Tuesday, September 19, 2023
چین سے براستہ پاکستان یورپ بمقابلہ امارات سے یورپ براستہ اسرائیل
Friday, August 25, 2023
عوام دیوالیہ ہو چکی
Tuesday, August 22, 2023
دنیا کی معاشی جنگ اور پاکستان
https://e.dailyauthority.pk/page.php?Page=2&date=23-08-2023&city=isb
پاکستان اکثر مغربی خبروں میں نہیں ہوتا، لیکن جب یہ ہوتا ہے تو یہ تقریباً ہمیشہ منفی ہی ہوتا ہے۔
مغربی پریس میں آپ کو پاکستان سے زیادہ مایوس کن عالمی شہرت والا کوئی دوسرا ملک تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ ان سب کے ساتھ، یہ بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے اور "انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے"
نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو محدود امداد فراہم کرنے پر تو ہمیشہ آمادہ رہا ہے، خاص طور پر فوج کو، جب تک وہ افغان طالبان کے خلاف سرگرم عمل تھا، لیکن 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد سے، وہ بھی کم ہو گئی ہے اور اب امریکہ کی توجہ مرکوز ہے بھارت پر جو اس وقت چین اور روس/ یوکرائن کے بعد دنیا کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
گزرے مئی میں ہونے والی لزبن، پرتگال میں ہونے والی بلڈر برگ کانفرنس جس میں دنیا کی ٹاپ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور طاقتور ملکوں کی حکومتوں کے نمایندوں نے شرکت کی اور دنیا کے جن معاملات کو موضوع بحث لائے اس میں سرفہرست مصنوعی ذہانت تو تھی ہی لیکن پہلی بار انڈیا کو موضوع بحث بنایا گیا۔
اسی سال اگست سے ایلن مسک نے کھل کر بھارتی نژاد ریپبلکن صدارتی امیدوار وویک راما سوامی کی نا صرف حمایت شروع کی ہے بلکہ اس کا ایجنڈا بھی اپنی ٹویٹس میں زیر بحث لانا شروع کر دیا ہے۔
لگتا ہے کہ طاقتور امریکی لابیاں اب ٹرمپ کے مستقبل سے مایوس ہو کر کسی دوسرے امیدوار کے سر پر ہاتھ رکھنے کی تیاری کر رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں بھارتی نژاد ہی کیوں نظر آیا ؟ یاد رہے کہ اس وقت برسر اقتدار امریکی ڈیموکریٹک نائب صدر بھی بھارتی نژاد ہی ہیں۔
برطانوی جریدہ گارجین کی 20 مئی کی خبر کے مطابق لزبن کی کانفرنس میں شرکت کرنے والی الزبتھ اکانومی جو محکمہ تجارت میں چین کے لیے بائیڈن کے سینئر مشیر کے طور پر اپنے دوسرے بلڈربرگ میں حصہ لے رہی ہیں نے کہا کہ چین کا سب سے بڑا مقصد "عالمی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا ہے"
جس کو اس نے "اپنے اصولوں اور اقدار کے ساتھ ایک چین پر مبنی آرڈر" کہا۔ گارجین کے مطابق بلڈر برگ ایک اشرافیہ کا فورم ہے جس نے تقریباً سات دہائیوں سے مغربی ورلڈ آرڈر کو تشکیل دینے اور فروغ دینے میں مدد کی ہے۔
چین اور ٹیکنالوجی کے دوہری خطرات بلڈربرگ بورڈ کے رکن ایرک شمٹ کی سوچ میں جڑے ہوئے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے گوگل کے سابق باس نے کانگریس کی سماعت میں بتایا تھا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مقابلے کے "مرکز میں AI" ہے۔ اور یہ کہ "چین اب ٹیکنالوجیز، خاص طور پر AI میں امریکہ سے آگے نکلنے کے لیے بہت زیادہ وسائل وقف کر رہا ہے۔"
گویا چین کی عالمی معاشی اور ٹیکنالوجی برتری کے آگے بھارت کو بطور بفر اسٹیٹ آگے بڑھایا جائے گا ؟ کسے معلوم لیکن بی جے پی کی ہندتوا پالیسی اب چلنے والی نہیں۔ اگر اسے عالمی معیشت میں جنگ کا ایک فریق بننا ہے تو اسے اپنے اندرونی تضادات سے نجات حاصل کرنی ہو گی اور مجھے اگلے بھارتی انتخابات میں عام عوام پارٹی اور کانگریس آگے بڑھتی نظر آتی ہیں۔ مودی اپنے ہندتوا کے نظریاتی بوجھ سمیت اگلے الیکشن میں داخل ہوں گے جسے چین جیسے لمبی اعصابی جنگ کے ماہر کا سامنا ہوگا۔
پاکستان کو انہی انتہاوں کے درمیان اپنا راستہ بنانا ہے۔ اپنی امیج بلڈنگ کرنی ہے اور اپنے سیاسی دنگل کو ایک طرف رکھ کر معاشی میدان میں آگے بڑھنا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے قیام کی منظوری دی ہے، جو کہ GCC ممالک اور عمومی طور پر دیگر ممالک کے ساتھ متعلقہ شعبوں میں ملٹی ڈومین تعاون کے لیے ایک 'سنگل ونڈو' کے طور پر کام کرے گی، جس کا مقصد سرمایہ کاری کو آسان بنانا ہے۔ یہ ایک خوش آئیند قدم ہے۔ ایسے اقدامات ملک میں سیاسی استحکام میں مددگار ہونے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی تحفظ کا احساس دیں گے کہ عالمی معاشی ماحول ایسے ہی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
Thursday, July 27, 2023
Gifts
Does this mean that we all have to be highly gifted?
Not at all. The important thing is that we use the gifts that God has given to each of us and use these to the best of our ability.
Or as Martin Luther King, Jr. said, "If a man is called to be a street-sweeper, he should sweep streets even as Michelangelo painted, or as Beethoven composed music, or as Shakespeare wrote poetry. He should sweep streets so well that all the hosts of heaven and earth will pause to say, 'Here lived a great street-sweeper who did his job well.'
Thursday, July 13, 2023
ہٹ مین کے پیچھے کون ہے
Monday, May 29, 2023
کلٹ کلچر - اینڈ گیم (آخری حصہ)
کلٹ کلچر - اینڈ گیم
فرقہ عمرانیہ
(آخری حصہ)
ریسرچ: اظہر عباس
ایک حقیقی کلٹ کے رہنماؤں کی خصوصیت 'تنقید کے لیے عدم برداشت' ہے اور یہی خصوصیت خان صاحب اپنی ناکام پالیسیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے دکھاتے رہتے ہیں۔ انکی ٹرول بریگیڈ ہر ناقد پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتی پائی گئی یہ دیکھے بغیر کہ وہ ناقد خاتون ہے یا مرد۔
آر اے شہزاد ایک یورپ بیسڈ ویل بئینگ اسپیشلٹ/ ماہر نفسیات ہیں انکا تجزیہ ہے کہ:
نیازی ایک Cult Leader ہے اور Pathological Narcissist ہے ہر کلٹ میں لیڈر کا بت تراشا جاتا اسے قطب ولی بنایا جاتا ہے اور ہر نرگسیت پسند تنقید برداشت نہی کرتا
اب سوچیں یہ آن لائن ٹرول، گالی بریگیڈ کس نے اور کیوں بنائی ہے؟
مقصدنیازی پر تنقید پر لوگوں کو ڈرا کر ہراساں کر کے روکا جا سکے۔"
ان کا مزید کہنا ہے کہ: "ایک مشہور ماہر نفسیات ہے جس نے پچھلی صدی کے تمام بڑے کلٹ لیڈران کی پوری زندگیوں پر مکمل ریسرچ کی ایسے تمام لیڈران Pathological Narcissist ہوتے اپنے فالورز سے مکمل وفاداری مانگتے اور تنقید برداشت نہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی برطرفی پر سازشی تھیوریاں تیار کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر قتل کی کوششوں کا دعویٰ کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں اور فوج پر اپنے خلاف گروہ بندی کا الزام لگاتے ہیں، اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ ان کے بغیر پاکستان ٹوٹ جائے گا۔
اپریل 2017 کے لائیو سائنس کے ایک مضمون میں، "کلٹ لیڈرز میں کیا مشترک ہے"، کے عنوان سے، میگن گینن لکھتی ہیں:
'ہر کلٹ لیڈر نرگسیت پسند ہوتا ہے۔' وہ مزید کہتی ہیں کہ کلٹ لیڈر کرشماتی ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وعدے بھی کرتے ہیں، ' وہ یہ بھی مشاہدہ کرتی ہے کہ کلٹ کے رہنما 'افراتفری' پر پروان چڑھتے ہیں، 'بحرانی حالات' پیدا کرتے ہیں اور 'اکثر طاقت کے بھوکے اور آمرانہ رویوں کے حامل ہوتے ہیں۔' کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت کے تحت وہ اپنے پیروکاروں کو مکمل اطاعت پر مجبور کرتے ہیں 'ان کے نزدیک رہنما کے لئے مکمل احترام ایمان کی طرح شرط ہے.'
ضروری نہیں کہ تمام فرقے مذہبی ہوں، کچھ عقائد اور نظریے پر بھی بنتے ہیں۔ عمران خان صاحب نے سیاست کے ساتھ مذہب کو صحیح تناسب میں ملایا ہے، اس طرح مذہب اور بدعنوانی کے غلغلے والی ریاست میں فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔ اپنے پیروکاروں سے بات کرتے ہوئے، انہیں اکساتے ہوئے، عمران خان صاحب کہتے رہے کہ، "پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج/ جیل میں ڈالے جانے کی فکر نہ کریں۔ اس طرح اللہ لوگوں کو آزماتا ہے۔ اگر تم صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسی طرح اجر دے گا جیسا کہ اس نے مدینہ کے مسلمانوں کو دیا تھا۔ پولیس جو آج آپ پر لاٹھی چارج کر رہی ہے کل آپ کو سلام کرے گی"۔ اس طرح کے پیغامات ایسے گمراہ کن لیڈروں کی طرف سے آتے ہیں جو کسی بھی قیمت پر جیت کے خواہاں ہوتے ہیں، اپنے حامیوں کے زخموں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جو انکے طویل مدتی منصوبوں میں غیر متعلق ہوتے ہیں۔
خان صاحب، جیسا کہ زیادہ تر کلٹ لیڈرز کرتے ہیں، لاہور کے زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پر ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہے، اپنے حامیوں کو اس بات پر ایمان لانے پر قائل کیا کہ حکومت انہیں ختم کرنے کے درپے ہے اور اس لیے انہیں تشدد کو استعمال کرنے سمیت گرفتار کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں ان کی نجی فوج نے خان صاحب کی عزت اور طاقت کے دفاع کے لیے ریاستی افواج کے خلاف سخت لڑائیاں لڑیں۔
خان صاحب اس بات سے آگاہ تھے کہ تشدد اور ہلاکتیں ان کے حق میں کام کریں گی، خان صاحب نے تشدد کی حوصلہ افزائی کی اور حکومت کے محدود اختیارات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس نے انہیں ایک قانونی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
خان صاحب کی تقاریر، کسی بھی کلٹ کے سربراہ کی طرح، نرگسیت، عظمت، ایمانداری اور پاکستان کو بدلنے کے وعدوں سے بھری ہوئی ہیں۔ وہ فوج کے حاوی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابل قبول ہے لیکن عوام کی خواہش ہے۔ وہ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نظام انصاف سے بالاتر ہیں
اپنے گھر کے محاصرے کے دوران عالمی میڈیا نیٹ ورکس سے خطاب کرتے ہوئے، خان صاحب نے ذکر کیا کہ وہ سلاخوں کے پیچھے رہنے کو تیار ہیں لیکن ہتھیار نہیں ڈالیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کو ان کے حامیوں کی ہیومن شیلڈ سے لڑنا پڑے گا، اس طرح خون بہے گا اور خان صاحب یہ خون سیاسی طور پر چاہیں گے کہ اسے استعمال کر سکیں۔
خان صاحب نے اپنے کلٹ کی پیروی کو بڑھانے کے لیے ہر طریقہ اپنایا ہے جس میں اپنے برین واشڈ پیروکاروں کی جانیں قربان کرنا بھی شامل ہے۔ عالمی میڈیا کے ساتھ ان کی بات چیت ان کے اس عقیدے کو ظاہر کرتی ہے کہ ریاست کی طاقت کا استعمال ان کے ساتھ اس لیے کیا جا رہا ہے، کہ وہ فوج کی مرضی کے سامنے جھکنے سے انکاری ہیں۔
کلٹ کو متشدد کرنے/ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے کسی ڈرگ پر لگایا جائے۔ گزشتہ دور حکومت میں اسکولوں، کالجز/ یونیورسٹیز میں آئس عام ہوئی۔ نسوار کو ایک برانڈ کی شکل میں برانڈنگ اور لانچنگ آپ کو یاد ہوگی۔ اس کے Ingrediants آج تک کسی لیبارٹری سے چیک نہیں ہوئے کہ کیا ہیں۔ حالیہ 9 مئی کی جتھہ بند ریلیوں اور حملوں کی ویڈیوز میں آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ پی ٹی آئی کے متشدد حامی کچھ فقرے بار بار دہراتے رہے۔ یہ کیسی برین واشنگ ہے ؟ آپ کو یہ متشدد جتھے اجتماعی طور پر ایک ٹرانس میں نہیں لگے ؟ یہ آئس یا کرسٹل کی تھوڑی مقدار بھی ہو سکتی ہے ٹافی کی شکل میں یا کسی اور پراڈکٹ میں۔
خان صاحب کی رہائش گاہ سے حالیہ پولیس ریڈ کے دوران گولہ بارود اور پیٹرول بموں کی دریافت نے اشارہ دیا ہے کہ خان صاحب ایک طویل محاصرے کے لیے تیار تھے اور کسی بھی پولیس کارروائی کو روک سکتے تھے، یہ دنیا بھر میں کلٹس کے سابقہ واقعات کی یاد دہانی ہے جہاں فرقے کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔
عمرانی فرقہ پاکستان میں گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اگر اسے فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ ایک چیلنج ہو گا، کیونکہ یہ ایک ایسے آمر کے ظہور کے لیے حالات پیدا کر سکتا ہے، جو قانون کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنی خواہشات اور خواہشات کے مطابق حکومت کرے گا، جسے برین واش کیے گئے پیروکاروں کی ایک عوامی تحریک کی حمایت حاصل ہے۔
Saturday, May 27, 2023
کلٹ کلچر - اینڈ گیم (حصہ سوئم)
کلٹ کلچر - اینڈ گیم
(حصہ سوئم)
ریسرچ: اظہر عباس
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام پر سوشل میڈیا کی جنگ، دونوں میں جو ایندھن بنی وہ اس بدقسمت ملک کی نوجوان نسل تھی۔ جس نسل کو اس ملک کی ہیومن ریسورس میں شامل ہو کر ویلیو ایڈیشن کرنی تھی اسے سوشل میڈیا کی جنگ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
نائن الیون کے بعد ابتدا میں ففتھ جنریشن وارفئیر صرف ایک پراجیکٹ تھا جس کا مقصد نوجوان نسل کو دہشت گردی کے عفریت سے بچانا اور اسے ایک سمت دینا تھا نیز سوشل میڈیا سے جاری نفسیاتی وار فئیر کا توڑ کرنا اور اس کا جواب دینا بھی اس کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا۔ مختلف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل قابل نوجوان آئی ٹی، نفسیات، بزنس غرضیکہ ہر شعبہ کے ماہرین لئے گئے۔ اس دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہمارے حلیف بھی مدد کیلئے اپنی خدمات سمیت حاضر تھے۔ لیکن بدقسمتی سے رفتہ رفتہ اس کی سمت تبدیل ہوتی گئی۔ 2011 کے بعد اس کی سرگرمیوں کی نوعیت یکدم بدل گئی اور اسے مقامی سیاسی مہمات کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ اس دور میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابل ایک تیسری قوت لائی جائے۔ اسے کھڑا کرنے اور قوت بنانے میں اتنا تردد کیا گیا کہ جو اس قوت کے خالق تھے وہ بھی اس کے سحر میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ نوجوان نسل جو سوشل میڈیا کی نسل تھی اس کیلئے ایک دیوتا کھڑا کیا گیا جو اب ایک عفریت کی شکل میں ریاست کو کھڑا للکار رہا ہے۔
مزید ظلم یہ کیا گیا کہ اس پراجیکٹ کو پراجیکٹ عمران سے Synchronise کرتے کرتے اس کو خان صاحب کے سوشل میڈیا سیل کے لوگوں سے بھر دیا گیا۔ اور بالآخر جب پراجیکٹ عمران کو ترک کیا گیا تو نا صرف اس پراجیکٹ کو پی ٹی آئی نے مال غنیمت کی طرح سمیٹا بلکہ اسے مکمل طور پر خان صاحب کی امیج بلڈنگ پر لگایا۔ اس پر بے تحاشا فنڈز لگائے گئے بلکہ خان صاحب نے ملکی و غیر ملکی کمپنیاں تک ہائر کیں جو انہیں بیانیہ بنا کر دیتیں، ٹرینڈز بلکہ سلوگن تک بنا کر دیتیں۔ سائیکلوجیکل پروفائیلنگ برطانیہ کی کمپنیاں کرتیں۔ یہ ساری واردات میں اپنے سوشل میڈیا کی جنگ پر گذشتہ کالمز کی سیریز میں کر چکا ہوں۔
عامر ایچ قریشی ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں۔ وہ اپنے ایک سلسلہ وار ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ "جوزف گوئبلز جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کا پراپیگینڈہ وزیر تھا جس سے منسوب ہے کہ اس نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ "جھوٹ کو اگر بہت کثرت سے دہرائیں تو وہ سچ بن جاتا ہے"- اور اس نے نازی حکومت میں رہتے ہوئے ایسے ہی کیا اور بہت حد تک، چاہے کچھ عرصہ کے لیے ہی سہی، اس میں کامیاب بھی رہا-
جوزف گوئبلز سے جتنا بھی اختلاف کریں لیکن یہ بات سچ ہے کہ آمروں کو ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا آرٹ جانتے ہوں یا کم از کم جھوٹ کو اتنی مرتبہ ضرور دہرائیں کہ لوگوں کو یہ سچ معلوم ہونے لگے-
چونکہ آمریت ہوتی ہی خلاف قانون ہے اسلئے حقائق کو چھپانا اور جھوٹ پھیلانا اسکی مجبوری ہوتی ہے-
ان کا خیال ہے کہ "پاکستان میں گوئبلز ڈاکٹرائن کو اسٹیبلشمنٹ نے کامیابی کیساتھ استعمال کیا-"
"ہائبرڈ حکومت کے دوران گوئبلز ڈاکٹرائن نے اپنا رنگ انتہائی بھرپور طریقے سے دکھا کر جھوٹ بولنے، حقائق چھپانے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے گزشتہ تمام ریکارڈز توڑ ڈالے- میڈیا کو قابو کر کے جھوٹ بولنے کا لامتناہی اور عظیم ترین سلسلہ جاری ہوا-"
وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
"اگرچہ قیام پاکستان سے لیکر عمران کی حکومت کے خاتمے تک ملک میں گوئبلز ڈاکٹرائن کی حقیقی وارث اور استاد اسٹیبلشمنٹ رہی لیکن بسا اوقات کوئی شاگرد اپنے اساتذہ سے آگے بھی نکل جاتا ہے- عمران کی سیاست کے گزشتہ 12 سالوں کا تجزیہ کریں تو اسکے ہزاروں جھوٹ، یوٹرنز، منافقت، وعدہ خلافیوں، الزامات اور ڈرامہ بازیوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عمران خان نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر عہد حاضر کا جوزف گوئبلز ہے"
خان صاحب پاکستان کی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کرکٹ کپتان، ایک سیاسی نوخیز تھے، اور کرکٹ کے میدان سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کے سمندر میں ڈبکیاں لگا رہے تھے، جب تک حالات نے ان کے ابھرنے کے لیے دروازے نہیں کھولے۔ جنرل شجاع پاشا نے ان کا ہاتھ تھاما اور کھینچ کر قومی سطح پر لے آئے۔
2016 میں نواز شریف کی معزولی اور شہباز شریف کی طرف سے فوج کی لائن پر چلنے سے انکار کے بعد، عمران وزیر اعظم کے طور پر اگلا انتخاب بن گئے۔
انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے ہر وعدے پر یو ٹرن لینے کے باوجود ایمانداری اور قابلیت کی تصویر بننے کے لئے بطور وزیر اعظم اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھایا۔ اپنے سوشل میڈیا کو استعمال کیا اور اپنی امیج بلڈنگ پر زور دیتے رہے
جب ان کی معاشی پالیسیاں تباہ ہونا شروع ہوئیں تو خان صاحب کو نااہل سمجھا گیا اور عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے انہیں باہر دھکیل دیا گیا، یہ راستہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنایا گیا تھا اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے جو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے گئے۔
(جاری ہے)
Friday, May 26, 2023
کلٹ کلچر - نوجوان نسل اور اس کے مسائل (حصہ دوئم)
کلٹ کلچر - نوجوان نسل اور اس کے مسائل
(حصہ دوئم)
ریسرچ: اظہر عباس
9 مئی ہوا ؟ بہت برا ہوا۔ لیکن کیا آپ نے سوچا کہ یہ کیوں ہوا ؟
گزشتہ کئی برسوں سے ہم ان سیاسی دہشت گردوں کے خلاف جہاد مسلسل کرتے رہے ہیں۔ مسلسل آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جو فصل کئی دہائیاں پہلے سیاستدانوں کو بدنام کرنے سے کاشت کرنا شروع کی گئی تھی وہ اب بلآخر کٹنے کو تیار ہے کہ وہ بچہ جو اس وقت دس یا گیارہ برس کا تھا اور اس کے ذہن میں مسلسل زہر بھرا جا رہا تھا کہ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بدعنوان ہیں، کرپشن کا ورد کرکے انہیں برین واش کر دیا گیا تھا، اب 22 سے 35 سال کا ہو چکا اور جب اس کا رخ آپ کی طرف موڑا گیا تو اس نے تہس نہس کرنے میں دیر نہیں لگائی۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کلٹ کیسے وجود میں آیا اور اس کی ریورس انجینئرنگ کر کے ان وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے مملکت، ریاست اور معاشرہ اس تباہی کا شکار ہوا
"کسی بھی قوم کی تقدیر، کسی بھی وقت، اس کے پانچ اور بیس سال سے کم عمر کے جوانوں کی رائے پر منحصر ہوتی ہے۔"
- گوئٹے۔
اگر گوئٹے کی بات درست ہے تو پاکستان کی تقدیر میں کیا مسئلہ ہے؟ ایک ریسوسز سے بھرپور ملک ہونے کے باوجود اس کی تقدیر مصیبتوں کے بھنور میں کیوں گھوم رہی ہے؟ اس کے 183 ملین افراد میں سے 63% نوجوان ہیں جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔
پاکستان کو مزید تاریک دور کی طرف دھکیلنے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اور نوجوانوں کا کردار کیا ہے؟
جواب سادہ اور آسان ہے، لیکن اس کا حل، عملی لحاظ سے، پیچیدہ اور مشکل ہے۔
پاکستان اپنی آزادی کے بعد سے سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقائق پر محیط کئی مسائل کے حوالے سے گہری کھائی میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ دیوہیکل راکھشس نوجوانوں کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔ کچھ عناصر نے ان کو اس قدر پیچیدہ طریقے سے جوڑ دیا ہے کہ ملک کی خوشحالی کو برباد کرنے والے، لکڑی کو دیمک کی طرح ڈھانچے سے چمٹے اور کھانے والے ان عفریتوں سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔
کمزور معاشی حالات، خراب تعلیم، غربت، روزگار اور ترقی کے کم مواقع، منفی مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ، امن و امان کی خراب صورتحال اور ناانصافیوں نے نوجوانوں کو بنیاد پرستی، انتہا پسندی، چائلڈ لیبر، جرائم، جہالت اور نفرت کی طرف مائل کیا ہے۔
پاکستان کی آزادی کے بعد سے نوجوان اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ پاکستان کے دنیا کے نقشے پر ابھرنے کے وقت سے ہی حکومت، فوج اور عسکریت پسندوں نے ان کے سماجی، معاشی، شہری، سیاسی اور ثقافتی حقوق کو پامال کیا ہے۔ نوجوانوں کے سماجی و معاشی حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اسکولوں میں طلبہ کا داخلہ مدارس کے اندر طلبہ کی تعداد سے کم ہے اور چائلڈ لیبر بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
پاکستان میں تعلیم کو تین مختلف معیاروں میں تقسیم کیا گیا ہے: سرکاری ادارے، نجی ادارے، اور مدارس۔ زیادہ تر سرکاری اداروں میں تعلیم کا معیار تسلی بخش نہیں ہے۔ نصاب پرانا ہے اور اکثر غلط تاریخ پر مشتمل ہے، جس کے نتیجے میں نفرت کو فروغ ملتا ہے۔ جبکہ اکثر پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم جدید اور معیاری سرکاری سکولوں سے بہت بہتر ہے، ان کے اخراجات متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ جہاں تک مدارس کا تعلق ہے، وہ ان طلباء کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اسکول کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں پناہ گاہ، خوراک اور روزمرہ کے اخراجات فنڈ کرنے والے برداشت کرتے ہیں، جن میں سے بہت سے مشکوک یا نقصان دہ عزائم رکھتے ہیں۔ ماضی میں یہ مدارس انتہا پسند اور جنونی پیدا کرنے میں ملوث رہے ہیں، جن میں سے بعض کو خودکش بمبار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بہت سے بچے مزدوری پر مجبور ہیں۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے بین الاقوامی پروگرام (IPEC) کے مطابق پاکستان میں اس عمر کے 40 ملین بچوں میں سے 5 سے 14 سال کی عمر کے 3.8 ملین بچے کام کر رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل معیارات کی چکی میں پس رہا ہے۔
نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو مناسب معیار زندگی کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں اپنی بنیادی ضروریات تک رسائی نہیں ہے۔ ان کے پاس نہ تو کھانے کے لیے کافی خوراک ہے اور نہ ہی اتنے کپڑے جو انھیں انتہا پسند عناصر سے بچا سکیں۔ انہیں صحت کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ بے روزگاری اور ناخواندگی کی وجہ سے نوجوان منشیات اور جرائم کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ناکافی خوراک کی وجہ سے وہ غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ قبول شدہ معیار زندگی کی حدود سے باہر رہنے والے نوجوانوں کے ساتھ نسل، جنس اور معذوری کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور ناخواندگی کا یہ سارا کھیل انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف لے گیا ہے۔ عسکریت پسند اور سیاست دان اس غربت اور بے بسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان کا یہ سب سے قیمتی اثاثہ گمراہ کن بھنور میں پھنس چکا ہے۔ نوجوانوں کو غیر اہم باتوں پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا پر سیاسی، عسکری اور مذہبی جماعتوں کو پروموٹ کرتے ہیں اور وہ بہت متحرک ہیں۔ یہ اس لیے ہو رہا ہے کہ معاشرے میں ان کی برین واشنگ کی جا رہی ہے جو نوجوانوں کو نوجوانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، نفرت کے مواد کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی جمہوری اور پرامن نظریات کے خلاف متحد ہونے کے لیے برین واش کر سکیں۔
پاکستانی عوام اپنے مذہب کے تئیں جذباتی ہیں۔ اسلام کے نام پر بھی یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے اور کوئی اس کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اس کھیل کے سنگین نتائج آنے والے ہیں۔ ریاست نوجوانوں کے ساتھ مخلص نہیں اور جوانوں کی توانائیاں منفی چیزوں پر منتشر ہو رہی ہیں۔
ملک کی تقدیر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان معاشرے کی بہتری کے لیے اپنی توانائیاں لگانے کے قابل ہو جائیں تو ہم ایک خوبصورت پاکستان تلاش کر لیں گے۔ تاہم اس وقت پاکستان کے نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ملک کی بہتری کس میں ہے۔ ہمارے اصل دشمن بھوک اور مہنگائی ہیں اور ہمارا اصل ہتھیار حقیقی خوشحالی کے لیے تعلیم ہے۔ ہماری لڑائی ان دشمنوں کے خلاف ہے جو نفرت کو ہوا دیتے ہیں، ہماری لڑائی انہیں سے ہونی چاہیے۔ ہم اپنی توانائیاں مثبت چیزوں پر لگائے بغیر اچھے نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔
یہاں میں اپنے پرانے کالم کا ایک پیرا گراف پیش کرنا چاہوں گا جو اس تمام بحث کا نچوڑ ہے:
جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے- اس ملک میں ایک لا وارث نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی۔
یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے
(جاری ہے)
Wednesday, May 24, 2023
کلٹ کلچر - آخر یہ ہے کیا ؟ (حصہ اول)
کلٹ کلچر - آخر یہ ہے کیا ؟
(حصہ اول)
ریسرچ: اظہر عباس
کلٹ ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جس کے اراکین ایک یا متعدد مشترکہ نظریات رکھتے ہیں جو مذہب، روحانیت، فلسفہ، یا کسی خاص مقصد یا شخصیت پر یقین کی ایک خاص تشریح پر مبنی ہوتے ہیں۔
لفظ 'کلٹ' کسی کو فوراً مانسن فیملی، یا رجنیش موومنٹ کی یاد دلاتا ہے، لیکن یہ صرف چند معروف کلٹ ہیں، جن کے اراکین میں کچھ ایسے لوگ شامل تھے جو عوام کی نظروں میں تھے، مثال کے طور پر برنارڈ لیون، پروین بابی ، مہیش بھٹ، ٹیرنس سٹیمپ، اریانا ہفنگٹن، ونود کھنہ، ہینوور کے پرنس ویلف ارنس وغیرہ رجنیش فرقے سے وابستہ؛ اور شیرون ٹیٹ، فل کاف مین، ڈیانا مارٹن (ڈین مارٹن کی بیٹی)، اور مینسن فیملی سے وابستہ اسکوئی فروم (جس نے جیرالڈ فورڈ کو قتل کرنے کی کوشش کی)۔
کلٹ پرکشش ہوتے ہیں کیونکہ وہ امن اور راحت کا واہمہ پیش کرتے ہیں۔
کلٹس کم خود اعتمادی والے لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ پرکشش ہوتے ہیں، جو کسی گروپ سے تعلق رکھنے، دوست رکھنے، قبول کیے جانے، یا 'بڑی' چیز میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔
کلٹ کو ممکنہ یا نئے بھرتی کرنے والوں کے لیے خاص طور پر پرکشش بنایا جاتا ہے، اراکین کو عام طور پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ دوستانہ، دلچسپ چیز جس کے لیے انہوں نے سائن اپ کیا ہے، یہ گروپ جس نے بہت سارے وعدے کیے ہیں اور اچانک انھیں اپنے تعلق اور اپنائیت کا احساس اور بہت سے دوست اور ساتھی فراہم کیے ہیں، دراصل ایک کلٹ ہے۔
کلٹس 'ہم بمقابلہ ان' کی ذہنیت کو فروغ دیتے ہیں، جو ہمارے جیسے معاشروں میں پہلے سے ہی ایک بڑا عنصر ہے جہاں حاصل اور نہ ہونے کے درمیان بہت بڑی خلیج اس رویہ کو فروغ دیتی ہے۔ انہیں یہاں بھرتیاں حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔
کسی کلٹ میں شامل ہونا اسے چھوڑنے سے زیادہ آسان ہے۔ کسی کو چھوڑنے کی کوشش کرنے کی سزا میں اس شخص اور اس کے خاندان کے لیے تکالیف یہاں تک کہ موت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ سنگین حقیقت تنظیم کو ایک خوفناک قسم کی طاقت حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔
بہت سے کلٹ اس جوش و خروش فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں جو نوجوان لوگوں کو بہت پسند ہے۔ مصنوعی جوش پیدا کرنے کیلئے نشہ آور اشیا کی فراوانی سے فراہمی اس کا کلیدی عنصر ہے۔
کلٹ کے رہنما دماغ پر قابو پانے میں اچھے ہوتے ہیں، اور لوگوں کو وہی کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ وہ لالچ دینے میں مہارت رکھتے ہیں، وہ وعدے کرتے ہیں جو مکمل طور پر غیر حقیقی ہو سکتے ہیں، اور اسے اپنی آسان رسائی کے اندر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ خود اپنی پروجیکشن میں بھی اچھے ہوتے ہیں، اکثر اپنی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو طاقتور ہے، اور حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ مثال کے طور پر مانسن کے پیروکاروں میں سے ایک نے بعد میں کہا کہ مینسن کو کبھی یہ نہیں کہنا پڑا کہ وہ یسوع ہے۔ یہ صرف 'واضح' تھا
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں ہم کلٹ کلچر سے نسبتاً آزاد ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔
ہمیں پاکستان میں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارے اصل مخالف کون ہیں، اور وہ ایک اور طاقتور کلٹ ہیں، اور ہمارا کلچر ہے جو طاقت اور کلٹس کی طرف بہت زیادہ اور آسانی سے راغب ہو سکتا ہے۔ اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہے۔
کچھ تجویز کردہ حل ایک زیادہ وسیع اور بہتر تعلیم، اور نوجوانوں کے لیے مزید سہولیات ہیں جہاں وہ فزیکل سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور اپنی توانائی، ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے خرچ کر سکیں۔ ایک بڑا پہلو انہیں مذہب کے حوالے سے ایک بہتر، زیادہ عقلی نقطہ نظر فراہم کرنا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ جس میں محنت رنگ لاتی ہے، یہاں تک کہ اہم جگہوں پر ’رابطے‘ کی عدم موجودگی میں بھی۔ ایسا معاشرہ جس میں رشوت، بھتہ خوری اور اپنے حق کے لیے لڑنے کی کوئی مجبوری نہ ہو۔
(جاری ہے)
Thursday, April 20, 2023
انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار
انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار
Tuesday, April 18, 2023
عدالتی انتشار
عدالتی انتشار
اظہر عباس
اگر میں یہ کہوں کہ معاشی تباہی اور سیاسی انتشار کے بعد اب ملک اداراتی انہدام کی جانب چل نکلا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔
کچھ عرصہ کیلئے تھوڑا ماضی میں جا کر سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کا دور یاد کریں جب پی سی او ججز کو فارغ کیا گیا تو مختلف ہائی کورٹس میں ایک خلا پیدا ہوا جسے افتخار چوہدری نے مختلف سینئیر وکلا کے چیمبرز میں کام کرتے ان کے ایسوسی ایٹس/ عزیز و اقارب اور دوست و احباب سے پر کیا۔ مختلف حلقوں سے کچھ کمزور آوازیں بھی اس اقدام کے خلاف اٹھیں تاہم اس وقت افتخار چوہدری صاحب انصاف کے دیوتا کے منصب پر فائز ہو چکے تھے اس لئے ان کمزور آوازوں کو یا تو دبا دیا گیا یا پھر ان کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن ان کے اس اقدام کا خمیازہ آج پوری قوم اور دنیا دانتوں میں انگلیاں دبائے دیکھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں موجود لاہوری گروپ اپنے غیر محدود اختیارات کو بروئے کار لا کر نا صرف آئین کی نئی تشریحات کر رہا ہے بلکہ جہاں انکی تشریحات کام نا کریں وہاں آئین کو دوبارہ تحریر کرنے سے لے کے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کو جنم لینے سے پہلے اسقاط سے بھی دریغ نہیں کر رہا۔
کیا مذاق کہ چیف جسٹس نے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے پسندیدہ ججوں کا 8 رُکنی بینچ تشکیل دے ڈالا۔CONFLICT OF INTEREST پر ہچکچائے نہ شرمائے۔ جبکہ تمام اہل شعور اس کی نشاندہی کر چکے تھے۔
چند دنوں میں تین واقعات، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریویو پٹیشن پر فیصلہ محفوظ، الیکشن کمیشن کے 14 مئی کے انتخابات پر حکومتی افسران کی طلبی اور سب سے بڑھ کر سپریم کورٹ کے انتظامی امور پر بل جو ابھی نافذ العمل ہی نہیں ہوا اُس پر 8 رُکنی بینچ کی تشکیل اور اسٹے آرڈر سپریم کورٹ کی اندرونی دھینگا مُشتی، مقننہ اور ایگزیکٹو سے ٹکراو پر توہینِ عدالت اور پارلیمان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم بربادی کو تیز کرے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑا کر ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ مملکت ایسے موڑ پر ہے جہاں عمران خان بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ لڑائی اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چُکی ہے اور مملکت منہ کے بل اوندھی پڑی ہے۔
جنگ/ جیو کے معاشی امور کے ماہر اور رپورٹر مہتاب حیدر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے انعقاد کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 21 ارب روپے کی رقم جاری کرنے کی ہدایت کو اختیار پر کنٹرول کے طور پر سمجھا گیا ہے جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت فنانس ڈویژن کے پاس ہے۔
کابینہ اور وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی رضامندی کے بغیر وزارت خزانہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری اور جاری نہیں کر سکتی جس کے لیے بعد ازاں قومی اسمبلی کی پوسٹ فیکٹو (قانون جس کا اطلاق زمانہ ماقبل سے ہو) منظوری درکار ہے۔
پی ایف ایم ایکٹ 2019 واضح طور پر اس کی وضاحت کرتا ہے کہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کی تحویل کے عنوان کے تحت فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کا آپریشن وفاقی حکومت کی مجموعی نگرانی کے تحت فنانس ڈویژن میں کام کرے گا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک الیکشن کے اخراجات کے لیے 21 ارب روپے کا فنڈز جاری کرتا ہے تو آئی ایم ایف اس پر اعتراض کرسکتا ہے جس سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاملات میں مشکلات پیش آسکتی ہیں.
یاد رہے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں بھی الیکشن کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔
دنیا بدل چکی ہے
دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...
-
As said earlier , happiness is many things to many people. For one thing, it means we need to know and accept ourselves for who we are. Ha...
-
When I was studying in my 12 grade, a teacher, sent me a post card having these lines. "Don't be afraid of problems. Meet them,...








