Monday, May 29, 2023

کلٹ کلچر - اینڈ گیم (آخری حصہ)



 کلٹ کلچر - اینڈ گیم

فرقہ عمرانیہ 

(آخری حصہ)

ریسرچ: اظہر عباس 


ایک حقیقی کلٹ کے رہنماؤں کی خصوصیت 'تنقید کے لیے عدم برداشت' ہے اور یہی خصوصیت خان صاحب اپنی ناکام پالیسیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے دکھاتے رہتے ہیں۔ انکی ٹرول بریگیڈ ہر ناقد پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتی پائی گئی یہ دیکھے بغیر کہ وہ ناقد خاتون ہے یا مرد۔


آر اے شہزاد ایک یورپ بیسڈ ویل بئینگ اسپیشلٹ/ ماہر نفسیات ہیں انکا تجزیہ ہے کہ:


نیازی ایک Cult Leader ہے اور Pathological Narcissist ہے ہر کلٹ میں لیڈر کا بت تراشا جاتا اسے قطب ولی بنایا جاتا ہے اور ہر نرگسیت پسند تنقید برداشت نہی کرتا 

اب سوچیں یہ آن لائن ٹرول، گالی بریگیڈ کس نے اور کیوں بنائی ہے؟


مقصدنیازی پر تنقید پر لوگوں کو ڈرا کر ہراساں کر کے روکا جا سکے۔" 


ان کا مزید کہنا ہے کہ: "ایک مشہور ماہر نفسیات ہے جس نے پچھلی صدی کے تمام بڑے کلٹ لیڈران کی پوری زندگیوں پر مکمل ریسرچ کی ایسے تمام لیڈران Pathological Narcissist ہوتے اپنے فالورز سے مکمل وفاداری مانگتے اور تنقید برداشت نہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی برطرفی پر سازشی تھیوریاں تیار کرتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر قتل کی کوششوں کا دعویٰ کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں اور فوج پر اپنے خلاف گروہ بندی کا الزام لگاتے ہیں، اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ ان کے بغیر پاکستان ٹوٹ جائے گا۔


اپریل 2017 کے لائیو سائنس کے ایک مضمون میں، "کلٹ لیڈرز میں کیا مشترک ہے"، کے عنوان سے، میگن گینن لکھتی ہیں:


'ہر کلٹ لیڈر نرگسیت پسند ہوتا ہے۔' وہ مزید کہتی ہیں کہ کلٹ لیڈر کرشماتی ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وعدے بھی کرتے ہیں، ' وہ یہ بھی مشاہدہ کرتی ہے کہ کلٹ کے رہنما 'افراتفری' پر پروان چڑھتے ہیں، 'بحرانی حالات' پیدا کرتے ہیں اور 'اکثر طاقت کے بھوکے اور آمرانہ رویوں کے حامل ہوتے ہیں۔' کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت کے تحت وہ اپنے پیروکاروں کو مکمل اطاعت پر مجبور کرتے ہیں 'ان کے نزدیک رہنما کے لئے مکمل احترام ایمان کی طرح شرط ہے.'


ضروری نہیں کہ تمام فرقے مذہبی ہوں، کچھ عقائد اور نظریے پر بھی بنتے ہیں۔ عمران خان صاحب نے سیاست کے ساتھ مذہب کو صحیح تناسب میں ملایا ہے، اس طرح مذہب اور بدعنوانی کے غلغلے والی ریاست میں فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔ اپنے پیروکاروں سے بات کرتے ہوئے، انہیں اکساتے ہوئے، عمران خان صاحب کہتے رہے کہ، "پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج/ جیل میں ڈالے جانے کی فکر نہ کریں۔ اس طرح اللہ لوگوں کو آزماتا ہے۔ اگر تم صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسی طرح اجر دے گا جیسا کہ اس نے مدینہ کے مسلمانوں کو دیا تھا۔ پولیس جو آج آپ پر لاٹھی چارج کر رہی ہے کل آپ کو سلام کرے گی"۔ اس طرح کے پیغامات ایسے گمراہ کن لیڈروں کی طرف سے آتے ہیں جو کسی بھی قیمت پر جیت کے خواہاں ہوتے ہیں، اپنے حامیوں کے زخموں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جو انکے طویل مدتی منصوبوں میں غیر متعلق ہوتے ہیں۔


خان صاحب، جیسا کہ زیادہ تر کلٹ لیڈرز کرتے ہیں، لاہور کے زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پر ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہے، اپنے حامیوں کو اس بات پر ایمان لانے پر قائل کیا کہ حکومت انہیں ختم کرنے کے درپے ہے اور اس لیے انہیں تشدد کو استعمال کرنے سمیت گرفتار کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں ان کی نجی فوج نے خان صاحب  کی عزت اور طاقت کے دفاع کے لیے ریاستی افواج کے خلاف سخت لڑائیاں لڑیں۔ 


خان صاحب اس بات سے آگاہ تھے کہ تشدد اور ہلاکتیں ان کے حق میں کام کریں گی، خان صاحب نے تشدد کی حوصلہ افزائی کی اور حکومت کے محدود اختیارات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس نے انہیں ایک قانونی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ 


خان صاحب کی تقاریر، کسی بھی کلٹ کے سربراہ کی طرح، نرگسیت، عظمت، ایمانداری اور پاکستان کو بدلنے کے وعدوں سے بھری ہوئی ہیں۔ وہ فوج کے حاوی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابل قبول ہے لیکن عوام کی خواہش ہے۔ وہ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نظام انصاف سے بالاتر ہیں 


اپنے گھر کے محاصرے کے دوران عالمی میڈیا نیٹ ورکس سے خطاب کرتے ہوئے، خان صاحب نے ذکر کیا کہ وہ سلاخوں کے پیچھے رہنے کو تیار ہیں لیکن ہتھیار نہیں ڈالیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کو ان کے حامیوں کی ہیومن شیلڈ سے لڑنا پڑے گا، اس طرح خون بہے گا اور خان صاحب یہ خون سیاسی طور پر چاہیں گے کہ اسے استعمال کر سکیں۔


خان صاحب نے اپنے کلٹ کی پیروی کو بڑھانے کے لیے ہر طریقہ اپنایا ہے جس میں اپنے برین واشڈ پیروکاروں کی جانیں قربان کرنا بھی شامل ہے۔ عالمی میڈیا کے ساتھ ان کی بات چیت ان کے اس عقیدے کو ظاہر کرتی ہے کہ ریاست کی طاقت کا استعمال ان کے ساتھ اس لیے کیا جا رہا ہے، کہ وہ فوج کی مرضی کے سامنے جھکنے سے انکاری ہیں۔


کلٹ کو متشدد کرنے/ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے کسی ڈرگ پر لگایا جائے۔ گزشتہ دور حکومت  میں اسکولوں، کالجز/ یونیورسٹیز میں آئس عام ہوئی۔ نسوار کو ایک برانڈ کی شکل میں برانڈنگ اور لانچنگ آپ کو یاد ہوگی۔ اس کے Ingrediants آج تک کسی لیبارٹری سے چیک نہیں ہوئے کہ کیا ہیں۔ حالیہ 9 مئی کی جتھہ بند ریلیوں اور حملوں کی ویڈیوز میں آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ پی ٹی آئی کے متشدد حامی کچھ فقرے بار بار دہراتے رہے۔ یہ کیسی برین واشنگ ہے ؟ آپ کو یہ متشدد جتھے اجتماعی طور پر ایک ٹرانس میں نہیں لگے ؟ یہ آئس یا کرسٹل کی تھوڑی مقدار بھی ہو سکتی ہے ٹافی کی شکل میں یا کسی اور پراڈکٹ میں۔


خان صاحب کی رہائش گاہ سے حالیہ پولیس ریڈ کے دوران گولہ بارود اور پیٹرول بموں کی دریافت نے اشارہ دیا ہے کہ خان صاحب ایک طویل محاصرے کے لیے تیار تھے اور کسی بھی پولیس کارروائی کو روک سکتے تھے، یہ دنیا بھر میں کلٹس کے سابقہ واقعات کی یاد دہانی ہے جہاں فرقے کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔


عمرانی فرقہ پاکستان میں گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔ اگر اسے فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ ایک چیلنج ہو گا، کیونکہ یہ ایک ایسے آمر کے ظہور کے لیے حالات پیدا کر سکتا ہے، جو قانون کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنی خواہشات اور خواہشات کے مطابق حکومت کرے گا، جسے برین واش کیے گئے پیروکاروں کی ایک عوامی تحریک کی حمایت حاصل ہے۔

Saturday, May 27, 2023

کلٹ کلچر - اینڈ گیم (حصہ سوئم)




 کلٹ کلچر - اینڈ گیم

(حصہ سوئم)

ریسرچ: اظہر عباس


پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام پر سوشل میڈیا کی جنگ، دونوں میں جو ایندھن بنی وہ اس بدقسمت ملک کی نوجوان نسل تھی۔ جس نسل کو اس ملک کی ہیومن ریسورس میں شامل ہو کر ویلیو ایڈیشن کرنی تھی اسے سوشل میڈیا کی جنگ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ 


نائن الیون کے بعد ابتدا میں ففتھ جنریشن وارفئیر صرف ایک پراجیکٹ تھا جس کا مقصد نوجوان نسل کو دہشت گردی کے عفریت سے بچانا اور اسے ایک سمت دینا تھا نیز سوشل میڈیا سے جاری نفسیاتی وار فئیر کا توڑ کرنا اور اس کا جواب دینا بھی اس کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا۔ مختلف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل قابل نوجوان آئی ٹی، نفسیات، بزنس غرضیکہ ہر شعبہ کے ماہرین لئے گئے۔ اس دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہمارے حلیف بھی مدد کیلئے اپنی خدمات سمیت حاضر تھے۔ لیکن بدقسمتی سے  رفتہ رفتہ اس کی سمت تبدیل ہوتی گئی۔ 2011 کے بعد اس کی سرگرمیوں کی نوعیت یکدم بدل گئی اور اسے مقامی سیاسی مہمات کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ اس دور میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابل ایک تیسری قوت لائی جائے۔ اسے کھڑا کرنے اور قوت بنانے میں اتنا تردد کیا گیا کہ جو اس قوت کے خالق تھے وہ بھی اس کے سحر میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ نوجوان نسل جو سوشل میڈیا کی نسل تھی اس کیلئے ایک دیوتا کھڑا کیا گیا جو اب ایک عفریت کی شکل میں ریاست کو کھڑا للکار رہا ہے۔


مزید ظلم یہ کیا گیا کہ اس پراجیکٹ کو پراجیکٹ عمران سے Synchronise کرتے کرتے اس کو خان صاحب کے سوشل میڈیا سیل کے لوگوں سے بھر دیا گیا۔ اور بالآخر جب پراجیکٹ عمران کو ترک کیا گیا تو نا صرف اس پراجیکٹ کو پی ٹی آئی نے مال غنیمت کی طرح سمیٹا بلکہ اسے مکمل طور پر خان صاحب کی امیج بلڈنگ پر لگایا۔ اس پر بے تحاشا فنڈز لگائے گئے بلکہ خان صاحب نے ملکی و غیر ملکی کمپنیاں تک ہائر کیں جو انہیں بیانیہ بنا کر دیتیں، ٹرینڈز بلکہ سلوگن تک بنا کر دیتیں۔ سائیکلوجیکل پروفائیلنگ برطانیہ کی کمپنیاں کرتیں۔ یہ ساری واردات میں اپنے سوشل میڈیا کی جنگ پر گذشتہ کالمز کی سیریز میں کر چکا ہوں۔ 


عامر ایچ قریشی ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں۔ وہ اپنے ایک سلسلہ وار ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ "جوزف گوئبلز جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کا پراپیگینڈہ وزیر تھا جس سے منسوب ہے کہ اس نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ "جھوٹ کو اگر بہت کثرت سے دہرائیں تو وہ سچ بن جاتا ہے"- اور اس نے نازی حکومت میں رہتے ہوئے ایسے ہی کیا اور بہت حد تک، چاہے کچھ عرصہ کے لیے ہی سہی، اس میں کامیاب بھی رہا- 


جوزف گوئبلز سے جتنا بھی اختلاف کریں لیکن یہ بات سچ ہے کہ آمروں کو ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا آرٹ جانتے ہوں یا کم از کم جھوٹ کو اتنی مرتبہ ضرور دہرائیں کہ لوگوں کو یہ سچ معلوم ہونے لگے-

چونکہ آمریت ہوتی ہی خلاف قانون ہے اسلئے حقائق کو چھپانا اور جھوٹ پھیلانا اسکی مجبوری ہوتی ہے-


ان کا خیال ہے کہ "پاکستان میں  گوئبلز ڈاکٹرائن کو  اسٹیبلشمنٹ نے کامیابی کیساتھ استعمال کیا-"


"ہائبرڈ حکومت کے دوران گوئبلز ڈاکٹرائن نے اپنا رنگ انتہائی بھرپور طریقے سے دکھا کر جھوٹ بولنے، حقائق چھپانے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے گزشتہ تمام ریکارڈز توڑ ڈالے- میڈیا کو قابو کر کے جھوٹ بولنے کا لامتناہی اور عظیم ترین سلسلہ جاری ہوا-"


وہ مزید لکھتے ہیں کہ:


"اگرچہ قیام پاکستان سے لیکر عمران کی حکومت کے خاتمے تک ملک میں گوئبلز ڈاکٹرائن کی حقیقی وارث اور استاد اسٹیبلشمنٹ رہی لیکن بسا اوقات کوئی شاگرد اپنے اساتذہ سے آگے بھی نکل جاتا ہے- عمران کی سیاست کے گزشتہ 12 سالوں کا تجزیہ کریں تو اسکے ہزاروں جھوٹ، یوٹرنز، منافقت، وعدہ خلافیوں، الزامات اور ڈرامہ بازیوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ عمران خان نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر عہد حاضر کا جوزف گوئبلز ہے"


خان صاحب پاکستان کی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کرکٹ کپتان، ایک سیاسی نوخیز تھے، اور کرکٹ کے میدان سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کے سمندر میں ڈبکیاں لگا رہے تھے، جب تک حالات نے ان کے ابھرنے کے لیے دروازے نہیں کھولے۔ جنرل شجاع پاشا نے ان کا ہاتھ تھاما اور کھینچ کر قومی سطح پر لے آئے۔


2016 میں نواز شریف کی معزولی اور شہباز شریف کی طرف سے فوج کی لائن پر چلنے سے انکار کے بعد، عمران وزیر اعظم کے طور پر اگلا انتخاب بن گئے۔


انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے ہر وعدے پر یو ٹرن لینے کے باوجود ایمانداری اور قابلیت کی تصویر بننے کے لئے بطور وزیر اعظم اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھایا۔ اپنے سوشل میڈیا کو استعمال کیا اور اپنی امیج بلڈنگ پر زور دیتے رہے 


جب ان کی معاشی پالیسیاں تباہ ہونا شروع ہوئیں تو خان صاحب کو نااہل سمجھا گیا اور عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے انہیں باہر دھکیل دیا گیا، یہ راستہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنایا گیا تھا اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے جو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے گئے۔


(جاری ہے)

Friday, May 26, 2023

کلٹ کلچر - نوجوان نسل اور اس کے مسائل (حصہ دوئم)



 کلٹ کلچر - نوجوان نسل اور اس کے مسائل

(حصہ دوئم)

ریسرچ: اظہر عباس


9 مئی ہوا ؟ بہت برا ہوا۔ لیکن کیا آپ نے سوچا کہ یہ کیوں ہوا ؟


گزشتہ کئی برسوں سے ہم ان سیاسی دہشت گردوں کے خلاف جہاد مسلسل کرتے رہے ہیں۔ مسلسل آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جو فصل کئی دہائیاں پہلے سیاستدانوں کو بدنام کرنے سے کاشت کرنا شروع کی گئی تھی وہ اب بلآخر کٹنے کو تیار ہے کہ وہ بچہ جو اس وقت دس یا گیارہ برس کا تھا اور اس کے ذہن میں مسلسل زہر بھرا جا رہا تھا کہ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بدعنوان ہیں، کرپشن کا ورد کرکے انہیں برین واش کر دیا گیا تھا، اب 22 سے 35 سال کا ہو چکا اور جب اس کا رخ آپ کی طرف موڑا گیا تو اس نے تہس نہس کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ 


آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کلٹ کیسے وجود میں آیا اور اس کی ریورس انجینئرنگ کر کے ان وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے مملکت، ریاست اور معاشرہ اس تباہی کا شکار ہوا


"کسی بھی قوم کی تقدیر، کسی بھی وقت، اس کے پانچ اور بیس سال سے کم عمر کے جوانوں کی رائے پر منحصر ہوتی ہے۔" 


- گوئٹے۔


اگر گوئٹے کی بات درست ہے تو پاکستان کی تقدیر میں کیا مسئلہ ہے؟ ایک ریسوسز سے بھرپور ملک ہونے کے باوجود اس کی تقدیر مصیبتوں کے بھنور میں کیوں گھوم رہی ہے؟ اس کے 183 ملین افراد میں سے 63% نوجوان ہیں جو کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ 


پاکستان کو مزید تاریک دور کی طرف دھکیلنے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اور نوجوانوں کا کردار کیا ہے؟


جواب سادہ اور آسان ہے، لیکن اس کا حل، عملی لحاظ سے، پیچیدہ اور مشکل ہے۔


پاکستان اپنی آزادی کے بعد سے سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقائق پر محیط کئی مسائل کے حوالے سے گہری کھائی میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ دیوہیکل راکھشس نوجوانوں کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔ کچھ عناصر نے ان کو اس قدر پیچیدہ طریقے سے جوڑ دیا ہے کہ ملک کی خوشحالی کو برباد کرنے والے، لکڑی کو دیمک کی طرح ڈھانچے سے چمٹے اور کھانے والے ان عفریتوں سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے۔


کمزور معاشی حالات، خراب تعلیم، غربت، روزگار اور ترقی کے کم مواقع، منفی مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ، امن و امان کی خراب صورتحال اور ناانصافیوں نے نوجوانوں کو بنیاد پرستی، انتہا پسندی، چائلڈ لیبر، جرائم، جہالت اور نفرت کی طرف مائل کیا ہے۔


پاکستان کی آزادی کے بعد سے نوجوان اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ پاکستان کے دنیا کے نقشے پر ابھرنے کے وقت سے ہی حکومت، فوج اور عسکریت پسندوں نے ان کے سماجی، معاشی، شہری، سیاسی اور ثقافتی حقوق کو پامال کیا ہے۔ نوجوانوں کے سماجی و معاشی حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اسکولوں میں طلبہ کا داخلہ مدارس کے اندر طلبہ کی تعداد سے کم ہے اور چائلڈ لیبر بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔


پاکستان میں تعلیم کو تین مختلف معیاروں میں تقسیم کیا گیا ہے: سرکاری ادارے، نجی ادارے، اور مدارس۔ زیادہ تر سرکاری اداروں میں تعلیم کا معیار تسلی بخش نہیں ہے۔ نصاب پرانا ہے اور اکثر غلط تاریخ پر مشتمل ہے، جس کے نتیجے میں نفرت کو فروغ ملتا ہے۔ جبکہ اکثر پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم جدید اور معیاری سرکاری سکولوں سے بہت بہتر ہے، ان کے اخراجات متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہیں۔ جہاں تک مدارس کا تعلق ہے، وہ ان طلباء کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اسکول کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں پناہ گاہ، خوراک اور روزمرہ کے اخراجات فنڈ کرنے والے برداشت کرتے ہیں، جن میں سے بہت سے مشکوک یا نقصان دہ عزائم رکھتے ہیں۔ ماضی میں یہ مدارس انتہا پسند اور جنونی پیدا کرنے میں ملوث رہے ہیں، جن میں سے بعض کو خودکش بمبار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔


دوسری جانب پاکستان میں بہت سے بچے مزدوری پر مجبور ہیں۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے بین الاقوامی پروگرام (IPEC) کے مطابق پاکستان میں اس عمر کے 40 ملین بچوں میں سے 5 سے 14 سال کی عمر کے 3.8 ملین بچے کام کر رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل معیارات کی چکی میں پس رہا ہے۔


نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو مناسب معیار زندگی کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں اپنی بنیادی ضروریات تک رسائی نہیں ہے۔ ان کے پاس نہ تو کھانے کے لیے کافی خوراک ہے اور نہ ہی اتنے کپڑے جو انھیں انتہا پسند عناصر سے بچا سکیں۔ انہیں صحت کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ بے روزگاری اور ناخواندگی کی وجہ سے نوجوان منشیات اور جرائم کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ناکافی خوراک کی وجہ سے وہ غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔


دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ قبول شدہ معیار زندگی کی حدود سے باہر رہنے والے نوجوانوں کے ساتھ نسل، جنس اور معذوری کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور ناخواندگی کا یہ سارا کھیل انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف لے گیا ہے۔ عسکریت پسند اور سیاست دان اس غربت اور بے بسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔


پاکستان کا یہ سب سے قیمتی اثاثہ گمراہ کن بھنور میں پھنس چکا ہے۔ نوجوانوں کو غیر اہم باتوں پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا پر سیاسی، عسکری اور مذہبی جماعتوں کو پروموٹ کرتے ہیں اور وہ بہت متحرک ہیں۔ یہ اس لیے ہو رہا ہے کہ معاشرے میں ان کی برین واشنگ کی جا رہی ہے جو نوجوانوں کو نوجوانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، نفرت کے مواد کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی جمہوری اور پرامن نظریات کے خلاف متحد ہونے کے لیے برین واش کر سکیں۔


پاکستانی عوام اپنے مذہب کے تئیں جذباتی ہیں۔ اسلام کے نام پر بھی یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے اور کوئی اس کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اس کھیل کے سنگین نتائج آنے والے ہیں۔ ریاست نوجوانوں کے ساتھ مخلص نہیں اور جوانوں کی توانائیاں منفی چیزوں پر منتشر ہو رہی ہیں۔


ملک کی تقدیر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان معاشرے کی بہتری کے لیے اپنی توانائیاں لگانے کے قابل ہو جائیں تو ہم ایک خوبصورت پاکستان تلاش کر لیں گے۔ تاہم اس وقت پاکستان کے نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ملک کی بہتری کس میں ہے۔ ہمارے اصل دشمن بھوک اور مہنگائی ہیں اور ہمارا اصل ہتھیار حقیقی خوشحالی کے لیے تعلیم ہے۔ ہماری لڑائی ان دشمنوں کے خلاف ہے جو نفرت کو ہوا دیتے ہیں، ہماری لڑائی انہیں سے ہونی چاہیے۔ ہم اپنی توانائیاں مثبت چیزوں پر لگائے بغیر اچھے نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔


یہاں میں اپنے پرانے کالم کا ایک پیرا گراف پیش کرنا چاہوں گا جو اس تمام بحث کا نچوڑ ہے:


جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے- اس ملک میں ایک لا وارث  نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی۔


یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے


(جاری ہے)

Wednesday, May 24, 2023

کلٹ کلچر - آخر یہ ہے کیا ؟ (حصہ اول)



 کلٹ کلچر - آخر یہ ہے کیا ؟

(حصہ اول)

ریسرچ: اظہر عباس


کلٹ ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جس کے اراکین ایک یا متعدد مشترکہ نظریات رکھتے ہیں جو مذہب، روحانیت، فلسفہ، یا کسی خاص مقصد یا شخصیت پر یقین کی ایک خاص تشریح پر مبنی ہوتے ہیں۔ 


لفظ 'کلٹ' کسی کو فوراً مانسن فیملی، یا رجنیش موومنٹ کی یاد دلاتا ہے، لیکن یہ صرف چند معروف کلٹ ہیں، جن کے اراکین میں کچھ ایسے لوگ شامل تھے جو عوام کی نظروں میں تھے، مثال کے طور پر برنارڈ لیون، پروین بابی ، مہیش بھٹ، ٹیرنس سٹیمپ، اریانا ہفنگٹن، ونود کھنہ، ہینوور کے پرنس ویلف ارنس وغیرہ رجنیش فرقے سے وابستہ؛ اور شیرون ٹیٹ، فل کاف مین، ڈیانا مارٹن (ڈین مارٹن کی بیٹی)، اور مینسن فیملی سے وابستہ اسکوئی فروم (جس نے جیرالڈ فورڈ کو قتل کرنے کی کوشش کی)۔


کلٹ پرکشش ہوتے ہیں کیونکہ وہ امن اور راحت کا واہمہ پیش کرتے ہیں۔ 


کلٹس کم خود اعتمادی والے لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ پرکشش ہوتے ہیں، جو کسی گروپ سے تعلق رکھنے، دوست رکھنے، قبول کیے جانے، یا 'بڑی' چیز میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 


کلٹ کو ممکنہ یا نئے بھرتی کرنے والوں کے لیے خاص طور پر پرکشش بنایا جاتا ہے، اراکین کو عام طور پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ دوستانہ، دلچسپ چیز جس کے لیے انہوں نے سائن اپ کیا ہے، یہ گروپ جس نے بہت سارے وعدے کیے ہیں اور اچانک انھیں اپنے تعلق اور اپنائیت کا احساس اور بہت سے دوست اور ساتھی فراہم کیے ہیں، دراصل ایک کلٹ ہے۔


کلٹس 'ہم بمقابلہ ان' کی ذہنیت کو فروغ دیتے ہیں، جو ہمارے جیسے معاشروں میں پہلے سے ہی ایک بڑا عنصر ہے جہاں حاصل اور نہ ہونے کے درمیان بہت بڑی خلیج اس رویہ کو فروغ دیتی ہے۔ انہیں یہاں بھرتیاں حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔


کسی کلٹ میں شامل ہونا اسے چھوڑنے سے زیادہ آسان ہے۔ کسی کو چھوڑنے کی کوشش کرنے کی سزا میں اس شخص اور اس کے خاندان کے لیے تکالیف یہاں تک کہ موت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ سنگین حقیقت تنظیم کو ایک خوفناک قسم کی طاقت حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔


بہت سے کلٹ اس جوش و خروش فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں جو نوجوان لوگوں کو بہت پسند ہے۔ مصنوعی جوش پیدا کرنے کیلئے نشہ آور اشیا کی فراوانی سے فراہمی اس کا کلیدی عنصر ہے۔  


کلٹ کے رہنما دماغ پر قابو پانے میں اچھے ہوتے ہیں، اور لوگوں کو وہی کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ وہ لالچ دینے میں مہارت رکھتے ہیں، وہ وعدے کرتے ہیں جو مکمل طور پر غیر حقیقی ہو سکتے ہیں، اور اسے اپنی آسان رسائی کے اندر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ خود اپنی پروجیکشن میں بھی اچھے ہوتے ہیں، اکثر اپنی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو طاقتور ہے، اور حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ مثال کے طور پر مانسن کے پیروکاروں میں سے ایک نے بعد میں کہا کہ مینسن کو کبھی یہ نہیں کہنا پڑا کہ وہ یسوع ہے۔ یہ صرف 'واضح' تھا 


 ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں ہم کلٹ کلچر سے نسبتاً آزاد ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔


ہمیں پاکستان میں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارے اصل مخالف کون ہیں، اور وہ ایک اور طاقتور کلٹ ہیں، اور ہمارا کلچر ہے جو طاقت اور کلٹس کی طرف بہت زیادہ اور آسانی سے راغب ہو سکتا ہے۔ اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہے۔


کچھ تجویز کردہ حل ایک زیادہ وسیع اور بہتر تعلیم، اور نوجوانوں کے لیے مزید سہولیات ہیں جہاں وہ فزیکل سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں اور اپنی توانائی، ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے خرچ کر سکیں۔ ایک بڑا پہلو انہیں مذہب کے حوالے سے ایک بہتر، زیادہ عقلی نقطہ نظر فراہم کرنا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ جس میں محنت رنگ لاتی ہے، یہاں تک کہ اہم جگہوں پر ’رابطے‘ کی عدم موجودگی میں بھی۔ ایسا معاشرہ جس میں رشوت، بھتہ خوری اور اپنے حق کے لیے لڑنے کی کوئی مجبوری نہ ہو۔


(جاری ہے)

Thursday, April 20, 2023

انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار

 انتشار کے ذمہ دار اور مدد گار

اظہر عباس
ملکی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ خان صاحب کے لئے اس وقت تین قوتیں کام کرتی نظر آ رہی ہیں:
پہلے: سپریم کورٹ کے چند جج تاکہ عمران خان گرفتاری سے بچے رہیں اور وہ اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے پنجاب میں حکومت دوبارہ دلا سکیں جس کی بنیاد پر قومی اسمبلی کے الیکشن ڈسکے کے الیکشن کی طرح اغوا کئے جا سکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کو ایک ہی وقت میں ہائی کورٹس، پارلیمنٹ، ایگزیکٹو اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دائرہ کار میں تجاوز کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔
سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے حالیہ ’’اختلافی‘‘ نوٹس میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پنجاب، کے پی کے انتخابات پر سپریم کورٹ کے سوموٹو نے صوبوں میں ہائی کورٹس کی آزادی کو نقصان پہنچایا۔
چیف الیکشن کمشنر نے شکایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے کمیشن کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں پارلیمنٹ نے بھی سپریم کورٹ کو قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ کا آئینی اختیار چھینتے ہوئے پایا جبکہ حکومت اعلیٰ عدلیہ کی ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت پر بھی برہم ہے۔
دوسرے: دس پیڈ امریکی لابنگ فرمز جن کی وجہ سے یو این وغیرہ میں پاکستان کے اندرونی معاملات جیسے کہ مقدموں کے اندراج کے بارے میں سوال وغیرہ ہوتے ہیں جیسے یہ کوئی عالمی معاملہ ہو، زلمے خلیل زاد جیسے بندے ہائر ہوتے ہیں اور تاثر دیا جاتا ہے کہ عالمی برادری عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔
تیسرے: میڈیا مارکیٹنگ اور Narrative building کمپنیاں۔ جن کے ماہانہ بجٹ کئی ملین ڈالرز میں ہیں اور بیشتر امریکا، انگلینڈ، دوبئی اور انڈیا تک سے آپریٹ ہوتی ہیں۔ یہی کمپنیاں ایبسولیوٹلی ناٹ، ہم کوئی غلام ہیں اور آزادی جیسے نعرے اور بیانئیے تشکیل دیتی ہیں۔ یہ کمپنیاں جعلی سروے کرواتی ہیں جیسے عندلیب عباس کی کمپنی نے 53 فیصد مقبولیت والا سروے دیا۔
ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ریٹائرڈ فوجی ھونے کے باوجود فوج سے کوئی نہ کوئی ذاتی خارش رکھتے ہیں۔ انکا یہ ذاتی انتقام، رنجش اور عداوت ان کو فوج کے خلاف بولنے پہ مجبور رکھتے ہیں۔
1.عادل راجہ کو بزدلی، کرپشن اور غیر آفیسر عادات پر فوج سے نکالاگیا۔ ستم یہ کہ فوج نے اسکے چنگل سے غیر قانونی قبضہ کی ہوئی زمینیں بھی چھڑوائیں۔
2. حیدر مہدی کے باپ کو فوج نے بزدلی کے الزام میں کورٹ مارشل کیا۔ اسکےاپنے بیٹے کو میرٹ پر پورا نا اترنے کی بنیاد پرفوج نے ریجیکٹ کیا۔ کینیڈا میں ٹیکسی ڈرائیور رہا لیکن پھر قسمت جاگی اور پی ٹی آئی نے انہیں پسند کر لیا۔
3. ہارون اسلم کو گلہ یہ ہے کہ نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو ان پر فوقیت دی۔ اگر آپ فوج میں ان کے قریبی لوگوں میں کسی سے بھی پوچھیں تو آپکو پتا چلے گا کہ سوائے جنرل مشرف کے بغل بچے ہونے کے انکی کوئی قابلیت نہیں تھی۔
4. علی قلی خان کا بھی نواز شریف سے یہی گلہ ہے کہ انہوں نے جنرل مشرف کو ان پر فوکیت دی۔ اب ان موصوف کو نواز شریف سے گلہ کرنے کے بجائے اپنے رشتہ دار گوہر ایوب اور چوہدری نثار سے گلہ کرنا چاہیے جنکی سیاسی کھیچا تانی کی وجہ سے جنرل مشرف کے بھاگ کھل گئے۔
ایک بہت اہم نقطہ یہاں پر یہ ہے کہ اگر ہم ان سب کو دیکھیں تو پتا چلے گا کہ:
1۔ سب کو بہت ہی احتیاط سے ڈھونڈا گیا اور فوج سے دکھی ہونے کی وجہ سے انہیں سوشل میڈیا پر لانچ کیا گیا
2۔ انکی ذہن سازی کی گئی
3۔ اب پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے انکو فروغ دیا جا رہا ہے۔
کیا یہ سب کسی سیاسی جماعت کا کام ہو سکتا ؟ کیا یہ سب کسی یا کئی بیرونی خفیہ ایجنسیوں کے پیروکار بن چکے ہیں ؟ کیا پی ٹی آئی کا کندھا استعمال ہو رہا ہے ؟ کیا الو کوئی اور سیدھا کر رہا ہے ؟
انکی باتوں اور الزامات پر اگر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ان سب کا اصل مقصد اسی فوج کو نیچا دکھانا ہے جس فوج سے انکی نسلیں پلتی ہیں۔ جب ان پر کوئی قانونی کاروائی کی جائے تو یہ فوج کی وردی کے پیچھے چھپتے ہیں لیکن بولتے پھر اسی فوج پر ہیں۔
سوال صرف ایک ہے کہ زمان پارک کی سیکورٹی کے ساتھ مہنگی ترین پولیٹیکل ایکٹیویٹی سمیت مندرجہ بالا ان تمام اخراجات کے لئے اربوں روپے ماہانہ کہاں سے آ رہے ہیں؟
کون انویسٹ کر رہا ہے اور کیوں؟
عمران خان کے پاس نظام کو ہر وقت ڈسڑب رکھنے کے لئے اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے ؟
3 ارب ڈالر بغیر سود کے قرضہ دینے والی مثال لے لیں اس میں تقریبا 200 ارب روپے کا فراڈ کیا گیا، روپے اور ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاو سے درجنوں ارب، ملک ریاض کے 50 ارب کی مثال، توشہ خانہ کی چھوٹی سی مثال، بلین ٹری سونامی، مہنگی دوائیاں سکینڈل، گندم بحران میں پیسے، چینی بحران میں سینکڑوں ارب کمائے گئے، پشاور میٹرو سے لے کر کے ای ایس ای کے مالک "عارف نقوی" اور دوسری بڑی نادہندگان کمپنیوں کے 2 سو ارب روپے واجب الاداء قرض کی معافی کی کوشش، پنجاب میں بزدار، گوگی اور پنکی گینگ کی لوٹ مار
پاکستانی عوام کی سوچ ہے جتنی بڑی لوٹ مار اس عمرانی فتنے کی حکومت نے 4 سالوں میں کی۔
کیا وجہ ہے کہ جس دن سے عمران خان کی حکومت ختم ہوئ عمران خان ایسے کسی بھی ایشو پر بات نہیں کرتے جو انکی پارٹی کا منشور اور چار سالہ دور حکومت میں اسکی وہ بار بار گردان کرتے رہے
عمران خان کی ہر تقریر غداری غلامی کے بیانیے سے شروع ہوتی ہے اور مجھے حکومت سے نکالنے والوں کو چھوڑوں گا نہیں پر ختم ہوتی ہے مذہب کا چورن بیچو غلامی سے نجات کا نعرہ لگاؤ اور سب کو چور کہو پاک فوج اور دیگر اداروں پر مسلسل تنقید کرو
وہ اپنے ذہنی غلاموں کے ذہن میں بس یہی باتیں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ پھر وہ یہ سوال نا کرسکیں کہ خان صاحب جو لندن سے حکومت پاکستان کی امانت اربوں روپیہ آیا تھا وہ کہاں گیا اور القادر یونیورسٹی کی اربوں کی زمین کیسے آپ کو ملی جس کی ملکیت اب آپکے قریب ترین لوگوں کے پاس ہے تاکہ وہ یہ سوال نا کریں۔ آٹا چینی دواؤں اور دیگر اشیاء کی قیمت بڑھا کر اربوں روپے کمانے والے کس کو فائدہ پہنچا رہے تھے تاکہ وہ سوال نا کرسکیں۔ فارن فنڈنگ میں آنے والی اربوں کی رقم کیوں اور کہاں سے آئ تاکہ وہ یہ سوال نا کرسکیں کہ فرح گوگی کس طرح چار سال پنجاب پر حکمرانی کرتی رہی اور اربوں کما گئی۔ کون تھا جو اسکے پیچھے تھا تاکہ وہ یہ سوال نا کرسکیں۔ رنگ روڈ منصوبے کا اصلی ملزم شہزاد اکبر کی پشت پناہی کون کرتا رہا ؟

Tuesday, April 18, 2023

عدالتی انتشار

 عدالتی انتشار 

اظہر عباس


اگر میں یہ کہوں کہ معاشی تباہی اور سیاسی انتشار کے بعد اب ملک اداراتی انہدام کی جانب چل نکلا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ 


کچھ عرصہ کیلئے تھوڑا ماضی میں جا کر سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کا دور  یاد کریں جب پی سی او ججز کو فارغ کیا گیا تو مختلف ہائی کورٹس میں ایک خلا پیدا ہوا جسے افتخار چوہدری نے مختلف سینئیر وکلا کے چیمبرز میں کام کرتے ان کے ایسوسی ایٹس/ عزیز و اقارب اور دوست و احباب سے پر کیا۔ مختلف حلقوں سے کچھ کمزور آوازیں بھی اس اقدام کے خلاف اٹھیں تاہم اس وقت افتخار چوہدری صاحب انصاف کے دیوتا کے منصب پر فائز ہو چکے تھے اس لئے ان کمزور آوازوں کو یا تو دبا دیا گیا یا پھر ان کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن ان کے اس اقدام کا خمیازہ آج پوری قوم اور دنیا دانتوں میں انگلیاں دبائے دیکھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں موجود لاہوری گروپ اپنے غیر محدود اختیارات کو بروئے کار لا کر نا صرف آئین کی نئی تشریحات کر رہا ہے بلکہ جہاں انکی تشریحات کام نا کریں وہاں آئین کو دوبارہ تحریر کرنے سے لے کے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کو جنم لینے سے پہلے اسقاط سے بھی دریغ نہیں کر رہا۔


کیا مذاق کہ چیف جسٹس نے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے پسندیدہ ججوں کا 8 رُکنی بینچ تشکیل دے ڈالا۔CONFLICT OF INTEREST پر ہچکچائے نہ شرمائے۔ جبکہ تمام اہل شعور اس کی نشاندہی کر چکے تھے۔ 


چند دنوں میں تین واقعات، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریویو پٹیشن پر فیصلہ محفوظ، الیکشن کمیشن کے 14 مئی کے انتخابات پر حکومتی افسران کی طلبی اور سب سے بڑھ کر سپریم کورٹ کے انتظامی امور پر بل جو ابھی نافذ العمل ہی نہیں ہوا اُس پر 8 رُکنی بینچ کی تشکیل اور اسٹے آرڈر سپریم کورٹ کی اندرونی دھینگا مُشتی، مقننہ اور ایگزیکٹو سے ٹکراو پر توہینِ عدالت اور پارلیمان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم بربادی کو تیز کرے گا۔ 


اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑا کر ریاست کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ مملکت ایسے موڑ پر ہے جہاں عمران خان بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ لڑائی اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چُکی ہے اور مملکت منہ کے بل اوندھی پڑی ہے۔


جنگ/ جیو کے معاشی امور کے ماہر اور رپورٹر مہتاب حیدر کے مطابق  سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے انعقاد کے لیے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 21 ارب روپے کی رقم جاری کرنے کی ہدایت کو اختیار پر کنٹرول کے طور پر سمجھا گیا ہے جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت فنانس ڈویژن کے پاس ہے۔


 کابینہ اور وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی رضامندی کے بغیر وزارت خزانہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری اور جاری نہیں کر سکتی جس کے لیے بعد ازاں قومی اسمبلی کی پوسٹ فیکٹو (قانون جس کا اطلاق زمانہ ماقبل سے ہو) منظوری درکار ہے۔


 پی ایف ایم ایکٹ 2019 واضح طور پر اس کی وضاحت کرتا ہے کہ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کی تحویل کے عنوان کے تحت فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور فیڈریشن کے پبلک اکاؤنٹ کا آپریشن وفاقی حکومت کی مجموعی نگرانی کے تحت فنانس ڈویژن میں کام کرے گا۔


سپریم کورٹ کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک الیکشن کے اخراجات کے لیے 21 ارب روپے کا فنڈز جاری کرتا ہے تو آئی ایم ایف اس پر اعتراض کرسکتا ہے جس سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاملات میں مشکلات پیش آسکتی ہیں.


یاد رہے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں بھی الیکشن کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔

Monday, March 20, 2023

انتشار یا انارکی ؟

 https://e.dailyauthority.pk/page.php?Page=2&date=20-03-2023&city=isb



انتشار یا انارکی ؟
اظہر عباس 

لاہور کے بعد اسلام آباد میں خان صاحب کے ہمراہ جانے والوں نے جو ہنگام برپا کیا وہ تو اپنی مثال آپ ہے ہی لیکن اس کے جواب میں عدالت نے جو رول اپنایا وہ بھی تاریخی ہے 

رپورٹس کے مطابق عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہوئی تو ان کے ورکرز بھی منع کرنے کے باوجود ان کے ساتھ داخل ہوگئے۔ خان صاحب نے گاڑی سے ہی درخواست کی کہ اپنا اسٹاف بھیج کر میری حاضری قبول کریں جو قبول کر لی گئی۔ کارکنوں نے جوڈیشل کمپلیکس کا حفاظتی بیریئر توڑ دیا تھا۔ اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے 10 موٹر سائیکلیں جلادیں۔ اسلام آباد پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اسلام آباد پولیس کے آئی جی کے مطابق انہیں حیرت ہے کہ پولیس پر آنسو گیس استعمال کی گئی جبکہ انہیں لاہور پولیس پر گلگت بلتستان پولیس کے گنز تاننے کی اطلاعات کے بعد  قطعا حیرت نہیں ہونی چاہئے تھی کہ وزیراعلٰی گلگت بلتستان اس بار بھی اپنے محافظ دستے کے ساتھ خان صاحب کے ساتھ تھے 

اس سے پہلے لاہور کے زمان پارک کا علاقہ اس وقت میدان جنگ اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے نو گو ایریا بن گیا جب اسلام آباد پولیس ایک وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیلیے پہنچی جو اسلام آباد ہی کی عدالت نے جاری کئے تھے۔ زمان پارک میں پولیس سے خان صاحب کے ورکرز نے دو بدو لڑائی لڑی۔ انہیں زخمی کیا اور لاہور پولیس کو حالیہ تاریخ میں  پہلی بار پیٹرول بم کا سامنا کرنا پڑا جب واٹر کینن پر پیٹرول بم پھینکے گئے اور اسے آگ لگا دی گئی 

زمان پارک میں پہلی بار خیبر پختون خواہ کے ٹرینڈ لڑاکوں کے استعمال کا الزام بھی خان صاحب پر لگا جس کو تقویت اس وقت ملی جب ایک سابقہ کالعدم تنظیم جس کے سربراہ صوفی محمد تھے کے ترجمان وہاں پائے گئے۔ بقول ان کے وہ عمران خان کی کال پر ان کی حفاظت کیلئے زمان پارک پہنچے تھے۔ یہ محافظ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سابق ترجمان اور مولانا صوفی محمد کے دست راست اقبال خان تھے ۔

ذرائع کے مطابق اقبال خان تین دن زمان پارک میں موجود رہے، اقبال خان ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مطلوب رہے ہیں۔ 2010 میں انہیں گرفتار کیا گیا ، 12 سال جیل میں رہے، 2022 میں رہا کردیے گئے۔ سوات میں چیئرمین کا الیکشن بھی لڑا اور پھر تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔ آج بی ان پر بھتہ خوری کے الزامات لگائے جاتے ہیں

اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے زمان پارک جانے کی تصدیق کی۔ 
 
اس کے علاوہ میرے لئے سب سے حیرت انگیز واقعہ زلمے خلیل زاد کا خان صاحب کے حق میں بیان تھا۔ بقول سلیم صافی "زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر پختون افغان ہیں لیکن ان کی پیدائش ازبک شہر مزارشریف میں ہوئی۔ وہ اسکالرشپ پر تعلیم کیلئے امریکہ گئے اور پھر امریکہ ہی کے ہوکر رہ گئے۔"

"شکاگو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد وہ مختلف حیثیتوں میں امریکی محکمہ ٔدفاع اور محکمۂ خارجہ کے لئے کام کرتے رہے۔ عمل کے لحاظ سے وہ سرتاپا امریکی ہیں اور مسلمان ہونے کے ناتے انہیں زیادہ تر مسلمان ممالک سے متعلق امریکی پالیسی سازی یا پھر وہاں پر امریکی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔"

"انہوں نے امریکی مفادات کے حصول میں اس قدر بنیادی کردار ادا کیا کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (وزارت خارجہ) سے وابستہ ہونے کے باوجود انہیں سیکرٹریز دفاع (گیٹ، ڈونلڈ رمسفیلڈ اور ڈک چینی) نے ڈیفنس میڈلز سے نوازا۔"

"بعض رپورٹس کے مطابق صدر منتخب ہونے کے بعد صدر بش انہیں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بھی بنانا چاہ رہے تھے لیکن پھر کسی وجہ سے کونڈولیزا رائس کا پلڑا بھاری ہوگیا۔"

"طالبان کے خلاف امریکی حملے سے قبل اور اس کے بعد وہ ہمہ وقت امریکی انتظامیہ پر زور ڈالتے رہے کہ طالبان کے خلاف کارروائیوں سے زیادہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔"

"افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد وہ یہاں امریکہ کے سفیر مقرر کئے گئے لیکن عملاً ان کی حیثیت وائسرائے کی تھی۔ طالبان اور پاکستان سے متعلق ان کا رویہ اس قدر جارحانہ تھا کہ ان کے حامد کرزئی سے بھی شدید اختلافات پیدا ہوئے۔"

"خلیل زاد جیسے لوگوں کے مشورے پر ایک طرف گوانتاناموبے اور بگرام جیسے عقوبت خانے قائم کئے گئے اور دوسری طرف امریکی رات کو گھروں میں گھس کر کارروائیاں کرتے رہے جس کی حامد کرزئی مخالفت کرتے رہے۔ یہاں پر امریکی پنجے گاڑنے کے بعد جب امریکہ عراق پر حملہ آور ہوا تو اس کے لئے گراں قدر خدمات کی وجہ سے انہیں وہاں امریکہ کا سفیر مقرر کردیا گیا۔"

"2005 سے 2007 تک وہ عراق میں سفیر رہے اور یہاں پر امریکی مقاصد پورے کرنے کے بعد انہیں 2007 میں اقوام متحدہ میں امریکہ کا مندوب مقرر کیا گیا۔"

"وہ پہلے مسلمان تھے جنہیں اتنے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا کیونکہ امریکہ کے لئے ان کی خدمات کسی بھی امریکی سے کم نہیں تھیں ۔ مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسی کی تشکیل میں بھی ہمہ وقت خلیل زاد کا ان پٹ شامل رہا اور ساتھ ساتھ انہوں نے رینڈ (RAND) کے لئے بھی کئی پیپرز لکھے۔"

"وہ کٹر ری پبلکن ہیں جب کہ ری پبلکنز میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر اور نیوکانز کا حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ وکی پیڈیا میں ان کے تعارف میں انہیں نیوکانز قرار دیا گیا ہے ۔"

"زلمے خلیل زاد کی آخری سرکاری ذمہ داری طالبان کے ساتھ دوحہ مذاکرات کے لئے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی کی تھی اور اس کے لئے سی آئی اے، پنٹاگون اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو بھی صدر کے حکم پر ان کا ماتحت کردیا گیا تھا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکیوں کے ہاں ان کی کیا اہمیت ہے۔"

"وہ واحد ری پبلکن تھے جنہیں ڈیموکریٹ صدر جوبائیڈن نے حکومت کی تبدیلی کے بعد طالبان کے ساتھ ڈیل کو منطقی انجام تک پہنچانے تک انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا۔" 

سلیم صافی مزید لکھتے ہیں کہ "اس وقت سرکاری طور پر ان کے پاس کوئی عہدہ ہے اور نہ پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ ان کا کوئی سروکار ہے لیکن حیرت انگیز طور پر عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے کچھ عرصہ بعد وہ خفیہ دورے پر پاکستان آئے اور بنی گالہ میں عمران خان سے تین گھنٹے پر محیط ون ٹو ون ملاقات کی۔" 

"عمران خان کے علاوہ وہ جس دوسرے فرد سے ملے وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے اور اس ملاقات میں انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ صلح کرلیں۔" 

"بعدازاں ٹیلی فونک رابطہ کرکے وہ جنرل باجوہ کو عمران خان کے ساتھ ملاقات کیلئے قائل کرتے رہے اور ایوان صدر میں دونوں کی جو ملاقات ہوئی تھی وہ بنیادی طور پر زلمے خلیل زاد کی کوششوں سے ہوئی تھی۔"

 "لیکن اب درپردہ کردار ادا کرنے کی بجائے زلمے خلیل زاد عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں اور ان کے حق میں ایسی ٹویٹ کی کہ جیسے وہ زلمے خلیل زاد نہیں بلکہ علی امین گنڈاپور ہوں۔"

آپ ان سب واقعات کی کڑیاں ملائیں تو ایسا لگتا ہے کہ سابقہ کالعدم تنظیم کے لوگوں سے لیکر زلمے خلیل زاد تک خان صاحب کی حمایت میں کمر بستہ اور ملک میں انارکی اور انتشار پھیلانے میں درپردہ یا براہ راست ملوث ہیں اور یہ ایک خطرناک تاثر ہے۔

پی ٹی آئی کے جو لوگ یہ سب کر/ کرا رہے ہیں وہ عمران خان کے ہمدرد نہیں ہیں بلکہ ریاست کے لئے جواز مہیا کر رہے ہیں کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں اور عمران خان کے خلاف ریاستی کاروائی کا جواز پیدا ہو۔

ان واقعات سے پی ٹی آئی کا چہرہ ایک سیاسی جماعت سے زیادہ ایک جتھے کا ابھرا ہے۔ جو سابقہ کالعدم تنظیم اور امریکی ریپبلکن پارٹی یا نیو کونز کے اشتراک سے ایک ملکی انتشار کا ذمہ دار ہے۔

کیا آپ کو نہیں لگ رہا کہ گزشتہ چند دنوں سے پی ٹی آئی کا تاثر ایک پرتشدد جماعت کا ابھر رہا ہے جو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نبرد آزما ہے اور اس میں سابقہ کالعدم جماعتوں کے لوگ پر تشدد کاروائیاں کر رہے ہیں اور نیو کانز امریکہ سے اس کے حق میں بیانات جاری کر رہے ہیں ؟

خان صاحب کا مزاج Offensive Defence کا ہے جسے انکے کچھ اندرونی عناصر Offence ظاہر کر رہے ہیں اور کارکن انکے پیچھے چل پڑے ہیں کیونکہ خان صاحب ڈائریکٹ کارکنوں سے کنیکٹڈ نہیں ہیں۔

دوسری خوفناک بات خان صاحب کے بیرونی روابط عین اس وقت منظر عام پر آنا ہے جب وہی عناصر پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور میزائیل ٹیکنالوجی کو محدود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف کو یہی عناصر سخت موقف لینے پر مجبور کر رہے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ خان صاحب کا امریکہ میں لابیسٹ وہ نکلا ہے جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا پرانا ناقد ہے

Friday, March 3, 2023

کرامویل کی کہانی - برطانوی تاریخ سے ایک ورق

کرامویل کی کہانی ۔ برطانوی تاریخ سے ایک ورق
اظہر عباس

گزشتہ دنوں جب سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے "ہم" ٹی وی میں عادل شاہزیب کے سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات میں صادق و امین قرار نہیں دیا تھا۔ اور جب یہ کلمات کہے کہ میں اب کسی کو انٹریو نہیں دوں گا، میرے مرنے کے بعد ایک کتاب شائع ہوگی جس میں تمام حقائق ہوں گے،1997سے لے کر چیف جسٹس کے عہدے تک کی ساری کہانی لکھوں گا۔ تو مجھے نا جانے کیوں اولیور کرامویل یاد آ گیا۔

پاکستانی سیاست کے خارزار سے پاوں مزید زخمی کرنے کی بجائے آئیے آپ کو برطانوی تاریخ سے کرامویل کے بارے میں بتائیں۔

17ویں صدی میں برطانیہ بادشاہت سے جمہوریت کے ارتقائی سفر کی طرف گامزن تھا۔ شاہ چارلس نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا، جس پر جمہوری جدوجہد کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ پارلیمنٹ نے ان احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پارلیمنٹ نے شاہی دستوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی فوج تشکیل دی، جس کی قیادت اولیور کرام ویل نے سنبھالی۔ لیفٹیننٹ جنرل اولیور کرام ویل کی قیادت میں جمہوریت پسندوں کو کامیابی نصیب ہوئی اور 30جنوری 1649کو شاہ چارلس کا سر قلم کر دیا گیا۔

توقع تو یہ تھی کہ اس فقید المثال کامیابی کے بعد جمہوریت کی صبح خوش جمال کا سورج طلوع ہو گا لیکن ایک بار پھر آمریت کا گرہن لگ گیا۔ جنرل اولیور کرام ویل نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پارلیمنٹ کی خود مختاری کا مذاق اڑایا۔ 3ستمبر 1658کو کرام ویل ملیریا کے باعث مر گیا تو اس کے بیٹے رچرڈ نے اقتدار سنبھالا۔

عوامی بغاوت کے نتیجے میں رچرڈ کو معزول ہونا پڑا تو جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے شاہ چارلس دوم کو بلا کرعنانِ اقتدار اُس کے حوالے کر دی گئی۔ پارلیمنٹ میں مطالبہ ہوا کہ اولیور کا ٹرائل کیا جائے ۔ یہ سوال کھڑا ہوا کہ مرُدے سے سوال جواب کیسے کئے جا سکتے ہیں؟ قانونی ماہرین نے رائے دی کہ کرام ویل کی ہڈیاں نکال کر ان سے سوالات کئے جائیں اور جب کوئی جواب نہ آئے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اولیور کرام ویل نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ اس کے بعد عدالت فیصلہ سنادے۔ چنانچہ اولیور کرام ویل کی قبر کھود کر اس کے ڈھانچے کو زنجیروں میں جکڑ کو کٹہرے میں لایا گیا۔ اسے فردم جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی تو علامتی طور پر اس کا سر قلم کر کے باقیات پھینک دی گئیں جبکہ کھوپڑی نشان عبرت کے طور پر پارلیمنٹ کے باہر ایک کھمبے سے لٹکا دی گئی۔

پوگو دیکھئے



اظہر عباس

 ہمارے سب کے لاڈلے عمران خان صاحب سے آپ چاہے جتنا اختلاف کر لیں لیکن وہ جو چاہتے ہیں وہی کرتے ہیں، چاہے اس سے سب کو کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت کے رہنما بھی ان سے اختلاف کررہے ہوتے ہیں مگر وہ وہی کرکے دکھاتے ہیں جو انہوں نے کہہ دیا ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی تنقید یا اختلاف کی پروا نہیں کرتے۔ مخالفین اسے ضد کہیں یا انا، تکبر کہیں یا خوداعتمادی، وہ کسی کی پروا کیے بغیر وہی سب کچھ کرتے چلے جارہے ہیں جو ان کے جی میں آتا ہے۔ اس میں وہ ملک کے نفع و نقصان کی بھی کوئی پروا نہیں کرتے، صرف اپنی مرضی کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں جب انہیں معلوم ہے کہ پارٹی میں ان کے علاوہ کوئی اور تو ہے نہیں۔ وہی سب کچھ ہیں، پارٹی ان ہی کی ہے۔ اگر آسان الفاظ میں کہیں تو وہی پی ٹی آئی ہیں۔ ان کے بغیر پی ٹی آئی کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہ جو چاہیں گے پارٹی میں وہی ہوگا، جو نہیں چاہیں گے وہ نہیں ہوگا، چاہے اس کےلیے کوئی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے۔ ان کی مرضی کے بغیر پی ٹی آئی میں کوئی پتّہ تک نہیں ہل سکتا۔ وہ جسے چاہیں گے وہ پارٹی میں رہے گا، جس سے ان کا جی بھر جائے گا تو اس کی تمام تر خدمات، اس کی اے ٹی ایم، اس کے جہاز، سب کچھ فراموش کرکے اسے پارٹی سے نکال پھینکا جائے گا۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں عمران خان کی محض ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ان کے دیرینہ رفقا، تحریک انصاف کے اہم عہدیداران اور اہم ترین خدام کو نکال باہر کیا۔ بلکہ بہت سے پی ٹی آئی کے بانیان کو بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔


دل و جان سے ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ایسے بھی ہیں جو اب بھی عمران خان کو نہایت عزیز رکھتے ہیں، خان صاحب کسی بھی حال میں ہوں یا کچھ بھی کریں، وہ خان صاحب کی محبت میں آنکھیں بند ہی رکھتے ہیں


انکی جماعت سہاروں پر ہی چلتی آرہی ہے، جیسے وفاق میں سہارا کھینچا گیا تو دھڑام سے گرگئی، اسی طرح پنجاب میں بھی سہاروں کو قائم رکھنے کےلیے ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔


بہرحال بات وہیں آجاتی ہے کہ عمران خان اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو جی میں آئے کر گزرتے ہیں اور ایک بار جو فیصلہ کرلیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ جیسے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ انہوں نے کرلیا تو پرویزالہٰی جو پنجاب میں ان کی حکومت قائم رکھنے کا واحد ذریعہ ہیں، ان کی بھی نہیں چلنے دی اور اسمبلی کی تحلیل پر ان سے دستخط کرا کے ہی دم لیا۔ جس سے معلوم ہوا وہ ایک ایسے شخص ہیں کہ جس بات کی ٹھان لیں وہ کر گزرتے ہیں، چاہے اس سے ان کا ذاتی نقصان ہو یا ملک کا، وہ کسی بات کی پروا نہیں کرتے۔


بائیس سالہ جہدوجہد کا خاتمہ ترین و علیم کے جہازوں پر ہوا۔ بھر بھر کر تبدیلی کے کھلاڑی لائے گئے۔ حیران کن طور پر اس پورے عمل کو جمہوری بھی کہا گیا اور بہترین بھی۔ آزاد پنچھی لانا غیر جمہوری رویہ نہیں تھا، لیکن جہازوں کی جس طرح تشہیر کی گئی اس سے ایک بات یقینی ہوگئی کہ کہانی گنتی سے شروع ہوکر یقیناً گنتی پر ختم ہوتی ہوگی۔ بہرحال طاقت مل گئی۔ لیکن اس طاقت کو حاصل کرنے کے بعد کیا ہوا؟


پاکستانی معاشرے کا باشعور طبقہ یقینی طور پر اس بات کا حامی تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اہم ہے۔ کرپشن کے راستے روکنا ضروری ہے۔ معاشی لحاظ سے پاکستان کو آگے لے جانا اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن نہیں جناب! ہم نے بائیس سالہ جہدوجہدِ پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلیے کی ہی نہیں تھی، بلکہ ہمارا مقصد ہی بس طاقت کا حصول تھا، جس کےلیے ہم نے ہر حربہ آزمایا۔ عمران خان نے پہلی تقریر کے برعکس چن چن کر انتقامی سیاست کےلیے لوگ ڈھونڈے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ پہلے ملک کو مضبوط بناتے پھر چوروں پر بھی ہاتھ ڈالتے۔ واویلا شروع کردیا گیا، چن چن کر من پسند افراد کو عہدے دیے جانے لگے، جو اس سے پہلے بھی ہورہا تھا۔ معاشی ٹیم؟ پچاس لاکھ گھر؟ ایک کروڑ نوکریاں؟ ایشین ٹائیگر؟ اقوام عالم میں مقام؟ متنازع معاملات میں مضبوط موقف؟ یہ سب تو تب ہوتا جب عمران خان طاقت حاصل کرنے کے بعد عاجزی سے ملک کی خدمت کو اپنا شعار بناتے۔ نہ تو واضح لائحہ عمل تھا اور نہ ہی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلیے کوئی سمت، لہٰذا ایک ہی ایجنڈا باقی بچا غصہ، غصہ اور صرف غصہ۔


اور کچھ نہ ہوا تو بیوقوفانہ فیصلے کیے جانے لگے۔ ترقی کی طرف توجہ کے بجائے سیاسی انتقام کی جانب سوچ کے پیادے دوڑا لیے گئے۔ عقل کے اندھے اس حقیقت سے دور ہوگئے کہ تین سال کم از کم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے اور اس کے بعد چن چن کر چوروں کو سولی پر لٹکا دیتے تو آپ کی واہ واہ بھی ہوتی اور عالمی برادری میں نام بھی۔ لیکن حال یہ ہے کہ پلستر زدہ ٹانگ کے علاوہ انتخابی مہم میں کچھ دکھانے کو نہیں۔


کیا ان کے چاہنے والوں کو ابھی بھی احساس نہیں ہوا کہ کیسے ان کا جذباتی استحصال کیا گیا ؟ خان صاحب اور ان کے پیچھے بیٹھے عیاروں نے اپنا مشن بہت کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے گھٹنے زمین سے لگوا دئے ہیں۔ کشمیر مقبوضہ سے نکل کر انڈیا کا حصہ بن گیا۔ ملک انارکی اور ادارے انتشار کا شکار ہو چکے ہیں 


ملین ڈالر کا سوال ہے کہ پندرہ برس میں ایسا کیا ہوا کہ ساٹھ سال کے قرضے چھ ہزار ارب روپے سے بڑھ کر پچاس ہزار تک جا پہنچے۔ ڈالر ساٹھ روپے سے تین سو تک جا پہنچا۔ کیا ایک جامع منصوبے کے تحت پچھلے پندرہ برس میں پاکستان کو اس حال تک پہنچایا گیا؟ ایسا کوئی منصوبہ اگر بنایا گیا تھا تو کامیاب ہو چکا۔ پراجیکٹ عمران خان کامیابی سے ہم کنار ہو چکا۔ اس انارکی کے ذمہ داروں کو پہچانیں۔ عمران خان کو کیوں کوستے ہیں وہ تو Puppet تھا۔ اس کٹھ پتلی کو بنانے اور نچانے والوں کو ان کی Safe Heavens سے نکالیں۔ ان سے وصولیاں کریں۔ شجاع پاشا، ظہیرالاسلام، فیض حمید کو پکڑیں۔ باجوہ، کیانی اور راحیل شریف کو کٹہرے میں لائیں۔ 


ہے کسی میں ہمت ؟


اگر کچھ نہیں کر سکتے تو POGO دیکھیں۔ ٹم ہارٹن جائیں، کافی پئیں اور موج کریں

Friday, February 10, 2023

کیا ہم پوچھ سکتے ہیں ؟




 کیا ہم پوچھ سکتے ہیں ؟

اظہر عباس


ہم اپنی گزشتہ تحریروں میں بارہا کہہ چکے کہ پاکستانی معیشت دو ملکوں کی معیشت کا بار اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے سے قاصر ہے اور صرف یہی عنصر ڈالر کی اونچی اڑان اور اندرون ملک میں مہنگائی کا سبب لیکن اب  امریکی نشریاتی ادارے ’’بلوم برگ‘‘کی تازہ ترین رپورٹ میں لگی لپیٹی رکھے بغیر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سے یومیہ 50 لاکھ ڈالر غیر قانونی طور پر افغانستان اسمگل کئے جا رہے ہیں۔


افغانستان کو ہر روز تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر درکار ہوتے ہیں، ان میں سے نصف اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم ہوجاتے ہیں کیونکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ہفتے 4کروڑ ڈالر کی امداد نقد فراہم کی جاتی ہے جبکہ باقی ماندہ ڈالر غیر قانونی طور پر ڈالروں کی اسمگلنگ سے پورے کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی روپیہ اس خطے کی سب سے کمزور کرنسی بن چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر محض 3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جبکہ افغانی اس خطے کی سب سے مضبوط کرنسی بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر طالبان کے کابل پر قابض ہونے کے بعد دسمبر 2021ء میں ایک امریکی ڈالر 124.18 افغانی میں دستیاب تھا مگر اب افغان کرنسی 89.96 افغانی میں ایک ڈالر دستیاب ہے۔ اسکے برعکس پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر جو دسمبر 2021ء میں 176.51 روپے کا تھا اب 274.70 روپے کا ہوچکا ہے۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ اسمگلنگ کیسے ممکن ہوئی اور اس کی روک تھام پر مامور ادارے کیا کر رہے ہیں ؟


پوچھنے کو تو بہت سے سوال ہیں لیکن چند سوالات جو ہم پوچھ سکتے ہیں وہ ہمارے ذہنوں میں ہی جنم لیتے اور کچھ عرصے ہمیں خلجان میں رکھنے کے بعد کسی نئے سوال کا موجب بنتے ہیں مثلا 274 بلین ڈالرز کا قرض ہم اپنے اوپر چڑھا چکے ہیں مگر آج بھی ہمیں تعلیم، صحت، روزگار، ترقی اور سکون میسر نہیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ اتنے قرضوں کے باوجود بھی ہم بھوکے کیوں ہیں؟ اتنا قرض لینے کے باوجود بھی ہم دنیا میں آگے کے بجائے پیچھے کیوں جارہے ہیں۔ اور اتنا قرض لینے کے بعد بھی ہم مزید قرضوں کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں؟ 


معیشت کو سنبھالنے کےلیے آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کی باتیں کی جارہی ہیں، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قرضوں سے ہمیں کیا ملا؟ ہم عوام کیوں مزید قرض تلے دب گئے؟ ہم نے تو کبھی بینکوں کا رخ بھی نہیں کیا، ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ قرض کب اور کیوں لیا گیا، کس کی اجازت سے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے پاس گئے؟ ہم تو روزانہ مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ ہمارے نام پر اگر کسی نے قرض لیا تو اس قرض سے ہمیں ریلیف کیوں نہیں ملا ؟


اگر یہ قرض تعلیم کے نام پر لیا گیا تو ہمیں بتایا جائے کہ آج ہمارے بچے پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں کیوں تعلیم حاصل کررہے ہیں؟ اگر یہ قرض صحت کےلیے لیا گیا تو ہمیں بتایا جائے کہ کیوں ہم پرائیوٹ اسپتالوں میں پریشان ہورہے ہیں؟ اگر یہ قرض سڑکوں کی تعمیر کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے ہم کیوں آج بھی کھنڈرات پر چل رہے ہیں؟ اگر یہ قرض تعمیر و ترقی کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے کہ ہم کیوں پھر تنزلی کا شکار ہیں۔ کیوں ہم اس قرض کی بدولت ترقی کے بجائے آج ڈیفالٹ کی حالت پر پہنچ گئے؟


اگر یہ قرض بچوں کی دیکھ بھال کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے کہ ملک میں غریب کا بچہ کیوں پیدا ہوتے ہی مررہا ہے؟ اگر یہ قرض یوٹیلٹی اسٹورز پر دی جانے والی سبسڈی کےلیے لیا گیا تو بھی ہمیں یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ وہ کون سی اشیا ہیں جن پر سسبڈی دی گئی، جو ہمیں آج تک نہیں ملی؟ اگر یہ قرض سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر خرچ کیا گیا تو بھی ہمیں بتایا جائے کہ کس ادارے کو کتنا نوازا گیا ؟ دنیا سے ملنے والی بھیک اور قرض کہاں خرچ ہوا، یہ جاننا عوام کا حق ہے اور یہ عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ قرض جنہوں نے لیا وہ کیوں مالدار ہوگئے؟ ان لوگوں کے ہاتھوں میں کون سا قارون کا خزانہ لگ گیا جس سے یہ لوگ راتوں رات امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور عوام غریب سے غریب تر


اگر کسی کے پاس ان سوالات کے جواب ہوں تو ہمیں بھی ارسال فرمائیں لیکن یہ قرض پر چلنے والی معیشت کا ماڈل کب تک چلے گا۔ اب تک ہم قرض لیکر اثاثے بنانے اور پھر ان پر مزید قرض لینے کے معاشی ماڈل پر چل رہے ہیں۔ کیا اسے تبدیل کرنے کا وقت نہیں آ گیا ؟

Sunday, February 5, 2023

آسانیاں تقسیم کیجئے

 آسانیاں تقسیم کیجئے 

اظہر عباس


اب سے 23 برس قبل زوگے اور وانیا کونٹینو کے والد نے انہیں جنگ زدہ یوگوسلاویہ سے طیارے میں بٹھا کر روانہ کر دیا تھا۔ اس غیر یقینی صورتحال میں دونوں نو عمر بہنیں امریکا پہنچیں تو دورانِ پرواز ان گم سم اور خوفزدہ بہنوں کو ایک خاتون نے لفافے میں 100 ڈالر کی رقم دی تھی جس سے ان کی مشکلات کم ہوئی تھیں۔


اس لفافے پر خاتون کے متعلق صرف اتنا لکھا تھا کہ وہ ٹینس کھیلتی ہیں، ان کا نام ٹریسی پیک ہے اور وہ بلین، منی سوٹا کی رہائشی ہیں۔ دورانِ پرواز دونوں بہنوں نے اپنی شکستہ انگریزی میں ٹریسی کو اپنا دکھڑا سنایا تھا۔ جہاز سے باہر آتے وقت ٹریسی نے انہیں ایک لفافہ دیا جس پر لکھا تھا:


"مجھے افسوس ہے کہ آپ کے ملک میں بمباری جاری ہے اور آپ کا خاندان مصائب کا شکار ہے۔ امید کرتی ہوں کہ امریکا میں آپ کا رہنا محفوظ اور بامسرت ہوگا۔ امریکا میں خوش آمدید، برائے مہربانی اسے اپنی مدد میں استعمال کیجئےگا۔"


طیارے میں آپ کی دوست


ٹریسی


جب زوگے اور وانیا نے لفافہ کھولا تو اس میں 100 ڈالر کی رقم تھی جو ان کے بہت کام آئی۔ یہاں تک کہ دونوں بہنوں نے 23 برس تک لفافہ سنبھال کر رکھا۔ تاہم انہیں معلوم نہ تھا کہ ایک دن شفیق اجنبی عورت کی یہ نشانی انہیں ملانے کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔ ہاتھ سے لکھے اس لفافے پر اب تک ایک شکن بھی نہیں آئی ہے۔


یہ کہانی امریکی نیوز چینل پر پہنچی تو انہوں نے اس کی شناخت شروع کردی اور جلد ہی ٹریسی کا پتا چل گیا آخرکار انہیں سی این این ہیرو نامی پروگرام میں مدعو کیا گیا۔


ٹریسی کے پہنچنے سے قبل زوگے اور وانیا دونوں کرسمس درخت کے پیچھے چھپ گئیں اور جیسے ہی ٹریسی قریب آئیں تو دونوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور بغل گیر ہوکر تینوں دیر تک روتی رہیں۔ اس حیرت انگیز کہانی پر پورے امریکا سے ہزاروں پیغامات اور ای میل موصول ہوئیں اور لاکھوں افراد نے یہ پروگرام دیکھا.


1999 میں وانیا کونٹینو کی عمر 17 اور زوگے صرف 12 سال کی تھیں جب ان کے والدین نے بحالت مجبوری انہیں الوداع کہا تھا۔ اب وانیا کنیکٹکٹ میں ایک کامیاب انیستھیسیا لوجسٹ ہیں جبکہ 35 سالہ زوگے بوسٹن میں خاتونِ خانہ ہیں۔


انسان کی ترقی کا آغاز ہی سوچ سے ہوتا ہے۔ ہم اپنے خیالات اور رویوں کو تبدیل کر کے اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اپنے اندر کی صلاحیتوں اور خوبیوں کو تلاش کر کے دوسروں کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں 


کائنات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فائدہ مند سب کے لئے ہونا ہے- بنیادی چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے لازم ہیں وہ بلا معاوضہ ہیں۔ آکسیجن، زمین جو غذا دیتی ہے، فصل اگاتی ہے، سمندروں میں مچھلیاں بلا معاوضہ ہیں جو غذائی ضروریات پوری کر سکتی ہیں، سورج کی روشنی بلا معاوضہ ہے، بارش سب کے لئے ہے۔ جنگلی حیات سب کے لئے ہے۔


تو قدرت نے تو زندگی برقرار رکھنے کے سب انتظامات ہمیں مہیا کر دئے تھے۔


ایک اصول یہ بھی ہے کہ خیر اور مفید ہونے کا سلسلہ پھلتا پھولتا یے۔ قدرت تو چاہتی ہے کہ سب جیتیں سب کو یکساں مواقع ملیں۔


اگر ہم اپنی سوچ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں تو ہم بھی ایک دوسرے کیلئے مفید ہو جائیں گے-


ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس سے ہمیں تو فائدہ ہو ہی ہو لیکن نیت یہ رکھیں کہ ہمارے کئے سے دوسروں کو بھی خیر ملنا چاہیے تو قدرت کی طاقتیں ہماری نیت کے ساتھ ایک فریکوئنسی پر کام کرنے لگتی ہیں-


جو بھی کر رہے ہیں اس پر غور کریں اگر جیت صرف آپ رہے ہیں تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ اگر آپ دوسروں کا راستہ آسان کر رہے ہیں تو آپکو ایسے اسباب اللہ کی رحمت سے میسر ہوں گے جو آپکی سوچ سے باہر ہوں گے۔


ترقی یافتہ ملکوں نے یہ زاویہ سمجھ لیا ہے- ان ملکوں میں مواقع سب کے لئے ہیں۔ پارک سب کے لئے ہیں۔ سڑکیں سب کے لئے ہیں۔ عزت نفس مجروح کئے بغیر ماحول دوستی کے نام پر مناسب استعمال شدہ اشیاء ارزاں قیمت پر سب بخوشی استعمال کر لیتے ہیں۔ اس لئے کم ازکم کپڑوں، جوتوں، گھر کے فرنیچر،  اشیائے صرف کی بنیاد پر امارت غربت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔


خود کو مفید بنا لیں-

خود غرضی جانے دیں-


جب آپ دوسروں کا بھلا کریں گے تو کائنات کا مالک آپ کی مدد کرے گا کیونکہ آپ اس کے بندوں کی زندگی آسان کرنے میں اپنی توانائی استعمال کر رہے ہیں- یہ کلیہ سمجھ لیں اور دیکھیں زندگی کیسے بدلتی ہے۔


جو دوسروں کیلئے راحت کا اہتمام کرتے ہیں اللہ تعالٰی کی خاص رحمت ان کا مقدر بن جاتی ہے.


دوسروں میں آسانیاں تقسیم کریں. آپ کا راستہ خود بخود ہموار ہو جائے گا. اگر اپ جاننا چاہتے ہیں اللہ تعالی اپ کے ساتھ کیا معاملہ کریگا- تو اپ دیکھیں کہ اپ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں-


رب العالمين اپنی خاص رحمت سے آپ اور آپ کے گھرانے پر ہمشیہ مہربان رہے اور اپنی شان اور صفات کے مطابق خوب رحمتیں نازل فرمائے۔


آمین

دنیا بدل چکی ہے

 دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس  اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...