Monday, March 20, 2023

انتشار یا انارکی ؟

 https://e.dailyauthority.pk/page.php?Page=2&date=20-03-2023&city=isb



انتشار یا انارکی ؟
اظہر عباس 

لاہور کے بعد اسلام آباد میں خان صاحب کے ہمراہ جانے والوں نے جو ہنگام برپا کیا وہ تو اپنی مثال آپ ہے ہی لیکن اس کے جواب میں عدالت نے جو رول اپنایا وہ بھی تاریخی ہے 

رپورٹس کے مطابق عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہوئی تو ان کے ورکرز بھی منع کرنے کے باوجود ان کے ساتھ داخل ہوگئے۔ خان صاحب نے گاڑی سے ہی درخواست کی کہ اپنا اسٹاف بھیج کر میری حاضری قبول کریں جو قبول کر لی گئی۔ کارکنوں نے جوڈیشل کمپلیکس کا حفاظتی بیریئر توڑ دیا تھا۔ اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے 10 موٹر سائیکلیں جلادیں۔ اسلام آباد پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اسلام آباد پولیس کے آئی جی کے مطابق انہیں حیرت ہے کہ پولیس پر آنسو گیس استعمال کی گئی جبکہ انہیں لاہور پولیس پر گلگت بلتستان پولیس کے گنز تاننے کی اطلاعات کے بعد  قطعا حیرت نہیں ہونی چاہئے تھی کہ وزیراعلٰی گلگت بلتستان اس بار بھی اپنے محافظ دستے کے ساتھ خان صاحب کے ساتھ تھے 

اس سے پہلے لاہور کے زمان پارک کا علاقہ اس وقت میدان جنگ اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے نو گو ایریا بن گیا جب اسلام آباد پولیس ایک وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیلیے پہنچی جو اسلام آباد ہی کی عدالت نے جاری کئے تھے۔ زمان پارک میں پولیس سے خان صاحب کے ورکرز نے دو بدو لڑائی لڑی۔ انہیں زخمی کیا اور لاہور پولیس کو حالیہ تاریخ میں  پہلی بار پیٹرول بم کا سامنا کرنا پڑا جب واٹر کینن پر پیٹرول بم پھینکے گئے اور اسے آگ لگا دی گئی 

زمان پارک میں پہلی بار خیبر پختون خواہ کے ٹرینڈ لڑاکوں کے استعمال کا الزام بھی خان صاحب پر لگا جس کو تقویت اس وقت ملی جب ایک سابقہ کالعدم تنظیم جس کے سربراہ صوفی محمد تھے کے ترجمان وہاں پائے گئے۔ بقول ان کے وہ عمران خان کی کال پر ان کی حفاظت کیلئے زمان پارک پہنچے تھے۔ یہ محافظ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سابق ترجمان اور مولانا صوفی محمد کے دست راست اقبال خان تھے ۔

ذرائع کے مطابق اقبال خان تین دن زمان پارک میں موجود رہے، اقبال خان ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مطلوب رہے ہیں۔ 2010 میں انہیں گرفتار کیا گیا ، 12 سال جیل میں رہے، 2022 میں رہا کردیے گئے۔ سوات میں چیئرمین کا الیکشن بھی لڑا اور پھر تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔ آج بی ان پر بھتہ خوری کے الزامات لگائے جاتے ہیں

اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے زمان پارک جانے کی تصدیق کی۔ 
 
اس کے علاوہ میرے لئے سب سے حیرت انگیز واقعہ زلمے خلیل زاد کا خان صاحب کے حق میں بیان تھا۔ بقول سلیم صافی "زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر پختون افغان ہیں لیکن ان کی پیدائش ازبک شہر مزارشریف میں ہوئی۔ وہ اسکالرشپ پر تعلیم کیلئے امریکہ گئے اور پھر امریکہ ہی کے ہوکر رہ گئے۔"

"شکاگو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد وہ مختلف حیثیتوں میں امریکی محکمہ ٔدفاع اور محکمۂ خارجہ کے لئے کام کرتے رہے۔ عمل کے لحاظ سے وہ سرتاپا امریکی ہیں اور مسلمان ہونے کے ناتے انہیں زیادہ تر مسلمان ممالک سے متعلق امریکی پالیسی سازی یا پھر وہاں پر امریکی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔"

"انہوں نے امریکی مفادات کے حصول میں اس قدر بنیادی کردار ادا کیا کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (وزارت خارجہ) سے وابستہ ہونے کے باوجود انہیں سیکرٹریز دفاع (گیٹ، ڈونلڈ رمسفیلڈ اور ڈک چینی) نے ڈیفنس میڈلز سے نوازا۔"

"بعض رپورٹس کے مطابق صدر منتخب ہونے کے بعد صدر بش انہیں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بھی بنانا چاہ رہے تھے لیکن پھر کسی وجہ سے کونڈولیزا رائس کا پلڑا بھاری ہوگیا۔"

"طالبان کے خلاف امریکی حملے سے قبل اور اس کے بعد وہ ہمہ وقت امریکی انتظامیہ پر زور ڈالتے رہے کہ طالبان کے خلاف کارروائیوں سے زیادہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔"

"افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد وہ یہاں امریکہ کے سفیر مقرر کئے گئے لیکن عملاً ان کی حیثیت وائسرائے کی تھی۔ طالبان اور پاکستان سے متعلق ان کا رویہ اس قدر جارحانہ تھا کہ ان کے حامد کرزئی سے بھی شدید اختلافات پیدا ہوئے۔"

"خلیل زاد جیسے لوگوں کے مشورے پر ایک طرف گوانتاناموبے اور بگرام جیسے عقوبت خانے قائم کئے گئے اور دوسری طرف امریکی رات کو گھروں میں گھس کر کارروائیاں کرتے رہے جس کی حامد کرزئی مخالفت کرتے رہے۔ یہاں پر امریکی پنجے گاڑنے کے بعد جب امریکہ عراق پر حملہ آور ہوا تو اس کے لئے گراں قدر خدمات کی وجہ سے انہیں وہاں امریکہ کا سفیر مقرر کردیا گیا۔"

"2005 سے 2007 تک وہ عراق میں سفیر رہے اور یہاں پر امریکی مقاصد پورے کرنے کے بعد انہیں 2007 میں اقوام متحدہ میں امریکہ کا مندوب مقرر کیا گیا۔"

"وہ پہلے مسلمان تھے جنہیں اتنے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا کیونکہ امریکہ کے لئے ان کی خدمات کسی بھی امریکی سے کم نہیں تھیں ۔ مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسی کی تشکیل میں بھی ہمہ وقت خلیل زاد کا ان پٹ شامل رہا اور ساتھ ساتھ انہوں نے رینڈ (RAND) کے لئے بھی کئی پیپرز لکھے۔"

"وہ کٹر ری پبلکن ہیں جب کہ ری پبلکنز میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر اور نیوکانز کا حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ وکی پیڈیا میں ان کے تعارف میں انہیں نیوکانز قرار دیا گیا ہے ۔"

"زلمے خلیل زاد کی آخری سرکاری ذمہ داری طالبان کے ساتھ دوحہ مذاکرات کے لئے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی کی تھی اور اس کے لئے سی آئی اے، پنٹاگون اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو بھی صدر کے حکم پر ان کا ماتحت کردیا گیا تھا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکیوں کے ہاں ان کی کیا اہمیت ہے۔"

"وہ واحد ری پبلکن تھے جنہیں ڈیموکریٹ صدر جوبائیڈن نے حکومت کی تبدیلی کے بعد طالبان کے ساتھ ڈیل کو منطقی انجام تک پہنچانے تک انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا۔" 

سلیم صافی مزید لکھتے ہیں کہ "اس وقت سرکاری طور پر ان کے پاس کوئی عہدہ ہے اور نہ پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ ان کا کوئی سروکار ہے لیکن حیرت انگیز طور پر عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے کچھ عرصہ بعد وہ خفیہ دورے پر پاکستان آئے اور بنی گالہ میں عمران خان سے تین گھنٹے پر محیط ون ٹو ون ملاقات کی۔" 

"عمران خان کے علاوہ وہ جس دوسرے فرد سے ملے وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے اور اس ملاقات میں انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ صلح کرلیں۔" 

"بعدازاں ٹیلی فونک رابطہ کرکے وہ جنرل باجوہ کو عمران خان کے ساتھ ملاقات کیلئے قائل کرتے رہے اور ایوان صدر میں دونوں کی جو ملاقات ہوئی تھی وہ بنیادی طور پر زلمے خلیل زاد کی کوششوں سے ہوئی تھی۔"

 "لیکن اب درپردہ کردار ادا کرنے کی بجائے زلمے خلیل زاد عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں اور ان کے حق میں ایسی ٹویٹ کی کہ جیسے وہ زلمے خلیل زاد نہیں بلکہ علی امین گنڈاپور ہوں۔"

آپ ان سب واقعات کی کڑیاں ملائیں تو ایسا لگتا ہے کہ سابقہ کالعدم تنظیم کے لوگوں سے لیکر زلمے خلیل زاد تک خان صاحب کی حمایت میں کمر بستہ اور ملک میں انارکی اور انتشار پھیلانے میں درپردہ یا براہ راست ملوث ہیں اور یہ ایک خطرناک تاثر ہے۔

پی ٹی آئی کے جو لوگ یہ سب کر/ کرا رہے ہیں وہ عمران خان کے ہمدرد نہیں ہیں بلکہ ریاست کے لئے جواز مہیا کر رہے ہیں کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں اور عمران خان کے خلاف ریاستی کاروائی کا جواز پیدا ہو۔

ان واقعات سے پی ٹی آئی کا چہرہ ایک سیاسی جماعت سے زیادہ ایک جتھے کا ابھرا ہے۔ جو سابقہ کالعدم تنظیم اور امریکی ریپبلکن پارٹی یا نیو کونز کے اشتراک سے ایک ملکی انتشار کا ذمہ دار ہے۔

کیا آپ کو نہیں لگ رہا کہ گزشتہ چند دنوں سے پی ٹی آئی کا تاثر ایک پرتشدد جماعت کا ابھر رہا ہے جو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نبرد آزما ہے اور اس میں سابقہ کالعدم جماعتوں کے لوگ پر تشدد کاروائیاں کر رہے ہیں اور نیو کانز امریکہ سے اس کے حق میں بیانات جاری کر رہے ہیں ؟

خان صاحب کا مزاج Offensive Defence کا ہے جسے انکے کچھ اندرونی عناصر Offence ظاہر کر رہے ہیں اور کارکن انکے پیچھے چل پڑے ہیں کیونکہ خان صاحب ڈائریکٹ کارکنوں سے کنیکٹڈ نہیں ہیں۔

دوسری خوفناک بات خان صاحب کے بیرونی روابط عین اس وقت منظر عام پر آنا ہے جب وہی عناصر پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور میزائیل ٹیکنالوجی کو محدود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف کو یہی عناصر سخت موقف لینے پر مجبور کر رہے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ خان صاحب کا امریکہ میں لابیسٹ وہ نکلا ہے جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا پرانا ناقد ہے

Friday, March 3, 2023

کرامویل کی کہانی - برطانوی تاریخ سے ایک ورق

کرامویل کی کہانی ۔ برطانوی تاریخ سے ایک ورق
اظہر عباس

گزشتہ دنوں جب سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے "ہم" ٹی وی میں عادل شاہزیب کے سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات میں صادق و امین قرار نہیں دیا تھا۔ اور جب یہ کلمات کہے کہ میں اب کسی کو انٹریو نہیں دوں گا، میرے مرنے کے بعد ایک کتاب شائع ہوگی جس میں تمام حقائق ہوں گے،1997سے لے کر چیف جسٹس کے عہدے تک کی ساری کہانی لکھوں گا۔ تو مجھے نا جانے کیوں اولیور کرامویل یاد آ گیا۔

پاکستانی سیاست کے خارزار سے پاوں مزید زخمی کرنے کی بجائے آئیے آپ کو برطانوی تاریخ سے کرامویل کے بارے میں بتائیں۔

17ویں صدی میں برطانیہ بادشاہت سے جمہوریت کے ارتقائی سفر کی طرف گامزن تھا۔ شاہ چارلس نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا، جس پر جمہوری جدوجہد کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ پارلیمنٹ نے ان احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پارلیمنٹ نے شاہی دستوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی فوج تشکیل دی، جس کی قیادت اولیور کرام ویل نے سنبھالی۔ لیفٹیننٹ جنرل اولیور کرام ویل کی قیادت میں جمہوریت پسندوں کو کامیابی نصیب ہوئی اور 30جنوری 1649کو شاہ چارلس کا سر قلم کر دیا گیا۔

توقع تو یہ تھی کہ اس فقید المثال کامیابی کے بعد جمہوریت کی صبح خوش جمال کا سورج طلوع ہو گا لیکن ایک بار پھر آمریت کا گرہن لگ گیا۔ جنرل اولیور کرام ویل نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پارلیمنٹ کی خود مختاری کا مذاق اڑایا۔ 3ستمبر 1658کو کرام ویل ملیریا کے باعث مر گیا تو اس کے بیٹے رچرڈ نے اقتدار سنبھالا۔

عوامی بغاوت کے نتیجے میں رچرڈ کو معزول ہونا پڑا تو جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے شاہ چارلس دوم کو بلا کرعنانِ اقتدار اُس کے حوالے کر دی گئی۔ پارلیمنٹ میں مطالبہ ہوا کہ اولیور کا ٹرائل کیا جائے ۔ یہ سوال کھڑا ہوا کہ مرُدے سے سوال جواب کیسے کئے جا سکتے ہیں؟ قانونی ماہرین نے رائے دی کہ کرام ویل کی ہڈیاں نکال کر ان سے سوالات کئے جائیں اور جب کوئی جواب نہ آئے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اولیور کرام ویل نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ اس کے بعد عدالت فیصلہ سنادے۔ چنانچہ اولیور کرام ویل کی قبر کھود کر اس کے ڈھانچے کو زنجیروں میں جکڑ کو کٹہرے میں لایا گیا۔ اسے فردم جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی تو علامتی طور پر اس کا سر قلم کر کے باقیات پھینک دی گئیں جبکہ کھوپڑی نشان عبرت کے طور پر پارلیمنٹ کے باہر ایک کھمبے سے لٹکا دی گئی۔

پوگو دیکھئے



اظہر عباس

 ہمارے سب کے لاڈلے عمران خان صاحب سے آپ چاہے جتنا اختلاف کر لیں لیکن وہ جو چاہتے ہیں وہی کرتے ہیں، چاہے اس سے سب کو کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت کے رہنما بھی ان سے اختلاف کررہے ہوتے ہیں مگر وہ وہی کرکے دکھاتے ہیں جو انہوں نے کہہ دیا ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی تنقید یا اختلاف کی پروا نہیں کرتے۔ مخالفین اسے ضد کہیں یا انا، تکبر کہیں یا خوداعتمادی، وہ کسی کی پروا کیے بغیر وہی سب کچھ کرتے چلے جارہے ہیں جو ان کے جی میں آتا ہے۔ اس میں وہ ملک کے نفع و نقصان کی بھی کوئی پروا نہیں کرتے، صرف اپنی مرضی کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں جب انہیں معلوم ہے کہ پارٹی میں ان کے علاوہ کوئی اور تو ہے نہیں۔ وہی سب کچھ ہیں، پارٹی ان ہی کی ہے۔ اگر آسان الفاظ میں کہیں تو وہی پی ٹی آئی ہیں۔ ان کے بغیر پی ٹی آئی کا کوئی وجود ہی نہیں۔ وہ جو چاہیں گے پارٹی میں وہی ہوگا، جو نہیں چاہیں گے وہ نہیں ہوگا، چاہے اس کےلیے کوئی کتنا ہی زور کیوں نہ لگا لے۔ ان کی مرضی کے بغیر پی ٹی آئی میں کوئی پتّہ تک نہیں ہل سکتا۔ وہ جسے چاہیں گے وہ پارٹی میں رہے گا، جس سے ان کا جی بھر جائے گا تو اس کی تمام تر خدمات، اس کی اے ٹی ایم، اس کے جہاز، سب کچھ فراموش کرکے اسے پارٹی سے نکال پھینکا جائے گا۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں عمران خان کی محض ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ان کے دیرینہ رفقا، تحریک انصاف کے اہم عہدیداران اور اہم ترین خدام کو نکال باہر کیا۔ بلکہ بہت سے پی ٹی آئی کے بانیان کو بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔


دل و جان سے ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ایسے بھی ہیں جو اب بھی عمران خان کو نہایت عزیز رکھتے ہیں، خان صاحب کسی بھی حال میں ہوں یا کچھ بھی کریں، وہ خان صاحب کی محبت میں آنکھیں بند ہی رکھتے ہیں


انکی جماعت سہاروں پر ہی چلتی آرہی ہے، جیسے وفاق میں سہارا کھینچا گیا تو دھڑام سے گرگئی، اسی طرح پنجاب میں بھی سہاروں کو قائم رکھنے کےلیے ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔


بہرحال بات وہیں آجاتی ہے کہ عمران خان اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو جی میں آئے کر گزرتے ہیں اور ایک بار جو فیصلہ کرلیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ جیسے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ انہوں نے کرلیا تو پرویزالہٰی جو پنجاب میں ان کی حکومت قائم رکھنے کا واحد ذریعہ ہیں، ان کی بھی نہیں چلنے دی اور اسمبلی کی تحلیل پر ان سے دستخط کرا کے ہی دم لیا۔ جس سے معلوم ہوا وہ ایک ایسے شخص ہیں کہ جس بات کی ٹھان لیں وہ کر گزرتے ہیں، چاہے اس سے ان کا ذاتی نقصان ہو یا ملک کا، وہ کسی بات کی پروا نہیں کرتے۔


بائیس سالہ جہدوجہد کا خاتمہ ترین و علیم کے جہازوں پر ہوا۔ بھر بھر کر تبدیلی کے کھلاڑی لائے گئے۔ حیران کن طور پر اس پورے عمل کو جمہوری بھی کہا گیا اور بہترین بھی۔ آزاد پنچھی لانا غیر جمہوری رویہ نہیں تھا، لیکن جہازوں کی جس طرح تشہیر کی گئی اس سے ایک بات یقینی ہوگئی کہ کہانی گنتی سے شروع ہوکر یقیناً گنتی پر ختم ہوتی ہوگی۔ بہرحال طاقت مل گئی۔ لیکن اس طاقت کو حاصل کرنے کے بعد کیا ہوا؟


پاکستانی معاشرے کا باشعور طبقہ یقینی طور پر اس بات کا حامی تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اہم ہے۔ کرپشن کے راستے روکنا ضروری ہے۔ معاشی لحاظ سے پاکستان کو آگے لے جانا اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن نہیں جناب! ہم نے بائیس سالہ جہدوجہدِ پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلیے کی ہی نہیں تھی، بلکہ ہمارا مقصد ہی بس طاقت کا حصول تھا، جس کےلیے ہم نے ہر حربہ آزمایا۔ عمران خان نے پہلی تقریر کے برعکس چن چن کر انتقامی سیاست کےلیے لوگ ڈھونڈے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ پہلے ملک کو مضبوط بناتے پھر چوروں پر بھی ہاتھ ڈالتے۔ واویلا شروع کردیا گیا، چن چن کر من پسند افراد کو عہدے دیے جانے لگے، جو اس سے پہلے بھی ہورہا تھا۔ معاشی ٹیم؟ پچاس لاکھ گھر؟ ایک کروڑ نوکریاں؟ ایشین ٹائیگر؟ اقوام عالم میں مقام؟ متنازع معاملات میں مضبوط موقف؟ یہ سب تو تب ہوتا جب عمران خان طاقت حاصل کرنے کے بعد عاجزی سے ملک کی خدمت کو اپنا شعار بناتے۔ نہ تو واضح لائحہ عمل تھا اور نہ ہی ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کےلیے کوئی سمت، لہٰذا ایک ہی ایجنڈا باقی بچا غصہ، غصہ اور صرف غصہ۔


اور کچھ نہ ہوا تو بیوقوفانہ فیصلے کیے جانے لگے۔ ترقی کی طرف توجہ کے بجائے سیاسی انتقام کی جانب سوچ کے پیادے دوڑا لیے گئے۔ عقل کے اندھے اس حقیقت سے دور ہوگئے کہ تین سال کم از کم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے اور اس کے بعد چن چن کر چوروں کو سولی پر لٹکا دیتے تو آپ کی واہ واہ بھی ہوتی اور عالمی برادری میں نام بھی۔ لیکن حال یہ ہے کہ پلستر زدہ ٹانگ کے علاوہ انتخابی مہم میں کچھ دکھانے کو نہیں۔


کیا ان کے چاہنے والوں کو ابھی بھی احساس نہیں ہوا کہ کیسے ان کا جذباتی استحصال کیا گیا ؟ خان صاحب اور ان کے پیچھے بیٹھے عیاروں نے اپنا مشن بہت کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے گھٹنے زمین سے لگوا دئے ہیں۔ کشمیر مقبوضہ سے نکل کر انڈیا کا حصہ بن گیا۔ ملک انارکی اور ادارے انتشار کا شکار ہو چکے ہیں 


ملین ڈالر کا سوال ہے کہ پندرہ برس میں ایسا کیا ہوا کہ ساٹھ سال کے قرضے چھ ہزار ارب روپے سے بڑھ کر پچاس ہزار تک جا پہنچے۔ ڈالر ساٹھ روپے سے تین سو تک جا پہنچا۔ کیا ایک جامع منصوبے کے تحت پچھلے پندرہ برس میں پاکستان کو اس حال تک پہنچایا گیا؟ ایسا کوئی منصوبہ اگر بنایا گیا تھا تو کامیاب ہو چکا۔ پراجیکٹ عمران خان کامیابی سے ہم کنار ہو چکا۔ اس انارکی کے ذمہ داروں کو پہچانیں۔ عمران خان کو کیوں کوستے ہیں وہ تو Puppet تھا۔ اس کٹھ پتلی کو بنانے اور نچانے والوں کو ان کی Safe Heavens سے نکالیں۔ ان سے وصولیاں کریں۔ شجاع پاشا، ظہیرالاسلام، فیض حمید کو پکڑیں۔ باجوہ، کیانی اور راحیل شریف کو کٹہرے میں لائیں۔ 


ہے کسی میں ہمت ؟


اگر کچھ نہیں کر سکتے تو POGO دیکھیں۔ ٹم ہارٹن جائیں، کافی پئیں اور موج کریں

Friday, February 10, 2023

کیا ہم پوچھ سکتے ہیں ؟




 کیا ہم پوچھ سکتے ہیں ؟

اظہر عباس


ہم اپنی گزشتہ تحریروں میں بارہا کہہ چکے کہ پاکستانی معیشت دو ملکوں کی معیشت کا بار اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے سے قاصر ہے اور صرف یہی عنصر ڈالر کی اونچی اڑان اور اندرون ملک میں مہنگائی کا سبب لیکن اب  امریکی نشریاتی ادارے ’’بلوم برگ‘‘کی تازہ ترین رپورٹ میں لگی لپیٹی رکھے بغیر یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سے یومیہ 50 لاکھ ڈالر غیر قانونی طور پر افغانستان اسمگل کئے جا رہے ہیں۔


افغانستان کو ہر روز تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر درکار ہوتے ہیں، ان میں سے نصف اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم ہوجاتے ہیں کیونکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ہفتے 4کروڑ ڈالر کی امداد نقد فراہم کی جاتی ہے جبکہ باقی ماندہ ڈالر غیر قانونی طور پر ڈالروں کی اسمگلنگ سے پورے کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی روپیہ اس خطے کی سب سے کمزور کرنسی بن چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر محض 3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جبکہ افغانی اس خطے کی سب سے مضبوط کرنسی بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر طالبان کے کابل پر قابض ہونے کے بعد دسمبر 2021ء میں ایک امریکی ڈالر 124.18 افغانی میں دستیاب تھا مگر اب افغان کرنسی 89.96 افغانی میں ایک ڈالر دستیاب ہے۔ اسکے برعکس پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر جو دسمبر 2021ء میں 176.51 روپے کا تھا اب 274.70 روپے کا ہوچکا ہے۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ اسمگلنگ کیسے ممکن ہوئی اور اس کی روک تھام پر مامور ادارے کیا کر رہے ہیں ؟


پوچھنے کو تو بہت سے سوال ہیں لیکن چند سوالات جو ہم پوچھ سکتے ہیں وہ ہمارے ذہنوں میں ہی جنم لیتے اور کچھ عرصے ہمیں خلجان میں رکھنے کے بعد کسی نئے سوال کا موجب بنتے ہیں مثلا 274 بلین ڈالرز کا قرض ہم اپنے اوپر چڑھا چکے ہیں مگر آج بھی ہمیں تعلیم، صحت، روزگار، ترقی اور سکون میسر نہیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ اتنے قرضوں کے باوجود بھی ہم بھوکے کیوں ہیں؟ اتنا قرض لینے کے باوجود بھی ہم دنیا میں آگے کے بجائے پیچھے کیوں جارہے ہیں۔ اور اتنا قرض لینے کے بعد بھی ہم مزید قرضوں کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں؟ 


معیشت کو سنبھالنے کےلیے آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کی باتیں کی جارہی ہیں، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قرضوں سے ہمیں کیا ملا؟ ہم عوام کیوں مزید قرض تلے دب گئے؟ ہم نے تو کبھی بینکوں کا رخ بھی نہیں کیا، ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ قرض کب اور کیوں لیا گیا، کس کی اجازت سے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے پاس گئے؟ ہم تو روزانہ مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ ہمارے نام پر اگر کسی نے قرض لیا تو اس قرض سے ہمیں ریلیف کیوں نہیں ملا ؟


اگر یہ قرض تعلیم کے نام پر لیا گیا تو ہمیں بتایا جائے کہ آج ہمارے بچے پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں کیوں تعلیم حاصل کررہے ہیں؟ اگر یہ قرض صحت کےلیے لیا گیا تو ہمیں بتایا جائے کہ کیوں ہم پرائیوٹ اسپتالوں میں پریشان ہورہے ہیں؟ اگر یہ قرض سڑکوں کی تعمیر کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے ہم کیوں آج بھی کھنڈرات پر چل رہے ہیں؟ اگر یہ قرض تعمیر و ترقی کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے کہ ہم کیوں پھر تنزلی کا شکار ہیں۔ کیوں ہم اس قرض کی بدولت ترقی کے بجائے آج ڈیفالٹ کی حالت پر پہنچ گئے؟


اگر یہ قرض بچوں کی دیکھ بھال کےلیے لیا گیا تو بتایا جائے کہ ملک میں غریب کا بچہ کیوں پیدا ہوتے ہی مررہا ہے؟ اگر یہ قرض یوٹیلٹی اسٹورز پر دی جانے والی سبسڈی کےلیے لیا گیا تو بھی ہمیں یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ وہ کون سی اشیا ہیں جن پر سسبڈی دی گئی، جو ہمیں آج تک نہیں ملی؟ اگر یہ قرض سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر خرچ کیا گیا تو بھی ہمیں بتایا جائے کہ کس ادارے کو کتنا نوازا گیا ؟ دنیا سے ملنے والی بھیک اور قرض کہاں خرچ ہوا، یہ جاننا عوام کا حق ہے اور یہ عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ قرض جنہوں نے لیا وہ کیوں مالدار ہوگئے؟ ان لوگوں کے ہاتھوں میں کون سا قارون کا خزانہ لگ گیا جس سے یہ لوگ راتوں رات امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور عوام غریب سے غریب تر


اگر کسی کے پاس ان سوالات کے جواب ہوں تو ہمیں بھی ارسال فرمائیں لیکن یہ قرض پر چلنے والی معیشت کا ماڈل کب تک چلے گا۔ اب تک ہم قرض لیکر اثاثے بنانے اور پھر ان پر مزید قرض لینے کے معاشی ماڈل پر چل رہے ہیں۔ کیا اسے تبدیل کرنے کا وقت نہیں آ گیا ؟

Sunday, February 5, 2023

آسانیاں تقسیم کیجئے

 آسانیاں تقسیم کیجئے 

اظہر عباس


اب سے 23 برس قبل زوگے اور وانیا کونٹینو کے والد نے انہیں جنگ زدہ یوگوسلاویہ سے طیارے میں بٹھا کر روانہ کر دیا تھا۔ اس غیر یقینی صورتحال میں دونوں نو عمر بہنیں امریکا پہنچیں تو دورانِ پرواز ان گم سم اور خوفزدہ بہنوں کو ایک خاتون نے لفافے میں 100 ڈالر کی رقم دی تھی جس سے ان کی مشکلات کم ہوئی تھیں۔


اس لفافے پر خاتون کے متعلق صرف اتنا لکھا تھا کہ وہ ٹینس کھیلتی ہیں، ان کا نام ٹریسی پیک ہے اور وہ بلین، منی سوٹا کی رہائشی ہیں۔ دورانِ پرواز دونوں بہنوں نے اپنی شکستہ انگریزی میں ٹریسی کو اپنا دکھڑا سنایا تھا۔ جہاز سے باہر آتے وقت ٹریسی نے انہیں ایک لفافہ دیا جس پر لکھا تھا:


"مجھے افسوس ہے کہ آپ کے ملک میں بمباری جاری ہے اور آپ کا خاندان مصائب کا شکار ہے۔ امید کرتی ہوں کہ امریکا میں آپ کا رہنا محفوظ اور بامسرت ہوگا۔ امریکا میں خوش آمدید، برائے مہربانی اسے اپنی مدد میں استعمال کیجئےگا۔"


طیارے میں آپ کی دوست


ٹریسی


جب زوگے اور وانیا نے لفافہ کھولا تو اس میں 100 ڈالر کی رقم تھی جو ان کے بہت کام آئی۔ یہاں تک کہ دونوں بہنوں نے 23 برس تک لفافہ سنبھال کر رکھا۔ تاہم انہیں معلوم نہ تھا کہ ایک دن شفیق اجنبی عورت کی یہ نشانی انہیں ملانے کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔ ہاتھ سے لکھے اس لفافے پر اب تک ایک شکن بھی نہیں آئی ہے۔


یہ کہانی امریکی نیوز چینل پر پہنچی تو انہوں نے اس کی شناخت شروع کردی اور جلد ہی ٹریسی کا پتا چل گیا آخرکار انہیں سی این این ہیرو نامی پروگرام میں مدعو کیا گیا۔


ٹریسی کے پہنچنے سے قبل زوگے اور وانیا دونوں کرسمس درخت کے پیچھے چھپ گئیں اور جیسے ہی ٹریسی قریب آئیں تو دونوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور بغل گیر ہوکر تینوں دیر تک روتی رہیں۔ اس حیرت انگیز کہانی پر پورے امریکا سے ہزاروں پیغامات اور ای میل موصول ہوئیں اور لاکھوں افراد نے یہ پروگرام دیکھا.


1999 میں وانیا کونٹینو کی عمر 17 اور زوگے صرف 12 سال کی تھیں جب ان کے والدین نے بحالت مجبوری انہیں الوداع کہا تھا۔ اب وانیا کنیکٹکٹ میں ایک کامیاب انیستھیسیا لوجسٹ ہیں جبکہ 35 سالہ زوگے بوسٹن میں خاتونِ خانہ ہیں۔


انسان کی ترقی کا آغاز ہی سوچ سے ہوتا ہے۔ ہم اپنے خیالات اور رویوں کو تبدیل کر کے اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اپنے اندر کی صلاحیتوں اور خوبیوں کو تلاش کر کے دوسروں کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں 


کائنات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فائدہ مند سب کے لئے ہونا ہے- بنیادی چیزیں جو انسانی زندگی کے لئے لازم ہیں وہ بلا معاوضہ ہیں۔ آکسیجن، زمین جو غذا دیتی ہے، فصل اگاتی ہے، سمندروں میں مچھلیاں بلا معاوضہ ہیں جو غذائی ضروریات پوری کر سکتی ہیں، سورج کی روشنی بلا معاوضہ ہے، بارش سب کے لئے ہے۔ جنگلی حیات سب کے لئے ہے۔


تو قدرت نے تو زندگی برقرار رکھنے کے سب انتظامات ہمیں مہیا کر دئے تھے۔


ایک اصول یہ بھی ہے کہ خیر اور مفید ہونے کا سلسلہ پھلتا پھولتا یے۔ قدرت تو چاہتی ہے کہ سب جیتیں سب کو یکساں مواقع ملیں۔


اگر ہم اپنی سوچ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں تو ہم بھی ایک دوسرے کیلئے مفید ہو جائیں گے-


ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس سے ہمیں تو فائدہ ہو ہی ہو لیکن نیت یہ رکھیں کہ ہمارے کئے سے دوسروں کو بھی خیر ملنا چاہیے تو قدرت کی طاقتیں ہماری نیت کے ساتھ ایک فریکوئنسی پر کام کرنے لگتی ہیں-


جو بھی کر رہے ہیں اس پر غور کریں اگر جیت صرف آپ رہے ہیں تو یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ اگر آپ دوسروں کا راستہ آسان کر رہے ہیں تو آپکو ایسے اسباب اللہ کی رحمت سے میسر ہوں گے جو آپکی سوچ سے باہر ہوں گے۔


ترقی یافتہ ملکوں نے یہ زاویہ سمجھ لیا ہے- ان ملکوں میں مواقع سب کے لئے ہیں۔ پارک سب کے لئے ہیں۔ سڑکیں سب کے لئے ہیں۔ عزت نفس مجروح کئے بغیر ماحول دوستی کے نام پر مناسب استعمال شدہ اشیاء ارزاں قیمت پر سب بخوشی استعمال کر لیتے ہیں۔ اس لئے کم ازکم کپڑوں، جوتوں، گھر کے فرنیچر،  اشیائے صرف کی بنیاد پر امارت غربت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔


خود کو مفید بنا لیں-

خود غرضی جانے دیں-


جب آپ دوسروں کا بھلا کریں گے تو کائنات کا مالک آپ کی مدد کرے گا کیونکہ آپ اس کے بندوں کی زندگی آسان کرنے میں اپنی توانائی استعمال کر رہے ہیں- یہ کلیہ سمجھ لیں اور دیکھیں زندگی کیسے بدلتی ہے۔


جو دوسروں کیلئے راحت کا اہتمام کرتے ہیں اللہ تعالٰی کی خاص رحمت ان کا مقدر بن جاتی ہے.


دوسروں میں آسانیاں تقسیم کریں. آپ کا راستہ خود بخود ہموار ہو جائے گا. اگر اپ جاننا چاہتے ہیں اللہ تعالی اپ کے ساتھ کیا معاملہ کریگا- تو اپ دیکھیں کہ اپ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں-


رب العالمين اپنی خاص رحمت سے آپ اور آپ کے گھرانے پر ہمشیہ مہربان رہے اور اپنی شان اور صفات کے مطابق خوب رحمتیں نازل فرمائے۔


آمین

Thursday, January 12, 2023

کیا پروجیکٹ عمران ختم ہوا ؟


 کیا پروجیکٹ عمران ختم ہوا ؟

اظہر عباس


جن لوگوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتیں ختم ہوتے اور پھر ان کو پابند سلاسل ہوتے، جیلوں کی نظر ہوتے اور ایک سے دوسری عدالت کے چکر لگاتے دیکھا ہے کیا وہ دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دے سکتے ہیں کہ پراجیکٹ عمران ختم ہوا۔ مجھ سے پوچھیں گے تو میرا جواب ہو گا کہ "نہیں"


پراجیکٹ عمران ختم نہیں ہوا بلکہ ہائبرڈ رجیم کا تجربہ ختم ہوا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ پراجیکٹ بھی جاری رہے گا اور دہشت گردی بھی کیونکہ اب طالبان کا وہ رول شروع ہوا ہے جس کیلئے انہیں امریکیوں نے لا کر بٹھایا تھا۔ اگر کسی نے قومی سلامتی کمیٹی کا بیان اور اس پر طالبان کے جواب پر غور نہیں کیا تو اس کو اب کرنا چاہئیے


ملکی سیاست اب 1990 کی دہائی پر پہنچی۔ ڈیموکریٹس اب کئی اکائیوں میں بٹ چکے اور پراجیکٹ کے معماروں کا ایکا۔ عین وہی سچویشن جو بےنظیر بھٹو اور نواز کی جنگ کے اوائل میں تھی اور یہ بادشاہ گر ہوا کرتے تھے۔


اس لئے نئی سچویشن میں فکر سیاست کی نہیں اپنے ہمسایہ کی یلغار کی کیجیے۔ سیاست کا نقشہ سامنے نظر آ رہا ہے کہ وہی دہشت گردی اور وہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورتحال۔ آپس میں لڑتے رہئیے اور انکا پیٹ پالتے رہئیے


ایک پورا طبقہ اکٹھا کر کے اسے ایک دیوتا دینا اور پھر اپنا کھیل کھیلنا کوئی آسان کام ہے ؟ داد دیں انہیں جنہوں نے یہ کھیل کھیلا 


جنرل ضیاء الحق نے ایک جعلی اشرافیہ کو پروان چڑھایا ۔ جس کا مقصد ہی ریاستی وسائل پر قبضہ کر کے عیش و عشرت کرنا تھا۔ یہ اشرافیہ آج بھی پورے پاکستان پر حکومت کر رہی ہے۔ کسی اہم ترین مقتدر شخص کو پرکھ لیجیے۔ اس کا یا اس کے خاندان کا جادوئی عروج‘ جنرل ضیاء کی حکمرانی سے منسلک ہو گا۔ اس اشرافیہ نے اب تمام ملکی وسائل پر نہ صرف قبضہ کر لیا ہے بلکہ اپنے اتنے حواری بھی پیدا کر لیے ہیں جو بذات خود اب حقیقی منفی نظام بن چکے ہیں۔ اور ہر سیاسی رہنما کو ان کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ایک لحاظ سے تمام ملکی سیاست دان انھی کے مرہون منت ہو چکے ہیں۔ اس ابتری کو موجودہ معروضی حالات میں ختم کرنا ناممکن ہے۔


آنے والے دنوں میں ہمارا ملک کس مزید خرابہ میں جاتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ غریب اب بربادی کی انتہا تک پہنچ جائے گا۔ کسی قسم کا سیاسی چورن ان کے مصائب کوکم نہیں کر سکتا۔ دراصل ہمارے پورے نظام میں بہت کم ایسے معتبر لوگ موجود ہیں جن کا ہاتھ لوگوں کی نبض پر ہو۔ جو غریب اور عام آدمی کے درد کو اصل میں محسوس کر سکیں۔


جعلی اشرافیہ تو بہر حال کوئی نیک کام نہیں کر سکتی۔ ہاں‘ یہ کوئی نہ کوئی معاملہ گھڑ کر اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹا ضرور سکتی ہے۔ 


ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے 1971 کے بعد اور روس کے زوال کے بعد 2 سبق  سیکھے ہیں:


۔ سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنا


۔ وسائل کو اپنے کنٹرول میں رکھنا


لمبی بحث ہو جائے گی لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہی 2 اسباب تمام مسائل کی جڑ ہیں جب تک ان کا حل نہیں نکلے گا تب تک یہ ملک ایسے ہی چلے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے والوں کے وارے نیارے اور قوم خستہ حال ہی رہے گی۔ اب ان سے نکلنے کیلئے جو بھی کوشش کرے گا اسکا حال "مجھے کیوں نکالا" ہو گا یا پھانسی لگے گا یا گولی کھائے گا۔ اس کے کارکن کوڑے کھائیں گے یا وطن بدری ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ آپ یقین رکھیں جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے- اس ملک میں ایک لا وارث  نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی۔ 


1977 کے بعد سے ان کا وسائل اور سیاست پر قبضہ کسی نا کسی شکل میں برقرار ہے۔ آخری تجربہ ہائیبرڈ رجیم کی شکل میں کیا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان کے گلے پڑ گیا میں ان سے کہتا ہوں کہ یہی تو وہ چاہتے تھے کہ قوم کو ایشوز سے نکال کر بھٹو، نواز شریف، الطاف اور عمران کی جنگوں میں الجھائے رکھیں تاکہ اس ملک کے عوام گروہوں میں بٹے رہیں اور یہ لوگ بطور ایک طبقہ ان پر حکمران رہیں۔  یہ تقسیم انہیں سوٹ کرتی ہے۔ ان کا خمیر ہی اسی سے اٹھا ہے۔ میثاق جمہوریت کے بعد انہیں ایک نئے اینٹی ہیرو کی ضرورت تھی جو پراجیکٹ عمران کی شکل میں اب سامنے ہے۔ اس پراجیکٹ کو کتنی دیر جاری رکھا جا سکتا ہے یہ اس پر منحصر ہے کہ اس کلٹ کے فالوورز کو کتنی دیر تک اس سحر میں مبتلا رکھا جا سکتا ہے


گزرے برسوں کی زیاں کاری کے خدوخال ایسے سنگین ہیں کہ انہیں کس طور قابل فہم بیان میں ڈھالا جائے۔ خواب میں دیکھی پریشاں حال بستی سے تو بیدار ہوا جا سکتاہے۔ پون صدی کے اس کابوس کی کیا تعبیر کی جائے جہاں امیر علی ٹھگ اپنے کارندوں سمیت ہر رات یلغار کرتا ہے۔ ہر صبح گزشتہ شب کی حکایت بیان کی جاتی ہے مگر شب آئندہ کی پیش بندی نہیں کی جاتی۔ شہر پناہ کے دمدموں پر پہرہ نہیں بٹھایا جاتا۔ لٹنے والوں کی دادرسی نہیں کی جاتی۔ لوٹنے والوں کا احتساب نہیں ہوتا


لیکن میری یہ بات یاد رکھئیے کہ یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے

Tuesday, January 10, 2023

پیپلز پارٹی


اظہر عباس
پنجاب اور سندھ میں کمیونسٹ پارٹی، کسان اور مزدور تنظیمیں گزشتہ صدی کی 40ء کی دہائی سے قائم ہونا شروع ہوگئی تھی۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد سے ملک میں کمیونسٹ پارٹی نے طلبہ، مزدور اور کسان تنظیموں کو منظم کرنا شروع کیا تھا۔
50ء کی دہائی کے آخری برسوں میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد نیشنل عوامی پارٹی وجود میں آئی۔ نیشنل عوامی پارٹی میں بلوچ اور پختون قوم پرستوں کے ساتھ مختلف کمیونسٹ گروپ، کسان اور مزدور تنظیموں کے نمایندے شامل تھے۔
اگرچہ 1965 میں نیشنل عوامی پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی تھی مگر نیشنل عوامی پارٹی بھاشانی گروپ کے کارکن پنجاب میں مزدور، کسان دانشوروں اور صحافیوں کی تنظیموں میں متحرک تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی نے 1970 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سب سے بڑی کسان کانفرنس منعقد کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اعلان تاشقند کی مخالفت پر ایوب خان سے علیحدہ ہوئے۔
پیپلز پارٹی 1967میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر واقع لاہور میں قائم ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے اس پہلے جلسہ میں اکثریت کا تعلق درمیانہ اور نچلے متوسط طبقہ سے تھا۔
اس جلسہ کے شرکاء ڈاکٹر مبشر حسن، کسان رہنما شیخ رشید، اسلم گورداس پوری، حنیف رامے، معراج محمد خان، خورشید حسن میر، مختار رانا وغیرہ سوشل ازم کو نجات کا راستہ جانتے تھے۔ جاگیرداروں میں غلام مصطفی کھر، ممتاز بھٹو اور غلام مصطفی جتوئی اجلاس میں شریک تھے۔
پیپلز پارٹی نے طاقت کا سرچشمہ عوام ہے، سوشل ازم ہماری معیشت ہے اور اسلام ہمارا مذہب ہے کے نعروں سے سیاست کا آغاز کیا تھا، بعد ازاں حنیف رامے کی وضح کردہ اسلامی سوشل ازم کی اصطلاح کو اپنے نعرہ کا حصہ بنایا
پنجاب اور کراچی کے لوگوں میں بھارت مخالف جذبات بہت گہرے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی انداز اختیار کیا۔ بھارت مخالف جذبات اور استحصال سے پاک معاشرہ کے نعروں کے ذریعہ اپنی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی۔ مولانا بھاشانی اور ذوالفقار علی بھٹو نے سابق صدر ایوب خان کی گول میز کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔
کمیونسٹ پارٹی چین نواز گروپ نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا، یوں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن پیپلز پارٹی کی حمایت کرنے لگی۔ سندھ میں سندھی متوسط طبقہ اور نچلے متوسط طبقہ نے پیپلز پارٹی کو اپنایا۔ حالات کی تبدیلی کے ساتھ سندھ کے جاگیردار پیپلز پارٹی کی حصہ بن گئے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے عوامی کردار کے ذریعہ عوام کو ایک نیا سیاسی شعور دیا، یوں پیپلز پارٹی 1970 کے انتخابات میں سندھ اور پنجاب سے اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے ابھری۔ پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد بنیادی اصلاحات کیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کی تعلیمی اور زرعی اصلاحات اور مزدور کے حقوق کی پالیسی نے عوام کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا۔ ان کی خارجہ پالیسی سے ایشیائی اور افریقی ممالک سے تعلقات استوار ہوئے
بھٹو صاحب کی شخصیت اور پالیسیاں تھیں کہ جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت کے خلاف تاریخی مزاحمت ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تاریخ کو اہمیت دی، ان کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا۔ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تاریخی مزاحمت نے اسٹبلشمنٹ کو 1973کا آئین بحال کرنے پر مجبور کیا۔
بے نظیر بھٹو کی جرات اور بہادری نے پیپلز پارٹی کو ایک نئی قوت عطا کی، بیگم نصرت بھٹو اوربے نظیر بھٹو جب تک زندہ رہیں پیپلز پارٹی کا عوامی کردار برقرار رہا۔
شہید بینظیر بھٹو نے 1988 سے 1990 اور 1993 سے 1996 تک پاکستان کی 11ویں اور 13ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ ایک مسلم ملک میں جمہوری حکومت کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔
اپنے دور میں شہید بے نظیر بھٹو نے انتہائی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود کئی اہم کارنامے سرانجام دیے۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں
تمام صوبوں میں علمائے کرام کے کنونشنز کا انعقاد، چین کے ساتھ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا قیام، روس کے ساتھ پاکستان میں اسٹیل ملز پر اتفاق، پاکستان کو دولت مشترکہ کے ممالک میں شامل کرنا، پاکستان میں سارک کانفرنس کا انعقاد، دوطرفہ تعلقات کی بحالی۔
ہندوستان اور 1988 میں غیر جوہری جارحیت کے معاہدے پر دستخط، روسی فوج کا پرامن انخلاء اور افغانستان میں امن کے اقدامات کو فروغ دینا، پاکستان میں جمہوریت کی بحالی، کشمیر کاز کے لیے مہم چلانا اور اسلامی ممالک کی حمایت حاصل کرنا، دفاع میں خود انحصاری کے ذریعے دفاع کو مضبوط بنانا۔ پاکستان کے اندر ہوائی جہاز بنانے کی صنعت کا آغاز کرنا، سیاچن گلیشیئر کا دورہ کرنے والی پہلے وزیر اعظم بننا، ضرب مومن فوجی مشقوں کا آغاز کرنا، پاکستان میں آزادی صحافت کے خلاف تمام کالے قوانین کو ختم کرنا، نیشنل پریس ٹرسٹ کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کرنا اور پرنٹ میڈیا پر حکومتی کنٹرول ختم کرنا، پچھلی حکومتوں کی جانب سے سیاسی وجوہات کی بناء پر برطرف کیے گئے ٹی وی اور ریڈیو ملازمین کو بحال کرنا، بیواؤں اور یتیموں کو ماہانہ وظیفہ دینا، بیرون ملک منڈیوں میں پاکستانیوں کے لیے مواقع، فیڈرل یوتھ کونسل اور یوتھ افیئرز کے لیے ایک علیحدہ وزارت کا قیام، وزارت برائے انسدادِ روزگار منشیات اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے ملک گیر کلینک کا قیام، منشیات کی سمگلنگ میں کمی، ہر شہر اور قصبے میں جدید سڑکوں کی تعمیر۔ تیل اور گیس کی پیداوار میں 22 فیصد اضافہ، ملک بھر میں لاکھوں صارفین کو گیس فراہم کرنا، پیٹرو کیمیکل پروجیکٹ اور ٹویوٹا کرولا پلانٹ سمیت تین میگا صنعتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی، کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی اضافہ، سونے کی درآمد پر پابندی ہٹانا، مہنگائی کی شرح کو 9% سے کم کر کے 5% کرنا، مفت سائیکلیں تقسیم کرنا، پیپلز پروگرام کے تحت 64,400 نئی ٹیلی فون ایکسچینج لائنوں، 99,391 ٹیلی فون کنکشنز کے اضافے کے ساتھ ٹیلی کام کے شعبے کو نمایاں طور پر آگے بڑھانا، اور 14 اضافی شہروں کو ٹیلی فون کے ذریعے منسلک کرنا، بلوچستان ٹیکسٹائل ملز کو دوبارہ کھولنا، ایک ہی سال میں 4000 سے زائد دیہاتوں کو بجلی فراہم کرنا۔ پہلی بار، 35 دن یا اس سے کم وقت میں بجلی کا کنکشن حاصل کرنے کے عمل کو ہموار کرنا، بجلی کے شعبے میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا، 60,000 نئے خواندگی مراکز کا قیام، فصلوں اور کسانوں کی املاک کے تحفظ کے لیے دور دراز کے علاقوں میں سیلاب پر قابو پانے کے اقدامات کو نافذ کرنا، خواتین کی تنظیم کا قیام۔ وزارت برائے صنفی ترقی اور خواتین کے مخصوص مسائل کو حل کرنے، زمین کو صاف کرنے کے لیے اسکیمیں تیار کرنا، تین سال کے اندر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے حکمت عملی
بنانا، ملک بھر میں 445 پوسٹل آفس کھولنا، کراچی میں پورٹ قاسم کی توسیع، کراچی اسٹیل ملز کو منافع بخش بنانا۔ 1989 کا وقت، اور ہیوی مکینیکل کمپلیکس کو نقصان سے بدلنا ہستی کو منافع بخش بنانا۔
اس کے علاوہ بے نظیر بھٹو نے سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا اور 2005 میں میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر اتفاق کرنے اور اسٹبلشمنٹ کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی
میں نے انہیں ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد مارشل لا کیخلاف طویل جدوجہد کرتے، جیلیں کاٹتے اور دومرتبہ وزیرِاعظم بننے کے بھی مراحل سے گزرتے دیکھا ہے، شہید بی بی نے شاید ہی کوئی سکھ کا سال دیکھا ہو، نوجوانی میں اپنے والد کو شہید ہوتے دیکھا، پھر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ضیاالحق جیسے آمر سے لڑتے ہوئے ثابت کیا کہ ایک عورت کتنی مضبوط اور طاقتور ہو سکتی ہے۔ شہیدبینظیربھٹو 1988میں وزیراعظم بنیں. بینظیر بھٹو شہید وزیر اعظم تو بن گئیں لیکن ملک کے ادارے انھیں وزیراعظم قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ ان کے خلاف بھرپور سازشیں تو 77 سے ہی ہو رہی تھیں لیکن وزیراعظم بننے کے بعد بھی یہ سازشیں ختم نہ ہوئیں، ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کو شہید بینظیر بھٹو کے خلاف استعمال کر کے پیغام دیا گیا کہ وہ جب چاہیں انھیں وزیر اعظم ہائوس سے نکال باہر کرینگے اور پھر یہی ہوا 1990میں ان کی پہلی حکومت ختم کردی گئی۔1990ءمیں جب دوبارہ انتخابات ہوئے تو پی پی پی کو شکست دینے کے لئے بھرپور طریقے سے مہم چلائی گئی، سرکاری پیسہ خرچ کیا گیا، مہران بینک جیسے اسکینڈل بھی ہمیں دیکھنے کو ملے، یہ دھاندلی سے بھرپور انتخابات تھے، جس کا نشانہ پی پی پی کو بنایا گیا، پھر اس دھاندلی کا کیس عدالت بھی گیا اور دنیا نے دیکھا کہ عدالتوں میں کیا ہوا. بی بی شہید ایک بار پھر 1994میں وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئیں تو سازشی چہرے تبدیل ہوچکے تھے مگر ان کی سازشیں اور رویہ یکسر وہی تھے، شہید بی بی کو اس دور میں بھی وزیر اعظم ہائوس سے باہر کرنے کیلئے ہر طریقہ اپنایا گیا، بینظیر بھٹو کو اپنے ہی دور میں اپنے بھائی میر مرتضی بھٹو کے قتل کا دکھ بھی سہنا پڑا، اس دور میں کراچی میں ایم کیو ایم کے ہاتھوں پی پی پی کے کارکنان بھی قتل ہوتے رہے. بی بی شہید کو ہمیشہ پاکستان کی مقتدرہ نے ناقابل قبول سمجھا اور انھیں قتل کرنے کی کئی بار پلاننگ کی گئی جو ناکام ہوتی رہیں مگر 27دسمبر 2007کو دشمن کا وار کامیاب ہوا اور بی بی شہید کو قتل کرکے جائے واردات پر تمام ثبوت مٹانے میں دیر نہ کی گئی
وہ ایک پختہ ارادہ و پُراعتماد سیاستدان تھی تاہم اس کے باپ کے مقدمے اور صدمے نے اسے دہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسی افسردگی اور تکلیف نے اسے غریب عوام سے مزید گہری وابستگی عطا کی۔
بے نظیر ایک دانشور تھی، جس کی ایک جلد میں کئی ابواب اور ہر باب میں کئی کئی نظریے تھے۔ وہ تکالیف سے گزرتی ہوئی ڈان کوئیکزوٹ کی طلسماتی کہانی کا کردار تھی جو اپنے سفر کے دوران تن تنہا کئی اژدہے مار سکتا ہے۔ بے نظیر کی زندگی ہوائی چکی کے پنکھوں کی طرح گھومتے گھومتے ہی گزری جبکہ اس کی زندگی میں موجود اڑدہے بھی اصلی تھے۔
بے نظیر بھٹو کی شہادت نے پیپلز پارٹی کو نئی قوت دی
پیپلز پارٹی نے پانچ سال وفاق میں حکومت کی اور وہ پچھلے 14 سال سے سندھ میں برسر اقتدار ہے۔
پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا کارنامہ آئین میں کی گئی اٹھارہویں ترمیم ہے۔ اس ترمیم کے تحت صوبے حقیقی وفاقیت کے قریب ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالہ سے بہترین قانون سازی ہوئی
پیپلز پارٹی نے عوام کو شعور دیا۔ اس کی قیادت نے جانوں کی قربانی دی، اس کی بقاء ایک جدید ترین سیاسی جماعت میں مضمر ہے جس کے پس پشت طلبہ، خواتین، مزدور، کسان، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں ہوں۔ تحریک انصاف، مسلم لیگ ن متوسط طبقہ کی جماعتیں ہیں، پیپلز پارٹی مظلوم طبقات کی اب بھی قیادت کرسکتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں پھوٹنے والی روشنی ہی عالمی سازشی عناصر سے بی بی کی شہادت کاا انتقام ہے۔بی بی کے قاتل آج بلاول بھٹو زرداری کو عالمی افق پر اس طرح نمودار ہوتے ہوئے یقینی طور پر ماتم کرتے ہونگے کہ جس بی بی کو شہید کردیا گیا و ہ بھی باپ کی طرح امر ہو چکی ہے۔
1

Friday, December 30, 2022

دنیا میرے آگے



 دنیا میرے آگے

اظہر عباس


صدر بائیڈن 80 سال کے ہو چکے اور اس طرح وہ  امریکہ کے سب سے معمر صدارت کرنے والے صدر بن گئے ہیں


جب کہ بائیڈن نے عوامی طور پر دوسری مدت کے لئے انتخاب لڑنے کے اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے، کم از کم ایک ڈیموکریٹک حکمت عملی کے ماہر نے کہا کہ صدر کو اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہیے کہ وہ مرکز کے بائیں بازو کے رہنماؤں کی اگلی نسل کے لیے پل بنیں گے۔


ڈیموکریٹک سیاسی حکمت عملی کے ماہر کولن سٹروتھر نے کہا، "صدر بائیڈن کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہوگی کہ ہم اگلی نسل کی پارٹی بن سکیں - نہ کہ پرانی نسل کی،"  "[ہاؤس اسپیکر نینسی] پیلوسی چلی گئی ہیں، مچ میک کونل نے ثابت کیا ہے کہ وہ وقت سے پیچھے ہیں، اور صدر کی عمر کے کسی فرد کے اس مشکل کام کو اچھی طرح سے انجام دینے کے بارے میں جائز خدشات ہیں۔"


اگر بائیڈن 2024 میں دوبارہ انتخابات سے دستبردار ہونے کا انتخاب کرتے ہیں تو ڈیموکریٹس کے پاس ترجیحات یہ ہیں:


ہیرس کو بائیڈن کے سیکنڈ ان کمانڈ کے طور پر، ڈیموکریٹس کے لیے ایک منطقی انتخاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کیلیفورنیا کی سابق سینیٹر، 58 سالہ ہیرس ملک کی تاریخ میں پہلی خاتون نائب صدر ہیں۔ وہ پہلی افریقی امریکن اور پہلی ایشیائی امریکن بھی ہیں۔ وہ مختلف عالمی سربراہی اجلاسوں میں وائٹ ہاؤس کی نمائندگی بھی کر چکی ہیں۔


لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق، پیچیدہ معاملات یہ ہیں کہ ہیریس کی عوامی سرویز میں رینکنگ بائیڈن سے بھی کم ہے۔


ڈیموکریٹس کے دوسرے امیدوار ٹرانسپورٹ سیکرٹری حال ہی میں وسط مدت کے دوران نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ امیدواروں میں سے ایک تھے۔ آئیووا کاکسز جیتنے کے بعد ان کی پروفائل کو بڑھانے میں مدد کی ہے۔ بٹ گیگ کی امیدواری کو اگرچہ سنگین رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن سکریٹری اگلے سال GOP کانگریس کی تحقیقات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں کہ انفراسٹرکچر کی رقم کیسے خرچ کی گئی ہے۔ ریپبلکن قومی ریل ہڑتال کو کم کرنے اور سپلائی چین کے بحران کو کم کرنے کے لئے بٹ گیگ کی کوششوں کو دیکھنے کے لئے بھی بے چین ہیں۔


ٹرانسپورٹیشن کے سکریٹری کو پچھلے سال پیرنٹس کیلئے مخصوص چھٹی لینے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس نے عین اس وقت یہ چھٹی لی جب وائٹ ہاؤس اپنے بنیادی ڈھانچے کے قانون کی منظوری کو محفوظ بنانے اور سپلائی چین کے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔


اگرچہ بائیڈن سے زیادہ عمر کے، 81 سالہ برنی سینڈرز نے وائٹ ہاؤس کی دو ناکام کوششوں کے بعد اپنا سیاسی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ ورمونٹ سے ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار 2022 میں انتخابی مہم کے لیے سرگرم ہیں اور ان کی ایک نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے جو نوجوان ووٹروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔


اگرچہ کچھ لوگ توقع کرتے ہیں کہ سینڈرز ایک اور صدارتی انتخاب لڑیں گے، انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کے اندر حمایت کی گہری بنیاد درکار ہے۔ ان نچلی سطح کے حامیوں نے سینڈرز کو اس کی 2016 اور 2020 کی مہموں میں کئی اپ سیٹوں میں مدد دی۔ اس نے سینیٹر کو مہم چلانے کے لیے درکار فنڈ ریزنگ کی کوششیں بھی فراہم کیں اور بڑے پیسے والے عطیہ دہندگان پر انحصار نہیں کیا


سینڈرز نے اپنی دونوں قومی مہموں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے بنیادی حلقہ، بوڑھے افریقی امریکی ووٹروں تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔


کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹ کھنہ نے بھی 2024 کے اوائل میں ڈیموکریٹک نامزدگی کے مقابلوں میں کنسلٹنٹس کو اپنے پے رول پر رکھا ہوا ہے۔ جب کہ انہوں نے بائیڈن کے خلاف انتخاب لڑنے سے انکار کیا ہے، لیکن اس نے مستقبل میں وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں اپنی دلچسپی چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ تاہم، کھنہ کو اپنے کیلیفورنیا ضلع سے باہر بہت کم جانا جاتا ہے۔


ڈیموکریٹس کے پاس متعدد مقبول گورنر ہیں جو بائیڈن کو ایک اور مدت کو مسترد کرنے پر ایک موثر مہم چلا سکتے ہیں۔


مشی گن کی سوئنگ سٹیٹ میں، گورنمنٹ گریچن وائٹمر نے ریپبلکنز کی جانب سے پرجوش چیلنج کا سامنا کرنے کے باوجود اس ماہ 10 فیصد سے زیادہ پوائنٹس سے دوبارہ انتخاب جیت لیا۔ وائٹمر کے مزدور یونینوں سے بھی مضبوط تعلقات ہیں، جو ایک بنیادی گروپ ہے جو 2020 کی ڈیموکریٹک نامزدگی کے لیے بائیڈن کی مہم میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔


وسط مغرب سے باہر، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم کو وائٹ ہاؤس کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ نیوزوم، وائٹمر کی طرح، صرف دوسری مدت کے لیے بڑے مارجن سے دوبارہ منتخب ہوئے۔


دوسری طرف چین کے صدر شی جن پنگ نے عرب دنیا کے ساتھ تعلقات میں "ایک نئے دور" کی تعریف کرتے ہوئے رواں ماہ سعودی عرب کے ساتھ کئی اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔


دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے صارف چین کے رہنما کا تیل سے مالا مال ملک کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا۔


شی جن پنگ کی گاڑی کو سعودی رائل گارڈ کے ارکان نے عربی گھوڑوں پر سوار اور چینی اور سعودی پرچم اٹھائے ہوئے بادشاہ کے محل تک پہنچایا۔


شی نے سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی۔


دونوں نے پویلین میں قدم رکھا جب ایک فوجی بینڈ نے ملکوں کے قومی ترانے بجائے۔


یہ ڈسپلے جولائی میں امریکی صدر جو بائیڈن کے کم اہم استقبال کے بالکل برعکس تھا۔


امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مملکت کی توانائی کی پالیسی اور 2018 میں امریکہ میں مقیم واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں، جس نے جولائی کے عجیب و غریب دورے پر پردہ ڈال دیا۔


جمعرات کو، شاہ سلمان نے شی کے ساتھ ایک "جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے" پر دستخط کیے جس میں، سرکاری میڈیا کے مطابق، سرمایہ کاری کے لیے 34 سودے شامل تھے۔


سودوں میں سے ایک چینی ٹیک کمپنی ہواوے شامل ہے جس میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سعودی شہروں میں ہائی ٹیک کمپلیکس بنانا شامل ہے۔


خلیجی خطے میں Huawei کے بڑھتے ہوئے قدم کے درمیان چینی فرم کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر امریکی سلامتی کے خدشات کے باوجود یہ معاہدہ طے پایا۔


سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے کہا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان فریقوں کا انتخاب نہیں کریں گے اور قومی اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کے لیے شراکت داروں کو متنوع بنا رہے ہیں۔


ایک بوڑھے ہوتے بائیڈن کے پاس اب دنیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے منشور کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی پالیسیوں کو مضبوط کرنے کے علاوہ کوئی ترجیح نہیں۔ وہ ایک بوڑھے مدبر کی طرح اپنی طاقت اپنے ملک کو اندرونی طور پر طاقتور بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، میڈ ان امریکہ کے سلوگن کو اختیار کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے پر خرچ کر رہے ہیں تاکہ امریکی اندرون ملک روزگار ڈھونڈ سکیں۔ بیرون ملک ان کی توجہ چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کا مقابلہ کرنے پر مرکوز ہے اور وہ جنگ و جدل کی بجائے ڈپلومیسی سے کام لیتے ہوئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کی توجہ اپنی معیشت کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے تاکہ اپنی پارٹی کو اگلے الیکشن میں ریپلکنز کے سامنے ایک مضبوط حیثیت دے سکیں۔

Monday, December 26, 2022

پاکستان چل رہا ہے


ا

اظہر عباس سابق وزیر اعظم کے شہر میانوالی ہی کے ایک نوازے گئے شاعر و ادیب کے ایک حالیہ کالم "پاکستان جامد ہے" پر نظر پڑی تو سوچا کہ انہیں بتائیں کہ پاکستان جامد نہیں پاکستان چل رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان جو وفاقی حکومت کو قبل از وقت انتخابات کرانے پر مجبور کرنے کے لیے دو صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی دھمکی دے رہے تھے اب سوچ رہے ہیں کہ اگلی چال کیا چلیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ان کی جماعت کے زیر کنٹرول قانون ساز اسمبلیوں کی تحلیل انتخابات سے تقریباً ایک سال قبل 23 دسمبر کو ہونی تھی لیکن ایک بڑے سیاسی اقدام میں، گورنر پنجاب نے ان کی صوبائی مقننہ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد جمعہ کو طلوع آفتاب سے پہلے ہی پرویز الٰہی کو ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹا دیا۔ یہ اقدام سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے ایک دھچکا تھا، جن کی تحریک انصاف پارٹی پنجاب اسمبلی میں الٰہی کے ساتھ اتحاد کر رہی تھی۔ ایک حکومتی بیان میں کہا گیا کہ پنجاب کے گورنر بلیغ الرحمان نے بدھ کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں پرویز الٰہی کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی کابینہ کو بھی برطرف کر دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں صوبے کے قانون سازوں کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ تازہ ترین پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب خان نے کہا کہ ان کی پارٹی جمعہ کو پاکستان کی دو علاقائی اور قومی اسمبلیوں کو چھوڑ رہی ہے تاکہ وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت پر قبل از وقت انتخابات پر رضامندی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ پارلیمان کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد اب پارلیمانی انتخابات 2023 میں ہونے والے ہیں۔ ایک سابق کرکٹ سٹار سے سیاست دان بنے سابقہ وزیر اعظم کو گزشتہ اپریل میں پارلیمنٹ کے ذریعے عدم اعتماد کے ووٹ میں معزول کر دیا گیا تھا۔ وہ آجکل قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں توقع کے عین مطابق پرویز الٰہی نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا اور اگلی سماعت تک گورنر کے برطرفی کے آرڈر کو معطل کرانے میں کامیاب رہے اور عدالت میں بیان حلفی بھی داخل کیا کہ وہ اگلی سماعت تک اسمبلی کو نہیں توڑیں گے۔ لیکن کے پی کے اسمبلی توڑنے میں کیا امر مانع رہا یہ نا سابق وزیر اعظم بتانے کو تیار ہیں نا ان کے ملک کو جامد ہونے کا دعوی کرنے والے انعام یافتہ شاعر و ادیب۔ میرا گمان ہے کہ وفاقی حکومت، پرویز الٰہی، سبطین خان، دیگر چنداور بھی، در پردہ طاقتورحلقوں سے مُک مُکا کرچکے ہیں۔ چنانچہ اسمبلیاں بھی تحلیل ہوتی نظر نہیں آتیں۔ امکان یہ بھی ہے کہ عمران خان خود بھی FACE SAVING اور قومی اسمبلی میں واپسی کیلئے شاید آن بورڈ ہوں۔ عمران خان کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ نوٹ کریں گے کہ خان سیاسی ردی کا حصہ بننے کو تھا کہ کاریگروں نے ڈینٹنگ، پینٹنگ، اوورہالنگ کر کے لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 2014 میں "سیاست نہیں، ریاست بچاؤ" سے شروع سفر 2018 کے RTS الیکشن کا اختتام عمران حکومت پر منتج ہوا جو آج کے حالات کی بنیاد بنا۔ یقینا عمران خان مستفید ہوئے کہ ایک ایسے سیاسی چہرہ اور مہرہ کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔ کیا اتنی محنت سے تراشیدہ بت کو ایسے ہی توڑ پھوڑ دیا جائے گا ؟ جواب ہے "نہیں"۔ بلکہ اسے مزید تراش خراش اور کٹ ٹو سائز کرنے کے بعد برے وقتوں کے ایک سرمائے کے طور پر زندہ رکھا جائے گا۔ واشنگٹن میں بروکنگز انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک کی فیلو اور "پاکستان انڈر سیج: انتہا پسندی"، کی مصنفہ مدیحہ افضل کہتی ہیں، "گزشتہ برسوں میں پاکستان کی سیاست میں ہونے والی تمام شدید سیاست اور عدم استحکام کے لیے، پاکستان میں اس سے پہلے ایسا کچھ نہیں ہوا۔" خان کے اقدامات سے پاکستان کو ڈوبنے کا خطرہ ہے، جو پہلے ہی مالیاتی بحران سے نبردآزما ہے، اس وقت سیاسی بحران میں بھی گھرا ہوا ہے۔ اگرچہ عمران خان اب عہدے پر نہیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ان کی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی پاکستان کے چار میں سے دو صوبوں پر قابض ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ اب بھی کچھ ڈور کھینچ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے وزیر اعظم بن گئے ہیں جنہوں نے عدم اعتماد کا پارلیمانی ووٹ کھو دیا ہے اکبر ایس بابر، مسٹر خان کی پی ٹی آئی پارٹی کے ایک بانی رکن، جو اب ان سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں، قبل از وقت انتخابات کے اپنے بار بار کیے جانے والے مطالبات پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ محض اقتدار کے بھوکے ہیں اور ایسے وقت میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں جب ملک کو ضرورت ہے۔ "اس نے واقعی پاکستان میں ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جو کسی بھی سمت جا سکتی ہے۔ وہ معاشرے پر جھگڑے کو مجبور کر رہا ہے۔ یہ سیاست دان کا کردار نہیں ہے۔ یہ ایک قوم بنانے والے کا کردار نہیں ہے۔" خان کے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں کارناموں کی فہرست بہت پتلی ہے۔ ملکی معیشت مالی بحران میں ڈوب گئی۔ ایک متفقہ نصاب بنانے کے لیے تعلیمی نظام میں ان کی اصلاحات میں تاخیر ہوئی۔ وہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو انکم ٹیکس ادا کرنے کے لیے حاصل کرنے میں کامیاب رہے، لیکن وہ دولت مند پاکستانیوں کو زیادہ حصہ ادا کرنے کے لیے حاصل کرنے سے قاصر رہے۔ معیشت کا جو حال یہ کر کے گئے ہیں اس کی بدولت اسٹینڈرڈ اینڈ پور کے جمعرات کے ایک بیان کے مطابق، قوم کے کریڈٹ سکور کو B- سے B- سے CCC+ پر ایک نشان سے کم کر دیا گیا، جس سے توقع ہے کہ پاکستان کے گرتے ہوئے غیر ملکی ذخائر آنے والے سال میں دباؤ میں رہیں گے، بالکل اسی طرح جیسے سیاسی خطرہ برقرار رہتا ہے۔ اسٹینڈرڈ اینڈ پووور(S&P) کے تجزیہ کاروں اینڈریو ووڈ اور YeeFarn Phua نے لکھا، "پاکستان کے پہلے سے کم زرمبادلہ کے ذخائر تیل کی قیمتوں میں مادی گراوٹ یا غیر ملکی امداد میں اضافے کو چھوڑ کر، 2023 کے دوران دباؤ میں رہیں گے۔" ایک دوسری مالیاتی فرم Fitch Ratings اور Moody's Investors Service پہلے ہی ملک کے 7.8 بلین ڈالر کے غیر ملکی بانڈز کو سرمایہ کاری کے درجے سے سات درجے نیچے درجہ بندی کر رہے ہیں، جو S&P کی CCC+ درجہ بندی کے برابر ہے، ایل سلواڈور اور یوکرین کے برابر۔ S&P نے جمعرات کو پاکستان کے لیے منفی سے مستحکم ہونے کے لیے آؤٹ لک کو بھی بڑھایا۔ ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے جس میں صرف ایک ماہ کی درآمدات، ڈالر کی کمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ قرض کے پروگرام میں تاخیر کو پورا کرنے کے لیے کافی ذخائر ہیں۔ سرمایہ کار اب بھی اپنے غیر ملکی قرضوں کی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنے کی قوم کی صلاحیت کے بارے میں فکر مند ہیں، اس مہینے $ 1 بلین بانڈ کی ادائیگی کے باوجود طویل مدتی ڈالر کے بانڈز پریشان کن سطح پر تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں موسم گرما میں بے مثال سیلاب نے 1,700 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا، ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا اور ملک کی ترقی کو نصف کر دیا۔ سیلاب نے ملک کی معیشت کو تقریباً 32 بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ اس دوران، موجودہ انتظامیہ جو اگلے سال اگست یا اس سے پہلے ختم ہونے والی ہے، یعنی اس کے پاس اقتصادی اصلاحات کو نافذ کرنے کے لیے محدود وقت ہے۔ اسٹینڈرڈ اینڈ پوور (S&P) کے تجزیہ کاروں نے لکھا، "ہم توقع کرتے ہیں کہ آنے والے سہ ماہیوں میں سیاسی غیر یقینی صورتحال مزید بلند رہے گی، اپوزیشن کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کے لیے مسلسل دباؤ کے ساتھ" ان حالات میں امتیاز عالم اپنے حالیہ کالم کے آخر میں دونوں فریقین کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "ایک طرف آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط پہ بضد ہے اور ملک کے پاس صرف چھ ارب ڈالرز کا زرمبادلہ ہے اور کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے اور فری مارکیٹ کے کالے دھن کے ہاتھوں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرتا چلا جارہا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کی بھیانک کارروائیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ ایسے میں ملک فوری انتخابات کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ سیاسی متحاربین اگست/ستمبر میں عام انتخابات پہ اتفاق پیدا کر کے ملک کو معاشی سانس لینے کا موقع فراہم کریں، انتخابات اب نہیں تو اکتوبر تک ہو ہی جائیں گے اور معاشی بحران اگلی حکومت کو بھی ہڑپ کرنے پر تیار ہوگا۔"

Saturday, December 10, 2022

سچ کی تلاش

 




اس بار ارادہ تو یہی کیا تھا کہ راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی پر کچھ لکھوں جس کے تحت زمینوں پر قبضے دھڑا دھڑ جاری ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک اس پراجیکٹ کا ماحولیاتی سرٹیفیکیٹ ہی نہیں لیا گیا۔ پبلک ہئیرنگ جو کہ کسی بھی پراجیکٹ کی ماحولیاتی سرٹیفیکیشن کیلئے لازمی ہوتی ہے اب تک نہیں ہوئی اور جب سے پنجاب اسمبلی توڑنے کے اعلانات ہوئے ہیں، اس سرٹیفیکیشن کیلئے محکمے پر سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا دباو ہے اور اب تو سنا جا رہا ہے کہ رولز میں کچھ ترامیم تک کرنے کا کام جاری ہے۔ اربوں/ کھربوں کے اس پراجیکٹ کیلئے اتنی جلدی کیوں ہے ؟


پھر سوچا کہ کچھ پنجاب کے محکمہ تعلیم کے وزیر کی کارستانیوں پر کچھ لکھا جائے جنہوں نے ایک این جی او کی یہ تجویز کہ اس کی مجموعی فنڈنگ کا کچھ حصہ سیلاب زدگان کیلئے مختص کر دیا جائے نا صرف بے دردی سے رد کر دی بلکہ کال سنٹر قائم کرنے پر زیادہ فوکس کیا جو ان کی سوشل میڈیا ٹیم کیلئے ایسے ہی استعمال ہوں جیسے کے پی کے میں ہو رہے ہیں۔ 


لیکن پھر میں نے فیصلہ کیا کہ قارئین کو لیکر سچ کی تلاش میں نکلا جائے۔


یہ کائنات جس کا مادی آغاز ایک نقطے سے ہوا تھا ہر لمحہ ارتقاء کی جانب گامزن ہے۔ یہ مسلسل پھیل رہی ہے آگے بڑھ رہی ہے ہر پل نئے ستارے وجود میں آرہے ہیں اور جن ستاروں  کا سفر رک جاتا ہے وہ ختم ہو جاتے ہیں اور یہ ہی فطرت ہے کہ انسانی شعور مسلسل آگے بڑھتا رہے کیونکہ اس کی ہر روز ایک نئی شان ہے۔


اللہ کے قانون کو اسی بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ کون اپنی جہالت پر قائم رہنے پر مصر ہے اور کون خودساختہ روایات کی تقلید میں جمود کا شکار ہے۔ کیونکہ ہر ساعت نہ رکنے والا وقت ان کو  ان کی جہالت سمیت اپنے پاؤں تلے کچلتے ہوئے آگے نکل رہا ہے۔ وقت کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ وہ ہر پل آگے نکل رہا ہے اور اس کا ساتھ نہ دینے والے ماضی کا قصہ بن کر مٹ جانے والے ہیں


شعوری  ارتقاء ہی وہ واحد قوت ہے جو انسان کو وقت سے بھی آگے لے جاتی ہے اور اسی کو زندگی کہتے ہیں 


افسوس ہم نے سائنس میں تحقیق کرنے والوں، انسانی ارتقاء کے بارے میں تحقیق کرنے والوں اور اس میں نوبل پرائز حاصل کرنے والوں پر غیر سائینسی ذہن کو مقدم سمجھا۔ اور ہم نے قرآن کریم جو انسانیت کیلئے ھدایت کی کتاب تھی کو اور قرآن مجید میں غور و فکر کو چھوڑ دیا۔


اسی طرح ہم نے اپنی پسند کی تاریخ مرتب کی اور اس میں اپنی پسند کے قصے شامل کر کے اسے قومی تاریخ کا نام دے دیا۔ پاکستان کے ایک سابقہ بیورو کریٹ راؤ منظر حیات لکھتے ہیں کہ:


"ہم نے درسی کتب کا آغاز ہی محمد بن قاسم کے دیبل پر حملے سے کیا ہے۔ مگر محمد بن قاسم سے پہلے بھی برصغیر کی ایک شاندار تاریخ تھی جس کا ذکر کرنا ہم مناسب نہیں سمجھتے۔ یا شاید مقامی تاریخ کو بھی ہم ایرانی‘ تورانی اور عرب سے درآمد ی کے گئے نظریات کی عینک سے دیکھتے ہیں۔" "اس امر کا بھی اقرار نہیں کرتے کہ تاریخ کا بلکہ کسی بھی علم کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ "


ہم نے تاریخ کو سائینسی انداز میں پڑھنے کی بجائے قصہ کہانیوں کی کتابوں کی طرح پڑھنے کے عادی ہیں تاریخ سے سبق سیکھنا تو درکنار تاریخ کو پڑھنے کی نسبت گوگل کر کے اپنے پسند کے حقائق دریافت کرنا ہی اپنے علم کی معراج سمجھتے ہیں۔ 


آئیے آپ کو تاریخ سے ایک نئی اور دلچسپ حقیقت بتاتے ہیں اور پھر آپ کو موقع دیں گے کہ آپ اپنی ملکی تاریخ میں ایسے کرداروں کو دریافت کر سکیں:


معروف مؤرخ رین ہارڈ لوتھن نے ایک مروج اصطلاح ڈیماگوگ کی تعریف یہ کی ہے کہ "ایک سیاست دان جو تقریر کرنے میں مہارت رکھتا ہے، چاپلوسی اور ترغیب دینے والا؛ اہم مسائل پر بات کرنے میں ٹال مٹول کرنے والا؛ ہر ایک سے ہر چیز کا وعدہ کرنے والا؛ جذبات کی طرف راغب کرنے والا؛ اور نسلی اور مذہبی جذبات کو ہوا دینے والا۔ طبقاتی تعصبات - ایک ایسا آدمی جس کی اقتدار کی ہوس اصول کے بغیر اسے عوام کا مالک بننے کی طرف لے جاتی ہے۔ ڈیماگوگس قدیم ایتھنز سے جمہوریتوں میں نمودار ہوئے ہیں۔ وہ جمہوریت میں ایک بنیادی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں: چونکہ حتمی طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے، اس لیے عوام کے لیے یہ طاقت کسی ایسے شخص کو دینا ممکن ہے جو آبادی کے ایک بڑے طبقے کے سب سے نچلے عام فرقے کو اپیل کرتا ہے۔ Demagogues عام طور پر ایک بحران سے نمٹنے کے لیے فوری، زبردستی کارروائی کی وکالت کرتے ہیں جبکہ معتدل اور سوچنے والے مخالفین پر کمزوری یا بے وفائی/ غداری کا الزام لگاتے ہیں۔ اعلیٰ ایگزیکٹو آفس کے لیے منتخب ہونے والے بہت سے ڈیماگوگس نے ایگزیکٹو پاور پر آئینی حدود کو تہس نہس کر دیا ہے اور اپنی جمہوریت کو آمریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، اور انہیں بیشتر اوقات اس میں کامیابی بھی ہوئی ہے۔


دنیا میں نظر دوڑائیں تو امریکہ میں ٹرمپ اور بھارت میں مودی اس ڈیماگوگ کی اصطلاح پر پورا اترتے نظر آتے ہیں۔ 


غور کیجئے ہمارا ڈیماگوگ کون ہے ؟

Friday, December 2, 2022

اندھی پیروی سے گریز کریں




ہم جب پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل کو خیر آباد کہہ کر کرشن نگر شفٹ ہوئے تو ہیرن روڈ پر بسیرا کیا۔ ہمارے ہم نشین اس وقت زیادہ تر سی اے کے اسٹوڈینٹس تھے جو مختلف چارٹرڈ اکاونٹینٹس فرمز میں اپنے آرٹیکلز مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دن رات پڑھائی میں مشغول رہا کرتے (اب ماشاءاللہ سب اپنے شعبے کے نامور اکاؤنٹس کے ماہرین)۔ ان میں ہم چند آرٹس کے طالب علم، قانون اور انگلش لٹریچر کی کلاسز لینے والے آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ کرشن نگر اس دور میں فن، ثقافت اور فلم کے لوگوں کی بستی تھی۔ ہماری گلی سے اگلی گلی میں فلم اسٹار یوسف خان رہا کرتے جو کبھی کبھی اپنے چھت پر کبوتر اڑاتے نظر آتے اور مین بازار سے ملحقہ ایک گلی میں گلوکار شوکت علی مقیم تھے۔ جنہیں ملنے اداکار محمد علی آتے تو بازار میں ہلچل ہو جاتی۔  ہم ان دنوں اپنے سی اے کے دوستوں کے دیکھا دیکھی اکاؤنٹس پڑھنے کے درپے ہوئے اور ایم اے انگلش لٹریچر کے ساتھ ساتھ اے سی ایم اے کی کلاسز میں ایڈمشن لے بیٹھے۔ پہلا پارٹ تو رو دھو کے اور اپنے ہم نشینوں کی گائڈینس کی بدولت کسی نا کسی طرح کر لیا لیکن پارٹ ٹو تک پہنچتے پہنچتے ہمیں اندازہ ہو گیا کہ اکاؤنٹس اور اکنامکس پڑھنا ہمارے بس میں نہیں اور ہمیں پوری توجہ اپنے انگلش لٹریچر کے ماسٹرز کی طرف ہی مبذول رکھنی پڑے گی۔ لیکن اکاؤنٹس کی کلاسز پڑھنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ پڑھنے کی عادت پختہ ہو گئی جو ہم نے اس دور کی آخری ڈگری لینے کے بعد ہی چھوڑی۔


سب آپ بیتی سنانے کا مقصد یہ تھا کہ وقتی انسپائریشن سے آپ کسی فیلڈ میں چل تو پڑتے ہیں لیکن اس میں کامیابی آپ کے بس میں نہیں ہوتی کیونکہ ہر انسان کا رجحان اور اہلیت کسی بھی میدان میں اس کی کامیابی کا پیمانہ طے کرتے ہیں۔


ہر ذی روح ایک وسیع تر جامع سماجی گروپ کا حصہ ہونے کے باوجود بالآخر صرف اپنے لیے ذمہ دار ہے۔


کامیابی کے رازوں میں سے ایک راز یہ ہے کہ دوسروں کی اندھی تقلید کرنے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ایسی بے فکری کی پیروی ہماری انسانی فطرت کے خلاف جنگ کے مترادف ہے۔


ہمیں دوسروں کے ان اعمال کو نقل کرنا شروع نہیں کرنا چاہئے جن کے ہم اہل نہیں ہیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر طرح سے دوسروں کی نقل کرنے کا رجحان ناکامی کا باعث بنتا ہے۔


اگر کچھ لوگوں کی شخصیت میں کوئی کمی رہ جاتی ہے اور اگر انہیں کبھی کبھی ناکامی اور محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنی قابلیت کی حد کو ذہن میں رکھے بغیر کچھ کرنے کی جستجو کرنے لگتے ہیں جبکہ انہیں کسی اور راستے پر چل کر اپنی منزل تک پہنچنا چاہیے تھا۔


مغرور ہونا، دوسروں سے حسد کرنا، حقائق اور حالات سے بے خبر رہنا وہ عیب ہیں، جو انسان کو اندھا بنا کر دوسروں کی نقل کر دیتے ہیں، حالانکہ وہ شروع سے ہی کچھ نہیں جانتے کہ آخر میں کیا ہونے والا ہے۔


حضرت علی نے لوگوں کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے: "لوگ یا تو عالم ہیں یا طالب علم۔ تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو ہر وقت ہر پکار کا جواب دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ مچھروں کی طرح ہیں جو ہوا کے ساتھ بہہ جاتے ہیں۔ وہ بغیر کسی خواہش کے ہوا کی سمت اڑتے ہیں۔‘‘


اس قسم کے لوگ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے اپنی ذہانت پر پردہ ڈال کر اسے ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ اڑنے کے لیے دوسروں کے پروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ اس دنیائے تخلیق میں کوئی دو افراد ہر میدان میں بالکل یکساں صلاحیتوں کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے۔ کوئی بھی شخص ہر لحاظ سے کسی دوسرے انسان کے برابر نہیں ہو سکتا، خواہ وہ شکل وصورت کا معاملہ ہو یا پسند و ناپسند کا۔ ایک آدمی کی ہتھیلیوں پر لکیریں ہمیشہ دوسرے لوگوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ جب حالات ایسے ہوں تو ہماری طرف سے اپنی سوچ کو دوسروں کے خیالات سے جوڑنا اور خدا کی عطا کردہ انفرادی صلاحیتوں، صلاحیتوں اور مہارتوں سے فائدہ نہ اٹھانا انتہائی غیر دانشمندانہ ہے۔

عظیم لوگ ہمیشہ اپنے نئے راستے پر چلتے ہیں۔ وہ ان راستوں پر چل پڑے ہیں جن پر دوسروں نے پہلے نہیں چلا۔ انہوں نے انسانیت کو نیا تحفہ دیا ہے۔ ایسے عظیم لوگ زندگی بھر جدت پسند رہے ہیں، نئے خیالات، علوم اور صنعتوں کو جنم دیتے ہیں۔


سائنس کے میدان میں ڈیکارٹ کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ ایک دن اس نے ہر سائنس، خاص طور پر فلسفہ میں اپنے تمام پہلے کے علم سے اپنے ذہن کو صاف کر دیا، اور اپنے پہلے کے تمام خیالات اور نظریات کو بھی ترک کر دیا۔ اس طرح اس نے تمام یقین کو بھی شک میں بدل دیا۔ اس نے ہر چیز پر اتنا شک کیا کہ اسے شک ہوا کہ کیا وہ خود موجود ہے؟


اس بنیاد پر وہ فلسفہ کی تمام شاخوں میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوا۔ اگر وہ بھی دوسروں کی طرح علمی فلسفے کی پیروی کرتا تو وہ یہ کامیابی حاصل نہ کرتا۔


عظیم لوگ ہمیشہ آزادانہ سوچتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے خیالات کی غلامی سے آزادی ہی کامیابی کی سنہری کنجی ہے۔ ان کی رائے میں ذاتی معاملہ ہو یا سماجی معاملہ، اندھی تقلید خودکشی ہے۔


جس طرح ایک فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا راستہ خود تراشے اور اپنی شخصیت کو نکھارے اسی طرح ایک کامیاب معاشرے کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نئی شاہراہوں پر گامزن ہو 


تقلید کرنے والوں پر مشتمل ایک کمیونٹی جو آزادانہ سوچنے کے بجائے ہمیشہ دوسروں پر بھروسہ کرتی ہے وہ بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ہے جس میں تمام جانور آنکھیں بند کرکے پہلی بھیڑ کی پیروی کرتے ہیں۔ اگر آپ پہلے والی بھیڑ سے پہلے چھڑی کی رکاوٹ ڈالتے ہیں تاکہ وہ اس پر کود جائے تو تمام جانور اس کی پیروی کریں گے۔ پھر اگر آپ اس رکاوٹ کو ہٹا دیں تو بھی وہ اس مقام پر کودتے رہیں گے۔

دنیا بدل چکی ہے

 دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس  اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...