Thursday, July 21, 2022

معاشی استحکام کی سیاسی قیمت

معاشی استحکام کی سیاسی قیمت اظہر عباس یوکرین پر روس کے حملے نے نہ صرف یورپ بلکہ دنیا بھر کو اقتصادی زلزلوں کا شکار کیا ہے۔ پاکستان، جس کی معیشت دہائیوں کی غیر مستحکم طرز حکمرانی کی وجہ سے پہلے ہی کمزور ہے، خاص طور پر اسکا شکار ہوئی۔ اگرچہ بہت سے ممالک یوکرائنی یا روسی گندم یا غیر ملکی توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، لیکن پاکستان دونوں کی کمی یوکرائن، روس اور مشرق وسطی سے پورا کرتا ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2020/ 2021 کے دوران پاکستان یوکرائنی گندم کی برآمدات کا تیسرا سب سے بڑا گاہک تھا۔ پاکستانی معیشت کو دوسرا بڑا جھٹکا تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے سے لگا، جس سے اس کی درآمدات تقریباً 5 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پاکستانی معیشت کے لیے یہ ایک بد ترین صورتحال ہے۔ 30 جون 2022 کو پاکستان کے مالی سال کے اختتام پر، اس کا تجارتی خسارہ 50 بلین ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 57 فیصد زیادہ ہے۔ جون میں مہنگائی کی شرح 20 فیصد سے زیادہ ہو گئی جو کہ ماضی قریب میں سب سے زیادہ ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے سبسڈی ختم کرنے کی ہدایت نے بجلی اور گیس دونوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ پاکستانی روپے کی گراوٹ نے خاص طور پر متوسط ​​طبقے کو نقصان پہنچایا ہے اور موجودہ صورتحال میں متوسط ​​طبقہ مہنگائی کی صورتحال برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ ان حالات میں جبکہ ملک اقتصادی بحران کی بدترین لپیٹ میں ہے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں 20 سیٹس پر ضمنی الیکشن نے سیاسی سطح پر ایک نئے طوفان کو جنم دیا ہے۔ عمران خان جو عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے بے دخل ہوگئے تھے شروع دن سے ہی ایک ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کہ سیاسی بحران کو شدید کر کے نئے الیکشن کی راہ ہموار کر سکیں ان 20 صوبائی سیٹس میں سے 15 جیتنے کے بعد سیاسی بحران میں شدت پیدا کر کے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھاتے نظر آتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی ساری کارکردگی ایک خط میں لپیٹ کر اپنے ووٹ بینک کو دی جس نے اس کو قبول کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اینٹی امریکا نعرہ بھی بیچا۔ اور ان کے ووٹ بینک نے اس کو بھی ہاتھوں ہاتھ خریدا۔ یاد رہے عمران خان کے بیانیے کا خریدار ان کا ووٹ بینک اور اس کے علاوہ وہ نوجوان ووٹر ہے جس کی ہر حلقے میں 20/25 ہزار کے قریب نمائندگی ہے اور گزشتہ کچھ سالوں میں پاکستانی انتخابی سیاست میں نیا آیا ہے یہ نوجوان ووٹر سسٹم سے باغی ہے، اپنے آپ کو تبدیلی کا نمائندہ سمجھتا ہے اور اسے سوشل میڈیا سے رغبت ہے۔ اسے کوئی بھی بیانیہ دینا آسان ہے بقول ہمارے دوست عظمت افروز خان: ‏"نوجوان Fiction اور Thrill کے دلدادہ ہوتے ہیں، بچپن ہی سے بڑے بڑے خواب دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں جبکہ چالیس پچاس سال کے لوگ بیشتر خواب ٹوٹنے کے بعد Pragmatic ہو چکے ہوتے ہیں, تجربہ کار ہو چکے ہوتے ہیں سو اُنہیں جھوٹے خواب بیچے نہیں جا سکتے، جبکہ نوجوان کے یہ جاگتے خواب اُسے سکون دیتے ہیں ، اسی لئے نیازی کے بیشتر ووٹر اٹھارہ سے پچیس سال کے وہ نوجوان ہیں جنہیں نیازی مسلسل جھوٹے خواب بیچ رہا ہے اور تاریخ سے نابلد نوجوان اس کے چنگل میں آسانی سے آ رہے ہیں، پھر نیازی کی ‏سوشل میڈیا ٹیمیں بھی اسی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہیں جو اُن نوجوانوں کو اُن ہی کی “کھُلی ڈُلی” زبان میں بات سمجھاتے ہیں، مخالفین کو گالیاں دھمکیاں دلواتے ہیں نوجوانوں کو طاقتور ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔" سیاسی میدان میں نووارد اس طبقے نے عمران خان کے بیانیے کو قبول کیا ہے اور اس وقت پاکستانی کی سیاست میں جو جوشیلا پن نظر آتا ہے وہ یہی نوجوان ووٹر ہے ‏اس سارے سیاسی غل غپاڑے میں ہم یہ بھول رہے ہیں کہ 2018 کے عام انتخابات میں یہ 20 سیٹس پی ٹی آئی نے جیتی تھیں۔ ان میں سے 4 نون لیگ نے جیت لی ہیں جبکہ 1 آزاد رکن نے نون لیگ میں شمولیت/ حمایت کا اعلان کر دیا ہے اس حکومت کے پاس کوئی جادو کا چراغ نہیں ہے کہ وہ ڈالر کو 120 اور پٹرول کو 100 روپے پر لا سکے۔ اس کے پاس کوئی جادو کا چراغ نہیں جو لوڈشیڈنگ کو فوری طور پر صفر کرسکے۔ یہ غیر یقینی کی صورتحال اب ڈالر کو مزید بے قابو کرے گی اور اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ذرا سی بھی اوپر گئیں تو حکومت کو یہاں بھی بڑھانا پڑیں گی۔ لیکن بقول وجاہت مسعود "پاکستان میں نئے ووٹروں کی اکثریت ہماری سیاسی اور جمہوری تاریخ سے نابلد ہے۔ معیشت کی نزاکتیں نہیں سمجھتی۔ اس نئی سوچ کا ماضی کی سیاسی روایت سے کوئی تعلق نہیں۔ ماننا چاہیے کہ پاکستان کا عام شہری مہنگائی کے حالیہ بحران سے سخت نالاں ہوا ہے۔ اسے آئی ایم ایف کی شرائط، زرمبادلہ کے ذخائر یا عالمی معیشت کے اتار چڑھائو سے غرض نہیں۔ وہ آٹے اور گھی کی قیمت جانتا ہے۔" سٹی گروپ کے ایمرجنگ مارکیٹس ڈویژن کے سابق چیف سٹریٹجسٹ یوسف نظر کا اندازہ ہے کہ فروری سے اب تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر نصف کم ہو کر صرف 6.3 بلین ڈالر رہ گئے ہیں، یوسف نذر کے مطابق، پاکستان کو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے بیل آؤٹ ملے ہیں۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو جلد ہی "میکرو اکنامک عدم استحکام" کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سماجی عدم استحکام اس کے علاوہ ہے پاکستان کے نجی شعبے نے لیبر پول کو جذب کرنے کے لیے اتنی ملازمتیں پیدا نہیں کیں۔ غصہ عروج پر پہنچ رہا ہے، اور بڑھتے ہوئے جرائم معاشرتی خرابی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

Sunday, July 17, 2022

بائیڈن کا دورہ مشرق وسطی - کیا ہونے والا ہے

عین اس وقت جب پاکستانی ‏سیاست پنجاب کے 20 صوبائی حلقوں، کراچی کی بارشوں، عمران خان کے کچھ اعترافی اور کچھ الزاماتی بیانات میں دھنسی ہوئی ہے، امریکی صدر جو بائیڈن مشرق وسطی کا دورہ مکمل کر چکے ہوں گے۔ اس دورہ میں جہاں انہوں نے جیو اسٹریٹیجک معاہدات کی تجدید کی وہیں معاشی میدان میں بھی کچھ تغیرات رونما ہوئے جنہیں شاید ہمارے سیاستدان اپنی راگنیوں میں مست رہنے کی بنا پر بھولے رہے یا پھر انہوں نے آئیندہ کیلئے اسے قومی سلامتی کے اداروں پر چھوڑ کر انہوں نے صرف اندرونی سیاست پر قناعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ایک سیاستدان کا اپنے ملک کے مفاد سے بڑا کوئی مفاد نہیں ہوتا. گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے گرد بنیادی نوعیت کی بڑی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہیں اور مستقبل میں ان تبدیلیوں کی بنیاد پر بہت سی جغرافیائی تبدیلیوں کا امکان ہے، خلیج اور مشرق وسطیٰ جہاں پاکستان کے قریبی ممالک مصر، اردن، سعودیہ، خلیجی ممالک واقع ہیں پورا خطہ تبدیل ہو رہا ہے، لیکن ایک سیاستدان قوم کی توجہ مسلسل ہٹا رہا ہے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت ایک ایسے بخار میں مبتلا ہیں جس کا کوئی علاج اس وقت تک نا ممکن نظر آتا ہے۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ امریکی صدر کے دورہ مشرق وسطی میں کیا ہو چکا ہے اور کیا متوقع ہے۔ نیو یارک ٹائمز کےمطابق صدر جو بائیڈن بدھ کے روز مشرق وسطیٰ کے چار روزہ دورے پر اسرائیل اور سعودیہ جا رہے ہیں تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کو کم کرنے، امریکی پمپوں تک تیل کی ترسیل کو تیز کرنے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے تبدیل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ وہ ایک ایسے ولی عہد سے بھی ملیں گے جس پر اب تک انکی ڈیمو کریٹک پارٹی اور وہ خود انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کا الزام لگاتی رہی ہے۔ ماضی میں وہ ولی عہد کی بجائے براہ راست بادشاہ سے رابطے رکھنے کا ارادہ کرنے کا اظہار بھی کر چکے ہیں یہ تینوں کوششیں ایک ایسے صدر کے لیے سیاسی خطرات سے بھری ہوئی ہیں جو اس خطے کو اچھی طرح جانتا ہے، لیکن چھ سالوں بعد پہلی بار اس سے کہیں کم فائدہ کے ساتھ دورے پر آیا ہے جتنا وہ واقعات کی شکل دینا چاہتا ہے۔ 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ان کی 18 ماہ کی طویل بات چیت رک گئی ہے، جس سے تہران کو جوہری کلب سے باہر رکھنے پر مجبور کرنے کی سفارتی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے، جس سے وہ زیادہ تر جوہری ایندھن کو اب قریب قریب بم گریڈ کی سطح تک بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ولی عہد کی سفارتی واپسی میں نرمی کے انعام میں سعودی عرب نے اپنے تیل کی پیداوار بڑھانے پر آمادگی کا اظہار ان لفظوں میں کیا ہے کہ اس سے زیادہ اس کی استطاعت ہی نہی یعنی سعودی تیل کے کنویں اب اپنی پوری استطاعت سے پیداوار دیں گے اور چونکہ سعودی تیل کی فروخت ڈالر سے منسلک ہے تو اس سے امریکی معیشت میں نا صرف بہتری آئے گی بلکہ ڈالر کی قدر مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملے گی بائیڈن انتظامیہ کے اہلکار جانتے ہیں کہ جب بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کو بین الاقوامی سطح پر نکو بنانے کے وعدے کے دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے صدر کی ملاقات کی ناگزیر تصاویر سامنے آئیں گی تو انہیں اپنی ہی پارٹی کے اندر سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ وعدہ 2018 میں واشنگٹن پوسٹ کے ایک صحافی جمال خاشقجی کے ایک پیچیدہ سازش میں قتل کی وجہ سے ہوا تھا جس کے بارے میں سی آئی اے نے کہا تھا کہ اسے براہ راست ولی عہد نے منظور کیا تھا۔ لیکن محمد بن سلمان کی حکمت عملی - انتظار کرو جب تک کہ امریکہ کو دوبارہ سعودی عرب کی ضرورت نہ پڑے نے کام کیا بائیڈن نے اکثر تاریخ میں اس (اپنے) دور کو جمہوریت اور آمریت کے درمیان مقابلہ کے طور پر پیش کیا ہے، اور کیوبا اور وینزویلا کو ان کے جابرانہ طرز عمل کی وجہ سے لاس اینجلس میں امریکہ کے حالیہ سربراہی اجلاس سے روک دیا گیا ہے۔ لیکن انہوں نے سعودی عرب کے دورے کو حقیقت پسندی کی مشق قرار دیا ہے۔ بائیڈن نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں واشنگٹن پوسٹ میں ایک رائے کے ٹکڑے میں لکھا ، "میرا مقصد تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینا تھا - لیکن ٹوٹنا نہیں۔" سعودی "توانائی کے وسائل یوکرین میں روس کی جنگ کے عالمی رسد پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں" اس سفر میں سپر پاور کی چالوں کا ایک عنصر بھی ہے۔ بائیڈن نے دفتر میں آنے کے بعد یہ واضح کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ پر امریکی توجہ کو کم کرنا چاہتے ہیں، اور چین پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں - ان کے اس یقین کی عکاسی کہ واشنگٹن نے 20 سال ضائع کیے جب اسے ایک حقیقی ہم مرتبہ حریف پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تھی۔ لیکن یہ سفر جزوی طور پر خطے میں چین کی مداخلت کو روکنے کے بارے میں بھی ہے۔ گزشتہ ہفتے، ریاض اور واشنگٹن نے خاموشی سے سعودی عرب میں اگلی نسل کے 5G سیلولر نیٹ ورک کی تعمیر پر تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ یہ چین کے 5G چیمپئن، Huawei کو باکس آؤٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یوکرائن کی جنگ کی سیاست بھی پس منظر میں ہوگی۔ بائیڈن کے معاونین نے واضح کیا کہ وہ موسم بہار میں اس وقت ناراض ہوئے جب اسرائیلی حکومت نے جنگ کے بارے میں بڑے پیمانے پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنے پر اصرار کیا، اس بات پر اصرار کیا کہ اس کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے لیے صدر ولادیمیر پوتن کے سامنے کھلی بات رکھنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ پیر کو، جب بائیڈن جانے کی تیاری کر رہے تھے، ان کے قومی سلامتی کے مشیر، جیک سلیوان نے پہلی بار انکشاف کیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران - اسرائیل کا بنیادی مخالف - یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مدد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران روس کو سینکڑوں ڈرونز یا یو اے وی فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جن میں سے کچھ حملوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عوامی استعمال کے لیے، وائٹ ہاؤس نے استدلال کیا ہے کہ بائیڈن کے سعودی عرب جانے کا فیصلہ صرف تیل ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسائل کی ایک پوری رینج کی وجہ سے تھا۔ لیکن تیل درحقیقت گیس کی اونچی قیمتوں کے وقت سفر کی سب سے اہم وجہ ہے۔ اسی وجہ سے اب تک کی جو تصاویر میڈیا کو جاری کی گئی ہیں ان میں محمد بن سلیمان تو نظر نہیں آئے لیکن عراقی صدر اور یو اے ای کے حکمران صدر بائیڈن کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دکھائی دئے دوسری طرف خطے کے دوسرے اہم عرب کھلاڑیوں کے ساتھ جدہ کانفرنس برائے امن و ترقی کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے ترسیل برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہیں۔ ’تیل منڈی میں استحکام لانے کے لیے سعودی عرب نے اس سے پہلے ہی اپنی پیداوار کو 13 ملین بیرل تک لانے کا اعلان کر رکھا ہے‘۔ ہم امید ظاہر کرتے ہیں کہ کانفرنس سے عرب ممالک اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے فروغ کا نیا باب کھلے گا۔ ’ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے‘۔ولی عہد نے کہا ہے کہ ’عراق میں امن و استحکام پورے خطے کے لیے ضروری ہے جبکہ شام اور لیبیا کے مسائل سے پورا خطہ متاثر ہے‘۔ جبکہ مصری صدر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ وسیع البنیاد تعاون کے خواہاں ہیں۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں خطرہ، حلیفوں کے ساتھ مل کر خطے کو درپیش خطرات سے نمٹنے کا عزم رکھتے ہیں، مشرق وسطیٰ میں پائیدار تعلقات قائم کر کے مستحکم معیشت کی بنیاد ڈالیں گے۔ صدر جو بائیڈن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ایران کو جوہری توانائی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘ سبق ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ ’ایران کی جوہری سرگرمیاں خطے کی امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘’ہم اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر خطے کو درپیش خطرات سے نمٹنے کا عزم رکھتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم مشرق وسطی میں پائیدار تعلقات قائم کرکے مستحکم معیشت کی بنیاد ڈالیں گے۔‘ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’خطے کے امن واستحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی زبردستی سرحدوں میں تبدیلیاں ہونے دیں گے‘۔ ’بحری تجارتی گزرگاہوں کو محفوظ رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم بحری راستوں کو محفوظ بنائیں گے‘۔ جوابی تحفے میں سعودی عرب کو امریکا نے تیران اور صنافیر جزائر کی ملکیت سے نوازا ہے جہاں اس کی امن افواج نے کنٹرول سنبھالا ہوا تھا اسرائیل، مصر اور سعودی عرب کے قریب بحیرہ احمر میں واقع جزائر اہمیت کے حامل ہیں۔ سعودی عرب اور مصر کے درمیان نصف صدی سے زائد عرصے سے ان جزائر پر ملکیت کا تنازع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب اسرائیل نے بھی جزائر کو سعودی عرب کو واپس کرنے سے متعلق اعتراض واپس لے لیا ہے، اسے اسرائیل سعودیہ تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی اپنی فضائی حدود اسرائیل کیلئے کھول چکا ہے معاشی میدان میں دوسری بڑی پیش رفت I2U2 نامی معاہدہ ہے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ I2U2 ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکہ کی کوششوں کو تقویت دیتا ہے، مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں کو خطے کے لیے واشنگٹن کی وابستگی کا یقین دلاتا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے اتحادیوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرتا ہے۔ اس معاہدے کو کواڈ کا ایک ساتھی منصوبہ سمجھا جاتا ہے، ایک چار طرفہ شراکت داری جو آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور ریاستہائے متحدہ کو ایک ساتھ ملاتی ہے جس کی بنیاد جزوی طور پر بحر الکاہل میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کے جواب میں رکھی گئی تھی۔ اسرائیل کے لیے، I2U2 ایک اور فورم ہے جس میں ایران کی مخالفت کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس تاریخی سفارتی معاہدے کو مضبوط کرنا ہے جس پر اس نے U.A.E. کے ساتھ مہر ثبت کی تھی۔ اس معاہدے کی تشکیل کے ساتھ، "ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ دو الگ الگ اسٹریٹجک سیاق و سباق کو مربوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے" - ہند-بحرالکاہل اور مشرق وسطی، چین اور ایران کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات پر ایک حالیہ مقالے کے مصنف کیوجن لم نے کہا۔ ڈاکٹر لم نے مزید کہا کہ "یہ مختلف خطوں میں امریکہ کے شراکت داروں کے درمیان صف بندی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستان کے لیے، مقصد بنیادی طور پر اقتصادی ہے۔ اس اقدام سے دہلی کو مارچ میں ایک بڑے اقتصادی معاہدے پر مہر لگنے کے بعد امارات کے ساتھ تجارتی تعلقات کو تقویت ملتی ہے، اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کے لیے بات چیت کو رفتار ملتی ہے۔ تقریباً 3.5 ملین ہندوستانی امارات میں رہتے ہیں، جو خلیجی ملک کی کل آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہے، جو انہیں U.A.E کے لیے مزدوری کا ایک اہم ذریعہ بناتا ہے۔ اور ہندوستان کے لیے ترسیلات۔ ہندوستان کو امارات سے تیل اور اسرائیل سے اسلحہ بھی خاصی مقدار میں ملتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک پریس بریفنگ میں، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ I2U2 اپنے شرکاء کو خوراک کی حفاظت پر بات کرنے کی بھی اجازت دے گا۔ یوکرین میں روس کی جنگ نے اناج کی سپلائی میں کمی پیدا کر دی ہے، یہ فرق بھارت کے حالیہ گندم کی برآمدات کو محدود کرنے کے فیصلے سے بڑھ گیا ہے۔ انڈیا اس سمٹ کے فورا بعد حیفہ کی بندرگاہ کے انتظام خریدنے میں کامیاب رہا۔ ایک قاری اس تمام پیش رفت کے بعد اپنے سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ سے کم از کم ایک سوال پوچھنے میں تو حق بجانب ہوگا کہ "اس خطے میں ہم کہاں کھڑے ہیں ؟" یا پھر خواجہ آصف کے اس بیان پر اکتفا کر لیا جائے کہ "بھکاریوں کی کوئی چوائس نہیں ہوتی" ؟

Friday, July 15, 2022

پاکستان کی انتخابی تاریخ اور اسٹیبلشمنٹ کے سبق

پاکستان کی انتخابی تاریخ اور اسٹیبلشمنٹ کے سبق اظہر عباس پاکستان کی انتخابی تاریخ جہاں دھاندلی کے الزامات اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت بوالعجمیوں سے تعفن زدہ ہے وہاں ہماری نوجوان نسل بلکہ بہت سارے بزرگان بھی اس سے ناواقف ہیں کہ قومی سطح بالغ رائے دہی کا حق ہمارے ہاں 1970 کے الیکشن میں ہی پہلی بار دیا گیا۔ 1947 سے 1958 کے دوران پاکستان میں قومی سطح پر براہ راست انتخابات کبھی نہیں ہوئے۔ یعنی عام عوام نا ووٹ کے حقدار تھے اور نا ہی حکومتوں کے بننے بگڑنے سے ان کا براہ راست کوئی تعلق رکھا گیا۔ اشرافیہ اس دوران اس ملک کے معاملات براہ راست بناتی بگاڑتی رہی۔ قومی سطح پر 1958 کے بعد پاکستان کے دوسرے صدارتی انتخابات 2 جنوری 1965 کو ہوئے۔ ووٹنگ بالواسطہ ہوئی یعنی صدر کے انتخاب کیلئے 80,000 "بنیادی جمہوریتوں" کا الیکٹورل کالج بنایا گیا تھا۔ یعنی ووٹ کا حق 80،000 لوگوں کو دیا گیا جو کہ اس دور میں موری ممبر کے نام سے مشہور ہوئے انتخابات میں دو بڑی جماعتیں حصہ لے رہی تھیں: کنونشن مسلم لیگ اور مشترکہ اپوزیشن پارٹیاں۔ مشترکہ اپوزیشن جماعتیں پانچ بڑی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل تھیں، اور ان کا نو نکاتی پروگرام تھا، جس میں پارلیمانی جمہوریت کی بحالی اور براہ راست انتخابات اور بالغ رائے دہی کا تعارف شامل تھا۔ مشترکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس کوئی واحد قیادت نہیں تھی لہذا، انہوں نے فاطمہ جناح کو اپنے امیدوار کے طور پر چنا جنہیں بابائے قوم محمد علی جناح کی بہن ہونے کی وجہ سے ایک غیر متنازعہ رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ کنونشن مسلم لیگ کے امیدوار موجودہ صدر محمد ایوب خان تھے۔ ایوب خان 1958 میں پاکستانی فوجی بغاوت کے اعلان کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔ تب سے وہ صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ انتخابی مہم کا ایک ماہ کا مختصر دورانیہ تھا، جسے مزید نو پروجیکشن میٹنگز تک محدود کر دیا گیا جو کہ الیکشن کمیشن نے منعقد کیے تھے اور ان میں صرف الیکٹورل کالج کے اراکین اور پریس کے اراکین نے شرکت کی تھی۔ عوام کو پروجیکشن میٹنگز میں اس وجہ یا خوف سے شرکت سے روک دیا گیا کہ فاطمہ جناح کی فیم میں اضافہ ہوتا۔ فاطمہ جناح فاطمہ جناح کی مہم کو کئی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک غیر منصفانہ اور غیر مساوی انتخابی مہم اور بنیادی جمہوریت کے نظام کے ذریعے بالواسطہ انتخابات اس کے کچھ بنیادی مسائل تھے۔ تاہم، انہیں عوام میں زبردست حمایت حاصل تھی۔ بہت سے لوگوں کو ان سے ہمدردی تھی کیونکہ وہ محمد علی جناح کی بہن تھیں، جب کہ دوسروں نے انہیں ایوب خان کی فوجی آمریت کو چیلنج کرنے کے لیے ایک بہترین شخصیت کے طور پر دیکھا۔ اگرچہ بہت سے علما نے اس کی مذمت کی تھی کہ ایک عورت مسلم ریاست کی قیادت نہیں کر سکتی، کئی مذہبی رہنماؤں نے بھی ان کی حمایت کی۔ مودودی کی زیرقیادت جماعت اسلامی، محترمہ جناح کی مہم کی گہری حامی تھی کیونکہ وہ سیکولر ایوب خان کے مقابلے میں مذہبی نظریات سے متاثر قدامت پسند تھیں۔ انتخابی نتائج حسب توقع موجودہ صدر ایوب خان کے حق میں آئے، جنہوں نے پاپولر ووٹ کھونے کے باوجود 62.43 فیصد الیکٹورل ووٹ حاصل کیے۔ فاطمہ جناح نے الیکٹورل کالج کے 35.86 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ تاہم محترمہ جناح ملک کے کچھ علاقوں میں انتہائی کامیاب تھیں۔ انہیں نے کراچی اور ڈھاکہ جیسے بڑے شہری مراکز میں اکثریت حاصل کی۔ ایوب کو مشرقی پاکستان میں بھی مایوس کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ایوب نے دیہی پاکستان میں فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ چونکہ الیکٹورل کالج کی اکثریت دیہی سیٹ اپ کے نمائندوں پر مشتمل تھی، اس لیے ایوب واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 1947 تا 1970 عوام کی کارہائے حکومت میں عدم شمولیت کی وجہ سے عوام میں جو احساس محرومی پیدا ہوا اسے علیحدگی پسند عناصر نے پر کیا اور پاکستان کو اس کا خمیازہ 1970 کے انتخابات کے نتائج کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ 1970 کے پاکستانی عام انتخابات، برطانوی ہندوستان سے پاکستان کی آزادی کے بعد پہلے براہ راست عام انتخابات تھے۔ دہائیوں کی طویل جدوجہد کے بعد، فوجی حکومت جمہوری طور پر منتخب عہدیداروں کو اقتدار منتقل کرنے کے پراسس کو شروع کرنے پر مجبور ہوئی۔ مشرقی پاکستان میں، انتخابات کو پاکستان کے بنگالی شہریوں کے لیے خود مختاری پر ریفرنڈم کے طور پر پیش کیا گیا، جو پاکستان کی آبادی کا تقریباً 55 فیصد تھے۔ یہ انتخاب عوامی لیگ نے جیتا، جس کی 313 میں سے 167 نشستیں تھیں، اور شیخ مجیب الرحمان پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے وزیر اعظم بننے والے تھے۔ لیکن فوجی حکومت نے منتخب پارلیمنٹ کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی آزادی کی کے نعرے سے شروع ہوئی تحریک 1971 میں ملک ٹوٹنے پر منتج ہوئی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے 1971 کے بعد اور روس کے زوال سے 2 سبق سیکھے ہیں: 1۔ سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنا 2۔ وسائل کو اپنے کنٹرول میں رکھنا آپ دیکھیں گے کہ یہی 2 اسباب تمام مسائل کی جڑ ہیں جب تک ان کا حل نہیں نکلے گا تب تک یہ ملک ایسے ہی چلے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے والوں کے وارے نیارے اور قوم خستہ حال ہی رہے گی۔ ان سے نکلنے کیلئے جو بھی کوشش کرے گا اسکا حال "مجھے کیوں نکالا" ہو گا یا پھانسی لگے گا یا گولی کھائے گا۔ اس کے کارکن کوڑے کھائیں گے یا وطن بدری ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ لیکن آپ یقین رکھیں جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے- اس ملک میں ایک لا وارث نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ نسل تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے ۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی۔ یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے

Wednesday, April 6, 2022

پاکستان کا سیاسی گرداب

 پاکستان کا سیاسی گرداب

اظہر عباس


جیسا کہ میں نے پچھلے بلاگ میں لکھا تھا کہ جو بائیڈن ہاٹ پرسوٹ کی بجائے دنیا میں روایتی 80 کی دہائی کی سیاستکاری بذریعہ سفارتکاری کی اسٹریٹیجی پر جائے گا اور دنیا میں ڈیموکریٹک قوتوں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دے گا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا حکمران طبقہ اس تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام رہا ۔ ٹرمپ کے پاپولر سیاسی اسٹائل کو دیکھتے ہوئے عمران خان کو حکومت میں لایا گیا جس نے ٹرمپ سے قریبی مراسم بذریعہ اس کے داماد کشنر بڑھائے اور پھر ٹرمپ کو دورہ امریکہ میں بھرپور تعاون کی یہاں تک یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستانی سفارتخانہ کو ٹرمپ کا الیکشن آفس بنا دیا گیا ۔ یہ بات ڈیمو کریٹک پارٹی کو شروع سے کھٹک رہی تھی کہ ریپبلکن پارٹی کی حمایت میں پاکستان کس طرح سے تعاون کر رہا ہے ۔۔ یہاں رک کے ایک بات سوچیں کہ جب آپ ایک سپر پاور کے ملک میں جاکر ایک پارٹی کی ان کے الیکشن میں مدد کریں تو جوابی کاروائی سے بدکنا چہ معنی دارد ؟ اور وہ بلاشرکت غیرے سپر پاور جب آپ کے سفیر کو جوابی طور پر رجیم کے بدلاو کی بات کرے تو اس پر رونا کیسا ؟ اس ساری صورتحال میں جب کہ پاکستان کی حکومت و اسٹیبلشمنٹ اپنے سارے انڈے امریکہ کی ایک ہاری ہوئی پارٹی کی ٹوکری میں ڈال چکی تھی تو جیتی ہوئی پارٹی کے ایک اسسٹنٹ سیکرٹری کی ایک گھرکی کی مار ہی ثابت ہوئی اور جب عدم اعتماد اسمبلی میں پیش ہوئی تو ایک بھونڈے طریقے سے اپنی ہی حکومت توڑنی پڑی ۔۔ یہ بھونڈا انداز اتنا ناقابل فہم تھا کہ پورا ملک ایک آئینی و سیاسی گرداب میں پھنسا ہوا ہے ۔۔ ان حالات میں پاکستان کے معروف صحافی اپنے آج کے جنگ میں شائع شدہ کالم میں لکھتے ہیں کہ:


"افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہم سب سے زیادہ دنیا دیکھنے والے، مغرب کو سب سے زیادہ سمجھنے والے، اخلاقیات کا سبق دیتے کرکٹ لیجنڈ وزیراعظم عمران خان نے اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ورنہ وہ استعفیٰ دے کر ایک اعلیٰ مثال بھی قائم کر سکتے تھے۔


کھلاڑی آخری بال تک ضرور لڑتا ہے مگر ہار جائے تو شکست تسلیم بھی کرتا ہے۔مجھے کرکٹ دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق رہا ہے اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے حوالے سے میں عمران کے کزن ماجد خان سے بہت متاثر ہوں۔ اسے جب بھی لگتا تھا کہ بال اس کے بلے کو چھو کر وکٹ کیپر کے پاس گئی ہے تو وہ ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھے بغیر کریز چھوڑ دیتا تھا۔ 


اتوار کے روز قومی اسمبلی میں چار منٹ کا جو تماشہ ہوا اس نے بہت سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

حکومت اتنی جلدی میں تھی کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ پڑھتے وقت اسپیکر اسد قیصر کا نام بھی لے گئے جن کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک اسی دن جمع ہو گئی تھی۔ یہی کام ذرا بہتر انداز میں اپوزیشن کے ایک دو لوگوں کو سن کر ہی کرلیتے۔


وزیراعظم اور ان کے رفقاء کار نے 8 مارچ سے لے کر 27مارچ تک پوری کوشش کی کہ منحرفین واپس آجائیں، اتحادی مان جائیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ وہ تحریک کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔


اب اگر ’بین الاقوامی سازش‘ کا پتا انہیں 7مارچ کو چل گیا تھا تو پھر یہ ساری کوششیں کس لیے تھیں۔ یہ انکشاف اس وقت کیوں کیا گیا جب تمام تر ذاتی ملاقاتوں اور پارٹی رہنمائوں کی کوششوں کے باوجود کوئی واپس آنے کو تیار نہ ہوا۔ پھر جیسا کہ ہوتا ہے، آپ نے منحرفین کے گھر والوں تک کو دھمکی دیدی مگر وہ پھر بھی واپس نہ آئے۔ اس سے بہت بہتر ہوتا کہ کپتان اکثریت کھونے کے بعد میدان میں مقابلہ کرتے۔ الیکشن میں جانے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں تھا کیونکہ دوسری طرف 190 سے زیادہ اراکین تھے۔


آخر خان صاحب یہ بھی تو بتائیں کہ ان منحرفین کو پارٹی میں لانے کا فیصلہ کس کا تھا؟ اتحادیوں کو کس نے آپ کے حوالے کیا تھا ساری زندگی ’’نیوٹرل ایمپائر‘‘ لانے کا کریڈٹ لینے والے کپتان کو اب نیوٹرل جانور کیوں نظر آنے لگے۔"


ان کے اس سوال کا جواب سلیم صافی دیتے ہیں۔ اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ:

مختلف ممالک سے پاکستان کے سفارتخانے دو ذرائع سے اپنی وزارتِ خارجہ کو باخبر رکھتے ہیں۔ ایک معمول کے خطوط ہوتے ہیں اور دوسرے خفیہ ٹیلی گرام۔


خفیہ ٹیلی گرام میں سفیر اس ملک کے عوام اور حکومتی صفوں میں پاکستان کے بارے میں سوچ کا تجزیہ اپنے الفاظ میں کرتے ہیں۔ بالخصوص جب بھی کسی بھی ملک کے حکومتی عہدیدار سے سفیر کی ملاقات ہوتی ہے تو ان کے خیالات کا خلاصہ خفیہ کیبل کی صورت میں بھجوایا جاتا ہے۔


 ظاہر ہے اس میں اس سفیر کے اپنے خیالات اور تجزیاتی صلاحیت کا بھی دخل ہوتا ہے۔

امریکہ، چین، انڈیا، برطانیہ اور افغانستان جیسے ممالک سے نہ صرف یہ کیبلز تواتر کے ساتھ آتے ہیں بلکہ ان ممالک کی اہمیت کی وجہ سے انہیں خصوصی اہمیت بھی دی جاتی ہے۔


 میری معلومات کے مطابق یہ خفیہ ٹیلی گرام براہ راست سیکرٹری خارجہ کو بھیجے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور سی جی ایس کو بھی اسی روز بھیجے جاتے ہیں۔


یوں حکومت نے اس وقت جس خفیہ کیبل کو موضوع بحث بنایاہے، وہ اسی دن آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور سی جی ایس کو بھی گیا ہوگا اور اگر واقعی اس میں پاکستان کی سلامتی سے متعلق کوئی سنجیدہ خطرے کی بات ہوتی تو نہ صرف وہ اس پر ردعمل ظاہر کرتے بلکہ یہ شخصیات وزیراعظم سے کابینہ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ طلب کرنے کا بھی مطالبہ کرتیں۔


پاکستان کے بارے میں امریکی یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر دھمکی دینی ہو یا پھر کوئی پیشکش کرنی ہو تو عسکری قیادت کوکی جاتی ہے نہ کہ وزیر خارجہ یا وزیراعظم کو۔

مثلاً جب زلمے خلیل زاد ہر ہفتے پاکستان آتے تھے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے نہ ملے ہوں لیکن وزیرخارجہ اور وزیراعظم سے وہ صرف ایک مرتبہ ملے۔ میں پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ سی آئی اے چیف جب پاکستان آئے تھے تو عمران خان نے ان کے ساتھ ملاقات سے انکار کیا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو ان کی پاکستان آمد اور آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات پتہ ہی تب چلاجب وہ پاکستان سے واپس جا چکے تھے۔


 اس پس منظر کو سامنے لانے سے مقصود یہ ہے کہ امریکہ کو اگر کوئی سنجیدہ پیغام دینا ہوتا تو وہ براہ راست عسکری قیادت کو دیتا نہ کہ وہاں پر موجود ہمارے سفیر کو۔


اب یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ پاکستانی ریاست سے ناراض یا نالاں ہے۔ ایک وجہ تو افغانستان ہے۔

 دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان ماضی کی طرح صرف اس کے کیمپ میں رہے لیکن جنرل کیانی اور آصف زرداری کے دور میں پاکستان نے روس اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کا آغاز کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ پاکستان مزید امریکہ کی طرف نہیں دیکھے گا۔ اس دور میں صرف امریکہ کے خلاف برائے نام نعرے نہیں لگائے گئے تھے بلکہ نیٹو سپلائی بند کی گئی، بلوچستان میں ان کے اڈے واپس لیے گئے اور سپلائی تب بحال کی گئی جب امریکہ نے معافی مانگ لی۔


جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اسی پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، اسی طرح سی پیک اور چین کے ساتھ قربت سے بھی امریکہ خوش نہیں اور چین کے تناظر میں اس نے انڈیا کو اپنے اسٹریٹیجک پارٹنر کا درجہ دیا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف ا سٹیٹ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو سے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے 7 مارچ کو الوداعی ملاقات کی۔

میری معلومات کے مطابق اس ملاقات میں ان کے ساتھ ایک اور سفارتکار بھی موجود تھے اور وہ بھی پاکستان میں اپنے باسز کو بتا چکے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس طرح حکومت پیش کررہی ہے۔

 اس ملاقات میں شاید انہوں نے روایتی طور پر پاکستان سے متعلق روایتی گلے شکوے کئے ہیں چونکہ ٹرم خان ایڈمنسٹریشن کا استعمال ہوتا ہے اس لیے شاید اس ملاقات میں بھی انہوں نے یہ ذکر کیا ہے۔


اس طرح کی ملاقاتوں میں عموماً دونوں ملکوں کی سیاسی صورت حال بھی ڈسکس ہوتی ہے چنانچہ ہوسکتا ہے پاکستان کی سیاسی صورت حال پر بھی بات چیت ہوئی ہو اور ڈونلڈ لو نے یہ بتایا ہو کہ عمران خان ایڈمنسٹریشن کی موجودہ پالیسیوں کے ساتھ تو چلنا مشکل ہے لیکن نئی حکومت نے اگر کچھ مثبت اقدامات لیے تو ان کے ساتھ کام ہوسکتا ہے۔

 پھر اس طرح کی ملاقاتوں میں ہر ملک اپنے مطالبات دہراتا ہے اور جواب میں سفیر اپنے ملک کا موقف پیش کرتا ہے۔


 بعض اوقات وہ عہدیدار مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ نتائج کا بھی ذکر کرتا ہے اور حکومت جو تاثر دے رہی ہے اس سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ شاید ڈونلڈ لو نے ممکنہ نتائج کا بھی ذکر کیا ہو۔


اب اس ملاقات کا خلاصہ اور تجزیہ اسد مجید خان نے پاکستان بھجوایا اور ظاہر ہے کہ یہ اسی روز سیکرٹری خارجہ کے ساتھ مذکورہ عسکری حکام کے پاس بھی گیا ہوگا.


 لیکن ہم نے دیکھا کہ حکومت نے اس کے بعد کئی روز تک اس حوالے سے نہ تو امریکہ سے کوئی احتجاج کیا اور نہ کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا کیونکہ وہ معمول کا ایک ٹیلی گرام تھا۔ کئی روز تک حکومت نے اس ٹیلی گرام کا کسی فورم پر کوئی ذکر نہیں کیا لیکن جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو عمران خان صاحب نے اپوزیشن کو مدافعتی پوزیشن پر لانے کے لیے اس ٹیلی گرام کا سہارا لے کر یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ امریکہ نے سات مارچ کو انہیں دھمکی دی اور اسی ٹیلی گرام میں یہ بات بھی ہےکہ عدم اعتماد کی تحریک امریکہ کے ایما پر لائی جارہی ہے۔


 اس دعوے سے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور خود امریکی ہکا بکا رہ گئے۔ وائٹ ہاوس اوراسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تردید کردی۔ ملاقات کرنے والے ڈونلڈ لو نے بھی ٹی وی انٹرویو میں کہہ دیا کہ عدم اعتماد یا دھمکی کی کوئی بات نہیں کی۔ سفیر اسد مجید کے ساتھ ملاقات میں موجودہ دوسرے سفارتکار بھی متعلقہ حکام کو بتاچکے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ چنانچہ فیس سیونگ کے لیے عمران خان نے کئی روز بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور اس میں نصف درجن غیرمتعلقہ وزیروں کو بلایا۔ کمیٹی کو اپنی مرضی کی بریفنگ دلوائی۔ پھر پریس ریلیز خود جاری کی 


لیکن پریس ریلیز میں نہ عدم اعتماد کا ذکرہے، نہ امریکہ کا نام ہےاور نہ حکومت گرانے کے لیے سازش کا ذکر عمران اور ان کے گوئبلز نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ ان کے دعوے کی سروسز چیفس نے بھی تصدیق کی ہے۔


اس سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اس ٹیلی گرام کو بنیاد بنا کر آرٹیکل 5 کی آڑ لے کر انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے عدم اعتماد کی تحریک واپس کرائی اور پھر اسمبلی توڑنے کا اعلان کیا۔ گویا اس ایک ٹیلی گرام کی بنیاد پر انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے ڈیکلیئر کروایا کہ اپوزیشن کے تمام رہنما اور ممبران اسمبلی غیرمحب وطن ہیں۔ اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس ٹیلی گرام کی حقیقت واضح کی جائے کیونکہ اپوزیشن کو غیرمحب وطن قرار دینے، پھر اس کی آڑ میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کی بجائے آئین شکنی کرکے اجلاس ملتوی کرنے اور پھر اسی کی آڑ میں اسمبلی توڑنے جیسے سارے افعال کی عمارت اس ٹیلی گرام پر کھڑی ہے۔

 پاکستان خارجہ محاذ پر مذاق بن گیا"


آئیندہ الیکشن اور تشکیل حکومت کا منظرنامہ ایمپائر کے نیوٹرل رہنے سے مشروط ہے ورنہ نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ مقابلہ تو نام ہی فیئرپلے کا ہے جو پاکستان میں ہمیں کم ہی نظر آیا ہے۔ اور ابھی بائیڈن/ ڈیموکریٹک پارٹی کے بھی تین سال باقی ہیں اور آنے والا اسٹیبلشمنٹ کا باس بھی تین سال ہی اپنی پالیسیاں تشکیل دے گا لیکن جس بات کی سمجھ عمران خان کو نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ جو انہیں اس مقام پر لے آئے کیا وہ انہیں دوبارہ وہیں دیکھنا چاہیں گے ؟ عدلیہ جو اتنا ٹائم ایک چھوٹا سا نقطہ جو ہر پھٹے والے وکیل کو بھی معلوم ہے کہ "بغیر دوسرے فریق کو سنے کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا" کیا سپریم کورٹ کے ججز کے علم میں نہیں ؟ وہ دراصل یہ ٹائم اس لئے لے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ یکسو ہوسکے جو وہ اس وقت نہیں ہے 


اللہ اس ملک کے باسیوں کیلئے رحمت کے دروازے کھولے اور لیڈران کرام کو عقل سلیم عطا فرمائے 


آمین

Thursday, March 3, 2022

مغربی حکومتوں کی منافقت

 سلامتی کونسل میں مختلف مندوبین کا موقف


یورپی یونین کے مندوب اولاف سکوگ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف یوکرین سے متعلق نہیں تھی بلکہ یہ عالمی سرحدوں کے دفاع سے معلق ہے۔


شام نے مغرب کے دہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے خود حالیہ دہائیوں میں لیبیا، عراق اور افغانستان میں مداخلت کی ہے


xX------------Xx-----------Xx


یوکرین پر حملہ کرنے پر روس کو سزا دینے کیلئے مغربی ممالک نے سخت موقف اختیار کیا ہے تاہم اس اقدام کی وجہ سے منافقت کا اعلیٰ معیار بے نقاب ہوگیا ہے کیونکہ امریکا نے جتنے ملکوں پر حملہ کیا ہے اس پر کبھی بھی اس کیخلاف سخت ترین پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔

 یوکرین میں اگر موجودہ حالات نے کچھ ثابت کیا ہے تو وہ یہ ہے کہ امریکا اور اس کے بین البراعظمیٰ ساتھیوں نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام پر ظلم و جبر اور بے رحمی کے ساتھ قبضہ کیا۔ اسی دوران، روس اور ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین میں اقدامات کی وجہ سے مرکزی دھارے کا تقریباً پورا میڈیا نازی جرمنی سے تشبیہہ دے رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والے اداریے میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ واضح ہونا چاہئے کہ منافقت اور عیاری کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کیخلاف حملوں کا جواز نہیں دیتی۔

 بہ الفاظ دیگر، چونکہ نیٹو ممالک 2001ء سے دنیا کے مختلف ملکوں پر حملے کرکے تباہی پھیلاتے رہے ہیں اسلئے روس کو بھی ایسا ہی کرنے کا جواز نہیں ملتا۔ کسی بھی ملک کے پاس طاقت کے استعمال کیلئے ٹھوس جواز ہونا چاہئے لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس کے اقدامات کو منصفانہ کہا جا سکتا ہے یا کیا یہ کارروائی قابل فہم ہے؟ اس سوال کا جواب قارئین خود دیں گے۔ لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ روس نیٹو کو توسیع پسندانہ عزائم کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی سے خبردار کرتا رہا ہے۔

 2007ء میں میونخ سیکورٹی کانفرنس میں روسی صدر نے واضح طور پر وہاں موجود طاقتور ممالک سے سوال کیا تھا کہ روس کی سرحدوں پر عسکری انفرا اسٹرکچر لگانے کی آخر ضرورت کیا ہے، کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہے؟ بعد میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روسی سرحد پر عسکری اثاثہ جات جمع کرنا کسی بھی طرح سے انفرادی ریاستوں کا جمہوری فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

 روسی صدر کی آواز پر کسی نے دھیان نہیں دیا اور نیٹو نے چار ممالک (البانیہ، کروشیا، مونٹی نیگرو اور شمالی مقدونیہ) کو رکنیت دیدی۔ تصور کریں کہ امریکا کو کتنی مرچیں لگتیں جب روس بھی ایسا ہی توسیع پسندانہ اقدام کرتے ہوئے جنوبی امریکی ریاستوں کو اپنا حصہ بنانا شروع کردے۔

روس کیلئے سب سے پریشان کن وقت وہ تھا جب امریکا اور نیٹو نے یوکرین میں جدید ترین اسلحہ جمع کرکے وہاں انبار لگا دیا اور یوکرین کو شہ دی کہ وہ نیٹو کی رکنیت حاصل کرے۔ یہی وہ وقت تھا جب یوکرین سے روس کو اپنی بقاء کا خطرہ لاحق ہوگیا۔

 دسمبر 2021ء میں جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو روس نے سیکورٹی کی ضمانت کیلئے ایک معاہدہ امریکا اور نیٹو ممالک کو پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مشرق کی جانب نیٹو کی توسیع روک دی جائے اور یوکرین سمیت دیگر ممالک کو نیٹو کی رکنیت نہ دی جائے۔

اس دستاویز میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ نیٹو یوکرین سمیت مشرق کی جانب دیگر ریاستوں اور وسط ایشیائی ریاستوں میں کوئی فوجی مشقیں یا دیگر سرگرمیاں نہیں کرے گا۔ ایک مرتبہ پھر روس کی تجاویز کو تکبر کی نگاہ سے مسترد کر دیاگیا۔ اگرچہ لوگوں کی نظر میں روس کی کارروائی حیران کن اور ناقابل قبول ہو سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ روس نے خبردار نہیں کیا تھا کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ 24؍ فروری کو صبح کو روس نیند سے جاگا اور اٹھ کر یوکرین پر حملہ کر دیا۔

اگر روس نے غلط کیا تو امریکا اور اس کے اتحادی ممالک گزشتہ دو دہائیوں سے کیا کرتے رہے ہیں؟ مثال کے طور پر عراق جنگ کو ہی دیکھ لیں، عراق پر حملے کے بعد کے نتائج میں مغربی میڈیا خود اعتراف کرتا ہے کہ یہ جنگ انٹیلی جنس اطلاع کی ناکامی کا نتیجہ تھی، امریکا اور اتحادیوں نے بلا اشتعال عراق پر چڑھائی کر دی۔

 9/11 کے حملے کے بعد امریکا نے براہِ راست صدام حسین پر الزام عائد کردیا کہ اس کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ جس وقت امریکا اور اقوام متحدہ کے ماہرین اس الزام کی تصدیق کیلئے عراقی سرزمین پر موجود تھے ٹھیک اسی وقت امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور پولینڈ نے 19؍ مارچ 2003ء کو عراق پر تباہ کن حملہ شروع کر دیا۔ قلیل عرصہ میں امریکا اور اس کے ساتھیوں نے دس لاکھ معصوم عراقیوں زخمی کیا، بے گھر کیا اور لاکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

 کیا یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھی؟ سینٹر فار پبلک انٹیگریٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بش انتظامیہ نے عوام میں اپنی گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے 2001ء سے 2003ء کے درمیان میڈیا میں 900؍ جھوٹ بولے اور یہ راگ الاپا کہ عراق سے امریکا اور اس کے شراکت دار ممالک کو خطرہ ہے۔

لیکن وہی مغربی میڈیا جو آج روسی جنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اسے عراقی زمین پر امریکی بوٹ اور عراقیوں کے خون میں کوئی انسانی حقوق نظر نہیں آئے۔ چونکہ فرانس نے عراق جنگ کی مخالفت کی تھی اسلئے امریکی سیاست دانوں نے غرور اور تکبر میں فرانسیسی شراب اور پانی کی بوتلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

اب اس تمام تر صورتحال کا یوکرین کی موجودہ صورتحال کے ساتھ تقابل کریں جہاں اصولوں کے ترازو میں پلڑا روس کیخلاف ہے اور برسوں سے خدشات کے اظہار کے باوجود روس کے تحفظات دور نہ کیے جانے پر بھی کیا روس کو یہ اقدام کرنے کا جواز نہیں تھا؟ قارئین چاہے کچھ بھی سوچیں لیکن روس کیخلاف اس قدر شدید پابندیاں برسوں سے پابندیاں عائد کرنے کے باوجود عائد کی گئی ہیں تو امریکا اور مغرب کی منافقت پر ان کیخلاف کوئی پابندی کیوں نہیں عائد ہوئی؟

روسی افراد اور روسی معیشت کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ، فرانس کے وزیر معیشت کا بیان بڑا ہی دلچسپ ہے کہ فرانس روس کیخلاف مکمل معاشی اور مالیاتی جنگ کیلئے پر عزم ہے۔ پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ روسی میڈیا اور اصل خبروں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ ان خبروں کے ذریعے مغربی ممالک کو اصل صورتحال کا پتہ چل سکتا ہے۔

Saturday, February 19, 2022

میڈیا کی جنگ

 میڈیا کی جنگ 

اظہر عباس 


جب امریکہ نے 9/11 کے بعد افغانستان پر دھاوا بولا تو امریکی  موقف کو پذیرائی دلوانے کیلئے انکی ایک پالیسی بنائی گئی جس کے تحت میڈیا کو اپنے موقف کے پرچار کیلئے استعمال کرنا مقصود تھا ۔۔ انکی یہ پالیسی انٹر نیٹ پہ موجود ہے ۔۔ ریڈیو فری یورپ پہلے ہی موجود تھا اور اس میں پشتو کی نشریات کیلئے مشال ریڈیو اور ٹی وی استعمال کئے گئے اور پاکستان میں یکایک ٹی وی چینلز آ گئے ۔۔ انہیں سی آئی اے سے فنڈز دلوائے گئے اور ان چینلز کی میڈیا سے متعلقہ فیلڈ کیلئے تربیت گاہوں کو براہ راست وائس آف امریکہ کے ماہرین سے تربیت دلوائی گئی۔۔  ان کے ساتھ میڈیا مینیجمنٹ کے ماہرین کی ایک کھیپ بھی پاکستان بھیجی گئی ۔۔ وائس آف امریکہ کے مختلف چینلز پر براہ راست ایک یا دو گھنٹہ کے بلیٹن چلا کرتے تھے ۔۔ جب وائس آف امریکہ کی ملکی چینلز سے نشریات پر کچھ اعتراضات ہوئے تو اخباری ایجنسیاں جیسا کہ آن لائن  وغیرہ کھولی گئیں اور مختلف نیوز ویب سائٹس اور اخبارات وغیرہ جاری ہوئے۔ 


آجکل امریکہ کی میڈیا پالیسی کا محور ایران ہے اور پورا فارسی نشریات کا جال پھیلایا ہوا ہے ۔۔ میں چونکہ سیٹلائٹ نشریات دیکھتا اس لئے کچھ معلوم رہتا ہے اگر کبھی موقع ملے تو ایکسپریس اے ایم 22 سیٹلائٹ کی نشریات دیکھئے گا 300 سے زیادہ فارسی چینلز اس پیکج پر موجود ہیں اور فری ہیں جبکہ آجکل کے دور میں ڈیجیٹل چینلز انڈیا کے بھی پیڈ ہیں ۔۔ یہ دجالی میڈیا وار صرف امریکہ لڑ سکتا ہے ۔۔ ان کا ہدف وہی ہے جو شروع میں پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کے ذہن میں اپنے نفسیاتی ہتھکنڈوں سے ڈالا گیا ۔۔ فحاشی اور عریانی ان کے ہتھیار ہیں جن سے بچنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ۔۔ 


آپ غور کریں کہ انڈیا میں سی این این اپنا پورا نیٹ ورک ٹائم ناو کے نام سے چلا رہی ہے اور فاکس نیوز اپنا نیٹ ورک ریپبلک کے نام سے ۔۔ پتا نہیں کتنے اور ہوں گے ۔ مقصد ان کا ایک ہی ہے ۔۔ وہ اقوام جو ان کا مقابلہ کر سکتی ہیں انہیں آپس میں ہی لڑوا کے کھوکھلا کئے رکھو تاکہ مغرب کا مقابلہ نا کر سکیں ۔۔ بدقسمتی سے مودی سرکار اور اسکی پارٹی ان کی کٹھ پتلی بن چکی اور اپنا مقصد ان کے مقصد کے اندر سے نکالنا چاہ رہی ہے یعنی ہندتوا کا اجرا ۔۔ وہ ہمالیہ کی پوری وادی کو ہندو ریاست سمجھتے ہیں اور اس کی تجوید کیلئے کوشاں ہیں


اس دجالی میڈیا کو اگر کوئی سمجھتا ہے تو وہ صرف پوٹن ہے جس نے ان کے ہوش ٹھکانے لگا رکھے ہیں چین اپنی پالیسی پر کاربند ہے کہ انہی کے سرمائے سے انہیں مات دو لیکن چینی جس طرح اس میڈیا کا شکار ہو رہے ہیں اس کا جواب ان کا سیاسی نظام شاید دیر تک نا دے سکے اور کچھ عرصہ میں وہاں کچھ تبدیلیاں آئیں لیکن پوٹن انہی کی زبان میں جواب دینے کا ماہر ہے


ذرا غور فرمائیے ۔۔ برصغیر میں جب انگریز آئے تو اپنا نظام اپنے ساتھ لائے ۔۔ ہندو دھڑا دھڑ انکے نظام میں شمولیت اختیار کرنے لگے اور کامیابی کے ساتھ ان کے مہرے ٹھہرے جبکہ مسلمان کہیں بعد میں جا کے بذریعہ سرسید احمد خان اس نظام میں اپنی جگہ بنا پائے اور اپنا نیا ملک بھی اسی نظام کے اندر رہ کر حاصل کیا 


اب امریکی یہی کھیل ہر قوم کے ساتھ بذریعہ میڈیا کھیل رہے ہیں لیکن ان کا مقصد اپنا نظام مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک شیطانی جال بننا بھی ہے جو انسانی نفسیات کے مطابق فحاشی اور عریانی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔۔ وہ اسی قوم کی جوان لڑکیوں کو اپنے مادی جال میں پھنسا کر استعمال کرتے ہیں اور بعد میں یہی جوان نسل نظام کی تبدیلی کی ابتدا کرتی ہے ۔۔ ان کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ یہ عام مولوی اور میں تو کہتا ہوں خاص مولوی بھی نہیں کر سکتے ۔۔ انہیں ان کے ہتھکنڈوں کا مطالعہ کرنا چاہئے اور ان کا جواب دینے کی بجائے اپنا مقصد سامنے رکھ کر ان کا توڑ نکالنا چاہئے


اب ہوا یہ ہے کہ ہندو چونکہ ایک شاطر قوم ہے وہ سمجھ گئی ہے کہ دنیا کا نظام کس کے ہاتھ میں ہے اور اس نظام میں کس طرح شامل ہو کر اپنے مقاصد حاصل کرنے ہیں، چینی بھی اسی نظام سے اپنےمقاصد حاصل کر رہے ہیں ۔۔ اسرائیلی بھی اور یہاں تک کہ روسی بھی ۔۔ صرف مسلمان ہیں جن کے مقاصد ہیں ہی نہیں وہ اپنے خول میں حسب معمول دبک گئے ہیں اور مار کھا رہے ہیں۔۔ قائد اعظم اس نظام کو سمجھ رہے تھے اور انہوں نے مقاصد طے بھی کر دیئے تھے لیکن ہماری قوم ڈیفنس میں پھنس گئی اور صرف دفاع پر اپنی نظریں مرکوز کرلیں نتیجتا اپنا علاقہ مسلسل گنوا رہی ہے اور بجائے کوئی مقصد دینے کے ہمارے زعما آپس میں لڑائیاں لڑ رہے ہیں اور ہمارے علما حسب دستور امام مہدی کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔۔ اس وقت ضرورت ایک سر سید کی ہے جو اس نظام کو سمجھتا ہو اور مسلمان قوم کو ایک مقصد دے کر اس نظام کے اندر اس مقصد کیلئے نا صرف جدوجہد کرے بلکہ قوم کو اس مقصد کیلئے تیار بھی کرے

محسن بیگ کون ہے ؟

 محسن بیگ کون ہے ؟

اظہر عباس 


‏9/11 کے بعد میڈیا مینیجمنٹ کے ماہرین کی ایک کھیپ بھی پاکستان بھیجی گئی جن میں یہ موصوف بھی تھے جو وائس آف امریکہ کی جیو پر براہ راست ایک یا دو گھنٹہ کے بلیٹن چلوایا کرتے تھے ۔۔ ان صاحب میں پیچھے رہ کر آگے بڑھنے کا گر تھا جس کی وجہ سے بڑی ڈیلز کروانے کا کام انہیں سونپا گیا اور ملکی سرمایہ داروں سے میل ملاقاتیں کرتے کرواتے تھے ۔۔ جب وائس آف امریکہ کی ملکی چینلز سے نشریات پر کچھ اعتراضات ہوئے تو انہیں ایک اخباری ایجنسی آن لائن کے نام سے کھول کر دی گئی اور ایک اخبار جناح کے نام سے بھی انہوں نے جاری کیا ۔۔ عمران خان کے بت تراشنے، اسے جیو پر ٹائم دلوانے اور اس کی میڈیا مینیجمنٹ کے براہ راست ذمہ دار تھے اور اس کو فنڈنگ بھی ان کے ذریعے ہوتی تھی ۔۔ یہ اور مبشر لقمان جنگل کے راستے بنی گالا جایا کرتے اور اس کی ملاقاتیں کرایا کرتے ۔۔ اب ان معاملات کے چونکہ آنکھوں دیکھے گواہ تھے اس لئے ایک سودے (کہا جا رہا ہے کہ روسی کمپنی کی پائپ لائن کا سودا) میں کچھ رنجش ہوئی اور خان کو دھمکیاں دے کر باہر چلے گئے ۔۔ کچھ عرصہ لندن میں قیام پذیر رہے اور پھر جب معاملات بدلے تو کچھ بااثر ذرائع کی یقین دہانیوں پر واپس آئے ۔۔ اب کچھ عرصہ سے کھل کر بول رہے تھے لیکن سلیم صافی کے ساتھ ویڈیو لاگ (یو ٹیوب پر دیکھ لیں) میں کچھ ریڈ لائنز عبور کر بیٹھے جس پر نیازی نے سبق سکھانے کا حکم دیا ۔۔ غریدہ فاروقی والا پروگرام تو بے ضرر تھا ۔۔ کوئی وزیر یا بیوروکریٹ جب اس معاملے میں پڑنے پر تیار نہیں ہوا تو نیازی نے اپنے بندے کو آگے کر کے اسے سبق سکھانے کی کوشش کی ۔۔

Sunday, November 28, 2021

کالے خیالات

 

حسن نثار کے نام 


یہی لیڈر کہتا تھا کہ خودکشی کرلے گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گا ۔۔

بہتر ہے کہ خودکشی کر ہی لے اب بجائے اس کے کہ تمام ملک اور عوام کو خود کشی پر مجبور کرے 


نا اس کی کوئی تیاری تھی نا اس بندے کے پاس کوئی وژن ہے اور نا مستقبل کیلئے کوئی پلان ۔۔ بس قرض لے کر ملک چلا رہا ہے، عوام پس رہے ہیں 


اب تک کوئی پلان بنایا ہے اس نے کہ ملک کی جی ڈی پی کیسے بڑھانی ہے ؟


اب تک حال یہ ہے کہ پانچ سالہ منصوبہ تک بنانے میں ناکام رہا ہے ۔ یہ اس قابل ہی نہیں کہ ملک کا کچھ سوچ سکے


اس سے کہیں کہ کرے ۔۔ کچھ تو کرے ۔۔ اس کی حکومت ہے ۔۔ پلان کرے اور Execute کرے


نا کوئی وژن نا کوئی پلان ایک Dumb انسان کی طرح کرپشن کرپشن کرتا رہتا ہے ۔۔ ارے اب تو جسمانی کرپشن عروج پر ہے ۔۔ جب روزگار نہیں ہو گا تو لوگ وہی بیچیں گے جو ان کے پاس ہے


ہر وزارت کی ایک پالیسی ہوتی ہے جو وہ ایشو کرتی ہیں اور اس کو Execute کرتی ہیں ۔۔ کوئی ایک تجارتی پالیسی، ٹیکسٹائل پالیسی یا صنعتی پالیسی جو اس حکومت نے دی ہو ؟ اور یہ بھی بتائیں کہ کتنا Achieve کیا ہے اس پالیسی کو


اصل میں پی ٹی آئی والوں کو اب تک یقین ہی نہیں آیا کہ انہیں حکومت مل چکی ہے ۔۔ وہ پتا نہیں کب کنٹینر سے اتریں گے


اصل میں 3 سال میں لوئر کلاس کو بھی سبسڈی ملی ہے اور اپر کلاس کو بھی ۔۔ صرف تنخواہ دار طبقہ پسا ہے جن پر انکم ٹیکس کا بوجھ بھی بڑھا ہے، انفلیشن کا بھی اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا بھی ۔۔ ٹیک ہوم نا ہونے کے برابر رہ گئی ہے


ہر ملک کی حکومت سبسڈی دیتی ہے لیکن یکساں۔۔ یہاں طبقاتی ہوتی ہے


سبسڈی ہر حکومت Deserving کلاسز کو اپ لفٹ کرنے کیلئے دیتی ہے لیکن یہاں طبقاتی بنیاد پہ دی جاتی ہے جو برائی کی جڑ ہے


ٹیکس کی وصولی میں کرپشن ہوتی ہے اور ٹیکس بھی ایس آر او کے ذریعے معاف ہوکر دوبارہ لگا دئے جاتے ہیں


آخری بات ۔۔ آیا نہیں لایا گیا ہے ۔۔

Thursday, August 26, 2021

Strength out of Weakness



In his book, Confidence, Alan Loy McGinnis talks about a famous study entitled "Cradles of Eminence" by Victor and Mildred Goertzel, in which the family backgrounds of 300 highly successful people were studied.

Many of the names of those in the study were well-known to most of us--including Franklin D. Roosevelt, Helen Keller, Winston Churchill, Albert Schweitzer, Gandhi, and Einstein--all of whom were brilliant in their field of expertise.

The results of this study are both surprising and encouraging for many of us who came from a less than desirable home life. For example: "Three-quarters of the children were troubled either by poverty, by a broken home, or by rejecting, over-possessive or
dominating parents.

"Seventy-four of 85 writers of fiction or drama and 16 of the 20 poets came from homes where, as children, they saw tense psychological drama played out by their parents.

"Physical handicaps such as blindness, deafness, or crippled limbs characterized over one-quarter of the sample."

These people who had confidence in their abilities and put them to creative use had more weaknesses and handicaps than many who have all of their faculties intact and who had a reasonably good home life background. So, what made the difference? Probably by compensating for their weaknesses they excelled in other areas.

One man reported, "What has influenced my life more than any other single thing has been my stammer. Had I not stammered I would probably have gone to Cambridge as my brothers did, perhaps have become a don and every now and then published a dreary book about French literature." The speaker who stammered until his death was W. Somerset Maugham, as he looked back on his life at age 86.

"By then he had become a world-renowned author of more than 20 books, 30 plays, and scores of essays and short
stories."

It's not what we have or don't have that matters in life but what we do with what we have. All God expects of us is that we don't allow our past to determine our future, and that with his help we use what we have to the best of our ability.

Wednesday, August 25, 2021

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے 2 سبق

اس قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے 1971 کے بعد اور روس کے زوال کے بعد 2 سبق  سیکھے ہیں:

۔ سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنا

۔ وسائل کو اپنے کنٹرول میں رکھنا

لمبی بحث ہو جائے گی لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہی 2 اسباب تمام مسائل کی جڑ ہیں جب تک ان کا حل نہیں نکلے گا تب تک یہ ملک ایسے ہی چلے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے والوں کے وارے نیارے اور قوم خستہ حال ہی رہے گی ۔۔ اب ان سے نکلنے کیلئے جو بھی کوشش کرے گا اسکا حال "مجھے کیوں نکالا" ہو گا یا پھانسی لگے گا یا گولی کھائے گا ۔۔ اس کے کارکن کوڑے کھائیں گے یا وطن بدری ان کا مقدر ٹھہرے گی ۔۔ آپ یقین رکھیں جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے - اس ملک میں ایک لا وارث  نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے ۔۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی ۔۔ 

یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے

دنیا بدل چکی ہے

 دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس  اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...