Wednesday, August 31, 2022
انتشار اور تعمیر
Wednesday, August 24, 2022
انتشار کی سیاست
خوش رہنے کا ہنر
Monday, August 8, 2022
امام حسین - امام شہدا
Saturday, August 6, 2022
سوشل میڈیا کی جنگ کے حربے
Tuesday, August 2, 2022
سوشل میڈیا کی جنگ
Thursday, July 21, 2022
معاشی استحکام کی سیاسی قیمت
Sunday, July 17, 2022
بائیڈن کا دورہ مشرق وسطی - کیا ہونے والا ہے
Friday, July 15, 2022
پاکستان کی انتخابی تاریخ اور اسٹیبلشمنٹ کے سبق
Wednesday, April 6, 2022
پاکستان کا سیاسی گرداب
پاکستان کا سیاسی گرداب
اظہر عباس
جیسا کہ میں نے پچھلے بلاگ میں لکھا تھا کہ جو بائیڈن ہاٹ پرسوٹ کی بجائے دنیا میں روایتی 80 کی دہائی کی سیاستکاری بذریعہ سفارتکاری کی اسٹریٹیجی پر جائے گا اور دنیا میں ڈیموکریٹک قوتوں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دے گا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا حکمران طبقہ اس تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام رہا ۔ ٹرمپ کے پاپولر سیاسی اسٹائل کو دیکھتے ہوئے عمران خان کو حکومت میں لایا گیا جس نے ٹرمپ سے قریبی مراسم بذریعہ اس کے داماد کشنر بڑھائے اور پھر ٹرمپ کو دورہ امریکہ میں بھرپور تعاون کی یہاں تک یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستانی سفارتخانہ کو ٹرمپ کا الیکشن آفس بنا دیا گیا ۔ یہ بات ڈیمو کریٹک پارٹی کو شروع سے کھٹک رہی تھی کہ ریپبلکن پارٹی کی حمایت میں پاکستان کس طرح سے تعاون کر رہا ہے ۔۔ یہاں رک کے ایک بات سوچیں کہ جب آپ ایک سپر پاور کے ملک میں جاکر ایک پارٹی کی ان کے الیکشن میں مدد کریں تو جوابی کاروائی سے بدکنا چہ معنی دارد ؟ اور وہ بلاشرکت غیرے سپر پاور جب آپ کے سفیر کو جوابی طور پر رجیم کے بدلاو کی بات کرے تو اس پر رونا کیسا ؟ اس ساری صورتحال میں جب کہ پاکستان کی حکومت و اسٹیبلشمنٹ اپنے سارے انڈے امریکہ کی ایک ہاری ہوئی پارٹی کی ٹوکری میں ڈال چکی تھی تو جیتی ہوئی پارٹی کے ایک اسسٹنٹ سیکرٹری کی ایک گھرکی کی مار ہی ثابت ہوئی اور جب عدم اعتماد اسمبلی میں پیش ہوئی تو ایک بھونڈے طریقے سے اپنی ہی حکومت توڑنی پڑی ۔۔ یہ بھونڈا انداز اتنا ناقابل فہم تھا کہ پورا ملک ایک آئینی و سیاسی گرداب میں پھنسا ہوا ہے ۔۔ ان حالات میں پاکستان کے معروف صحافی اپنے آج کے جنگ میں شائع شدہ کالم میں لکھتے ہیں کہ:
"افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہم سب سے زیادہ دنیا دیکھنے والے، مغرب کو سب سے زیادہ سمجھنے والے، اخلاقیات کا سبق دیتے کرکٹ لیجنڈ وزیراعظم عمران خان نے اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ورنہ وہ استعفیٰ دے کر ایک اعلیٰ مثال بھی قائم کر سکتے تھے۔
کھلاڑی آخری بال تک ضرور لڑتا ہے مگر ہار جائے تو شکست تسلیم بھی کرتا ہے۔مجھے کرکٹ دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق رہا ہے اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے حوالے سے میں عمران کے کزن ماجد خان سے بہت متاثر ہوں۔ اسے جب بھی لگتا تھا کہ بال اس کے بلے کو چھو کر وکٹ کیپر کے پاس گئی ہے تو وہ ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھے بغیر کریز چھوڑ دیتا تھا۔
اتوار کے روز قومی اسمبلی میں چار منٹ کا جو تماشہ ہوا اس نے بہت سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔
حکومت اتنی جلدی میں تھی کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ پڑھتے وقت اسپیکر اسد قیصر کا نام بھی لے گئے جن کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک اسی دن جمع ہو گئی تھی۔ یہی کام ذرا بہتر انداز میں اپوزیشن کے ایک دو لوگوں کو سن کر ہی کرلیتے۔
وزیراعظم اور ان کے رفقاء کار نے 8 مارچ سے لے کر 27مارچ تک پوری کوشش کی کہ منحرفین واپس آجائیں، اتحادی مان جائیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ وہ تحریک کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اب اگر ’بین الاقوامی سازش‘ کا پتا انہیں 7مارچ کو چل گیا تھا تو پھر یہ ساری کوششیں کس لیے تھیں۔ یہ انکشاف اس وقت کیوں کیا گیا جب تمام تر ذاتی ملاقاتوں اور پارٹی رہنمائوں کی کوششوں کے باوجود کوئی واپس آنے کو تیار نہ ہوا۔ پھر جیسا کہ ہوتا ہے، آپ نے منحرفین کے گھر والوں تک کو دھمکی دیدی مگر وہ پھر بھی واپس نہ آئے۔ اس سے بہت بہتر ہوتا کہ کپتان اکثریت کھونے کے بعد میدان میں مقابلہ کرتے۔ الیکشن میں جانے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں تھا کیونکہ دوسری طرف 190 سے زیادہ اراکین تھے۔
آخر خان صاحب یہ بھی تو بتائیں کہ ان منحرفین کو پارٹی میں لانے کا فیصلہ کس کا تھا؟ اتحادیوں کو کس نے آپ کے حوالے کیا تھا ساری زندگی ’’نیوٹرل ایمپائر‘‘ لانے کا کریڈٹ لینے والے کپتان کو اب نیوٹرل جانور کیوں نظر آنے لگے۔"
ان کے اس سوال کا جواب سلیم صافی دیتے ہیں۔ اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ:
مختلف ممالک سے پاکستان کے سفارتخانے دو ذرائع سے اپنی وزارتِ خارجہ کو باخبر رکھتے ہیں۔ ایک معمول کے خطوط ہوتے ہیں اور دوسرے خفیہ ٹیلی گرام۔
خفیہ ٹیلی گرام میں سفیر اس ملک کے عوام اور حکومتی صفوں میں پاکستان کے بارے میں سوچ کا تجزیہ اپنے الفاظ میں کرتے ہیں۔ بالخصوص جب بھی کسی بھی ملک کے حکومتی عہدیدار سے سفیر کی ملاقات ہوتی ہے تو ان کے خیالات کا خلاصہ خفیہ کیبل کی صورت میں بھجوایا جاتا ہے۔
ظاہر ہے اس میں اس سفیر کے اپنے خیالات اور تجزیاتی صلاحیت کا بھی دخل ہوتا ہے۔
امریکہ، چین، انڈیا، برطانیہ اور افغانستان جیسے ممالک سے نہ صرف یہ کیبلز تواتر کے ساتھ آتے ہیں بلکہ ان ممالک کی اہمیت کی وجہ سے انہیں خصوصی اہمیت بھی دی جاتی ہے۔
میری معلومات کے مطابق یہ خفیہ ٹیلی گرام براہ راست سیکرٹری خارجہ کو بھیجے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور سی جی ایس کو بھی اسی روز بھیجے جاتے ہیں۔
یوں حکومت نے اس وقت جس خفیہ کیبل کو موضوع بحث بنایاہے، وہ اسی دن آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور سی جی ایس کو بھی گیا ہوگا اور اگر واقعی اس میں پاکستان کی سلامتی سے متعلق کوئی سنجیدہ خطرے کی بات ہوتی تو نہ صرف وہ اس پر ردعمل ظاہر کرتے بلکہ یہ شخصیات وزیراعظم سے کابینہ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ طلب کرنے کا بھی مطالبہ کرتیں۔
پاکستان کے بارے میں امریکی یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر دھمکی دینی ہو یا پھر کوئی پیشکش کرنی ہو تو عسکری قیادت کوکی جاتی ہے نہ کہ وزیر خارجہ یا وزیراعظم کو۔
مثلاً جب زلمے خلیل زاد ہر ہفتے پاکستان آتے تھے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے نہ ملے ہوں لیکن وزیرخارجہ اور وزیراعظم سے وہ صرف ایک مرتبہ ملے۔ میں پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ سی آئی اے چیف جب پاکستان آئے تھے تو عمران خان نے ان کے ساتھ ملاقات سے انکار کیا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو ان کی پاکستان آمد اور آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات پتہ ہی تب چلاجب وہ پاکستان سے واپس جا چکے تھے۔
اس پس منظر کو سامنے لانے سے مقصود یہ ہے کہ امریکہ کو اگر کوئی سنجیدہ پیغام دینا ہوتا تو وہ براہ راست عسکری قیادت کو دیتا نہ کہ وہاں پر موجود ہمارے سفیر کو۔
اب یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ پاکستانی ریاست سے ناراض یا نالاں ہے۔ ایک وجہ تو افغانستان ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان ماضی کی طرح صرف اس کے کیمپ میں رہے لیکن جنرل کیانی اور آصف زرداری کے دور میں پاکستان نے روس اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کا آغاز کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ پاکستان مزید امریکہ کی طرف نہیں دیکھے گا۔ اس دور میں صرف امریکہ کے خلاف برائے نام نعرے نہیں لگائے گئے تھے بلکہ نیٹو سپلائی بند کی گئی، بلوچستان میں ان کے اڈے واپس لیے گئے اور سپلائی تب بحال کی گئی جب امریکہ نے معافی مانگ لی۔
جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اسی پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، اسی طرح سی پیک اور چین کے ساتھ قربت سے بھی امریکہ خوش نہیں اور چین کے تناظر میں اس نے انڈیا کو اپنے اسٹریٹیجک پارٹنر کا درجہ دیا ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف ا سٹیٹ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو سے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے 7 مارچ کو الوداعی ملاقات کی۔
میری معلومات کے مطابق اس ملاقات میں ان کے ساتھ ایک اور سفارتکار بھی موجود تھے اور وہ بھی پاکستان میں اپنے باسز کو بتا چکے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس طرح حکومت پیش کررہی ہے۔
اس ملاقات میں شاید انہوں نے روایتی طور پر پاکستان سے متعلق روایتی گلے شکوے کئے ہیں چونکہ ٹرم خان ایڈمنسٹریشن کا استعمال ہوتا ہے اس لیے شاید اس ملاقات میں بھی انہوں نے یہ ذکر کیا ہے۔
اس طرح کی ملاقاتوں میں عموماً دونوں ملکوں کی سیاسی صورت حال بھی ڈسکس ہوتی ہے چنانچہ ہوسکتا ہے پاکستان کی سیاسی صورت حال پر بھی بات چیت ہوئی ہو اور ڈونلڈ لو نے یہ بتایا ہو کہ عمران خان ایڈمنسٹریشن کی موجودہ پالیسیوں کے ساتھ تو چلنا مشکل ہے لیکن نئی حکومت نے اگر کچھ مثبت اقدامات لیے تو ان کے ساتھ کام ہوسکتا ہے۔
پھر اس طرح کی ملاقاتوں میں ہر ملک اپنے مطالبات دہراتا ہے اور جواب میں سفیر اپنے ملک کا موقف پیش کرتا ہے۔
بعض اوقات وہ عہدیدار مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ نتائج کا بھی ذکر کرتا ہے اور حکومت جو تاثر دے رہی ہے اس سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ شاید ڈونلڈ لو نے ممکنہ نتائج کا بھی ذکر کیا ہو۔
اب اس ملاقات کا خلاصہ اور تجزیہ اسد مجید خان نے پاکستان بھجوایا اور ظاہر ہے کہ یہ اسی روز سیکرٹری خارجہ کے ساتھ مذکورہ عسکری حکام کے پاس بھی گیا ہوگا.
لیکن ہم نے دیکھا کہ حکومت نے اس کے بعد کئی روز تک اس حوالے سے نہ تو امریکہ سے کوئی احتجاج کیا اور نہ کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا کیونکہ وہ معمول کا ایک ٹیلی گرام تھا۔ کئی روز تک حکومت نے اس ٹیلی گرام کا کسی فورم پر کوئی ذکر نہیں کیا لیکن جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو عمران خان صاحب نے اپوزیشن کو مدافعتی پوزیشن پر لانے کے لیے اس ٹیلی گرام کا سہارا لے کر یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ امریکہ نے سات مارچ کو انہیں دھمکی دی اور اسی ٹیلی گرام میں یہ بات بھی ہےکہ عدم اعتماد کی تحریک امریکہ کے ایما پر لائی جارہی ہے۔
اس دعوے سے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور خود امریکی ہکا بکا رہ گئے۔ وائٹ ہاوس اوراسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تردید کردی۔ ملاقات کرنے والے ڈونلڈ لو نے بھی ٹی وی انٹرویو میں کہہ دیا کہ عدم اعتماد یا دھمکی کی کوئی بات نہیں کی۔ سفیر اسد مجید کے ساتھ ملاقات میں موجودہ دوسرے سفارتکار بھی متعلقہ حکام کو بتاچکے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ چنانچہ فیس سیونگ کے لیے عمران خان نے کئی روز بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور اس میں نصف درجن غیرمتعلقہ وزیروں کو بلایا۔ کمیٹی کو اپنی مرضی کی بریفنگ دلوائی۔ پھر پریس ریلیز خود جاری کی
لیکن پریس ریلیز میں نہ عدم اعتماد کا ذکرہے، نہ امریکہ کا نام ہےاور نہ حکومت گرانے کے لیے سازش کا ذکر عمران اور ان کے گوئبلز نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ ان کے دعوے کی سروسز چیفس نے بھی تصدیق کی ہے۔
اس سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اس ٹیلی گرام کو بنیاد بنا کر آرٹیکل 5 کی آڑ لے کر انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے عدم اعتماد کی تحریک واپس کرائی اور پھر اسمبلی توڑنے کا اعلان کیا۔ گویا اس ایک ٹیلی گرام کی بنیاد پر انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے ڈیکلیئر کروایا کہ اپوزیشن کے تمام رہنما اور ممبران اسمبلی غیرمحب وطن ہیں۔ اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس ٹیلی گرام کی حقیقت واضح کی جائے کیونکہ اپوزیشن کو غیرمحب وطن قرار دینے، پھر اس کی آڑ میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کی بجائے آئین شکنی کرکے اجلاس ملتوی کرنے اور پھر اسی کی آڑ میں اسمبلی توڑنے جیسے سارے افعال کی عمارت اس ٹیلی گرام پر کھڑی ہے۔
پاکستان خارجہ محاذ پر مذاق بن گیا"
آئیندہ الیکشن اور تشکیل حکومت کا منظرنامہ ایمپائر کے نیوٹرل رہنے سے مشروط ہے ورنہ نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ مقابلہ تو نام ہی فیئرپلے کا ہے جو پاکستان میں ہمیں کم ہی نظر آیا ہے۔ اور ابھی بائیڈن/ ڈیموکریٹک پارٹی کے بھی تین سال باقی ہیں اور آنے والا اسٹیبلشمنٹ کا باس بھی تین سال ہی اپنی پالیسیاں تشکیل دے گا لیکن جس بات کی سمجھ عمران خان کو نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ جو انہیں اس مقام پر لے آئے کیا وہ انہیں دوبارہ وہیں دیکھنا چاہیں گے ؟ عدلیہ جو اتنا ٹائم ایک چھوٹا سا نقطہ جو ہر پھٹے والے وکیل کو بھی معلوم ہے کہ "بغیر دوسرے فریق کو سنے کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا" کیا سپریم کورٹ کے ججز کے علم میں نہیں ؟ وہ دراصل یہ ٹائم اس لئے لے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ یکسو ہوسکے جو وہ اس وقت نہیں ہے
اللہ اس ملک کے باسیوں کیلئے رحمت کے دروازے کھولے اور لیڈران کرام کو عقل سلیم عطا فرمائے
آمین
Thursday, March 3, 2022
مغربی حکومتوں کی منافقت
سلامتی کونسل میں مختلف مندوبین کا موقف
یورپی یونین کے مندوب اولاف سکوگ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف یوکرین سے متعلق نہیں تھی بلکہ یہ عالمی سرحدوں کے دفاع سے معلق ہے۔
شام نے مغرب کے دہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے خود حالیہ دہائیوں میں لیبیا، عراق اور افغانستان میں مداخلت کی ہے
xX------------Xx-----------Xx
یوکرین پر حملہ کرنے پر روس کو سزا دینے کیلئے مغربی ممالک نے سخت موقف اختیار کیا ہے تاہم اس اقدام کی وجہ سے منافقت کا اعلیٰ معیار بے نقاب ہوگیا ہے کیونکہ امریکا نے جتنے ملکوں پر حملہ کیا ہے اس پر کبھی بھی اس کیخلاف سخت ترین پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔
یوکرین میں اگر موجودہ حالات نے کچھ ثابت کیا ہے تو وہ یہ ہے کہ امریکا اور اس کے بین البراعظمیٰ ساتھیوں نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام پر ظلم و جبر اور بے رحمی کے ساتھ قبضہ کیا۔ اسی دوران، روس اور ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین میں اقدامات کی وجہ سے مرکزی دھارے کا تقریباً پورا میڈیا نازی جرمنی سے تشبیہہ دے رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والے اداریے میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ واضح ہونا چاہئے کہ منافقت اور عیاری کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کیخلاف حملوں کا جواز نہیں دیتی۔
بہ الفاظ دیگر، چونکہ نیٹو ممالک 2001ء سے دنیا کے مختلف ملکوں پر حملے کرکے تباہی پھیلاتے رہے ہیں اسلئے روس کو بھی ایسا ہی کرنے کا جواز نہیں ملتا۔ کسی بھی ملک کے پاس طاقت کے استعمال کیلئے ٹھوس جواز ہونا چاہئے لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس کے اقدامات کو منصفانہ کہا جا سکتا ہے یا کیا یہ کارروائی قابل فہم ہے؟ اس سوال کا جواب قارئین خود دیں گے۔ لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ روس نیٹو کو توسیع پسندانہ عزائم کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی سے خبردار کرتا رہا ہے۔
2007ء میں میونخ سیکورٹی کانفرنس میں روسی صدر نے واضح طور پر وہاں موجود طاقتور ممالک سے سوال کیا تھا کہ روس کی سرحدوں پر عسکری انفرا اسٹرکچر لگانے کی آخر ضرورت کیا ہے، کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہے؟ بعد میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روسی سرحد پر عسکری اثاثہ جات جمع کرنا کسی بھی طرح سے انفرادی ریاستوں کا جمہوری فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
روسی صدر کی آواز پر کسی نے دھیان نہیں دیا اور نیٹو نے چار ممالک (البانیہ، کروشیا، مونٹی نیگرو اور شمالی مقدونیہ) کو رکنیت دیدی۔ تصور کریں کہ امریکا کو کتنی مرچیں لگتیں جب روس بھی ایسا ہی توسیع پسندانہ اقدام کرتے ہوئے جنوبی امریکی ریاستوں کو اپنا حصہ بنانا شروع کردے۔
روس کیلئے سب سے پریشان کن وقت وہ تھا جب امریکا اور نیٹو نے یوکرین میں جدید ترین اسلحہ جمع کرکے وہاں انبار لگا دیا اور یوکرین کو شہ دی کہ وہ نیٹو کی رکنیت حاصل کرے۔ یہی وہ وقت تھا جب یوکرین سے روس کو اپنی بقاء کا خطرہ لاحق ہوگیا۔
دسمبر 2021ء میں جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو روس نے سیکورٹی کی ضمانت کیلئے ایک معاہدہ امریکا اور نیٹو ممالک کو پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مشرق کی جانب نیٹو کی توسیع روک دی جائے اور یوکرین سمیت دیگر ممالک کو نیٹو کی رکنیت نہ دی جائے۔
اس دستاویز میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ نیٹو یوکرین سمیت مشرق کی جانب دیگر ریاستوں اور وسط ایشیائی ریاستوں میں کوئی فوجی مشقیں یا دیگر سرگرمیاں نہیں کرے گا۔ ایک مرتبہ پھر روس کی تجاویز کو تکبر کی نگاہ سے مسترد کر دیاگیا۔ اگرچہ لوگوں کی نظر میں روس کی کارروائی حیران کن اور ناقابل قبول ہو سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ روس نے خبردار نہیں کیا تھا کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ 24؍ فروری کو صبح کو روس نیند سے جاگا اور اٹھ کر یوکرین پر حملہ کر دیا۔
اگر روس نے غلط کیا تو امریکا اور اس کے اتحادی ممالک گزشتہ دو دہائیوں سے کیا کرتے رہے ہیں؟ مثال کے طور پر عراق جنگ کو ہی دیکھ لیں، عراق پر حملے کے بعد کے نتائج میں مغربی میڈیا خود اعتراف کرتا ہے کہ یہ جنگ انٹیلی جنس اطلاع کی ناکامی کا نتیجہ تھی، امریکا اور اتحادیوں نے بلا اشتعال عراق پر چڑھائی کر دی۔
9/11 کے حملے کے بعد امریکا نے براہِ راست صدام حسین پر الزام عائد کردیا کہ اس کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ جس وقت امریکا اور اقوام متحدہ کے ماہرین اس الزام کی تصدیق کیلئے عراقی سرزمین پر موجود تھے ٹھیک اسی وقت امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور پولینڈ نے 19؍ مارچ 2003ء کو عراق پر تباہ کن حملہ شروع کر دیا۔ قلیل عرصہ میں امریکا اور اس کے ساتھیوں نے دس لاکھ معصوم عراقیوں زخمی کیا، بے گھر کیا اور لاکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
کیا یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھی؟ سینٹر فار پبلک انٹیگریٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بش انتظامیہ نے عوام میں اپنی گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے 2001ء سے 2003ء کے درمیان میڈیا میں 900؍ جھوٹ بولے اور یہ راگ الاپا کہ عراق سے امریکا اور اس کے شراکت دار ممالک کو خطرہ ہے۔
لیکن وہی مغربی میڈیا جو آج روسی جنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اسے عراقی زمین پر امریکی بوٹ اور عراقیوں کے خون میں کوئی انسانی حقوق نظر نہیں آئے۔ چونکہ فرانس نے عراق جنگ کی مخالفت کی تھی اسلئے امریکی سیاست دانوں نے غرور اور تکبر میں فرانسیسی شراب اور پانی کی بوتلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
اب اس تمام تر صورتحال کا یوکرین کی موجودہ صورتحال کے ساتھ تقابل کریں جہاں اصولوں کے ترازو میں پلڑا روس کیخلاف ہے اور برسوں سے خدشات کے اظہار کے باوجود روس کے تحفظات دور نہ کیے جانے پر بھی کیا روس کو یہ اقدام کرنے کا جواز نہیں تھا؟ قارئین چاہے کچھ بھی سوچیں لیکن روس کیخلاف اس قدر شدید پابندیاں برسوں سے پابندیاں عائد کرنے کے باوجود عائد کی گئی ہیں تو امریکا اور مغرب کی منافقت پر ان کیخلاف کوئی پابندی کیوں نہیں عائد ہوئی؟
روسی افراد اور روسی معیشت کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ، فرانس کے وزیر معیشت کا بیان بڑا ہی دلچسپ ہے کہ فرانس روس کیخلاف مکمل معاشی اور مالیاتی جنگ کیلئے پر عزم ہے۔ پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ روسی میڈیا اور اصل خبروں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ ان خبروں کے ذریعے مغربی ممالک کو اصل صورتحال کا پتہ چل سکتا ہے۔
دنیا بدل چکی ہے
دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...
-
As said earlier , happiness is many things to many people. For one thing, it means we need to know and accept ourselves for who we are. Ha...
-
When I was studying in my 12 grade, a teacher, sent me a post card having these lines. "Don't be afraid of problems. Meet them,...