ معیار زندگی کی حدود سے باہر رہنے والے نوجوانوں کے ساتھ نسل، جنس اور معذوری کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور ناخواندگی کا یہ سارا کھیل انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف لے گیا ہے۔ عسکریت پسند اور سیاست دان اس غربت اور بے بسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔


پاکستان کا یہ سب سے قیمتی اثاثہ گمراہ کن بھنور میں پھنس چکا ہے۔ نوجوانوں کو غیر اہم باتوں پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا پر سیاسی، عسکری اور مذہبی جماعتوں کو پروموٹ کرتے ہیں اور وہ بہت متحرک ہیں۔ یہ اس لیے ہو رہا ہے کہ معاشرے میں ان کی برین واشنگ کی جا رہی ہے جو نوجوانوں کو نوجوانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، نفرت کے مواد کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی جمہوری اور پرامن نظریات کے خلاف متحد ہونے کے لیے برین واش کر سکیں۔


پاکستانی عوام اپنے مذہب کے تئیں جذباتی ہیں۔ اسلام کے نام پر بھی یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے اور کوئی اس کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اس کھیل کے سنگین نتائج آنے والے ہیں۔ ریاست نوجوانوں کے ساتھ مخلص نہیں اور جوانوں کی توانائیاں منفی چیزوں پر منتشر ہو رہی ہیں۔


ملک کی تقدیر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان معاشرے کی بہتری کے لیے اپنی توانائیاں لگانے کے قابل ہو جائیں تو ہم ایک خوبصورت پاکستان تلاش کر لیں گے۔ تاہم اس وقت پاکستان کے نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ملک کی بہتری کس میں ہے۔ ہمارے اصل دشمن بھوک اور مہنگائی ہیں اور ہمارا اصل ہتھیار حقیقی خوشحالی کے لیے تعلیم ہے۔ ہماری لڑائی ان دشمنوں کے خلاف ہے جو نفرت کو ہوا دیتے ہیں، ہماری لڑائی انہیں سے ہونی چاہیے۔ ہم اپنی توانائیاں مثبت چیزوں پر لگائے بغیر اچھے نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔


یہاں میں اپنے پرانے کالم کا ایک پیرا گراف پیش کرنا چاہوں گا جو اس تمام بحث کا نچوڑ ہے:


جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے- اس ملک میں ایک لا وارث  نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی۔


یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے


(جاری ہے)

Wednesday, May 24, 2023

کلٹ کلچر - آخر یہ ہے کیا ؟ (حصہ اول)



 کلٹ کلچر - آخر یہ ہے کیا ؟

(حصہ اول)

ریسرچ: اظہر عباس


کلٹ ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جس کے اراکین ایک یا متعدد مشترکہ نظریات رکھتے ہیں جو مذہب، روحانیت، فلسفہ، یا کسی خاص مقصد یا شخصیت پر یقین کی ایک خاص تشریح پر مبنی ہوتے ہیں۔ 


لفظ 'کلٹ' کسی کو فوراً مانسن فیملی، یا رجنیش موومنٹ کی یاد دلاتا ہے، لیکن یہ صرف چند معروف کلٹ ہیں، جن کے اراکین میں کچھ ایسے لوگ شامل تھے جو عوام کی نظروں میں تھے، مثال کے طور پر برنارڈ لیون، پروین بابی ، مہیش بھٹ، ٹیرنس سٹیمپ، اریانا ہفنگٹن، ونود کھنہ، ہینوور کے پرنس ویلف ارنس وغیرہ رجنیش فرقے سے وابستہ؛ اور شیرون ٹیٹ، فل کاف مین، ڈیانا مارٹن (ڈین مارٹن کی بیٹی)، اور مینسن فیملی سے وابستہ اسکوئی فروم (جس نے جیرالڈ فورڈ کو قتل کرنے کی کوشش کی)۔


کلٹ پرکشش ہوتے ہیں کیونکہ وہ امن اور راحت کا واہمہ پیش کرتے ہیں۔ 


کلٹس کم خود اعتمادی والے لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ پرکشش ہوتے ہیں، جو کسی گروپ سے تعلق رکھنے، دوست رکھنے، قبول کیے جانے، یا 'بڑی' چیز میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 


کلٹ کو ممکنہ یا نئے بھرتی کرنے والوں کے لیے خاص طور پر پرکشش بنایا جاتا ہے، اراکین کو عام طور پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ دوستانہ، دلچسپ چیز جس کے لیے انہوں نے سائن اپ کیا ہے، یہ گروپ جس نے بہت سارے وعدے کیے ہیں اور اچانک انھیں اپنے تعلق اور اپنائیت کا احساس اور بہت سے دوست اور ساتھی فراہم کیے ہیں، دراصل ایک کلٹ ہے۔


کلٹس 'ہم بمقابلہ ان' کی ذہنیت کو فروغ دیتے ہیں، جو ہمارے جیسے معاشروں میں پہلے سے ہی ایک بڑا عنصر ہے جہاں حاصل اور نہ ہونے کے درمیان بہت بڑی خلیج اس رویہ کو فروغ دیتی ہے۔ انہیں یہاں بھرتیاں حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔


کسی کلٹ میں شامل ہونا اسے چھوڑنے سے زیادہ آسان ہے۔ کسی کو چھوڑنے کی کوشش کرنے کی سزا میں اس شخص اور اس کے خاندان کے لیے تکالیف یہاں تک کہ موت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ سنگین حقیقت تنظیم کو ایک خوفناک قسم کی طاقت حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔


بہت سے کلٹ اس جوش و خروش فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں جو نوجوان لوگوں کو بہت پسند ہے۔ مصنوعی جوش پیدا کرنے کیلئے نشہ آور اشیا کی فراوانی سے فراہمی اس کا کلیدی عنصر ہے۔  


کلٹ کے رہنما دماغ پر قابو پانے میں اچھے ہوتے ہیں، اور لوگوں کو وہی کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ وہ لالچ دینے میں مہارت رکھتے ہیں، وہ وعدے کرتے ہیں جو مکمل طور پر غیر حقیقی ہو سکتے ہیں، اور اسے اپنی آسان رسائی کے اندر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ خود اپنی پروجیکشن میں بھی اچھے ہوتے ہیں، اکثر اپنی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو طاقتور ہے، اور حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ مثال کے طور پر مانسن کے پیروکاروں میں سے ایک نے بعد میں کہا کہ مینسن کو کبھی یہ نہیں کہنا پڑا کہ وہ یسوع ہے۔ یہ صرف 'واضح' تھا 


 ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں ہم کلٹ کلچر سے نسبتاً آزاد ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔


ہمیں پاکستان میں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارے اصل مخالف کون ہیں، اور وہ ایک اور طاقتور کلٹ ہیں، اور ہمارا کلچر ہے جو طاقت اور کلٹس کی طرف بہت زیادہ اور آسانی سے راغب ہو سکتا ہے۔ اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہے۔


کچھ تجویز کردہ حل ایک زیادہ وسیع اور بہتر تعلیم، اور نوجوانوں کے لیے مزید سہولیات ہیں جہاں وہ فزیکل سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور اپنی توانائی، ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے خرچ کر سکیں۔ ایک بڑا پہلو انہیں مذہب کے حوالے سے ایک بہتر، زیادہ عقلی نقطہ نظر فراہم کرنا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ جس میں محنت رنگ لاتی ہے، یہاں تک کہ اہم جگہوں پر ’رابطے‘ کی عدم موجودگی میں بھی۔ ایسا معاشرہ جس میں رشوت، بھتہ خوری اور اپنے حق کے لیے لڑنے کی کوئی مجبوری نہ ہو۔


(جاری ہے)

Thursday, April 20, 2023

انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار

 انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار

اظہر عباس
ملکی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ خان صاحب کے لئے اس وقت تین قوتیں کام کرتی نظر آ رہی ہیں:
پہلے: سپریم کورٹ کے چند جج تاکہ عمران خان گرفتاری سے بچے رہیں اور وہ اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے پنجاب میں حکومت دوبارہ دلا سکیں جس کی بنیاد پر قومی اسمبلی کے الیکشن ڈسکے کے الیکشن کی طرح اغوا کئے جا سکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کو ایک ہی وقت میں ہائی کورٹس، پارلیمنٹ، ایگزیکٹو اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دائرہ کار میں تجاوز کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔
سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے حالیہ ’’اختلافی‘‘ نوٹس میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پنجاب، کے پی کے انتخابات پر سپریم کورٹ کے سوموٹو نے صوبوں میں ہائی کورٹس کی آزادی کو نقصان پہنچایا۔
چیف الیکشن کمشنر نے شکایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے کمیشن کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں پارلیمنٹ نے بھی سپریم کورٹ کو قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کا آئینی اختیار چھینتے ہوئے پایا جبکہ حکومت اعلیٰ عدلیہ کی ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت پر بھی برہم ہے۔
دوسرے: دس پیڈ امریکی لابنگ فرمز جن کی وجہ سے یو این وغیرہ میں پاکستان کے اندرونی معاملات جیسے کہ مقدموں کے اندراج کے بارے میں سوال وغیرہ ہوتے ہیں جیسے یہ کوئی عالمی معاملہ ہو، زلمے خلیل زاد جیسے بندے ہائر ہوتے ہیں اور تاثر دیا جاتا ہے کہ عالمی برادری عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔
تیسرے: میڈیا مارکیٹنگ اور Narrative building کمپنیاں۔ جن کے ماہانہ بجٹ کئی ملین ڈالرز میں ہیں اور بیشتر امریکا، انگلینڈ، دوبئی اور انڈیا تک سے آپریٹ ہوتی ہیں۔ یہی کمپنیاں ایبسولیوٹلی ناٹ، ہم کوئی غلام ہیں اور آزادی جیسے نعرے اور بیانئیے تشکیل دیتی ہیں۔ یہ کمپنیاں جعلی سروے کرواتی ہیں جیسے عندلیب عباس کی کمپنی نے 53 فیصد مقبولیت والا سروے دیا۔
ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ریٹائرڈ فوجی ھونے کے باوجود فوج سے کوئی نہ کوئی ذاتی خارش رکھتے ہیں۔ انکا یہ ذاتی انتقام، رنجش اور عداوت ان کو فوج کے خلاف بولنے پہ مجبور رکھتے ہیں۔
1.عادل راجہ کو بزدلی، کرپشن اور غیر آفیسر عادات پر فوج سے نکالاگیا۔ ستم یہ کہ فوج نے اسکے چنگل سے غیر قانونی قبضہ کی ہوئی زمینیں بھی چھڑوائیں۔
2. حیدر مہدی کے باپ کو فوج نے بزدلی کے الزام میں کورٹ مارشل کیا۔ اسکےاپنے بیٹے کو میرٹ پر پورا نا اترنے کی بنیاد پرفوج نے ریجیکٹ کیا۔ کینیڈا میں ٹیکسی ڈرائیور رہا لیکن پھر قسمت جاگی اور پی ٹی آئی نے انہیں پسند کر لیا۔
3. ہارون اسلم کو گلہ یہ ہے کہ نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو ان پر فوقیت دی۔ اگر آپ فوج میں ان کے قریبی لوگوں میں کسی سے بھی پوچھیں تو آپکو پتا چلے گا کہ سوائے جنرل مشرف کے بغل بچے ہونے کے انکی کوئی قابلیت نہیں تھی۔
4. علی قلی خان کا بھی نواز شریف سے یہی گلہ ہے کہ انہوں نے جنرل مشرف کو ان پر فوکیت دی۔ اب ان موصوف کو نواز شریف سے گلہ کرنے کے بجائے اپنے رشتہ دار گوہر ایوب اور چوہدری نثار سے گلہ کرنا چاہیے جنکی سیاسی کھیچا تانی کی وجہ سے جنرل مشرف کے بھاگ کھل گئے۔
ایک بہت اہم نقطہ یہاں پر یہ ہے کہ اگر ہم ان سب کو دیکھیں تو پتا چلے گا کہ:
1۔ سب کو بہت ہی احتیاط سے ڈھونڈا گیا اور فوج سے دکھی ہونے کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا پر لانچ کیا گیا
2۔ انکی ذہن سازی کی گئی
3۔ اب پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے انکو فروغ دیا جا رہا ہے۔
کیا یہ سب کسی سیاسی جماعت کا کام ہو سکتا ؟ کیا یہ سب کسی یا کئی بیرونی خفیہ ایجنسیوں کے پیروکار بن چکے ہیں ؟ کیا پی ٹی آئی کا کندھا استعمال ہو رہا ہے ؟ کیا الو کوئی اور سیدھا کر رہا ہے ؟
انکی باتوں اور الزامات پر اگر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ان سب کا اصل مقصد اسی فوج کو نیچا دکھانا ہے جس فوج سے انکی نسلیں پلتی ہیں۔ جب ان پر کوئی قانونی کاروائی کی جائے تو یہ فوج کی وردی کے پیچھے چھپتے ہیں لیکن بولتے پھر اسی فوج پر ہیں۔
سوال صرف ایک ہے کہ زمان پارک کی سیکورٹی کے ساتھ مہنگی ترین پولیٹیکل ایکٹیویٹی سمیت مندرجہ بالا ان تمام اخراجات کے لئے اربوں روپے ماہانہ کہاں سے آ رہے ہیں؟
کون انویسٹ کر رہا ہے اور کیوں؟
عمران خان کے پاس نظام کو ہر وقت ڈسڑب رکھنے کے لئے اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے ؟
3 ارب ڈالر بغیر سود کے قرضہ دینے والی مثال لے لیں اس میں تقریبا 200 ارب روپے کا فراڈ کیا گیا، روپے اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاو سے درجنوں ارب، ملک ریاض کے 50 ارب کی مثال، توشہ خانہ کی چھوٹی سی مثال، بلین ٹری سونامی، مہنگی دوائیاں سکینڈل، گندم بحران میں پیسے، چینی بحران میں سینکڑوں ارب کمائے گئے، پشاور میٹرو سے لے کر کے ای ایس ای کے مالک "عارف نقوی" اور دوسری بڑی نادہندگان کمپنیوں کے 2 سو ارب روپے واجب الاداء قرض کی معافی کی کوشش، پنجاب میں بزدار، گوگی اور پنکی گینگ کی لوٹ مار
پاکستانی عوام کی سوچ ہے جتنی بڑی لوٹ مار اس عمرانی فتنے کی حکومت نے 4 سالوں میں کی۔
کیا وجہ ہے کہ جس دن سے عمران خان کی حکومت ختم ہوئ عمران خان ایسے کسی بھی ایشو پر بات نہیں کرتے جو انکی پارٹی کا منشور اور چار سالہ دور حکومت میں اسکی وہ بار بار گردان کرتے رہے
عمران خان کی ہر تقریر غداری غلامی کے بیانیے سے شروع ہوتی ہے اور مجھے حکومت سے نکالنے والوں کو چھوڑوں گا نہیں پر ختم ہوتی ہے مذہب کا چورن بیچو غلامی سے نجات کا نعرہ لگاؤ اور سب کو چور کہو پاک فوج اور دیگر اداروں پر مسلسل تنقید کرو
وہ اپنے ذہنی غلاموں کے ذہن میں بس یہی باتیں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ پھر وہ یہ سوال نا کرسکیں کہ خان صاحب جو لندن سے حکومت پاکستان کی امانت اربوں روپیہ آیا تھا وہ کہاں گیا اور القادر یونیورسٹی کی اربوں کی زمین کیسے آپ کو ملی جس کی ملکیت اب آپکے قریب ترین لوگوں کے پاس ہے تاکہ وہ یہ سوال نا کریں۔ آٹا چینی دواؤں اور دیگر اشیاء کی قیمت بڑھا کر اربوں روپے کمانے والے کس کو فائدہ پہنچا رہے تھے تاکہ وہ سوال نا کرسکیں۔ فارن فنڈنگ میں آنے والی اربوں کی رقم کیوں اور کہاں سے آئ تاکہ وہ یہ سوال نا کرسکیں کہ فرح گوگی کس طرح چار سال پنجاب پر حکمرانی کرتی رہی اور اربوں کما گئی۔ کون تھا جو اسکے پیچھے تھا تاکہ وہ یہ سوال نا کرسکیں۔ رنگ روڈ منصوبے کا اصلی ملزم شہزاد اکبر کی پشت پناہی کون کرتا رہا ؟

Tuesday, April 18, 2023

عدالتی انتشار

 عدالتی انتشار 

اظہر عباس


اگر میں یہ کہوں کہ معاشی تباہی اور سیاسی انتشار کے بعد اب ملک اداراتی انہدام کی جانب چل نکلا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ 


کچھ عرصہ کیلئے تھوڑا ماضی میں جا کر سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کا دور  یاد کریں جب پی سی او ججز کو فارغ کیا گیا تو مختلف ہائی کورٹس میں ایک خلا پیدا ہوا جسے افتخار چوہدری نے مختلف سینئیر وکلا کے چیمبرز میں کام کرتے ان کے ایسوسی ایٹس/ عزیز و اقارب اور دوست و احباب سے پر کیا۔ مختلف حلقوں سے کچھ کمزور آوازیں بھی اس اقدام کے خلاف اٹھیں تاہم اس وقت افتخار چوہدری صاحب انصاف کے دیوتا کے منصب پر فائز ہو چکے تھے اس لئے ان کمزور آوازوں کو یا تو دبا دیا گیا یا پھر ان کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن ان کے اس اقدام کا خمیازہ آج پوری قوم اور دنیا دانتوں میں انگلیاں دبائے دیکھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں موجود لاہوری گروپ اپنے غیر محدود اختیارات کو بروئے کار لا کر نا صرف آئین کی نئی تشریحات کر رہا ہے بلکہ جہاں انکی تشریحات کام نا کریں وہاں آئین کو دوبارہ تحریر کرنے سے لے کے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کو جنم لینے سے پہلے اسقاط سے بھی دریغ نہیں کر رہا۔


کیا مذاق کہ چیف جسٹس نے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے پسندیدہ ججوں کا 8 رُکنی بینچ تشکیل دے ڈالا۔CONFLICT OF INTEREST پر ہچکچائے نہ شرمائے۔ جبکہ تمام اہل شعور اس کی نشاندہی کر چکے تھے۔ 


چند دنوں میں تین واقعات، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریویو پٹیشن پر فیصلہ محفوظ، الیکشن کمیشن کے 14 مئی کے انتخابات پر حکومتی افسران کی طلبی اور سب سے بڑھ کر سپریم کورٹ کے انتظامی امور پر بل جو ابھی نافذ العمل ہی نہیں ہوا اُس پر 8 رُکنی بینچ کی تشکیل اور اسٹے آرڈر سپریم کورٹ کی اندرونی دھینگا مُشتی، مقننہ اور ایگزیکٹو سے ٹکراو پر توہینِ عدالت اور پارلیمان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم بربادی کو تیز کرے گا۔ 


اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑا کر ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ مملکت ایسے موڑ پر ہے جہاں عمران خان بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ لڑائی اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چُکی ہے اور مملکت منہ کے بل اوندھی پڑی ہے۔


جنگ/ جیو کے معاشی امور کے ماہر اور رپورٹر مہتاب حیدر کے مطابق  سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے انعقاد کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 21 ارب روپے کی رقم جاری کرنے کی ہدایت کو اختیار پر کنٹرول کے طور پر سمجھا گیا ہے جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت فنانس ڈویژن کے پاس ہے۔


 کابینہ اور وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی رضامندی کے بغیر وزارت خزانہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری اور جاری نہیں کر سکتی جس کے لیے بعد ازاں قومی اسمبلی کی پوسٹ فیکٹو (قانون جس کا اطلاق زمانہ ماقبل سے ہو) منظوری درکار ہے۔


 پی ایف ایم ایکٹ 2019 واضح طور پر اس کی وضاحت کرتا ہے کہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کی تحویل کے عنوان کے تحت فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کا آپریشن وفاقی حکومت کی مجموعی نگرانی کے تحت فنانس ڈویژن میں کام کرے گا۔


سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک الیکشن کے اخراجات کے لیے 21 ارب روپے کا فنڈز جاری کرتا ہے تو آئی ایم ایف اس پر اعتراض کرسکتا ہے جس سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاملات میں مشکلات پیش آسکتی ہیں.


یاد رہے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں بھی الیکشن کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔

دنیا بدل چکی ہے

 دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس  اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...