Friday, October 14, 2022
خان صاحب کی فرسٹریشن | اظہر عباس
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنے سیاسی کیریئر کے مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور ہر آنے والا دن ان کیلئے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔
عمران خان اپنے سیاسی مستقبل اور مقبولیت کے گرے ہوئے گراف کے حوالے سے انجانے خوف کا شکار ہیں۔ دراصل آڈیو لیکس نے ان کے سائفر بیانیہ کو تو دفن کیا ہی ساتھ ہی ان کے بہت سے حامیوں کو ان مایوسی ہوئی کہ کس طرح جھوٹ کی بنیاد پر انہوں نے ایک ایسے بیانیے کو ڈیزائن کیا۔ جس کی مقبولیت پر انہیں زعم تھا لیکن اب بتدریج اس کے قلعہ میں دراڑ یں پڑ نا شروع ہوگئی ہیں۔
روز اول سے میں اپنے قارئین کو سائفر کی حقیقت، سائفر اور خط میں فرق اور دھمکی آمیز خط یا تبادلہ خیالات کی سمری کے مابین تفریق پر بھی آگاہ کر چکا۔ انتہائی باریک بینی سے نظام اور نظام کی تبدیلی کے بارے میں بھی آگہی دی اور آزادی و حقیقی آزادی کے مفہوم پر بھی لکھا۔ ان کی سوشل میڈیا مہم پر بھی نہایت عرق ریزی سے آگہی دی اور بیانئے بنانے اور اس بیانئے کو پھیلانے کے طریقوں سے بھی آگاہ کیا۔ روز اول سے میرا ایقان کہ جھوٹ کے پاس وقت کی قلت ہوتی ہے اور بالآخر سچ نے آشکار ہو کر رہنا ہے۔ خان صاحب برین گیم کے ماہر کی حیثیت سے جانتے ہیں کہ اپنے ماننے، چاہنے والے فالوورز کو ایسے مقام پر لا کھڑا کر دو کہ دن دہاڑے جرم میں پکڑا بھی جاؤں تو قتل بھی معاف رہے۔ یہی کلٹ اور کلٹ فالوونگ کی معراج ہوتی ہے۔ اس سے پہلے الطاف حسین کا عمل ہم دیکھ چکے ہیں ،ہر کرتوت، اخلاقی، مالی عیب، قتل، بھتے سب کچھ مگر ’’قائد کا ایک اشارہ، حاضرحاضر لہو ہمارا‘‘ کے نعرے۔ دلچسپ مماثلت کہ دونوں کو اسٹیبلشمنٹ نے ہی تراشا، بلندیوں تک پہنچایا، الطاف حسین کو RAW اوربرطانوی MI6 نے استعمال کِیا۔ خان صاحب آج کل کس کے استعمال میں ہیں؟ اگر اس پر غور کیا جائے تو نیو کونز لابی جس کو امریکہ میں ٹرمپ لیڈ کرتے ہیں، میں مماثلت ملے گی اور کلٹ فالوونگ کی مماثلت اسی نیو کونز کے ایک کلٹ پراوڈ بوائز میں۔ لیکن اس پر بات پھر کبھی سہی۔
دراصل خان صاحب کو مکافات عمل کا سامنا ہے۔ جب وہ حکومت میں تھے تو انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں مخالفین پر الزامات لگانے اور ان پر کیسز بنانے پر صرف کردیں۔ ملکی تاریخ کے سب سے متنازعہ کردار، سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کو مبینہ طور پر وڈیو کے ذریعے ہی بلیک میل کیا گیا۔ اور اب اقتدار سے محرومی کے بعد وہ شدید مایوسی کی کیفیت میں ہیں کیونکہ پہلے تو آڈیو لیکس نے خان صاحب کی سیاسی ساکھ کو دھچکا لگایا۔ ان کے جھوٹ آشکارا کئے اور ان کے اعتماد کو شکستہ کردیا اور اب انہیں ممکنہ وڈیو لیکس کا خوف لاحق ہے۔ انہیں چونکہ ممکنہ وڈیو کے مضمرات کی سنگینی کا بخوبی احساس ہے اسلئے انہوں نے اب سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پہلے سے ہی پیش بندی شروع کردی ہے اور کسی وڈیو کے آنے سے پہلے خود ہی واویلا شروع کر دیا ہے تاکہ جب ایسی کوئی وڈیو منظر عام پر آئے تو ان کے پارٹی لوگ یہ کہیں کہ دیکھ لیں عمران خان نے تو پہلے ہی بتادیا تھا کہ ایسی گندی وڈیو آنے والی ہیں۔
گزشتہ روز ننکانہ صاحب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ "سارے چور جمع ہوکر کسی نہ کسی طرح مجھے اور میری پارٹی کو عوام کی نظروں میں گندا کرنا چاہتے ہیں، یہ گندی گندی ویڈیو تیار کررہے ہیں، یہ گھر میں بیٹھ کر نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ویڈیو اور آڈیو ٹیپ تیار کر رہے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ "ڈیپ فیک ویڈیو عوام کو دکھائیں گے، یہ خود کو بچانے کے لیے گند اچھال رہے ہیں پھر بھی اپنے آپ کو نہیں بچاسکیں گے۔”
سوال یہ ہے کہ جو وڈیو آنے والی ہے اس کے متن (Content) کا عمران خان کو کیسے پتہ چل گیا ہے ؟
بند مٹھی سے گرتی ہوئی ریت ان کے اعتماد کو متزلزل کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو فائنل کال کا بگل نہیں بجایا۔ انہیں اب یہ خوف ہے کہ اگر اسلام آ باد پر چڑھائی کا انتہائی قدم بھی ناکام ہوگیا اور مطلوبہ تعداد میں لوگ نہ نکلے تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔
دوسری طرف ایف آئی اے نے ممنوعہ فنڈ نگ کیس میں جو ایف آئی آر درج کی ہے اس میں عمران خان بھی شامل ہیں اسلئے انہیں اب گرفتاری کا خوف بھی لاحق ہوگیا ہے ۔ ننکانہ صاحب میں عمران خان نے کہا کہ "ان سے دشمنوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے جھوٹے کیس بنائے جارہے ہیں۔ مقدمے کیے جارہے ہیں۔”
یہ رونا دھونا بھی ان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ دیوالیہ پن کے شکار کے پی کے، جس کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کیلئے فنڈ ہی نہیں تھے اور بالآخر وفاقی حکومت اوور ڈرافٹ سے مدد کو آئی۔ اسی طرح اس کی وادی سوات میں ہزاروں افراد کی غیر معمولی احتجاجی ریلی نے صوبائی حکومت کی کاکردگی پر بھی سوالات اٹھادیے ہیں۔
خان صاحب اپنے ستارے اپنے ہی ہاتھوں بگاڑ چکے ہیں، سو اب ان کی واپسی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ وہ جن کی گود میں بیٹھ کر آئے تھے، وہ انہیں زمین پر پٹخ کر الگ ہو بیٹھے ہیں۔ خان کی فرسٹریشن عروج پر ہے جسکی گواہی خود صدر عارف علوی کی جانب سے آچکی ہے۔ ان کا ایک ہی مسئلہ ہے کہ کسی طرح جلد سے جلد اقتدار میں آکر ایک پوسٹنگ کر سکیں مگر ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا اور یہی بات خان کو شدید خوفزدہ کیے ہوئے ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کے کھاتے میں بہت سے جرم جمع ہوچکے ہیں جن کی سزا سے انہیں "کوئی” ایک ہی صورت بچا سکتا ہے مگر افسوس کہ حالات بالکل بدل چکے ہیں۔
لانگ مارچ کے حوالے سے بھی بہت مجبوریاں پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہیں کیونکہ تحریک انصاف ابھی تک باقاعدہ تنظیم میں نہیں ڈھل سکی جو عوام کو لانگ مارچ جیسی سرگرمی میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یعنی خان صاحب کے پاس منظم جدوجہد کرنے والا کیڈر موجود ہی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو 25 مئی والا لانگ مارچ اس برے طریقے سے ناکام نہ ہوتا۔ ویسے بھی خان کے پاس لانگ مارچ کا ہی کارڈ بچا ہے اور اگر یہ بھی ناکام ہوگیا تو ۔۔ ؟
ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ فی الوقت موجودہ حکومت کو نہ صرف یہ کہ کوئی خطرہ درپیش نہیں بلکہ وہ دھیرے دھیرے اپنے قدم جماتی چلی جارہی ہے۔ ڈالر کے ریٹ میں مسلسل گراوٹ ایک حوصلہ افزا نشانی ہے۔ اسمبلی کی کل سیٹیں 342 ہیں، سو نارمل حالات میں حکومت کو قائم رہنے کیلئے 172 کا عدد درکار ہوگا، مگر تحریکِ انصاف کے 122 ممبران کے اسمبلی سے نکل جانے کے بعد حکومت کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے صرف 111 ووٹ درکار ہیں۔ اس کا کیا کیا جائے کہ خان صاحب اسمبلی سے نکل کر اس حکومت کی برقراری کو آسان بنا چکے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ حکومت کسی بڑے خطرے کے بغیر اپنا وقت پورا کرے گی اور خان کا جلد الیکشن کا خواب بھی پورا نہیں ہوگا۔
Monday, October 10, 2022
محکمہ ماحولیات پنجاب کی اندرونی آلودگی
پنجاب میں آلودگی پر قابو پانے، اس میں کمی اور خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے 1975 میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کنٹرول تنظیم (EPCO) بنائی گئی۔
اس تنظیم EPCO نے ماحولیات کے کچھ شعبوں پر توجہ مرکوز کی لیکن اس کے محدود دائرہ کار میں رہتے ہوئے تفصیلی کام اور ٹارگٹس کی مکمل پیروی ممکن نہ ہو سکی۔
31 دسمبر 1983 کو پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن آرڈیننس کے تحت صوبائی انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے قیام کی شرط رکھی گئی۔ 1985 میں، وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی کہ ایجنسی کے اختیارات ہاؤسنگ فزیکل اینڈ انوائرمینٹل پلاننگ (HP اور EP) ڈیپارٹمنٹ کو تفویض کیے جائیں۔ یکم جولائی 1987 کو انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) پنجاب کا قیام عمل میں آیا۔
پنجاب پہلا صوبہ ہے جہاں شہریوں کے بہترین مفاد میں EPA بنایا گیا تھا۔ ای پی سی او کے اس وقت کے موجودہ ڈائریکٹوریٹ کے عملے کو ایچ پی اور ای پی ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی کنٹرول کے تحت ای پی اے، پنجاب میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
31 دسمبر 1996 کو حکومت پنجاب کے تحت ایک الگ انتظامی یونٹ انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ (EPD) تشکیل دیا گیا۔ EPA پنجاب کو پھر HP اور EP ڈیپارٹمنٹ سے الگ کر دیا گیا اور اب EPD، حکومت پنجاب کے تحت ایک فعال یونٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔
11 فروری 1997 کو وفاقی حکومت نے 1983 کا موجودہ پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن آرڈیننس (PEPO) واپس لے لیا اور پاکستان Environmental Protection Act (PEPA) 1997 کا اعلان کیا۔ EPA، پنجاب اب اس PEPA ایکٹ کے تحت تفویض کردہ کام سر انجام دیتا ہے۔
انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) پنجاب ایک منسلک محکمہ ہے جو انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ (EPD) کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرتا ہے اور درج ذیل کام انجام دیتا ہے:
- ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کی دفعات اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط کو نافذ کرتا ہے۔
- مختلف منصوبوں کے لیے ماحولیات کے پیش نظر منظوری جاری کرتا ہے۔
- پنجاب میں ماحولیاتی لیبارٹریوں کی تصدیق کرتا ہے۔
- کونسل کی منظوری اور ان کے نفاذ کے ساتھ پنجاب ماحولیاتی معیار کے معیارات (PEQS) کو تیار اور قائم کرتا ہے۔
- ماحولیاتی مسائل سے متعلق عوامی شکایات کو دور کرتا ہے۔
- سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرتا ہے جو ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہوں۔
- کلین گرین پاکستان کے لیے شجرکاری کو فروغ دینا
سیمینار/ ورکشاپ/ ٹریننگ کے ذریعے ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دیتا ہے۔
- بین الاقوامی معاہدوں کو نافذ کرتا ہے۔
- ماحول کے مختلف شعبوں میں ضروریات کی نشاندہی کرتا ہے اور قانون سازی شروع کرتا ہے۔
- چار نامزد علاقوں میں انسداد ڈینگی مہم کے لیے فیلڈ وزٹ کو یقینی بنانا اور ماحولیاتی معاملات پر عوام کو معلومات اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
- حادثات اور آفات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کی وضاحت کرتا ہے جو آلودگی کا سبب بن سکتے ہیں۔
- پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے آلودگی کو روکنے اور کنٹرول کرنے کے لیے غیر سرکاری، کمیونٹی اور گاؤں کی تنظیموں کی تشکیل اور کام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
- ماحول کے تحفظ، تحفظ، بحالی اور بہتری کے لیے اور آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا ہے۔
ماحولیاتی مسائل آلودگی کو حل کرتے کرتے محکمہ ماحولیات اپنی اندرونی آلودگی کا شکار ہو گیا۔ گزشتہ وزیر کے دور میں اس محکمہ کو صوبائی وزیر نے ماحولیاتی آلودگی کی بجائے تھانوں کی طرح کمائی کا ذریعہ بنایا اور ہر ضلع کے آفیسرز کو مختلف ٹارگٹس دئے گئے جو وہ وزیر موصوف کو ڈائریکٹ پہنچانے کا پابند تھا۔ مختلف جعلی تنظیمیں کھڑی کی گئیں اور انہیں تاجروں و صنعتکاروں کو بلیک میل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ مختلف کنسلٹنٹس فرنٹ مین کی طرح استعمال ہوئے اور وزیر موصوف صوبائی ماحولیاتی کے تحفظ کی اتھارٹی (EPA) کے صدر دفتر کو کرپشن کا گڑھ بنا کر رخصت ہوئے۔
سابقہ وزیر کے دور میں پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کی معمول کی تحقیقات کے مطابق ایک بڑے اسکینڈل میں محکمہ تحفظ ماحولیات (EPD) نے صوبے میں مختلف صنعتی یونٹس کو جاری کردہ 500 سے زائد جعلی NoCs کی نشاندہی کی تھی۔
موجودہ صوبائی حکمراں جماعت سے وابستہ ایک سیاسی شخصیت کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ اسلام آباد میں اقتدار کی راہداریوں تک بھی پہنچ گیا تھا۔ ای پی ڈی ذرائع نے انکشاف کیا کہ سابقہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے پنجاب کے سابقہ چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک سے اس سلسلے میں باقاعدہ رپورٹ بھی طلب کی تھی، جنہوں نے جواب میں اے سی ای کی جانب سے جاری محکمانہ تحقیقات اور تحقیقات کی تفصیلات پیش کیں۔
پنجاب ای پی ڈی کے سابقہ سیکرٹری زاہد حسین نے بتایا تھا کہ محکمہ نے اب تک ملٹی نیشنل سمیت مختلف صنعتوں کو جاری کردہ 500 سے زائد جعلی این او سیز کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ "تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے" لیکن انہوں نے ان صنعتی یونٹوں کے نام بتانے سے انکار کر دیا تھا جن کو جعلی این او سی جاری کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا تھا کہ محکمہ ACE کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے اور تفتیش کاروں کو ہر تفصیل فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ پرنسپل سیکرٹری نے کیس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
سیاسی شخصیت اور ای پی ڈی سیکرٹری کے درمیان مبینہ طور پر لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب سیکرٹری نے صنعتی یونٹوں کو جعلی این او سی جاری کرنے کے الزام میں ای پی ڈی کے سات اہلکاروں کو معطل کر دیا۔ بعد ازاں، اس نے پنجاب اے سی ای کو خط لکھا کہ ان اہلکاروں کے خلاف میگا فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر انکوائری شروع کی جائے۔
ای پی ڈی کے اس وقت کے سکریٹری نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم نے معطل اہلکاروں کو گلبرگ میں ایک نجی دفتر میں سرکاری دستاویزات دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا۔ انہوں نے کہا تھا کہ چھاپے کے دوران ای پی ڈی آفس کی کم از کم 150 مختلف فائلیں ضبط کی گئی تھیں اور یہ انتہائی اہمیت کی حامل اور اندرونی معاملات سے متعلق تھیں۔
معطل ہونے والوں میں انسپکٹر انمول تبسم، انسپکٹر ابوبکر، سینئر کلرک عارف منظور اور فیلڈ اسسٹنٹ محمد مشتاق شامل تھے۔ تاہم اسی نوعیت کی مختلف شکایات کے بعد سیکرٹری نے تین عہدیداروں ڈپٹی ڈائریکٹر اظہر اقبال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہیم نسیم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ارشد کو او ایس ڈی بنا دیا تھا۔
ای پی ڈی کے اس وقت کے سیکرٹری نے کہا تھا کہ مافیا پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے خود جعلی این او سی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے اے سی ای لکھا اور اب مافیا ان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔
اس سب پر کیا پیش رفت ہوئی، وزیراعظم آفس اور اینٹی کرپشن کی تحقیق کہاں تک پہنچی یہ سب وقت کی گرد میں گم کر دیا گیا۔ سیکرٹری بعد ازاں تبدیل کر دئے گئے اور حکومتوں کی تبدیلی کے بعد اس وقت نئے عہدیداران پوسٹ ہیں لیکن محکمے کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ تقریبا 500 این او سی جو جاری ہوئے ان سے مختلف کنسلٹنٹس کے ذریعے 50 لاکھ تا ایک کروڑ وصول کئے گئے۔ آپ اس کو ضرب تقسیم کریں تو ہوش ربا نتیجہ سامنے آتا ہے اور یہ سیدھا نیب کا کیس بنتا ہے۔
Tuesday, October 4, 2022
پاکستانی معیشت زوال پذیر کیوں ہے
ہندوستان اور پاکستان کو 14 اور 15اگست 1947کو تقسیم کے بعد آزاد ریاستیں بننے پر برطانیہ سے کم سرمایہ کاری اور نظر انداز ہونے کی ایک جیسی معاشی میراث ملی۔ ان کی نوآبادیاتی معیشتیں دنیا کی غریب ترین معیشتوں میں شامل تھیں۔
دونوں اقوام کے لیے، آزادی تقریباً فوری طور پر مضبوط ترقی کا باعث بنی اور دونوں ممالک نے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور ترقی کے دیگر شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن یہ پاکستان ہی تھا جس نے پہلی چار دہائیوں یا اس کے دوران تیزی سے ترقی کی شرح دیکھی، جب کہ بھارت پیچھے رہ گیا۔
1990 کی دہائی کے آس پاس کچھ تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں کیونکہ ان کے کردار الٹ گئے اور ہندوستان پاکستان سے آگے نکل گیا، آخر کار قوت خرید کے ذریعے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن گیا اور BRICS میں "I" - ایک مخفف جو پانچ اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹ ممالک کے بلاک کا حوالہ دیتا ہے، انڈیا کے حصے میں آیا۔
ہندوستان کی ترقی کی رفتار کا کیا سبب ہے؟
گو کہ ہمیں پرانے معاشرتی علوم اور موجودہ مطالعہ پاکستان میں اس ابتری کا ذمہ دار بھارت کو پڑھایا گیا ہے جس نے انگریزوں کے چھوڑے تمام ترکہ پر قبضہ کر لیا لیکن یونیورسٹی آف میری واشنگٹن کے پولیٹیکل سائنس اور انٹرنیشنل ائیرز کے پروفیسر سروپ گپتا کا تجزیہ کچھ اور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
"بین الاقوامی سیاسی معیشت کے ایک اسکالر کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اس معاشی ابتری کا سبب، بھارت کا جمہوریت کو مضبوطی سے قبول کرنا – جبکہ اسی وقت پاکستان کو بار بار فوجی آمریتوں اور حکومت میں تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا – اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی وجوہات ہیں۔
نوآبادیاتی وراثت
1857 سے 1947 تک، برطانیہ نے متحدہ انڈیا کے زیادہ تر علاقے پر براہ راست حکومت کی جو بعد ازاں ہندوستان اور پاکستان کی آزاد ریاستیں بن گئیں۔
برطانوی دور حکومت میں اقتصادی ترقی کم سے کم تھی، جو کہ 1900 سے 1947 تک اوسطاً صرف 0.9 فیصد سالانہ تھی۔ ایسا اس لیے ہوا کہ نوآبادیاتی ہندوستانی معیشت زیادہ تر زرعی تھی، لیکن پھر بھی انگریزوں نے زرعی پیداوار کو بہتر بنانے میں بہت کم سرمایہ کاری کی۔
مزید برآں، برطانیہ نے ہندوستان کے لوگوں کی فلاح و بہبود میں محدود سرمایہ کاری کی، خاص طور پر ان کی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کو کم کرکے۔ نتیجتاً، نوآبادیاتی ہندوستان میں دنیا کی سب سے کم شرح خواندگی میں سے ایک تھا تقریباً 17%، اور متوقع عمر 30 سے 40 کے وسط میں تھی۔ ہندوستانیوں کی حالت زار کے بارے میں برطانیہ کی نظر اندازی کی مثال شاید 1943 میں مشرقی ہندوستان میں بنگال میں آنے والے قحط سے ملتی ہے، جس میں پالیسی کی ناکامی کے نتیجے میں 1.5 ملین سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان کی قیادت میں آزادی کے بعد کی ترقی
مقامی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور بڑھتی ہوئی قوم پرست تحریک کا سامنا کرنے کے بعد برطانیہ نے اپنے "تاج میں زیور" کو ترک کرنے اور خطے کو ہندو اکثریتی ہندوستان اور مسلم پاکستان میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ 20 ویں صدی کی سب سے بڑی جبری ہجرت کا باعث بنی: تقریباً 9 ملین ہندو اور سکھ اگلے دو دہائیوں کے دوران جغرافیائی طور پر الگ الگ مشرقی اور مغربی پاکستان میں تقریباً 5 ملین مسلمان ہندوستان میں چلے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق بڑے پیمانے پر تشدد کے دوران 10 لاکھ لوگ مارے گئے۔
اقتصادی ترقی، تاہم، آزادی کے بعد شروع ہوئی، دونوں نئے ممالک آزادی کی پہلی دہائی یا اس کے بعد 3% سے 4% کی شرح سے بڑھ رہے تھے کیونکہ متعلقہ حکومتوں نے اپنی معیشتوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی۔ لیکن جلد ہی اختلافات بھی سامنے آ گئے۔
جب کہ دونوں معیشتیں زیادہ تر ریاستی کنٹرول میں تھیں، ہندوستان کی حکومت نے برآمدات میں کمی کی اور 1960 کی دہائی میں تحفظ پسند تجارتی پالیسی اپنائی جس نے ترقی کو محدود کردیا۔
دوسری طرف پاکستان نے اپنے مشرقی پاکستان کے علاقے سے نمایاں تجارت سے فائدہ اٹھایا۔ ہندوستان کے ایک طرف مغربی اور دوسری طرف مشرقی پاکستان تھا۔ پاکستان 1971 میں اپنی ترقی کا انجن کھو بیٹھا، جب مشرقی پاکستان جنگ آزادی کے بعد بنگلہ دیش بن گیا۔
امریکہ سے پاکستان کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد بھی ملی، تیل کی دولت سے مالا مال مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک نے بھی پاکستان کو امداد دی ہے۔ اس کے نتیجے میں، 1961 سے 1980 تک پاکستان کی شرح نمو تقریباً 6 فیصد سالانہ ہو گئی، جبکہ بھارت کی شرح نمو 4 فیصد تھی۔
1990 کی دہائی میں ترقی کا اسکرپٹ پلٹ گیا، بھارت نے اگلے 30 سالوں میں 6 فیصد کی شرح سے ترقی کی، پاکستان کے 4 فیصد کو پیچھے چھوڑ دیا۔
کردار کے اس طرح الٹ جانے میں معیشت اور سیاست دونوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
پاکستان نے طویل عرصے سے بھارت سے زیادہ فنڈنگ کے بیرونی ذرائع پر انحصار کیا ہے، جس نے 1960 سے 2002 تک 73 بلین ڈالر کی غیر ملکی امداد حاصل کی ہے۔ اور آج بھی، یہ قرضے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے اداروں اور چین جیسی غیر ملکی حکومتوں پر انحصار کرتا ہے۔
امداد اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی
اس امداد نے پاکستان کو انتہائی ضروری لیکن تکلیف دہ اصلاحات کو ملتوی کرنے کی اجازت دی ہے، جیسے کہ ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانا اور توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو حل کرنا، جب کہ قرضوں نے ملک کو بڑے قرضوں میں جکڑ دیا ہے۔ اس طرح کی اصلاحات، میری نظر میں، پاکستان کو مزید پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرتی اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی۔
جب کہ ہندوستان کو بین الاقوامی امدادی گروپوں اور امریکہ جیسے چند ممالک کی طرف سے بھی کافی حد تک حمایت حاصل ہوئی تھی، لیکن اس نے کبھی اس پر انحصار نہیں کیا - اور حالیہ دہائیوں میں اس پر کم انحصار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، 1991 میں، ہندوستان نے تجارت کو آزاد کیا، ٹیرف کو کم کیا، گھریلو کمپنیوں کے لیے کام کرنا اور ترقی کرنا آسان بنا دیا، اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے۔"
پاکستان کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے یو این ڈی پی کے سابق ڈائریکٹر نے پاکستان کی دولت مند اشرافیہ اور سیاست دانوں کو اس کی معاشی پریشانیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
پاکستانی اشرافیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے سابق ڈائریکٹر برائے پاکستان مارک آندرے فرانچے نے کہا کہ ملک میں ایک اہم تبدیلی کا واحد راستہ یہ ہے کہ جب بااثر، سیاست دان اور دولت مند، قوم کے مفاد کے لیے قلیل مدتی، انفرادی اور خاندانی مفادات کو قربان کر دیں۔
"آپ کے پاس ایسی اشرافیہ نہیں ہوسکتی ہے جو پیسہ کمانے کے وقت بہت سستی اور ان پڑھ مزدور کا فائدہ اٹھائے، اور جب پارٹی کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ لندن میں پائے جاتے ہیں، جب چیزیں خریدنے کا وقت ہوتا ہے تو وہ دبئی میں ہوتے ہیں، اور تب دبئی یا یورپ یا نیویارک میں جائیداد خریدنے کا وقت ہوتا ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق فرنچ نے کہا کہ اشرافیہ کو فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک چاہتے ہیں یا نہیں۔
ٹیکس اصلاحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام اشرافیہ کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان میں چار سال گزارنے والے سابق ڈائریکٹر زمینداروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں "میں نے کچھ بہت بڑے زمینداروں سے ملاقات کی ہے، جنہوں نے صدیوں سے زمین کا استحصال کیا ہے، پانی کے لیے تقریباً صفر رقم ادا کی ہے، اور کس طرح وہ لوگوں کو تقریباً کبھی کبھار غلام بنا لیتے ہیں۔ اور پھر وہ اقوام متحدہ یا دیگر ایجنسیوں کے پاس آتے ہیں اور ہم سے اپنے ضلع کے لوگوں کے لیے پانی، صفائی اور تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کو کہتے ہیں۔ مجھے یہ کافی شرمناک لگتا ہے۔"
انہوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا کہ پاکستان غربت میں کمی، عدم مساوات، ریاست کو جدید بنانے اور کام کرنے والے اداروں کے حوالے سے زیادہ ترقی نہیں کر رہا۔ "حقیقت یہ ہے کہ 2016 میں بھی پاکستان میں 38 فیصد غربت تھی۔ اس کے کئی اضلاع ہیں جو سب صحارا افریقہ کی طرح رہتے ہیں اقلیتوں، خواتین اور فاٹا کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام نہیں کیا جاتا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کے لیے زور نہیں دے سکا، یہ ایک ایسا علاقہ ہے جو ادارہ جاتی طور پر 17ویں صدی میں رہ رہا ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن ہے۔"
پاکستان میں رشوت ستانی کے واقعات جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہیں۔
"پاکستان ایسی کمیونٹیز کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکے گا جہاں آپ معاشروں سے بالکل الگ تھلگ ہوں، جہاں آپ ایک سرے پر امیر بستیاں اور امیروں کے لیے بڑے بڑے مالز بنا رہے ہوں۔ اور دوسرے سرے پر غریبوں کی کچی بستیاں اور کوڑے کے ڈھیر۔ یہ اس قسم کا معاشرہ نہیں ہے جس میں آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے رہیں‘‘
یو این ڈی پی پاکستان کے سابق ڈائریکٹر نے میڈیا پر بھی تنقید کی، انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کی خواندگی میں کمی ہے۔ میڈیا جمہوریت کے ستونوں میں سے ایک ہے اور میڈیا کو عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت کا فوجی حکام پر انحصار کی سطح اور اس ملک کے میڈیا کو جس حد تک طاقتور ذرائع کی طرف سے ہیرا پھیری کی جاتی ہے، وہ جمہوریت کے خاتمے اور اس ملک کی بنیاد رکھنے والے اداروں کے کٹاؤ کا ذریعہ ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پاکستان میں حقوق اور مواقع کی عدم مساوات پر تشویش ہے۔ "پاکستان میں مواقع کی نسل پرستی خوفناک ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان مسائل میں سے ایک ہے جس پر UNDP یقینی طور پر پاکستان میں کام جاری رکھے گا -
غریبوں کی طرف سے بغاوت کا کوئی فوری خطرہ نہیں ہے، لیکن وہ اسے آخرکار ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں "میں اس وقت پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہوتے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ لیکن یہ بالآخر کسی نہ کسی صورت میں ہو گا۔ آپ کے پاس ایسا ملک نہیں ہو سکتا جہاں تقریباً 40 فیصد لوگ غربت میں رہتے ہوں۔
پاکستان کی تاریخ پڑھیں تو یقین نہیں ہوتا کہ یہ ملک زندہ رہے گا۔ اس پر بہت تنقید ہوئی اور لوگ شک کرتے رہے ہیں کہ بالآخر ایسا ہو گا۔ پھر بھی یہ ہے، اور یہ بہت دور تک آیا ہے لیکن اب اسے اپنے معاشی ماڈیول میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ قرضوں کی معیشت کے ماڈیول سے نکلنا پڑے گا۔ 1991 سے جو معاشی ماڈیول اپنایا گیا ہے وہ یوں ہے کہ قرضے لیکر اثاثے بناو، اور پھر ان اثاثوں پر مزید قرضے لیکر اپنا بھی پیٹ پالو اور ان کا بھی جو آپ کو لے کر آتے ہیں۔ اس ماڈیول کی بجائے اب اس ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور اسٹرکچرل ریفارمز کرنی پڑیں گی۔ کیا نون لیگ کی موجودہ اور اگلے پانچ برسوں کیلئے امیدوار حکومت ان کیلئے تیار ہے یا وہی اختیار کردہ ماڈیول چلائے گی جو وہ 1991 سے اختیار کئے ہوئے ہے ؟
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ ناممکن نظر آتا ہے
نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی تباہی
این آئی آر سی - نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) کا ادارہ سال 1972 میں IRO 1969 میں ترمیم کرکے تشکیل دیا گیا تھا اور اسے بعد ازاں ترمیم شدہ قوانین یعنی IRO ،2002 ،IRA 2008، IR0 2011 کے ذریعے برقرار رکھا گیا ہے اور اب تازہ ترین ترمیم IRA 2012 کی دفعہ 53 کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔
یہ ادارہ وفاقی اور بین الصوبائی اداروں (گورنمنٹ/ سیمی گورنمنٹ/ کارپوریشنز/ ملٹی نیشنل اور نیشنل صنعتی و تجارتی اداروں) کے آجروں اور کارکنوں کے درمیان باہمی تعلقات کو منظم کرتا ہے۔ یہ آجروں اور کارکنوں کی جانب سے غیر منصفانہ لیبر پریکٹس، صنعتی تنازعات کے حل، اسلام آباد میں عبوری ٹریڈ یونین اور یونینوں کی رجسٹریشن، فیڈریشن اور اجتماعی سودے بازی کے ایجنٹوں کے تعین کا ذمہ دار ہے اور اس کی سربراہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس جج کرتے ہیں۔ اس کے ممبران ریٹائرڈ یا حاضر سروس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، وفاقی حکومت کے افسران، NIRC کے رجسٹرار ہیں۔ یہ ادارہ صنعتی امن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو تجارتی اداروں میں اعلی پیداوار کے لیے ضروری ہے۔
نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) وزارت برائے سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی سے منسلک ایک ادارہ ہے اور آج کل دگرگوں حالات کا شکار، بدعنوانی کا گڑھ بنا نظر آتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں حکومت نے این آئی آر سی کے چیئرمین جسٹس (ر) شاکر اللہ جان کو کئی سالوں سے معاہدے میں توسیع دی ہے۔ اور اس برس بھی جسٹس (ر) شاکر اللہ جان مزید ایک سال تک اپنے عہدے پر برقرار رہنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
سہریم کورٹ کے عمر رسیدہ ریٹائرڈ جج اپنے عہدے کے دوران مزدوروں کے مسائل کے حوالے سے کوئی اقدام کرنے میں انتہائی ناکام رہے ہیں اور انکا زیادہ تر انحصار ایک اور کنٹریکٹ یافتہ ممبر نور زمان پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزرے برسوں میں جب قومی اسمبلی کے ایک رکن نے وزارت سے چیئرمین کی کارکردگی کے بارے میں پوچھا تو وزارت نے محض حقائق سے ہیرا پھیری کی اور "فیصلوں کی اجازت سے متعلق قانونی پہلوؤں" کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
این آئی آر سی پر رشوت ستانی اور بدعنوانی کے کئی الزامات ہیں، کیونکہ ٹریڈ یونینز کمیشن کے فیصلوں کو اپنے حق میں کرانے کے لیے بھاری رشوت دے رہی ہیں اور این آئی آر سی کے اہلکار ان لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں جو انھیں رشوت دینے سے انکار کرتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ٹریڈ یونین نے NIRC کے اہلکاروں پر رشوت ستانی کا الزام لگایا اور وزیر اعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستان زلفی بخاری سے اس سلسلے میں انکوائری کرنے کی درخواست کی جس کے بعد وزیراعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی نے ایک سینئر جوائنٹ سیکرٹری کو انکوائری افسر مقرر کیا۔ تاہم یہ انکوائری بے سود ثابت ہوئی اور کرپشن کا ریٹ مزید بڑھ گیا
اسی طرح وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے بھی NIRC کے سابقہ ڈپٹی رجسٹرار نوید کھوکھر کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات کیں جن کا نتیجہ نا معلوم رہا
ایک فارما ورکر ایسوسی ایشن نے بھی وزیر اعظم سے این آئی آر سی کے رکن نور زمان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ انہوں نے یونین کے چیئرمین کو یونین کی رجسٹریشن کے خلاف بھاری رشوت دینے کا کہا تھا۔ نور زمان موجودہ چیئرمین کے قریبی ساتھی ہیں اور انہیں حال ہی میں این آئی آر سی میں تمام انتظامی اور مالی معاملات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نور زمان گزشتہ کئی برس سے ایم او پی اینڈ ایچ آر ڈی کے جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ پی ٹی آئی حکومت نے چیئرمین کی سفارش پر انہیں این آئی آر سی کا ممبر مقرر کیا تھا حالانکہ ان کے پاس متعلقہ تعلیم اور تجربہ ہی نہیں تھا۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے بھی سابقہ مشیر زلفی بخاری کو پاکستان میں مزدور یونینوں کے تحفظ اور سہولت کاری کے حوالے سے خراب صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
حیرت انگیز بات اس ادارے کے ریٹائرڈ ملازمین کا بحیثیت ٹاوٹ کام کرنا ہے۔ چئیرمین کے دفتر کے ریٹائرڈ ملازمین مناسب کمیشن پر ہر ناجائز کام بلا خوف و خطر سر انجام دے رہے ہیں کیونکہ ادارے کے مختلف ڈپٹی اور اسسٹنٹ رجسٹرار ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ادارے میں انتظامی تبدیلیاں کرتے ہوئے چئیرمین کسی اچھی شہرت کے حامل حاضر سروس جج کو تعینات کیا جائے اور اس ادارے میں ایک آپریشن کلین اپ کیا جائے تاکہ آجر اور اجیر کو مسابقتی بنیاد پر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
Wednesday, September 28, 2022
تاریخ کے سبق
الله تعالیٰ نے قرآن مجید سابقہ انبیاء ان کی امتوں اور اقوام کے احوال بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ یہ واقعات اس لیے بیان کئے گئے ہیں کہ تم اس سے راه یکڑو اور عبرت حاصل کرو
ان واقعات کے قرآن مجید میں بیان کرکے عبرت پکڑنے کے فرمان میں یہ بھی حکمت بے کہ نزول قرآن کے بعد میں آنے والے اپنے سے پہلے گزر جانے والے واقعات حالات اور تاریخ سے سبق حاصل کرکے اپنے موجودہ حالات کو تاریخ کے پس منظر میں دیکھتے ہوئے درست فیصلہ کریں
بزرگوں کا بھی فرمان ہے اگر آپ تاریخ کے کرداروں کو بھلا دیں گے تو تاریخ تمھیں بھلا دے گی
ترک افواج کے خلاف عربوں کو لڑانے کے لیے انگریزوں نے اپنے ایک ایجنٹ کو مسلمان مذہبی راہنما کے طور پر عرب بھیجا دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمام عربوں کا ہر دل عزیز لیڈر بن گیا امام کعبہ ہو یا مسجد نبوی کا امام اور تو اور مسجد اقصیٰ کا امام بھی اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے تھے۔ اسے لارنس آف عریبیہ کا خطاب دیا گیا پھر اس لارنس آف عریبیہ نے عربوں کو انبیاء کی اولاد ہونے کی بنا پر باقی تمام دنیا سے افضل قرار دیا اور تمام دنیا کی حکمرانی کا حقدار ہونے کا احساس پختہ کیا۔ تمام عرب اسے پکا مسلمان اور سچا عاشق رسول ماننے لگ گئے۔
پھر اس نے عربوں کو ترک افواج کے خلاف حقیقی آزادی کے حصول اور اپنے حق حکمرانی کے حصول کے لیے ان عربوں کی محافظ ترک افواج سے لڑا دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں انگریزوں کی مداخلت کی وجہ سے ترک افواج شکست كها کر عرب چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں اور عرب آزاد ھو گئے۔
مگر عربوں کی آزادی کا یہ خواب زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور چند سال بعد برطانوی انگریزوں کی افواج نے عربوں پر چڑھائی کر دی۔ عرب افواج غیر تربیت یافتہ اور غیر منظم هونے کی وجہ سے آسانی سے انگریز کی افواج سے شکست کھا گئیں اور انگریز تمام عرب پر قابض ہو گئے۔ اسکے بعد انگریزوں نے عربوں کو ایسی غلامی میں جکڑا کہ اسرائیل کی ناجائز ریاست بھی بنائی اور آج تک بظاہر آزاد عرب ملک دراصل امریکی خوف کی غلامی سے نہیں نکل پائے۔
لارنس آف عریبیہ جاسوس تھا مگر اسے کسی نے جاسوس نہ کہا اور اس نے عربوں کو آزادی کے نام پر عثمانی سلطنت کی ترک افواج سے لڑوا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہودیوں کا غلام اور زیر دست بنا دیا۔ جس لارنس آف عریبیہ کو عرب اپنا لیڈر اور مذھبی راہنما اور نجات دهنده سمجھتے رہے اسے 1960 میں ہالی وڈ کی فلم لارنس آف عریبیہ میں برٹش یہودی کرنل کے عہدے پر فائز دکھایا گیا تو عربوں کو پتہ چلا کہ وہ لارنس آف عربیہ تو دشمن کا ایجنٹ تھا۔
اسی طرح روسی زار سلطنت کا خاتمہ بھی ان کے اندر موجود مذہبی راہنما کے ہاتھوں ہوا۔
آخری روسی زار، نکولس دوم، کی 1917 میں اقتدار سے دستبرداری سے 300 سال پرانے رومانوف خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔
راسپوٹین 1869 میں سائبیریا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔ کم عمری میں ہی اپنی آزادی خیالی کی وجہ سے راسپوٹین کی کنیت اس کی وجہ شہرت بنی۔ 1903 میں سینٹ پیٹرزبرگ میں اس کی ملاقات ایک سرکردہ آرتھوڈوکس پادری سے ہوئی جس نے اسے سینٹ پیٹرزبرگ کی اعلیٰ سوسائٹی سے متعارف کرایا۔ اس نے روحانیت کے پردے میں آزادانہ جنسیت کے لیے بھی تیزی سے شہرت حاصل کی۔ چند ہی سالوں میں اس کا تعارف زار اور زارینہ، الیگزینڈرا سے ہوا، جنہوں نے اپنے بیمار بیٹے الیکسی کا علاج کرنے کے لیے اس پر بہت زیادہ انحصار کرنا شروع کر دیا۔ الیگزینڈرا ایک گہری مذہبی عورت تھی اور راسپوٹین کی بظاہر جادوئی شفا بخش طاقتوں پر یقین رکھتی تھی، جن کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ خدا کی طرف سے ان کے بیمار بیٹے کی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے۔ جبکہ سچائی یہ تھی کہ راسپوٹین ایک خود ساختہ مقدس آدمی تھا، اس کے پاس کہا جاتا ہے کہ ہپناٹزم کی صلاحیت تھی جسے وہ مذہبی اور روحانی پردے میں استعمال کرتا تھا۔
راسپوٹین نے اپنے اور الیگزینڈرا کے درمیان قائم ہونے والے اس خاص بندھن کو زارینہ پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا۔ شاہی خاندان کے ارکان، حکومتی شخصیات اور یہاں تک کہ بہت سے عام روسی شہری بھی حیران تھے کہ یہ ’پاگل راہب‘ زار اور زارینہ پر اتنا کنٹرول کیسے رکھ سکتا ہے۔
اس اسکینڈل نے جلد شہرت حاصل کر لی. سینٹ پیٹرزبرگ میں بہت سے پوسٹر اور پوسٹ کارڈ گردش میں آ گئے جو اس خیال کو ظاہر کرتے تھے کہ زارینہ اور راسپوٹین کے مابین تعلق صرف پیر مریدی کا نہیں بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر ہے۔ زار نے راسپوٹین اور اس کے رویے سے متعلق کسی بھی منفی بات یا افواہوں پر پابندی لگا دی۔ اس عمل نے بذات خود ایک نئی سازشی تھیوری کو جنم دیا اور زار کے وفاداروں کو یقین ہو گیا کہ راسپوٹین کی امپیریل فیملی کے ارد گرد موجودگی نقصان دہ تھی، کیونکہ اس سے ایسا لگا کہ زار معاملات کو چھپا رہا ہے اور اس کا یہ اقدام اس کے سنسرشپ کے خاتمے کے وعدے کے بھی خلاف تھا جو کہ اکتوبر کے نئے منشور کا ایک اہم حصہ تھا۔
پہلی جنگ عظیم 1914 میں شروع ہوئی اور روسی فوج کو ابتدائی دس مہینوں میں 3,800,000 ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد نکولس نے فوجی معاملات کو خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ اس کارروائی نے الیگزینڈرا اور راسپوٹین کو دارالحکومت میں حکومتی فیصلے کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔ جنہوں نے حکم صادر کیا کہ اگر ڈوما (پارلیمنٹ) نے راسپوٹین پر حملہ کیا تو اسے فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا
راسپوتن بظاہر اہم فیصلوں کو جس طرح کنٹرول کر رہا تھا اس سے روس میں عدم اطمینان ایک بار پھر بڑھتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ Tsardom کے سخت ترین حامیوں کو بھی ایسے نظام کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا جس نے ایک قوم کو اس کی سب سے بڑی آزمائش میں ایک بدکار راہب کے زیر اثر کر دیا تھا۔ دسمبر 1916 میں، بادشاہت کو بچانے کی کوشش میں، اشرافیہ کے ایک گروپ نے راسپوٹین کو قتل کر دیا۔
بعد ازاں زار نکولس تخت سے دستبردار ہو گیا۔ اسیری کے دوران لینن کے حکم پر اسے اور اس کے خاندان کو قتل کر دیا گیا۔
راسپوٹین شاہی خاندان کے لیے اسکینڈل لایا۔ اس نے زار کو اپنا اکتوبر کا منشور توڑنے پر مجبور کیا۔ اس نے پہلی جنگ عظیم میں اہم فیصلوں کو متاثر کیا۔ اس کے ابتدائی سالوں میں روس ایک ناخوشگوار جگہ بن چکا تھا، ہڑتالیں، فصلوں کی ناکامی، قحط، فسادات اور زار کے جبر کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ جزوی طور پر ان مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے بلکہ جزوی طور پر مشرق بعید میں زمینی تنازعہ کی وجہ سے 1904 میں روس اور جاپان جنگ میں جنگ چھڑ گئی۔ نکولس کا خیال تھا کہ یہ ایک مختصر اور فاتح جنگ ہوگی، لیکن ایسا نہ تھا۔ 1905 میں مظاہرین نے سرمائی محل کے سامنے مظاہرہ کیا لیکن فوجیوں نے فائرنگ کی جس سے ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ روس میں ’بلڈی سنڈے‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
رومانوف خاندان کے زوال کے لیے راسپوٹین کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، روسیوں کے بڑھتے ہوئے عدم اطمینان اور نکولس کی حکمرانی کی صلاحیت پر ان کا اعتماد ختم ہونے میں راسپوٹین کا بہت اثر تھا۔ اور وہ زار شاہی خاتمے کے خاتمے میں ایک اور کیل ثابت ہوا۔ آخری کیل۔
کچھ ایسا ہی احوال آج کے منتشر پاکستان کا بھی ہے۔
حقیقی آزادی کے نام پر پاکستان کے بھولے عوام کو ان کی محافظ پاک فوج کے ساتھ لڑانے کی کوششیں ہوں یا نظام سے متنفر کرنے کے اقدامات۔ سیاسی تقاریر کو مذہبی ٹچ دینے کیلئے ادھورے کلمے سے لیکر شرک کے فتوے تک۔ کیا کچھ نہیں کیا جا رہا اور اہل دانش انگلیاں منہ میں دبائے حیرت سے گنگ ہیں۔ ایک ایسا مادر پدر آزاد گروہ تخلیق کر دیا گیا ہے جو اندھا دھند ان کی تقلید کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔
بدقسمتی سے اب آزادی کا مفہوم اور معانی تک بدل گئے ہیں۔ اگر آپ کا تعلق قوم یوتھ سے ہے،انصافیے ہیں توپھر کسی بھی محفل میں بدتمیزی سے پیش آنا ،کہیں بھی سیاسی مخالفین کو دیکھ کر ان پر آوازیں کسنا یا پھر سوشل میڈیا پر خبث باطن آشکار کرنا آپ کا بنیادی حق ہے۔ اس کلٹ کو زبان تو دیدی گئی ہے مگر بولنے کے آداب نہیں سکھائے گئے۔ جناب عمران خان نے لوگوں کو بولنے کی آزادی نہیں دی بلکہ بندر کے ہاتھ میں ماچس اور استرا تھمادیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کویہ تعلیم دی ہے کہ جو آپ کے خلاف ہے، وہ نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج ہے بلکہ غدار، ملک دشمن، کرپٹ اور بے ضمیر انسان ہے۔ آپ اس پر لعن طعن کریں، جہاں دکھائی دے، جملے کسیں یا برا بھلا کہیں، آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔
سوشل میڈیا پر تو صورتحال اس سے بھی ابتر ہے۔ اختلاف رائے کی جسارت کرنے والوں پر تو غلیظ گالیوں کی بوچھاڑ ہوجاتی ہے، ان سے اتفاق کرنے والے بھی شر سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔پڑھنے اور سننے والے بتاتے ہیں کہ ہم اس خوف سے اپنی رائے کا اظہار نہیں کرپاتے کہ ’’حقیقی آزادی‘‘ پر یقین رکھنے والے کہیں اس طرف نہ آنکلیں۔
افغانستان میں انتظامی تبدیلی کے اثرات پاکستان کی معیشت کو بھی نگل چکے ہیں۔ آج مہنگائی کا جو بحران ہماری گردنوں کو جکڑے ہوئے ہے کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اصل وجہ کیا ہے؟ یہ سرمایہ داروں کا ایسا گٹھ جوڑ ہے جو ہماری ہی گردنیں کاٹ کر تجارت کے نام پر (اسمگلنگ سے) افغانستان کو زندہ رہنے کی ہر چیز فراہم کرکے منافع کے انبار لگا رہا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کی کال کے انتظار میں ہلکان ہو کر پاکستان کی ساکھ خراب کرنا، ایبسولیوٹلی ناٹ کہنا، ہواؤں کا رُخ بدلتے دیکھ کر امریکی سازش کا بیانیہ تیار کرنا اور اس بیانیے پر اکڑ کر کھڑے ہوجانا اور جب بات نہ بنے تو امریکیوں کے سامنے لیٹ جانا، آئی ایم ایف معاہدے کی راہ میں روڑے اٹکانا، فارن فنڈنگ کیس میں، میں نہ مانوں کی رٹ لگائے رکھنا، عوام کو قومی سلامتی کے اداروں، شخصیات کے خلاف اُکسانا اور دشنام طرازی کرنا یہ سب کچھ سازش نہیں تو کیا ہے؟ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان کو رسوا کرکے کیا ملا ؟
ہر آنے والا لمحہ خان اعظم کی ”سازش“ کے چھپے رازوں کو بے نقاب کرتا رہے گا اور یہ راز از خود طشتِ ازبام ہونا شروع ہو جائیں گے۔
Wednesday, September 14, 2022
نظام کی تبدیلی (آخری حصہ)
پہلی عالمی جنگ کے بعد عالمی سطح پر ایمپائرز کے زوال کے بعد نیا عالمی نظام گزشتہ سو سال سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ اقوام متحدہ اور جمہوری طاقتیں اس میں مسلسل بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے اور کسی ایک ملک پر حملہ، آفت یا کسی اور ضرورت کے وقت ممالک ایک دوسرے کی مدد کیلئے تیار رہتے ہیں۔ ہمارا ملک آزاد ہوئے بھی 75 سال ہو گئے اور اس عرصے میں یہ اقوام عالم سے کبھی علیحدہ نہیں رہا۔ یہاں کا نظام جمہوریت کی ہی مرہون منت ہے اور برسہا برس کے انسانی تجربے کا حاصل ہے۔ ہمارا عسکری نظام ہو یا بیورو کریسی کا نظام، اس کے پاس برطانوی اور مغل انتظام کا تجربہ ہے۔ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ضرور ہے اور کمی نظام میں نہیں بلکہ نظام چلانے والوں کی کوتاہی میں ہے۔ اسے مزید دیانتداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مزید بہتر ہو جائے گا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب خان صاحب نظام کی تبدیلی کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے ان کے پاس نا تو کسی متبادل نظام کا خاکہ ہے اور نا ہی انہوں نے آج تک اس کو عوام تک پہنچایا ہے۔ اس لئے میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ یہ نعرہ صرف جذباتی استحصال پر مبنی ہے جو ان کے فدائین کیلئے ٹانک کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
خان صاحب کی موجودہ مہم کو بغور دیکھا جائے تو وہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے دن سے ہی ایک بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں اور اپنی ہائبرڈ رجیم کی حکومت کے تصور کو بھول رہے ہیں جس کی موجودہ عالمی نظام میں کوئی گنجائش نہیں۔ ٹرمپ کی طرح وہ ایک نظام سے جنگ چھیڑے ہوئے ہیں اور ان کے حامی ایک کلٹ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اداروں کو نشانہ بناتے بناتے اب وہ ملک کی سالمیت کی پروا کرنی بھی چھوڑ چکے۔ ان کی جماعت کی لیڈر شیریں مزاری کے ٹویٹس دیکھیں تو اسرائیلی وفد سے وزیر اعظم قطر میں خفیہ ملاقات سے لیکر ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے معاملات تک چھیڑ چکیں۔ ان کے دور کے خزانہ کے وزیر پنجاب اور کے پی کے کے صوبائی وزرائے خزانہ سے مل کر آئی ایم ایف ڈیل کو متاثر کرنے کی کوشش کر چکے لیکن انہیں نہیں بھولنا چاہئیے کہ کوئی بھی لیڈر ملک سے بڑا ہو سکتا ہے نہ ملک سے بڑھ کر اُس کا احترام و اکرام کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی سیاسی و مذہبی لیڈر کی پہچان اور تشخص اُس کے ملک کی وجہ ہی سے ہوتی ہے۔
کوئی لیڈر اگر ملک اور ملکی اداروں کا احترام اور لحاظ ملحوظِ خاطر نہیں رکھتا تو وہ خود بھی احترام و محبت کا حقدار نہیں کہلا سکتا۔ ایسے شخص کی عزت کی ہی نہیں جا سکتی۔
جناب عمران خان کو اِس ملک، اِس ملک کے اداروں اور اِس ملک کی عوام نے جتنی محبت اور احترام بخشا ہے، آج تک کسی لیڈر کو نہیں ملی۔ وہ پونے چار سال وزیر اعظم کی کرسی پر تشریف فرما رہے لیکن سوائے اپنے مخالفین کو جیلوں میں ٹھونسنے، صحافت کا گلا دبانے اور چور چور کے نعرے لگانے کے کوئی مثبت اور دیرپا عوامی و ملکی خدمت انجام نہ دے سکے۔
اقتدار چھِن جانے سے پہلے بھی خان صاحب نے دھمکی دیتے ہُوئے کہا تھا ’’ اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو مَیں زیادہ خطرے ناک ہو جاؤں گا۔‘‘ یعنی وہ ’’خطرناک ‘‘ تو پہلے ہی تھے اور اقتدار سے نکالے جانے کے بعد زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔
خان صاحب اپنے تئیں ’’خطرناک‘‘ ہوکر عوام اور ملک کا تو فی الحال کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے۔ ہاں، اپنا بہت کچھ بگاڑ نے کا موجب بن رہے ہیں۔
اپنی اس "حقیقی تبدیلی" کی مہم میں خان صاحب اداروں کو مختلف ناموں سے پکارنے اور لوگوں کو دھمکیاں دیتے دیتے اس وقت عدالت کے سامنے ملزم کے طور پر کھڑے نظر آتے ہیں لیکن آج تک انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا نظام کی تبدیلی کا مطلب کیا ہے ؟ ہاں ان کی باتوں، اعمال، انکے جلسوں کے شرکا اور انکی ایک مخصوص کمیونٹی میں مقبولیت، انکے ادا کردہ ادھورے کلمے اور شرک کے فتووں سے ایک شائبہ ضرور ہوتا ہے۔ کہیں ان کا مرغوب نظام ایل جی بی ٹی ایجنڈا سے متاثر تو نہیں ؟
Tuesday, September 13, 2022
نظام کی تبدیلی (دوسرا حصہ)
بیسویں صدی کا آغاز دنیا کو ایک نئے نظام کی نوید دے رہا تھا۔ دنیا بادشاہی نظام سے کسی دوسرے نظام کی متلاشی تھی کیونکہ انسانی شعور اس سطح پر پہنچ چکا تھا کہ جہاں انسان پر انسان کی غلامی بلکہ مطلق العنانیت کے دروازے اب بند ہو رہے تھے۔ دنیا میں انسان نے اپنے علم کی معراج کو چھونا تھا اور نظام حکومت ایک نئی جہت یعنی حکومت کے انتظام میں عوام کی شراکت کی ضرورت ضروری ہو گئی تھی ۔ 20 ویں صدی میں اہم واقعات کا غلبہ تھا، ہسپانوی فلو کی وبائی بیماری، پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم، جوہری ہتھیار، جوہری توانائی اور خلائی تحقیق، قوم پرستی اور غیر آبادکاری، تکنیکی ترقی، اور سرد جنگ اور سرد کے بعد۔ جنگی تنازعات۔ اس نے دنیا کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو نئی شکل دی۔
اس دور میں بڑی بادشاہتوں کو یا تو تبدیل ہونا تھا یا پھر ختم ہونا ان کا مقدر تھا۔ ان بڑی بادشاہتوں میں سلطنت روس، سلطنت عثمانیہ اور سلطنت برطانیہ شامل تھیں۔ حیرت انگیز طور پر سلطنت روس اپنے نظام کا خود شکار ہوئی، سلطنت عثمانیہ کو بیرونی و اندرونی عوامل نے ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیا جبکہ سلطنت برطانیہ نے تبدیلی کی نوید پا کر اپنے آپ کو بدل لینے اور اپنے اختیارات اپنے عوام کو سونپ دینے میں ہی اپنی عافیت جانی۔باقی چھوٹی بادشاہتوں کا مقدر اپنے عوام کے ہاتھوں بربادی ٹھہرا اور یا تو وہ خود ہی پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا شکار ہوئیں یا پھر انقلابات نے عوام کو اپنی حکومت قائم کرنے پر مجبور کر دیا جیسے کہ سلطنت آسٹریا یا سلطنت فرانس وغیرہ
گذشتہ کالم میں ہم نے آپ کو سلطنت روس کی تباہی اور اس میں راسپوٹین کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ آئیے اب سلطنت عثمانیہ کی ٹوٹ پھوٹ کے ذمہ دار ٹی۔ ای۔ لارنس کے بارے میں بتائیں کہ کیسے اس نے تن تنہا ایک ایسی سلطنت کو عرب اور غیر عرب میں بانٹ دیا اور بالآخر سلطنت عثمانیہ کا نام تاریخ کی کتابوں کی زینت بنا دیا
لارنس آف عریبیا
تھامس ایڈورڈ لارنس، پیدائش اگست 16، 1888، ویلز — وفات 19 مئی 1935، ڈورسیٹ، انگلینڈ، برطانوی آثار قدیمہ کے اسکالر کے بھیس میں فوجی حکمت عملی کا ماہر ایک برطانوی ایجنٹ مشرق وسطیٰ میں اپنی افسانوی جنگی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے۔
لارنس، سر تھامس چیپ مین اور سارہ میڈن کا بیٹا تھا، اس کی ماں سارہ، سر تھامس کی بیٹیوں کی گورننس تھی، جن کے ساتھ وہ شادی کیلئے آئرلینڈ سے فرار ہو گیا تھا۔
جوڑے کے پانچ بیٹے تھے (تھامس ایڈورڈ دوسرے تھا)۔ 1896 میں یہ خاندان آکسفورڈ میں آباد ہوا، جہاں T.E. (اس نے ناموں پر ابتدائیہ کو ترجیح دی) نے ہائی اسکول اور جیسس کالج میں تعلیم حاصل کی۔ قرون وسطی کے فوجی فن تعمیر میں اس کی دلچسپی تھی، اور اس نے فرانس میں صلیبی قلعوں اور (1909 میں) شام اور فلسطین میں اس کی تاریخی ترتیبات میں اس کا مطالعہ کیا اور اس موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا جس پر اس نے 1910 میں تاریخ میں فرسٹ کلاس اعزاز حاصل کیا۔ (یہ 1936 میں Crusader Castles کے نام سے اس کے مرنے کے بعد شائع ہوا تھا۔) ، اس نے میگڈلین کالج سے ڈیمی شپ (ٹریولنگ فیلوشپ) حاصل کی اور فرات پر کارکیمش کی بستی کی کھدائی کرنے والی مہم میں شامل ہوا، وہاں 1911 سے 1914 تک کام کیا، پہلے ہوگارتھ اور پھر سر لیونارڈ وولی کے ماتحت، اور اپنا فارغ وقت استعمال خوب استعمال کیا۔ سفر کیا اور مقامی زبان اور لوگوں سے واقفیت حاصل کی۔ 1914 کے اوائل میں وہ اور وولی اور کیپٹن ایس ایف۔ نیوکومبی، سوئز کے مشرق میں ترکی کی سرحد پر، شمالی سینائی کی تلاش مہم میں شامل ہوئے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ ایک سائنسی مہم، اور درحقیقت فلسطین ایکسپلوریشن فنڈ کی طرف سے سپانسر کی گئی، یہ غزہ سے عقبہ تک نقشہ سازی کا منصوبہ تھا، جو اسٹریٹجک اہمیت کا حامل تھا۔ مقالہ لارنس اور وولی نے ایک ساتھ لکھا، یہ 1915 میں دی وائلڈرنس آف زن کے نام سے شائع ہوا۔
جس مہینے جنگ عظیم اول شروع ہوئی، لارنس لندن میں وار آفس کے میپ ڈیپارٹمنٹ کا سویلین ملازم تھا، جس نے سینائی کا عسکری طور پر مفید نقشہ تیار کرنے کا اعزاز حاصل کیا ۔ دسمبر 1914 تک وہ قاہرہ میں لیفٹیننٹ رہا۔
عرب امور کے ماہرین - خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے ترکی کے زیر قبضہ عرب سرزمینوں میں سفر کیا تھا - نایاب تھے، اسے انٹیلی جنس پر مامور کیا گیا تھا، جہاں اس نے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزارا، زیادہ تر قیدیوں کے انٹرویو کرنے، نقشے تیار کرنے، ایجنٹوں سے ڈیٹا حاصل کرنے اور اس پر کارروائی کرنے میں۔ دشمن کی لکیریں، اور ترک فوج پر ایک ہینڈ بک تیار کرنا اس کی ذمہ داری تھی۔ مصر اس وقت مشرق وسطیٰ کی عسکری کارروائیوں کے لیے بے مثال ناکامی کا میدان تھا۔ عرب کے دورے نے لارنس کو جرمنی کے ترک اتحادی کو کمزور کرنے کے متبادل طریقہ پر قائل کیا۔
اکتوبر 1916 میں وہ سفارت کار سر رونالڈ اسٹورز کے ساتھ عرب کے ایک مشن پر گیا، جہاں مکہ کے امیر، حسین ابن علی نے گزشتہ جون میں ترکوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ سٹورز اور لارنس نے حسین کے بیٹے عبداللہ سے مشورہ کیا، اور لارنس کو اجازت ملی کہ وہ ایک اور بیٹے، فیصل کے ساتھ مزید مشاورت کے لیے آگے بڑھے، جو مدینہ کے جنوب مغرب میں ایک عرب فوج کی کمان کر رہا تھا۔ نومبر میں قاہرہ واپس آ کر لارنس نے اپنے اعلیٰ افسران پر زور دیا کہ وہ اسلحے اور سونے سے بغاوت کی کوششوں کو آگے بڑھائیں اور عام فوجی حکمت عملی کے ساتھ آزادی کی خواہشات کو جوڑ کر اختلافی شیخوں کا استعمال کریں۔ اس نے سیاسی اور رابطہ افسر کے طور پر فیصل کی فوج میں دوبارہ شمولیت اختیار کی۔
اس کے دماغ، اس کی تنظیمی قوت، قاہرہ کے ساتھ اس کا رابطہ، اور اس کی فوج کا دوسرا محاذ ایک ہٹ اینڈ رن گوریلا آپریشن تھا، جس میں پلوں اور سپلائی ٹرینوں کی تباہ کاری اور دشمن کی افواج کو باندھنا تھا اور اس نے دمشق تا مدینہ ریلوے کو بڑی حد تک ناکارہ رکھا، ترک اس طرح بغاوت کو کچلنے میں بے بس رہے۔ اس طرح کے انداز میں لارنس عرب شیخوں کو ایک عرب قوم کے بارے میں اپنے بادشاہ بنانے والے کے وژن کی طرف متوجہ کیا، انہیں اپنی ذاتی بہادری کی مثالیں پیش کیں۔ عربوں کو علم بغاوت بلند کرنے پر انہیں دشمن(ترک) کے مال غنیمت اور انگریزی سونے کے بادشاہوں کے وعدوں کے ساتھ رشوت دی۔
عقبہ — بحیرہ احمر کے انتہائی شمالی سرے پر — عرب گوریلا افواج کی پہلی بڑی فتح تھی۔ انہوں نے 6 جولائی 1917 کو دو ماہ کے مارچ کے بعد اس پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد لارنس نے عرب تحریکوں کو جنرل سر ایڈمنڈ ایلنبی کی مہم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، جو یروشلم کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے، یہ حربہ صرف جزوی طور پر کامیاب رہا۔ اس کی اپنی تحریر کے مطابق، نومبر میں لارنس کو ترکوں نے درعا میں عرب لباس میں علاقے کی دوبارہ تلاش کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا اور وہ بظاہر پہچان لیا گیا تھا اور فرار ہونے میں کامیاب ہونے سے پہلے اسے بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ اگلے مہینے، اس کے باوجود، لارنس نے یروشلم میں فتح کی پریڈ میں حصہ لیا اور پھر تیزی سے کامیاب کارروائیوں میں واپس آیا جس میں فیصل کی افواج نے شمال کی طرف راستہ روک لیا۔ لارنس ڈسٹنگویشڈ سروس آرڈر (DSO) کے ساتھ لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر پہنچ گیا۔
اکتوبر 1918 میں جس وقت موٹلی عرب فوج دمشق پہنچی، لارنس جسمانی اور جذباتی طور پر تھک چکا تھا وہ متعدد بار زخمی ہوا، پکڑا گیا، اور تشدد کا نشانہ بنا۔ بھوک، موسم اور بیماری کی انتہا کو برداشت کیا؛ لارنس جنگ بندی سے ٹھیک پہلے گھر کے لیے روانہ ہوا
30 سال کا ایک کرنل، لارنس 34 سال کا پرائیویٹ تھا۔ درمیان میں اس نے 1919 میں پیرس امن کانفرنس میں عربوں کی آزادی کے لیے لابنگ کی (یہاں تک کہ عرب لباس میں بھی نظر آیا) اور شام اور لبنان کی باقی عربوں سے لاتعلقی کے خلاف لابنگ کی اس دوران اس نے اپنی جنگی یادداشتوں پر کام کیا، اس مقصد کے لیے آل سولز کالج، آکسفورڈ میں ایک ریسرچ فیلوشپ حاصل کی، جو نومبر 1919 میں مؤثر (سات سالہ مدت کے لیے) تھی۔
مارچ 1921 میں، اسے نوآبادیاتی وزیر، اس کے بعد ونسٹن چرچل کے عرب امور کے مشیر کے طور پر مشرق وسطیٰ واپس بھیج دیا گیا۔ اس وقت تک جنگ عظیم اول ختم، نئے عرب ملکوں کی پیدائش اور سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا اور یورپی طاقتیں عرب خطے کے حصے بخرے کر کے اپنے اپنے حصے طے کر چکے تھے
دنیا لارنس کو عربوں میں گھل مل کر انہیں استعمال کر کے انہیں عثمانی سلطنت کے خلاف بغاوت اور عرب کے کئی ٹکڑے ہونے کے مرکزی کردار کے طور پر یاد رکھتی ہے۔
Monday, September 12, 2022
نظام کی تبدیلی - (حصہ اول)
انیسویں صدی کے اوائل میں دنیا نے دو بڑی بادشاہتوں کا زوال دیکھا۔ ان بادشاہتوں کی جگہ نئے نظام حکومت متعارف ہوئے۔ اس طرح تاریخ نے انیسویں صدی میں نظام حکومت بدلتے دیکھے۔ دونوں بادشاہتوں کے زوال کی تاریخ اٹھائیں تو آپ کو دو کردار نظر آئیں گے روس کا راسپوٹین اور سلطنت عثمانیہ کا لارنس آف عریبیا۔ آئیے تاریخ کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ ان بادشاہتوں کے زوال کا سبب بننے والے مرکزی کرداروں نے ایسا کیا کیا کہ صدیوں پرانی بادشاہتیں اب صرف تاریخ کے اوراق میں ہی ملتی ہیں ۔
زار روس اور راسپوٹین
روس میں 300 سے زائد عرصہ زار ایمپائر رہی۔ یہ ایمپائر فن لینڈ تا پولینڈ اور تمام روس جس میں نو آزاد روسی ریاستیں شامل تھیں پر مشتمل تھی اور نکولس یا نکولائی الیگزینڈرووچ رومانوف (18 مئی 1868 تا 17 جولائی 1918، روس کا آخری زار تھا۔ اسے روسی آرتھوڈوکس چرچ میں سینٹ نکولس دی پیشن بیئرر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ روس کا آخری شہنشاہ تھا۔ جسے پولینڈ اور فن لینڈ کے گرینڈ ڈیوک کا خطاب بھی ملا، 1 نومبر 1894 سے 15 مارچ 1917 کو اپنے دستبردار ہونے تک حکومت کرتا رہا۔
اپنے دور حکومت کے دوران، نکولس نے اپنے وزرائے اعظم، سرگئی وِٹے اور پیوٹر اسٹولپین کی طرف سے فروغ دی گئی اقتصادی اور سیاسی اصلاحات کو نافذ کیا۔ اس نے غیر ملکی قرضوں اور فرانس کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنیاد پر جدیدیت کی طرف بھی قدم بڑھائے، لیکن نئی پارلیمنٹ (ڈوما) کو اہم کردار دینے کی مخالفت کی۔ بالآخر، نکولس کی آمرانہ و مطلق العنان بادشاہی نظام کی مضبوط اشرافیہ کی مخالفت، روس-جاپانی جنگ اور پہلی جنگ عظیم میں روسی فوج کی شکستوں سے مارچ 1917 تک، نکولس کے لیے عوامی حمایت ختم ہوئی اور وہ تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوا۔
اس طرح رومانوف خاندان کی روس پر 304 سالہ حکمرانی (1613–1917) کا خاتمہ ہو گیا۔
زار روس کے زوال میں جس کردار کا سب سے بڑا سبب گردانا جاتا ہے وہ بدنام زمانہ راسپوٹین ہے۔ پہلی جنگ عظیم، جاگیرداری کی تحلیل، اور حد درجہ مداخلت کار سرکاری بیوروکریسی - ان سب نے روس کی تیزی سے اقتصادی زوال میں حصہ ڈالا۔ بہت سے لوگوں نے ملکہ اور راسپوٹین پر الزام لگایا۔ ڈوما کے ایک رکن، انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان ولادیمیر پورشکیوچ نے نومبر 1916 میں کہا کہ اس نے زار کے وزراء کو مکڑی کے چھتے میں تبدیل کر دیا تھا، جن کے دھاگوں کو راسپوٹین اور مہارانی الیگزینڈرا فیوڈورونا نے مضبوطی سے ہاتھ میں لے لیا تھا -
راسپوٹین ایک سائبیرین گاؤں میں ایک کسان خاندان میں پیدا ہوا۔ 1897 میں ایک خانقاہ کی زیارت کے بعد اس نے اپنے اندر مذہبی تبدیلی کا دعوی کیا ۔ تاریخ میں اسے ایک راہب کے طور پر بیان کیا گیا ہے، حالانکہ روسی آرتھوڈوکس چرچ میں اسے کوئی حیثیت نہیں دی گئی تھی۔ اس نے 1903 یا 1904-1905 کے موسم سرما میں سینٹ پیٹرزبرگ کا سفر کیا، جہاں اس نے کچھ چرچ اور سماجی رہنماؤں کو اپنے سحر میں لے لیا اور وہ روسی سوسائیٹی میں پہچانا جانے لگا۔ نومبر 1905 میں اس کی ملاقات شہنشاہ نکولس اور مہارانی الیگزینڈرا ہو گئی۔ اور 1906 کے اواخر میں، راسپوٹین نے شاہی جوڑے کے اکلوتے بیٹے، الیکسی، جو ہیموفیلیا میں مبتلا تھا، کے لیے شفا یابی کے لئے کام کرنا شروع کیا۔ راسپوٹین کی شفا یابی کی طاقتوں پر شاہی خاندان کے اعتقاد نے اسے شاہی دربار میں کافی حیثیت اور طاقت حاصل بخشی۔ زار نے راسپوتن کو اپنا لیمپڈنک (چراغ جلانے والا) مقرر کیا، اس سے اسے محل اور شاہی خاندان تک باقاعدہ رسائی حاصل ہوئی۔ راسپوٹین نے اپنے عہدے کو مکمل اثر انداز کرنے کے لیے استعمال کیا، مداحوں سے رشوت قبول کی اور اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے تندہی سے کام کیا۔
وہ شاہی دربار میں ایک تفرقہ انگیز شخصیت تھا، جسے کچھ روسیوں نے ایک صوفیانہ، بصیرت اور نبی کے طور پر دیکھا، اور دوسروں نے ایک مذہبی زار کے طور پر دیکھا۔ راسپوٹین کی طاقت کا عروج 1915 میں تھا جب نکولس دوم نے پہلی جنگ عظیم میں لڑنے والی روسی فوجوں کی نگرانی کے لیے سینٹ پیٹرزبرگ چھوڑا، جس سے ملکہ الیگزینڈرا اور راسپوٹین دونوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔ اور کہا جانے لگا کہ ملکہ سانس بھی اس سے پوچھ کے لیتی ہے۔ شاہی دربار کے احکامات اس سے پوچھ کے ہونے لگے اور اسکی مذہبی دعا کے بغیر کوئی سرکاری کام ہونا ناممکن سمجھا جانے لگا۔
جنگ کے دوران مسلسل شکستوں سے راسپوٹین اور الیگزینڈرا دونوں تیزی سے غیر مقبول ہوتے گئے اور 30 دسمبر 1916 کی صبح، راسپوٹین کو قدامت پسندوں کے ایک گروپ نے قتل کر دیا جو الیگزینڈرا اور نکولس پر اس کے اثر و رسوخ کے مخالف تھے۔
مورخین کا اس بات پہ اتفاق ہے کہ راسپوٹین کی مکروہ ساکھ نے زار کی حکومت کو بدنام کرنے میں اہم کردار انجام دیا اور صرف چند ماہ بعد رومانوف خاندان کا تختہ الٹ گیا۔
(جاری ہے)
Wednesday, August 31, 2022
انتشار اور تعمیر
انتشار اور تعمیر
عین اس وقت جب پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب ملک کی آبادی کا ایک تہائی سیلاب کی زد میں تھا، آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس سے پہلے پی ٹی آئی کی خیبر پختون خواہ حکومت کے وزیر خزانہ نے پاکستان کی آئی ایم ایف سے ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین کے کہنے پر ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ سرپلس دینے سے قاصر ہوں گے جس کا وہ پہلے وعدہ کر چکے تھے۔ اسی دن دوپہر کو تمام نیشنل میڈیا ان خفیہ کالوں سے گونج رہا تھا جس میں شوکت ترین پنجاب اور کے پی کے کے وزرا خزانہ کو فون کر کے گائیڈ کر رہے تھے کہ وہ خط لکھیں تاکہ اس حکومت کو سبق سکھایا جا سکے جو پی ٹی آئی کے چئیرمین کو تنگ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہیں یہ مسئلہ نہیں تھا کہ اس سے ریاست نقصان اٹھائے گی بلکہ وہ حکومت کو سبق سکھانے پر تلے نظر آئے۔
لیکن رات آنے تک آئی ایم ایف اپنے بورڈ اجلاس میں ڈیل کی منظوری دے چکا تھا۔
پاکستان میں غیرمعمولی مون سون بارشوں اور برفانی گلیشئیر پگھلنے کی وجہ سے آنے والے تباہ کن سیلاب نے اب تک 1,000 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے اور لاکھوں گھر اور لاکھوں ایکڑ فصلوں کو تباہ کیا ہے، جس سے 30 ملین سے زیادہ پاکستانی متاثر ہوئے ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ملک بھر میں بارش اوسط سے تقریباً تین گنا زیادہ اور صوبہ سندھ جیسے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں، پانچ گنا زیادہ ہوئی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اسے عالمی اوسط سے کافی زیادہ گرمی کی شرح اور ممکنہ طور پر زیادہ، بار بار اور شدید موسمیاتی واقعات کا سامنا ہے۔ یہ واقعات خاص طور پر پسماندہ اور خطرے سے دوچار آبادیوں کے لیے خطرہ ہیں، بشمول بوڑھے، معذور افراد، غربت میں مبتلا افراد، اور دیہی آبادی۔
پاکستان کے تباہ کن سیلاب ایک گہرے معاشی بحران کے درمیان آئے ہیں۔ اس کے 230 ملین میں سے چالیس فیصد لوگوں کو 2020 میں غذائی عدم تحفظ کا سامنا تھا، اس کے باوجود صرف 8.9 ملین خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے امداد ملی۔ غربت دیہی علاقوں میں مرکوز ہے، خاص طور پر سیلاب سے سخت متاثر علاقوں میں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے بورڈ نے 29 اگست کو میٹنگ کی اور، پاکستانی حکام کے مطابق، جولائی 2019 میں منظور شدہ رکے ہوئے قرض پروگرام کو بحال کرنے اور پاکستان کی آبادی پر معاشی بحران کے کچھ بوجھ کو کم کرنے کے لیے تقریباً 1.17 بلین امریکی ڈالر کی تقسیم کا فیصلہ کیا۔
حالیہ سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت کو فنڈز کی آمد کو متاثرہ لوگوں کی مدد کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور IMF کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے پاس پائیدار، جامع اور حقوق پر مبنی بحالی کے لیے وقت اور لچک ہو۔
سیلاب کے بعد کی صورتحال کے بارے میں نیوز اور جنگ کے معاشی تجزیہ نگار مہتاب حیدر لکھتے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں مالی سال کیلئے پاکستان کیلئے 3.5 فیصد کی کم جی ڈی پی کی شرح نمو اور اوسطاً 19.9 فیصد مہنگائی کے ساتھ ’جمود‘ کی پیش گوئی کی تھی۔ اس نسخے سے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت پاکستان میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔ ایسا کوئی نسخہ دستیاب نہیں ہے کہ جون 2023 میں موجودہ پروگرام کی میعاد ختم ہونے کے بعد کاؤنٹی آئی ایم ایف پروگرام سے باہر آجائے گی۔ اگر جون 2023 کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 16.2 ارب ڈالرز کی مطلوبہ سطح تک نہ بڑھ سکے تو ملک کو ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت ہو گی۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے یہ تجزیہ جات سیلابی صورتحال سے پہلے کے ہیں اور موجود وسائل اور سیلاب کے بعد کی صورتحال میں ان میں اضافے کی توقع ہے
اس معاشی اور سماجی بحران میں سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ عظمت افروز خان کا خیال ہے کہ "خان اب تک کئی ریڈ لائنز کراس کر چکے ہیں جن میں شہباز گل کی بلاوجہ مداخلت اور تازہ ترین آئی ایم ایف ڈیل کو سبوتاژ کرکے ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش۔ ان کے خیال میں اس میں کوئی شک نہیں کہ خان صاحب ہر ادارے میں تقسیم پیدا کرنے کوشش کر کے اس تقسیم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اب شاید ریاست اب اس سلسلے کو مزید برداشت نا کر سکے۔"
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف کی ڈیل کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کامیاب ہو جاتی تو موجودہ سیلابی کیفیت میں حکومت ایک اندھیری گلی میں کیسے کھڑی نظر آتی جو ڈیفالٹ سامنے دیکھ رہی ہو ؟
میں نے گزشتہ کالم میں گزارش کی تھی کہ انتشار کی سیاست نا تو ٹرمپ کو راس آئی ہے اور نا ہی عمران خان صاحب کو راس آئے گی۔ کیونکہ ریاستیں انتشار نا افورڈ کیا کرتی ہیں اور نا ہی برداشت۔ شوکت ترین کی کالز کا منظر عام پر آنا بتاتا ہے کہ بجنے والی گھنٹیاں کہیں نا کہیں سن لی گئی ہیں۔
مستقبل کے لائحہ عمل کیلئے ایک اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور متعدد این جی اوز سے تعلق رکھنے والے خالد سیف اللہ جو آج کل جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی سے منسلک ہیں، کا خیال ہے کہ "تحریک انصاف اگر اپنی بقا چاھتی ھے اور اس ملک کے سیاسی منظر نامے پہ اپنا وجود برقرار رکھنا چاھتی ھے تو اسے تنگ نظری کی سیاست پہ نظر ثانی کر نا ھو گی۔ اور سمجھنا ھو گا کہ ان آڈیو لیکس کا نتیجہ تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کیلیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ھے۔ خان صاحب کیلئے ابھی بھی موقع ھے کہ سیاسی تنہائی سے نکلیں اور دوسری سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کر کے ملک کی بہتری کی سوچ اپنائیں۔ میثاق معیشت ہی اس ملک کی ترقی کا واحد حل ھے اگر تمام اسٹیک ہولڈرز بیس سے پچیس سال کے کسی بھی منصوبے پہ اتفاق کر لیں اور مل بیٹھ کر اس ملک کے معاشی مستقبل پر سیاست نہ کرنے کا عہد کرلیں تو معاشی خوشحالی کے نتیجہ میں سیاسی نظام میں خلل کا راستہ بھی روکا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کیلیے ریاست کے تمام ستونوں کو مل بیٹھ کر کچھ سخت فیصلے کرنا ھوں گے۔"
Wednesday, August 24, 2022
انتشار کی سیاست
عین اس وقت جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا کے گھر کی ایف بی آئی کی تلاشی کے تناظر میں، کچھ انتہائی دائیں بازو کی شخصیات آن لائن پرتشدد بیان بازی کر رہی ہیں اور وہاں ایک اور قسم کی سول وار کے خطرات کے بارے میں وہاں کے ماہرین سیاست تجزئے کر رہے ہیں اسی ہفتے پاکستان میں عمران خان کی گرفتاری کے خدشے نے ان کے ورکرز کو انکی رہائش گاہ بنی گالا پر اکٹھا ہونے پر مجبور کیا اور وہ کھلم کھلا عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ چلا رہے ہیں جو اب تک ٹوٹر پر ٹاپ میں سے ایک ٹرینڈ ہے
آئیے، دیکھتے ہیں کہ امریکہ میں کیا ہو رہا ہے۔ بزنس انسائیڈر کی حالیہ اشاعت میں اس پر روشنی ڈالی گئی ہے: ریپبلکن پارٹی نے طویل عرصے سے خود کو "امن و امان" کے محافظ کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن ٹرمپ کے گھر چھاپے کے نتیجے میں ریپبلکن قانون ساز مارجوری ٹیلر گرین نے FBI کو نشانے پر لے لیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر "سول وار" کا حوالہ بھی دیا۔ کیونکہ ان کے ریپبلکن ساتھی ایف بی آئی کا موازنہ گیسٹاپو سے کرتے ہیں اور چھاپے کو اس طرح کی چیز کے طور پر پیش کرتے ہیں جو صرف "تیسری دنیا" کے ممالک میں ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ/ ریپبلکن پارٹی کے لاکھوں ووٹرز اس غلط تصور پر یقین کرتے رہتے ہیں کہ 2020 کے صدارتی انتخابات ٹرمپ سے چوری کیے گئے تھے۔
انہوں نے پچھلے سال 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل میں مہلک فسادات کو متحرک کیا تھا، اور تاریخ دان اور جمہوریت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ جھوٹ مزید تشدد کے امکانات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے خانہ جنگی دیکھی تو یہ پہلی جیسی نہیں ہوگی۔
فیونا ہل، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے دوران قومی سلامتی کونسل میں روس کے سرکردہ ماہر کے طور پر خدمات انجام دیں، نے گزشتہ ماہ انسائیڈر کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا کہ ملک ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں "مختلف برادریوں اور حکام پر اعتماد" اس حد تک ختم ہو گیا ہے کہ لوگ صرف ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
ٹرمپ کے گھر پر چھاپے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت بعد، ایک مسلح شخص نے سنسناٹی میں ایف بی آئی کے فیلڈ آفس میں گھسنے کی کوشش کی۔ حکام نے کسی مقصد کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن مبینہ طور پر اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس شخص نے جو بالآخر پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تھا کا انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی سے تعلق تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ مشتبہ بندوق بردار رکی شیفر نے ٹرمپ کے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر ایف بی آئی کے خلاف جنگ اور تشدد کی کال پوسٹ کی تھی۔
سان ڈیاگو کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پولیٹیکل سائنس کی پروفیسر باربرا ایف والٹر نے جو سیاسی تشدد پڑھانے میں مہارت رکھتی ہیں، نے پوسٹ کو بتایا، "جب لوگ خانہ جنگی کے بارے میں سوچتے ہیں، تو وہ پہلی خانہ جنگی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اور ان کے ذہن میں، دوسری جنگ کی طرح نظر آئے گی۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہے،" والٹر نے پوسٹ کو بتایا۔ "ہم جس چیز کی طرف بڑھ رہے ہیں وہ ایک شورش ہے، جو کہ خانہ جنگی کی ایک شکل ہے۔ یہ خانہ جنگی کا 21 ویں صدی کا ورژن ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں طاقتور حکومتیں اور طاقتور فوجیں ہیں، جیسا کہ امریکہ ہے۔ "
واشنگٹن پوسٹ نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک حالیہ ملاقات کے دوران، تاریخ دانوں کے ایک گروپ نے صدر جو بائیڈن کو خبردار کیا کہ امریکہ کو ایسے خطرات کا سامنا ہے جو خانہ جنگی سے پہلے کے دور میں ملک نے دیکھے
ادھر اپنے ملک میں دیکھئے تو ٹائم کی تازہ رپورٹ کے مطابق: یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں سنٹر فار مسلم سٹیٹس اینڈ سوسائٹیز کی ڈائریکٹر ثمینہ یاسمین کہتی ہیں کہ مرکزی دائیں بازو کی مسلم لیگ (ن) پارٹی کے وزیر اعظم شہباز شریف کی نئی حکومت نے جو خان کے دیرینہ دشمن نواز شریف کے بھائی ہیں، نے خان کو "ہسٹیریا بڑھانے" کی اجازت دینے کی غلطی کی ہے۔ لیکن اب اناڑی طریقے سے کریک ڈاؤن کرکے "اور بھی عدم استحکام" کا سامنا ہے۔"
پاکستانی معاشرہ شاذ و نادر ہی اس قدر پولرائزڈ ہوا ہے، جس میں آدھا ملک خان کو نجات دہندہ اور آدھا شیطان کا اوتار سمجھتا ہے۔ یاسمین کہتی ہیں، ’’مؤثر طریقے سے، اس نے جو کچھ کیا اس سے ملک تقسیم ہو گیا ہے۔ یہ بہت زیادہ ٹرمپ کی طرح ہے [امریکہ میں] اور اگر امریکہ ابھی تک مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا تو پاکستان جیسا ملک کیسے سنبھل سکتا ہے؟"
میں کہتا رہا ہوں کہ عمران خان اور امریکی ریپبلیکن پارٹی/ ٹرمپ کے درمیان مکمل ذہنی ہم آہنگی ہے اور دونوں کے انداز سیاست کا رنگ اس وقت نظر آیا جب خان نے اپنی پارٹی میں امریکی رائٹ ونگ گروپ پراوڈ بوائز کی طرز پر ٹائیگر فورس کی تشکیل کرنی شروع کی۔ یاد رہے کہ یہی پراوڈ بوائز تھے جو امریکی کیپیٹل ہل پر حملے میں پیش پیش تھے۔ اور اب جبکہ خان نے امریکہ میں ایک نئی پی آر او کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں انٹر نیشنل کمیونٹی میں ایک نئی کمپین کی توقع ہے جس کا آغاز اقوام متحدہ سے بیان، موقر جریدوں میں آرٹیکلز اور ٹوٹر پیغامات کی صورت میں ہو چکا ہے۔
کیا کہیں گھنٹیاں بج رہی ہیں ؟
خوش رہنے کا ہنر
اگست 2016 میں، میں فیروز پور روڈ لاہور پہ واقع اپنے دفتر سے نکلا تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس دن میری زندگی بدلنے والی ہے۔ میں ان دنوں اپنی کمپنی کیلئے کچھ اہم پوزیشنز پر ہیڈ ہنٹنگ کر رہا تھا اور مجھے ایک اہم پوزیشن کو فل کرنے کیلئے اس شام ایک صاحب سے ملاقات کرنی تھی۔ پاک عرب سوسائیٹی سے ان سے مل کر نکلا تو رات کے 8 بج چکے تھے۔ گھر پہنچا تو لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی بند تھی جبکہ میں گاڑی میں مسلسل اے سی میں ہونے کی وجہ سے اس چکر میں تھا کہ گرمی میں کیسے ٹائم گزرے تو اپنے ساتھی کو باہر سے ہی فون کر کے بلا لیا کہ چلو کچھ کھا کر واپس آتے ہیں اتنی دیر میں بجلی بھی آ جائے گی۔ خیر وہاں سے ایک لانگ ڈرائیو اور کھانا کھا کر قینچی امر سدھو کے ایل شیپ ٹرن پر پہنچے تو فروٹ کی ریہڑیوں پر رک گئے۔ اب جو لوگ لاہور سے واقف ہیں انہیں اچھی طرح اس اسپاٹ کا معلوم ہے کہ یہاں ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کا کتنا ہجوم ہوتا ہے اور یہ کتنی پر ہجوم جگہ ہے۔ خیر میں نے گاڑی روکی اور اپنے ساتھی کو پرس سے پیسے نکال کر کچھ فروٹس لینے کیلئے کہا۔ پرس آلسی میں ڈیش بورڈ پر رکھا جہاں موبائل پہلے پی پڑا تھا اور سیٹ سے سر ٹکا کر دن بھر کی تھکن مٹانے کو آنکھیں موندی ہی تھیں کہ میری سائیڈ کی کھڑکی کا شیشہ بجا۔ سستی میں ادھر گردن موڑی۔ میرا خیال تھا کہ کوئی مانگنے والا ہے لیکن جیسے ہی گردن مڑی تو ایک پستول بردار پر نظر پڑی اور ایک اشارہ کہ شیشہ نیچے کرو۔ سمجھ آ گئی کہ جناب ان ڈاکو صاحبان کے نشانے پر آ ہی گئے ہیں جنکے قصے بہت سارے دوست سنا چکے تھے۔ میکانکی انداز میں شیشہ نیچے کیا اور انتہائی دوستانہ انداز میں اسے کہا کہ جی باو جی کیا چاہئیے ؟ جواب ملا کہ پرس اور موبائل۔ اچھا یاد دلا دوں کہ میرے پاس ہمیشہ سے ہی دو موبائل رہے ہیں ایک گھر اور پرسنل استعمال کیلئے اور دوسرا آفیشل کالوں کیلئے۔ ایک ڈیش بورڈ پہ دھرا تھا اور دوسرا جیب میں۔ خیر اسے جیب والا سب سے پہلے دیا اور جیسے ہی ڈیش بورڈ سے دوسرا موبائل اور پرس اٹھانے کو ڈیش بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھایا اس بھائی کو جانے کیا سوجھی کہ یکدم فائر کی آواز آئی، شیشہ ٹوٹنے اور جسم میں دھکا لگنے کی کیفیت محسوس کی اور میں ساتھ والی سیٹ پر گر سا گیا۔ اب اس سیدھا ہونے کے مرحلے میں ہی ہمیں پتا چل گیا تھا کہ ہمیں گولی لگ چکی ہے۔ خیر باہر نکلے تو سب سے پہلے سینے اور پھر سر کو ٹٹولنے کی کوشش کی تو دائیں بازو نے ہلنے سے انکار کیا اور ایک ٹیس سے اٹھی۔ بائیں ہاتھ سے ٹٹولا تو پتا چلا کہ گولی کندھے میں دھنس چکی ہے۔ اتنے میں لوگ جمع ہونے شروع ہوئے میرا ساتھی بھی بھاگ کر آیا اور میں نے اسے بتایا کہ موبائل اسنیچر گولی مار کر بھاگ گیا ہے۔ تم بجائے ایمبولینس بلانے کے گاڑی چلاو اور نزدیکی جناح ہسپتال میں چلو۔ خیر اگلے چند لمحوں میں ہم جناح کے ایمرجنسی سرجیکل یونٹ میں تھے اور ہمارا گولی نکالنے کیلئے آپریشن ہوا تو سرجن نے بتایا کہ گولی کندھے میں لگی اور ٹریول کر کے کمر سے نکلی اور شکر ہے کہ ڈھائی سنٹی میٹر کے فاصلے سے پھیپھڑے بچ گئے کیونکہ ڈھائی سنٹی میٹر دور سے گولی نے راستہ بدل دیا۔
یقین مانیں ان ڈھائی سنٹی میٹرز نے ہماری زندگی بدل دی۔ اس آپریشن کے بعد ہمارے مزید کئی آپریشن ہوئے کیونکہ کندھے کی ہڈی کرچی کرچی ہو چکی تھی۔ اور کئی وریدیں ڈیمیج ہوئی تھیں بازو بے جان تھا اور اسے کام میں لانے کیلئے بہت مدت درکار تھی۔ بازو میں راڈ ڈالی گئی، اور ہم کئی ماہ بستر کے ہو گئے۔ زخم کو بھرنے اور بازو کو اس قابل بنانے میں کہ یہ کام کرے مزید 6 ماہ لگے لیکن ان دنوں میں ہمیں سوچنے اور زندگی کے بارے میں غور کرنے کا جو نادر موقع ملا اس کو میں اپنی زندگی کا ایک ٹرننگ پوائینٹ سمجھتا ہوں۔
زندگی دکھوں اور خوشیوں کا ایک مجموعی پیکیج ہے۔ آپ ہر وقت خوش بھی نہیں رہ سکتے اور نا ہی ہر وقت ناخوش۔ لیکن آپ کیسے اپنے اندر سے خوشی نچوڑ سکتے ہیں اس پر میری زندگی کے تجربات کے بعد ایک نظریہ ہے جو میں سادہ الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔
خوشی بہت سے لوگوں کے لئے ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ ہر انسان کی خوشی کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے۔
سب سے پہلے وقت نکالئے اور اپنے ساتھ مانوس ہونے میں اسے خرچ کیجئے۔ خود کو جاننا اور قبول کرنا کہ آپ کون ہیں خود شناسی کہلاتا ہے۔ اپنی ذات سے تعلق رکھئے خود سے محبت کرنا سیکھئے اور خود کو جس حالت میں ہیں اسے قبول کیجئے۔ یہ مرحلہ سب سے اہم ہے۔
دوسری بات سمجھنے کی یہ ہے جو شخص صرف اپنے لیے جیتا ہے وہ نادان اور عموماً دکھی ہوتا ہے۔
آپ کا کردار اور بے داغ ضمیر پائیدار خوشی کے لیے اہم ہیں۔ ماضی میں کی گئی غلطیوں کے احساس کے لیے توبہ اور اپنے آپ کو معاف کر دینے سے خود کو معافی ملنا اور اسے محسوس کرنا احساس گناہ سے آزادی کا گہرا احساس دیتا ہے۔ لہذا، ہم نے جو بھی غلطیاں کی ہیں اسے درست کرنے اور کسی سے بھی خراب تعلقات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نہ صرف اپنے جیسے کسی انسان سے معافی مانگنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہئیے بلکہ خدا سے توبہ میں بھی۔ جب ہم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو وہ ہمیشہ ہمیں معاف کرتا ہے۔ اس کے بعد پھر ہمیں اپنے آپ کو معاف کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں، خوشی ایک عمل ہے واقعہ نہیں۔ تندہی سے عمل کی پیروی کریں اور خوشی/ اطمینان کا احساس بھرپور انعام ہوگا۔
خوشی کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے ذاتی حالات کو قبول کرنا سیکھیں۔ ان میں سے کچھ کو تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن آپ تمام معاملات تبدیل نہیں کر سکتے۔ جب تک آپ ان معاملات کو قبول نہیں کرتےجو تبدیل نہیں ہوسکتے، آپ کبھی خوش یا مطمئن نہیں رہیں گے۔ جیسا کہ نابینا ہیلن کیلر نے کہا، "میں اپنی معذوری کے لیے خدا کا شکر ادا کرتی ہوں، کیونکہ ان کے ذریعے میں نے اپنے آپ کو، اپنے کام کو اور اپنے خدا کو پایا ہے۔"
اسکے بعد کا مرحلہ اپنے ارد گرد اور اپنے رشتوں کی قدر کرنا ہے۔
رشتے درختوں کی مانند ہوتے ہیں بعض اوقات ہم اپنی ضرورتوں کی خاطر انہیں کاٹتے چلے جاتے ہیں اورآخر کار خود کو گھنے سائے سے محروم کر دیتے ہیں۔ رشتے اور دوستی نبهانے کیلئےوعدوں اور قسموں کی ضرورت نہیں صرف دو خوبصورت دلوں کی ضرورت ہوتی ہے نمبر ایک اعتماد والا دل اور دوسرا احساس والا دل۔ سچے رشتے اور سچے دوست خوشیوں میں زینت اور دکھوں میں سہارا ہوتے ہیں پروردگار کی نعمتوں میـں سے ایک نعمت محبت کرنے اور سمیٹنےکی خوبی ہے- کیونکہ یہ خوبی انسانی رشتوں میــــں بگاڑ کو روکتی ہے-
آسانیاں بانٹیئے، خوشیاں پائیے
Subscribe to:
Posts (Atom)
دنیا بدل چکی ہے
دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...
-
As said earlier , happiness is many things to many people. For one thing, it means we need to know and accept ourselves for who we are. Ha...
-
When I was studying in my 12 grade, a teacher, sent me a post card having these lines. "Don't be afraid of problems. Meet them,...