Wednesday, April 6, 2022

پاکستان کا سیاسی گرداب

 پاکستان کا سیاسی گرداب

اظہر عباس


جیسا کہ میں نے پچھلے بلاگ میں لکھا تھا کہ جو بائیڈن ہاٹ پرسوٹ کی بجائے دنیا میں روایتی 80 کی دہائی کی سیاستکاری بذریعہ سفارتکاری کی اسٹریٹیجی پر جائے گا اور دنیا میں ڈیموکریٹک قوتوں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دے گا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا حکمران طبقہ اس تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام رہا ۔ ٹرمپ کے پاپولر سیاسی اسٹائل کو دیکھتے ہوئے عمران خان کو حکومت میں لایا گیا جس نے ٹرمپ سے قریبی مراسم بذریعہ اس کے داماد کشنر بڑھائے اور پھر ٹرمپ کو دورہ امریکہ میں بھرپور تعاون کی یہاں تک یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستانی سفارتخانہ کو ٹرمپ کا الیکشن آفس بنا دیا گیا ۔ یہ بات ڈیمو کریٹک پارٹی کو شروع سے کھٹک رہی تھی کہ ریپبلکن پارٹی کی حمایت میں پاکستان کس طرح سے تعاون کر رہا ہے ۔۔ یہاں رک کے ایک بات سوچیں کہ جب آپ ایک سپر پاور کے ملک میں جاکر ایک پارٹی کی ان کے الیکشن میں مدد کریں تو جوابی کاروائی سے بدکنا چہ معنی دارد ؟ اور وہ بلاشرکت غیرے سپر پاور جب آپ کے سفیر کو جوابی طور پر رجیم کے بدلاو کی بات کرے تو اس پر رونا کیسا ؟ اس ساری صورتحال میں جب کہ پاکستان کی حکومت و اسٹیبلشمنٹ اپنے سارے انڈے امریکہ کی ایک ہاری ہوئی پارٹی کی ٹوکری میں ڈال چکی تھی تو جیتی ہوئی پارٹی کے ایک اسسٹنٹ سیکرٹری کی ایک گھرکی کی مار ہی ثابت ہوئی اور جب عدم اعتماد اسمبلی میں پیش ہوئی تو ایک بھونڈے طریقے سے اپنی ہی حکومت توڑنی پڑی ۔۔ یہ بھونڈا انداز اتنا ناقابل فہم تھا کہ پورا ملک ایک آئینی و سیاسی گرداب میں پھنسا ہوا ہے ۔۔ ان حالات میں پاکستان کے معروف صحافی اپنے آج کے جنگ میں شائع شدہ کالم میں لکھتے ہیں کہ:


"افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہم سب سے زیادہ دنیا دیکھنے والے، مغرب کو سب سے زیادہ سمجھنے والے، اخلاقیات کا سبق دیتے کرکٹ لیجنڈ وزیراعظم عمران خان نے اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ورنہ وہ استعفیٰ دے کر ایک اعلیٰ مثال بھی قائم کر سکتے تھے۔


کھلاڑی آخری بال تک ضرور لڑتا ہے مگر ہار جائے تو شکست تسلیم بھی کرتا ہے۔مجھے کرکٹ دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق رہا ہے اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے حوالے سے میں عمران کے کزن ماجد خان سے بہت متاثر ہوں۔ اسے جب بھی لگتا تھا کہ بال اس کے بلے کو چھو کر وکٹ کیپر کے پاس گئی ہے تو وہ ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھے بغیر کریز چھوڑ دیتا تھا۔ 


اتوار کے روز قومی اسمبلی میں چار منٹ کا جو تماشہ ہوا اس نے بہت سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

حکومت اتنی جلدی میں تھی کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ پڑھتے وقت اسپیکر اسد قیصر کا نام بھی لے گئے جن کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک اسی دن جمع ہو گئی تھی۔ یہی کام ذرا بہتر انداز میں اپوزیشن کے ایک دو لوگوں کو سن کر ہی کرلیتے۔


وزیراعظم اور ان کے رفقاء کار نے 8 مارچ سے لے کر 27مارچ تک پوری کوشش کی کہ منحرفین واپس آجائیں، اتحادی مان جائیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ وہ تحریک کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔


اب اگر ’بین الاقوامی سازش‘ کا پتا انہیں 7مارچ کو چل گیا تھا تو پھر یہ ساری کوششیں کس لیے تھیں۔ یہ انکشاف اس وقت کیوں کیا گیا جب تمام تر ذاتی ملاقاتوں اور پارٹی رہنمائوں کی کوششوں کے باوجود کوئی واپس آنے کو تیار نہ ہوا۔ پھر جیسا کہ ہوتا ہے، آپ نے منحرفین کے گھر والوں تک کو دھمکی دیدی مگر وہ پھر بھی واپس نہ آئے۔ اس سے بہت بہتر ہوتا کہ کپتان اکثریت کھونے کے بعد میدان میں مقابلہ کرتے۔ الیکشن میں جانے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں تھا کیونکہ دوسری طرف 190 سے زیادہ اراکین تھے۔


آخر خان صاحب یہ بھی تو بتائیں کہ ان منحرفین کو پارٹی میں لانے کا فیصلہ کس کا تھا؟ اتحادیوں کو کس نے آپ کے حوالے کیا تھا ساری زندگی ’’نیوٹرل ایمپائر‘‘ لانے کا کریڈٹ لینے والے کپتان کو اب نیوٹرل جانور کیوں نظر آنے لگے۔"


ان کے اس سوال کا جواب سلیم صافی دیتے ہیں۔ اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ:

مختلف ممالک سے پاکستان کے سفارتخانے دو ذرائع سے اپنی وزارتِ خارجہ کو باخبر رکھتے ہیں۔ ایک معمول کے خطوط ہوتے ہیں اور دوسرے خفیہ ٹیلی گرام۔


خفیہ ٹیلی گرام میں سفیر اس ملک کے عوام اور حکومتی صفوں میں پاکستان کے بارے میں سوچ کا تجزیہ اپنے الفاظ میں کرتے ہیں۔ بالخصوص جب بھی کسی بھی ملک کے حکومتی عہدیدار سے سفیر کی ملاقات ہوتی ہے تو ان کے خیالات کا خلاصہ خفیہ کیبل کی صورت میں بھجوایا جاتا ہے۔


 ظاہر ہے اس میں اس سفیر کے اپنے خیالات اور تجزیاتی صلاحیت کا بھی دخل ہوتا ہے۔

امریکہ، چین، انڈیا، برطانیہ اور افغانستان جیسے ممالک سے نہ صرف یہ کیبلز تواتر کے ساتھ آتے ہیں بلکہ ان ممالک کی اہمیت کی وجہ سے انہیں خصوصی اہمیت بھی دی جاتی ہے۔


 میری معلومات کے مطابق یہ خفیہ ٹیلی گرام براہ راست سیکرٹری خارجہ کو بھیجے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور سی جی ایس کو بھی اسی روز بھیجے جاتے ہیں۔


یوں حکومت نے اس وقت جس خفیہ کیبل کو موضوع بحث بنایاہے، وہ اسی دن آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور سی جی ایس کو بھی گیا ہوگا اور اگر واقعی اس میں پاکستان کی سلامتی سے متعلق کوئی سنجیدہ خطرے کی بات ہوتی تو نہ صرف وہ اس پر ردعمل ظاہر کرتے بلکہ یہ شخصیات وزیراعظم سے کابینہ کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ طلب کرنے کا بھی مطالبہ کرتیں۔


پاکستان کے بارے میں امریکی یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر دھمکی دینی ہو یا پھر کوئی پیشکش کرنی ہو تو عسکری قیادت کوکی جاتی ہے نہ کہ وزیر خارجہ یا وزیراعظم کو۔

مثلاً جب زلمے خلیل زاد ہر ہفتے پاکستان آتے تھے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے نہ ملے ہوں لیکن وزیرخارجہ اور وزیراعظم سے وہ صرف ایک مرتبہ ملے۔ میں پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل جھوٹ ہے کہ سی آئی اے چیف جب پاکستان آئے تھے تو عمران خان نے ان کے ساتھ ملاقات سے انکار کیا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو ان کی پاکستان آمد اور آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات پتہ ہی تب چلاجب وہ پاکستان سے واپس جا چکے تھے۔


 اس پس منظر کو سامنے لانے سے مقصود یہ ہے کہ امریکہ کو اگر کوئی سنجیدہ پیغام دینا ہوتا تو وہ براہ راست عسکری قیادت کو دیتا نہ کہ وہاں پر موجود ہمارے سفیر کو۔


اب یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ پاکستانی ریاست سے ناراض یا نالاں ہے۔ ایک وجہ تو افغانستان ہے۔

 دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان ماضی کی طرح صرف اس کے کیمپ میں رہے لیکن جنرل کیانی اور آصف زرداری کے دور میں پاکستان نے روس اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کا آغاز کرکے یہ پیغام دیا تھا کہ پاکستان مزید امریکہ کی طرف نہیں دیکھے گا۔ اس دور میں صرف امریکہ کے خلاف برائے نام نعرے نہیں لگائے گئے تھے بلکہ نیٹو سپلائی بند کی گئی، بلوچستان میں ان کے اڈے واپس لیے گئے اور سپلائی تب بحال کی گئی جب امریکہ نے معافی مانگ لی۔


جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اسی پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، اسی طرح سی پیک اور چین کے ساتھ قربت سے بھی امریکہ خوش نہیں اور چین کے تناظر میں اس نے انڈیا کو اپنے اسٹریٹیجک پارٹنر کا درجہ دیا ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف ا سٹیٹ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو سے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے 7 مارچ کو الوداعی ملاقات کی۔

میری معلومات کے مطابق اس ملاقات میں ان کے ساتھ ایک اور سفارتکار بھی موجود تھے اور وہ بھی پاکستان میں اپنے باسز کو بتا چکے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس طرح حکومت پیش کررہی ہے۔

 اس ملاقات میں شاید انہوں نے روایتی طور پر پاکستان سے متعلق روایتی گلے شکوے کئے ہیں چونکہ ٹرم خان ایڈمنسٹریشن کا استعمال ہوتا ہے اس لیے شاید اس ملاقات میں بھی انہوں نے یہ ذکر کیا ہے۔


اس طرح کی ملاقاتوں میں عموماً دونوں ملکوں کی سیاسی صورت حال بھی ڈسکس ہوتی ہے چنانچہ ہوسکتا ہے پاکستان کی سیاسی صورت حال پر بھی بات چیت ہوئی ہو اور ڈونلڈ لو نے یہ بتایا ہو کہ عمران خان ایڈمنسٹریشن کی موجودہ پالیسیوں کے ساتھ تو چلنا مشکل ہے لیکن نئی حکومت نے اگر کچھ مثبت اقدامات لیے تو ان کے ساتھ کام ہوسکتا ہے۔

 پھر اس طرح کی ملاقاتوں میں ہر ملک اپنے مطالبات دہراتا ہے اور جواب میں سفیر اپنے ملک کا موقف پیش کرتا ہے۔


 بعض اوقات وہ عہدیدار مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ نتائج کا بھی ذکر کرتا ہے اور حکومت جو تاثر دے رہی ہے اس سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ شاید ڈونلڈ لو نے ممکنہ نتائج کا بھی ذکر کیا ہو۔


اب اس ملاقات کا خلاصہ اور تجزیہ اسد مجید خان نے پاکستان بھجوایا اور ظاہر ہے کہ یہ اسی روز سیکرٹری خارجہ کے ساتھ مذکورہ عسکری حکام کے پاس بھی گیا ہوگا.


 لیکن ہم نے دیکھا کہ حکومت نے اس کے بعد کئی روز تک اس حوالے سے نہ تو امریکہ سے کوئی احتجاج کیا اور نہ کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا کیونکہ وہ معمول کا ایک ٹیلی گرام تھا۔ کئی روز تک حکومت نے اس ٹیلی گرام کا کسی فورم پر کوئی ذکر نہیں کیا لیکن جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو عمران خان صاحب نے اپوزیشن کو مدافعتی پوزیشن پر لانے کے لیے اس ٹیلی گرام کا سہارا لے کر یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ امریکہ نے سات مارچ کو انہیں دھمکی دی اور اسی ٹیلی گرام میں یہ بات بھی ہےکہ عدم اعتماد کی تحریک امریکہ کے ایما پر لائی جارہی ہے۔


 اس دعوے سے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور خود امریکی ہکا بکا رہ گئے۔ وائٹ ہاوس اوراسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تردید کردی۔ ملاقات کرنے والے ڈونلڈ لو نے بھی ٹی وی انٹرویو میں کہہ دیا کہ عدم اعتماد یا دھمکی کی کوئی بات نہیں کی۔ سفیر اسد مجید کے ساتھ ملاقات میں موجودہ دوسرے سفارتکار بھی متعلقہ حکام کو بتاچکے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ چنانچہ فیس سیونگ کے لیے عمران خان نے کئی روز بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور اس میں نصف درجن غیرمتعلقہ وزیروں کو بلایا۔ کمیٹی کو اپنی مرضی کی بریفنگ دلوائی۔ پھر پریس ریلیز خود جاری کی 


لیکن پریس ریلیز میں نہ عدم اعتماد کا ذکرہے، نہ امریکہ کا نام ہےاور نہ حکومت گرانے کے لیے سازش کا ذکر عمران اور ان کے گوئبلز نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ ان کے دعوے کی سروسز چیفس نے بھی تصدیق کی ہے۔


اس سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اس ٹیلی گرام کو بنیاد بنا کر آرٹیکل 5 کی آڑ لے کر انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے عدم اعتماد کی تحریک واپس کرائی اور پھر اسمبلی توڑنے کا اعلان کیا۔ گویا اس ایک ٹیلی گرام کی بنیاد پر انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے ڈیکلیئر کروایا کہ اپوزیشن کے تمام رہنما اور ممبران اسمبلی غیرمحب وطن ہیں۔ اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس ٹیلی گرام کی حقیقت واضح کی جائے کیونکہ اپوزیشن کو غیرمحب وطن قرار دینے، پھر اس کی آڑ میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کی بجائے آئین شکنی کرکے اجلاس ملتوی کرنے اور پھر اسی کی آڑ میں اسمبلی توڑنے جیسے سارے افعال کی عمارت اس ٹیلی گرام پر کھڑی ہے۔

 پاکستان خارجہ محاذ پر مذاق بن گیا"


آئیندہ الیکشن اور تشکیل حکومت کا منظرنامہ ایمپائر کے نیوٹرل رہنے سے مشروط ہے ورنہ نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ مقابلہ تو نام ہی فیئرپلے کا ہے جو پاکستان میں ہمیں کم ہی نظر آیا ہے۔ اور ابھی بائیڈن/ ڈیموکریٹک پارٹی کے بھی تین سال باقی ہیں اور آنے والا اسٹیبلشمنٹ کا باس بھی تین سال ہی اپنی پالیسیاں تشکیل دے گا لیکن جس بات کی سمجھ عمران خان کو نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ جو انہیں اس مقام پر لے آئے کیا وہ انہیں دوبارہ وہیں دیکھنا چاہیں گے ؟ عدلیہ جو اتنا ٹائم ایک چھوٹا سا نقطہ جو ہر پھٹے والے وکیل کو بھی معلوم ہے کہ "بغیر دوسرے فریق کو سنے کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا" کیا سپریم کورٹ کے ججز کے علم میں نہیں ؟ وہ دراصل یہ ٹائم اس لئے لے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ یکسو ہوسکے جو وہ اس وقت نہیں ہے 


اللہ اس ملک کے باسیوں کیلئے رحمت کے دروازے کھولے اور لیڈران کرام کو عقل سلیم عطا فرمائے 


آمین

Thursday, March 3, 2022

مغربی حکومتوں کی منافقت

 سلامتی کونسل میں مختلف مندوبین کا موقف


یورپی یونین کے مندوب اولاف سکوگ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف یوکرین سے متعلق نہیں تھی بلکہ یہ عالمی سرحدوں کے دفاع سے معلق ہے۔


شام نے مغرب کے دہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے خود حالیہ دہائیوں میں لیبیا، عراق اور افغانستان میں مداخلت کی ہے


xX------------Xx-----------Xx


یوکرین پر حملہ کرنے پر روس کو سزا دینے کیلئے مغربی ممالک نے سخت موقف اختیار کیا ہے تاہم اس اقدام کی وجہ سے منافقت کا اعلیٰ معیار بے نقاب ہوگیا ہے کیونکہ امریکا نے جتنے ملکوں پر حملہ کیا ہے اس پر کبھی بھی اس کیخلاف سخت ترین پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔

 یوکرین میں اگر موجودہ حالات نے کچھ ثابت کیا ہے تو وہ یہ ہے کہ امریکا اور اس کے بین البراعظمیٰ ساتھیوں نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام پر ظلم و جبر اور بے رحمی کے ساتھ قبضہ کیا۔ اسی دوران، روس اور ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین میں اقدامات کی وجہ سے مرکزی دھارے کا تقریباً پورا میڈیا نازی جرمنی سے تشبیہہ دے رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والے اداریے میں کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ واضح ہونا چاہئے کہ منافقت اور عیاری کسی بھی ملک کو کسی دوسرے ملک کیخلاف حملوں کا جواز نہیں دیتی۔

 بہ الفاظ دیگر، چونکہ نیٹو ممالک 2001ء سے دنیا کے مختلف ملکوں پر حملے کرکے تباہی پھیلاتے رہے ہیں اسلئے روس کو بھی ایسا ہی کرنے کا جواز نہیں ملتا۔ کسی بھی ملک کے پاس طاقت کے استعمال کیلئے ٹھوس جواز ہونا چاہئے لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس کے اقدامات کو منصفانہ کہا جا سکتا ہے یا کیا یہ کارروائی قابل فہم ہے؟ اس سوال کا جواب قارئین خود دیں گے۔ لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ روس نیٹو کو توسیع پسندانہ عزائم کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی سے خبردار کرتا رہا ہے۔

 2007ء میں میونخ سیکورٹی کانفرنس میں روسی صدر نے واضح طور پر وہاں موجود طاقتور ممالک سے سوال کیا تھا کہ روس کی سرحدوں پر عسکری انفرا اسٹرکچر لگانے کی آخر ضرورت کیا ہے، کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہے؟ بعد میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روسی سرحد پر عسکری اثاثہ جات جمع کرنا کسی بھی طرح سے انفرادی ریاستوں کا جمہوری فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

 روسی صدر کی آواز پر کسی نے دھیان نہیں دیا اور نیٹو نے چار ممالک (البانیہ، کروشیا، مونٹی نیگرو اور شمالی مقدونیہ) کو رکنیت دیدی۔ تصور کریں کہ امریکا کو کتنی مرچیں لگتیں جب روس بھی ایسا ہی توسیع پسندانہ اقدام کرتے ہوئے جنوبی امریکی ریاستوں کو اپنا حصہ بنانا شروع کردے۔

روس کیلئے سب سے پریشان کن وقت وہ تھا جب امریکا اور نیٹو نے یوکرین میں جدید ترین اسلحہ جمع کرکے وہاں انبار لگا دیا اور یوکرین کو شہ دی کہ وہ نیٹو کی رکنیت حاصل کرے۔ یہی وہ وقت تھا جب یوکرین سے روس کو اپنی بقاء کا خطرہ لاحق ہوگیا۔

 دسمبر 2021ء میں جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو روس نے سیکورٹی کی ضمانت کیلئے ایک معاہدہ امریکا اور نیٹو ممالک کو پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مشرق کی جانب نیٹو کی توسیع روک دی جائے اور یوکرین سمیت دیگر ممالک کو نیٹو کی رکنیت نہ دی جائے۔

اس دستاویز میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ نیٹو یوکرین سمیت مشرق کی جانب دیگر ریاستوں اور وسط ایشیائی ریاستوں میں کوئی فوجی مشقیں یا دیگر سرگرمیاں نہیں کرے گا۔ ایک مرتبہ پھر روس کی تجاویز کو تکبر کی نگاہ سے مسترد کر دیاگیا۔ اگرچہ لوگوں کی نظر میں روس کی کارروائی حیران کن اور ناقابل قبول ہو سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ روس نے خبردار نہیں کیا تھا کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ 24؍ فروری کو صبح کو روس نیند سے جاگا اور اٹھ کر یوکرین پر حملہ کر دیا۔

اگر روس نے غلط کیا تو امریکا اور اس کے اتحادی ممالک گزشتہ دو دہائیوں سے کیا کرتے رہے ہیں؟ مثال کے طور پر عراق جنگ کو ہی دیکھ لیں، عراق پر حملے کے بعد کے نتائج میں مغربی میڈیا خود اعتراف کرتا ہے کہ یہ جنگ انٹیلی جنس اطلاع کی ناکامی کا نتیجہ تھی، امریکا اور اتحادیوں نے بلا اشتعال عراق پر چڑھائی کر دی۔

 9/11 کے حملے کے بعد امریکا نے براہِ راست صدام حسین پر الزام عائد کردیا کہ اس کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ جس وقت امریکا اور اقوام متحدہ کے ماہرین اس الزام کی تصدیق کیلئے عراقی سرزمین پر موجود تھے ٹھیک اسی وقت امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور پولینڈ نے 19؍ مارچ 2003ء کو عراق پر تباہ کن حملہ شروع کر دیا۔ قلیل عرصہ میں امریکا اور اس کے ساتھیوں نے دس لاکھ معصوم عراقیوں زخمی کیا، بے گھر کیا اور لاکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

 کیا یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں تھی؟ سینٹر فار پبلک انٹیگریٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بش انتظامیہ نے عوام میں اپنی گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے 2001ء سے 2003ء کے درمیان میڈیا میں 900؍ جھوٹ بولے اور یہ راگ الاپا کہ عراق سے امریکا اور اس کے شراکت دار ممالک کو خطرہ ہے۔

لیکن وہی مغربی میڈیا جو آج روسی جنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اسے عراقی زمین پر امریکی بوٹ اور عراقیوں کے خون میں کوئی انسانی حقوق نظر نہیں آئے۔ چونکہ فرانس نے عراق جنگ کی مخالفت کی تھی اسلئے امریکی سیاست دانوں نے غرور اور تکبر میں فرانسیسی شراب اور پانی کی بوتلوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

اب اس تمام تر صورتحال کا یوکرین کی موجودہ صورتحال کے ساتھ تقابل کریں جہاں اصولوں کے ترازو میں پلڑا روس کیخلاف ہے اور برسوں سے خدشات کے اظہار کے باوجود روس کے تحفظات دور نہ کیے جانے پر بھی کیا روس کو یہ اقدام کرنے کا جواز نہیں تھا؟ قارئین چاہے کچھ بھی سوچیں لیکن روس کیخلاف اس قدر شدید پابندیاں برسوں سے پابندیاں عائد کرنے کے باوجود عائد کی گئی ہیں تو امریکا اور مغرب کی منافقت پر ان کیخلاف کوئی پابندی کیوں نہیں عائد ہوئی؟

روسی افراد اور روسی معیشت کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ، فرانس کے وزیر معیشت کا بیان بڑا ہی دلچسپ ہے کہ فرانس روس کیخلاف مکمل معاشی اور مالیاتی جنگ کیلئے پر عزم ہے۔ پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ روسی میڈیا اور اصل خبروں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ ان خبروں کے ذریعے مغربی ممالک کو اصل صورتحال کا پتہ چل سکتا ہے۔

Saturday, February 19, 2022

میڈیا کی جنگ

 میڈیا کی جنگ 

اظہر عباس 


جب امریکہ نے 9/11 کے بعد افغانستان پر دھاوا بولا تو امریکی  موقف کو پذیرائی دلوانے کیلئے انکی ایک پالیسی بنائی گئی جس کے تحت میڈیا کو اپنے موقف کے پرچار کیلئے استعمال کرنا مقصود تھا ۔۔ انکی یہ پالیسی انٹر نیٹ پہ موجود ہے ۔۔ ریڈیو فری یورپ پہلے ہی موجود تھا اور اس میں پشتو کی نشریات کیلئے مشال ریڈیو اور ٹی وی استعمال کئے گئے اور پاکستان میں یکایک ٹی وی چینلز آ گئے ۔۔ انہیں سی آئی اے سے فنڈز دلوائے گئے اور ان چینلز کی میڈیا سے متعلقہ فیلڈ کیلئے تربیت گاہوں کو براہ راست وائس آف امریکہ کے ماہرین سے تربیت دلوائی گئی۔۔  ان کے ساتھ میڈیا مینیجمنٹ کے ماہرین کی ایک کھیپ بھی پاکستان بھیجی گئی ۔۔ وائس آف امریکہ کے مختلف چینلز پر براہ راست ایک یا دو گھنٹہ کے بلیٹن چلا کرتے تھے ۔۔ جب وائس آف امریکہ کی ملکی چینلز سے نشریات پر کچھ اعتراضات ہوئے تو اخباری ایجنسیاں جیسا کہ آن لائن  وغیرہ کھولی گئیں اور مختلف نیوز ویب سائٹس اور اخبارات وغیرہ جاری ہوئے۔ 


آجکل امریکہ کی میڈیا پالیسی کا محور ایران ہے اور پورا فارسی نشریات کا جال پھیلایا ہوا ہے ۔۔ میں چونکہ سیٹلائٹ نشریات دیکھتا اس لئے کچھ معلوم رہتا ہے اگر کبھی موقع ملے تو ایکسپریس اے ایم 22 سیٹلائٹ کی نشریات دیکھئے گا 300 سے زیادہ فارسی چینلز اس پیکج پر موجود ہیں اور فری ہیں جبکہ آجکل کے دور میں ڈیجیٹل چینلز انڈیا کے بھی پیڈ ہیں ۔۔ یہ دجالی میڈیا وار صرف امریکہ لڑ سکتا ہے ۔۔ ان کا ہدف وہی ہے جو شروع میں پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کے ذہن میں اپنے نفسیاتی ہتھکنڈوں سے ڈالا گیا ۔۔ فحاشی اور عریانی ان کے ہتھیار ہیں جن سے بچنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ۔۔ 


آپ غور کریں کہ انڈیا میں سی این این اپنا پورا نیٹ ورک ٹائم ناو کے نام سے چلا رہی ہے اور فاکس نیوز اپنا نیٹ ورک ریپبلک کے نام سے ۔۔ پتا نہیں کتنے اور ہوں گے ۔ مقصد ان کا ایک ہی ہے ۔۔ وہ اقوام جو ان کا مقابلہ کر سکتی ہیں انہیں آپس میں ہی لڑوا کے کھوکھلا کئے رکھو تاکہ مغرب کا مقابلہ نا کر سکیں ۔۔ بدقسمتی سے مودی سرکار اور اسکی پارٹی ان کی کٹھ پتلی بن چکی اور اپنا مقصد ان کے مقصد کے اندر سے نکالنا چاہ رہی ہے یعنی ہندتوا کا اجرا ۔۔ وہ ہمالیہ کی پوری وادی کو ہندو ریاست سمجھتے ہیں اور اس کی تجوید کیلئے کوشاں ہیں


اس دجالی میڈیا کو اگر کوئی سمجھتا ہے تو وہ صرف پوٹن ہے جس نے ان کے ہوش ٹھکانے لگا رکھے ہیں چین اپنی پالیسی پر کاربند ہے کہ انہی کے سرمائے سے انہیں مات دو لیکن چینی جس طرح اس میڈیا کا شکار ہو رہے ہیں اس کا جواب ان کا سیاسی نظام شاید دیر تک نا دے سکے اور کچھ عرصہ میں وہاں کچھ تبدیلیاں آئیں لیکن پوٹن انہی کی زبان میں جواب دینے کا ماہر ہے


ذرا غور فرمائیے ۔۔ برصغیر میں جب انگریز آئے تو اپنا نظام اپنے ساتھ لائے ۔۔ ہندو دھڑا دھڑ انکے نظام میں شمولیت اختیار کرنے لگے اور کامیابی کے ساتھ ان کے مہرے ٹھہرے جبکہ مسلمان کہیں بعد میں جا کے بذریعہ سرسید احمد خان اس نظام میں اپنی جگہ بنا پائے اور اپنا نیا ملک بھی اسی نظام کے اندر رہ کر حاصل کیا 


اب امریکی یہی کھیل ہر قوم کے ساتھ بذریعہ میڈیا کھیل رہے ہیں لیکن ان کا مقصد اپنا نظام مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک شیطانی جال بننا بھی ہے جو انسانی نفسیات کے مطابق فحاشی اور عریانی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔۔ وہ اسی قوم کی جوان لڑکیوں کو اپنے مادی جال میں پھنسا کر استعمال کرتے ہیں اور بعد میں یہی جوان نسل نظام کی تبدیلی کی ابتدا کرتی ہے ۔۔ ان کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ یہ عام مولوی اور میں تو کہتا ہوں خاص مولوی بھی نہیں کر سکتے ۔۔ انہیں ان کے ہتھکنڈوں کا مطالعہ کرنا چاہئے اور ان کا جواب دینے کی بجائے اپنا مقصد سامنے رکھ کر ان کا توڑ نکالنا چاہئے


اب ہوا یہ ہے کہ ہندو چونکہ ایک شاطر قوم ہے وہ سمجھ گئی ہے کہ دنیا کا نظام کس کے ہاتھ میں ہے اور اس نظام میں کس طرح شامل ہو کر اپنے مقاصد حاصل کرنے ہیں، چینی بھی اسی نظام سے اپنےمقاصد حاصل کر رہے ہیں ۔۔ اسرائیلی بھی اور یہاں تک کہ روسی بھی ۔۔ صرف مسلمان ہیں جن کے مقاصد ہیں ہی نہیں وہ اپنے خول میں حسب معمول دبک گئے ہیں اور مار کھا رہے ہیں۔۔ قائد اعظم اس نظام کو سمجھ رہے تھے اور انہوں نے مقاصد طے بھی کر دیئے تھے لیکن ہماری قوم ڈیفنس میں پھنس گئی اور صرف دفاع پر اپنی نظریں مرکوز کرلیں نتیجتا اپنا علاقہ مسلسل گنوا رہی ہے اور بجائے کوئی مقصد دینے کے ہمارے زعما آپس میں لڑائیاں لڑ رہے ہیں اور ہمارے علما حسب دستور امام مہدی کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔۔ اس وقت ضرورت ایک سر سید کی ہے جو اس نظام کو سمجھتا ہو اور مسلمان قوم کو ایک مقصد دے کر اس نظام کے اندر اس مقصد کیلئے نا صرف جدوجہد کرے بلکہ قوم کو اس مقصد کیلئے تیار بھی کرے

محسن بیگ کون ہے ؟

 محسن بیگ کون ہے ؟

اظہر عباس 


‏9/11 کے بعد میڈیا مینیجمنٹ کے ماہرین کی ایک کھیپ بھی پاکستان بھیجی گئی جن میں یہ موصوف بھی تھے جو وائس آف امریکہ کی جیو پر براہ راست ایک یا دو گھنٹہ کے بلیٹن چلوایا کرتے تھے ۔۔ ان صاحب میں پیچھے رہ کر آگے بڑھنے کا گر تھا جس کی وجہ سے بڑی ڈیلز کروانے کا کام انہیں سونپا گیا اور ملکی سرمایہ داروں سے میل ملاقاتیں کرتے کرواتے تھے ۔۔ جب وائس آف امریکہ کی ملکی چینلز سے نشریات پر کچھ اعتراضات ہوئے تو انہیں ایک اخباری ایجنسی آن لائن کے نام سے کھول کر دی گئی اور ایک اخبار جناح کے نام سے بھی انہوں نے جاری کیا ۔۔ عمران خان کے بت تراشنے، اسے جیو پر ٹائم دلوانے اور اس کی میڈیا مینیجمنٹ کے براہ راست ذمہ دار تھے اور اس کو فنڈنگ بھی ان کے ذریعے ہوتی تھی ۔۔ یہ اور مبشر لقمان جنگل کے راستے بنی گالا جایا کرتے اور اس کی ملاقاتیں کرایا کرتے ۔۔ اب ان معاملات کے چونکہ آنکھوں دیکھے گواہ تھے اس لئے ایک سودے (کہا جا رہا ہے کہ روسی کمپنی کی پائپ لائن کا سودا) میں کچھ رنجش ہوئی اور خان کو دھمکیاں دے کر باہر چلے گئے ۔۔ کچھ عرصہ لندن میں قیام پذیر رہے اور پھر جب معاملات بدلے تو کچھ بااثر ذرائع کی یقین دہانیوں پر واپس آئے ۔۔ اب کچھ عرصہ سے کھل کر بول رہے تھے لیکن سلیم صافی کے ساتھ ویڈیو لاگ (یو ٹیوب پر دیکھ لیں) میں کچھ ریڈ لائنز عبور کر بیٹھے جس پر نیازی نے سبق سکھانے کا حکم دیا ۔۔ غریدہ فاروقی والا پروگرام تو بے ضرر تھا ۔۔ کوئی وزیر یا بیوروکریٹ جب اس معاملے میں پڑنے پر تیار نہیں ہوا تو نیازی نے اپنے بندے کو آگے کر کے اسے سبق سکھانے کی کوشش کی ۔۔

Sunday, November 28, 2021

کالے خیالات

 

حسن نثار کے نام 


یہی لیڈر کہتا تھا کہ خودکشی کرلے گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گا ۔۔

بہتر ہے کہ خودکشی کر ہی لے اب بجائے اس کے کہ تمام ملک اور عوام کو خود کشی پر مجبور کرے 


نا اس کی کوئی تیاری تھی نا اس بندے کے پاس کوئی وژن ہے اور نا مستقبل کیلئے کوئی پلان ۔۔ بس قرض لے کر ملک چلا رہا ہے، عوام پس رہے ہیں 


اب تک کوئی پلان بنایا ہے اس نے کہ ملک کی جی ڈی پی کیسے بڑھانی ہے ؟


اب تک حال یہ ہے کہ پانچ سالہ منصوبہ تک بنانے میں ناکام رہا ہے ۔ یہ اس قابل ہی نہیں کہ ملک کا کچھ سوچ سکے


اس سے کہیں کہ کرے ۔۔ کچھ تو کرے ۔۔ اس کی حکومت ہے ۔۔ پلان کرے اور Execute کرے


نا کوئی وژن نا کوئی پلان ایک Dumb انسان کی طرح کرپشن کرپشن کرتا رہتا ہے ۔۔ ارے اب تو جسمانی کرپشن عروج پر ہے ۔۔ جب روزگار نہیں ہو گا تو لوگ وہی بیچیں گے جو ان کے پاس ہے


ہر وزارت کی ایک پالیسی ہوتی ہے جو وہ ایشو کرتی ہیں اور اس کو Execute کرتی ہیں ۔۔ کوئی ایک تجارتی پالیسی، ٹیکسٹائل پالیسی یا صنعتی پالیسی جو اس حکومت نے دی ہو ؟ اور یہ بھی بتائیں کہ کتنا Achieve کیا ہے اس پالیسی کو


اصل میں پی ٹی آئی والوں کو اب تک یقین ہی نہیں آیا کہ انہیں حکومت مل چکی ہے ۔۔ وہ پتا نہیں کب کنٹینر سے اتریں گے


اصل میں 3 سال میں لوئر کلاس کو بھی سبسڈی ملی ہے اور اپر کلاس کو بھی ۔۔ صرف تنخواہ دار طبقہ پسا ہے جن پر انکم ٹیکس کا بوجھ بھی بڑھا ہے، انفلیشن کا بھی اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا بھی ۔۔ ٹیک ہوم نا ہونے کے برابر رہ گئی ہے


ہر ملک کی حکومت سبسڈی دیتی ہے لیکن یکساں۔۔ یہاں طبقاتی ہوتی ہے


سبسڈی ہر حکومت Deserving کلاسز کو اپ لفٹ کرنے کیلئے دیتی ہے لیکن یہاں طبقاتی بنیاد پہ دی جاتی ہے جو برائی کی جڑ ہے


ٹیکس کی وصولی میں کرپشن ہوتی ہے اور ٹیکس بھی ایس آر او کے ذریعے معاف ہوکر دوبارہ لگا دئے جاتے ہیں


آخری بات ۔۔ آیا نہیں لایا گیا ہے ۔۔

Thursday, August 26, 2021

Strength out of Weakness



In his book, Confidence, Alan Loy McGinnis talks about a famous study entitled "Cradles of Eminence" by Victor and Mildred Goertzel, in which the family backgrounds of 300 highly successful people were studied.

Many of the names of those in the study were well-known to most of us--including Franklin D. Roosevelt, Helen Keller, Winston Churchill, Albert Schweitzer, Gandhi, and Einstein--all of whom were brilliant in their field of expertise.

The results of this study are both surprising and encouraging for many of us who came from a less than desirable home life. For example: "Three-quarters of the children were troubled either by poverty, by a broken home, or by rejecting, over-possessive or
dominating parents.

"Seventy-four of 85 writers of fiction or drama and 16 of the 20 poets came from homes where, as children, they saw tense psychological drama played out by their parents.

"Physical handicaps such as blindness, deafness, or crippled limbs characterized over one-quarter of the sample."

These people who had confidence in their abilities and put them to creative use had more weaknesses and handicaps than many who have all of their faculties intact and who had a reasonably good home life background. So, what made the difference? Probably by compensating for their weaknesses they excelled in other areas.

One man reported, "What has influenced my life more than any other single thing has been my stammer. Had I not stammered I would probably have gone to Cambridge as my brothers did, perhaps have become a don and every now and then published a dreary book about French literature." The speaker who stammered until his death was W. Somerset Maugham, as he looked back on his life at age 86.

"By then he had become a world-renowned author of more than 20 books, 30 plays, and scores of essays and short
stories."

It's not what we have or don't have that matters in life but what we do with what we have. All God expects of us is that we don't allow our past to determine our future, and that with his help we use what we have to the best of our ability.

Wednesday, August 25, 2021

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے 2 سبق

اس قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے 1971 کے بعد اور روس کے زوال کے بعد 2 سبق  سیکھے ہیں:

۔ سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنا

۔ وسائل کو اپنے کنٹرول میں رکھنا

لمبی بحث ہو جائے گی لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہی 2 اسباب تمام مسائل کی جڑ ہیں جب تک ان کا حل نہیں نکلے گا تب تک یہ ملک ایسے ہی چلے گا اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے والوں کے وارے نیارے اور قوم خستہ حال ہی رہے گی ۔۔ اب ان سے نکلنے کیلئے جو بھی کوشش کرے گا اسکا حال "مجھے کیوں نکالا" ہو گا یا پھانسی لگے گا یا گولی کھائے گا ۔۔ اس کے کارکن کوڑے کھائیں گے یا وطن بدری ان کا مقدر ٹھہرے گی ۔۔ آپ یقین رکھیں جس طرح اس ملک میں اشرافیہ، عام عوام اور غریب عوام کی کلاس ابھر کر سامنے آ رہی ہے جلد اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے - اس ملک میں ایک لا وارث  نسل بھی تیار ہو رہی ہے جس کی نا تربیت کی گئی ہے نا یہ تعلیم و دین کے نام سے واقف ہے اور یہ ایک سروے کے مطابق 6% ہے ۔۔ یہی 6% آپ کو ہر اخلاقی برائی اور سانحے کی ذمہ دار نظر آئے گی ۔۔ 

یہ ملک بہت تیزی کے ساتھ ایک معاشرتی بحران کیطرف جا رہا ہے اور اس کے ذمہ دار آپ میں اور یہ معاشرہ ہے

Thursday, July 15, 2021

طالبان، امریکہ اور پاکستان

 طالبان، امریکہ اور پاکستان


میرے ذاتی خیال میں جو نقشہ جیو پولیٹیکل بن رہا ہے اس میں نون لیگ یا پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنا مہنگا پڑے گا ۔۔ افغانستان، چین امریکا کے درمیان سینڈوچ ہونا، کشمیر پہ مستقبل میں ہونے والی سیٹلمنٹ، سعودیہ میں اقتدار کی تبدیلی کی امریکی خواہش اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ۔۔ ان سب کا بوجھ اٹھانے کی سکت ان دونوں میں نہیں نا ہی اسٹیبلشمنٹ یہ سب اکیلے کر سکتی ہے ۔۔ اسے کوئی سیاسی مہرہ چاہئے ہوگا اور ان سب کیلئے نیازی فٹ ہے ۔۔ جلد کچھ بڑے واقعات رونما ہونے کی بھی توقعات بڑھ گئی ہیں


امریکہ ایک اسٹریٹیجی کے تحت طالبان کو باہر لا کر کچھ کرنا چاہتا ہے ۔۔ وہ جب آیا تو افغانستان اس کیلئے اور نیٹو کیلئے اجنبی تھا لیکن اب وہ اس کے چپے چپے سے واقف ہے اور اس کی میپنگ کے علاوہ لوگوں سے بھی واقف ہو چکا ہے ۔۔ اور اس کیلئے یہ ملک اب ایک عام ریاست ہے جس کے جنگجو اب شہروں میں آسان ٹارگٹ ہیں ۔۔ میرا خیال غلط بھی ہو سکتا ہے لیکن شاید وہ اب ان کو روس، چین، پاکستان اور ایران کے خلاف استعمال کرے گا ۔۔ یہ اس کی پراکسی کے طور پر استعمال ہوں گے ۔۔ ان کے ہوتے ہوئے اسے کسی بیس یا اڈے کی ضرورت نہیں ہو گی


بقول سلیم صافی "وہ وقت دور نہیں جب ان سب کی عقل ٹھکانے آجائےگی کیونکہ طالبان ہم پاکستانیوں کی طرح دوغلے پن کا شکار نہیں ۔ ان کے ہاں منافقت نہیں۔ وہ جو نظام اپنے لئے پسند کرتے ہیں، وہی پاکستانی بھائیوں کے لئے بھی چاہتے ہیں اور وہ اپنے اس نظام کا سلسلہ پاکستان تک دراز کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے"


جو بائیڈن امریکا میں معیشت کو دوبارہ ریوائیو کرنے کیلئے کنسٹریکشن کے کام شروع کرا رہا ہے اور اس کیلئے اسے ورک فورس کی ضرورت ہے جو وہ اپنے سسٹم سے لے گا ۔۔ خارجی طور پر وہ 80 اور 90 کے سسٹم پر واپس جا رہا ہے جب کولڈ وار اور روایتی سفارتکاری کے ذریعے اشارے/ دھمکی دے کر اور باز نا آنے پر پراکسی کا استعمال یا خفیہ آپریشن سے اپنا مقصد پورا کرتا تھا ۔۔ مثالیں بہت ہیں لیکن صرف سعودیہ میں اس نے پہلے ایم بی ایس کو نا پسندیدہ قرار دیا، پھر رپورٹ جاری کی اور اب اس کے دوسرے بھائی کو امریکہ بلا کر ریڈ کارپٹ استقبال کیا ۔۔ مطلب ایم بی ایس کو راہ راست پر لانا یا ہٹانا ہے اور آپ دیکھیں گے کہ یہ سلسلہ بڑھے گا ۔۔

اسی طرح اس نے نیازی کا فون لینے سے انکار کیا، پھر عباسی اور مراد علی شاہ کو بلایا اور اب شارٹ لسٹ کر کے مراد علی شاہ اور بلاول کو پھر بلا لیا ۔۔ مطلب یہاں بھی وہ ابھی اشارے دے رہا ہے کوئی سمجھے یا نا سمجھے ۔۔ اب امریکا روایتی طریقوں پہ جائے گا تاکہ ہاٹ پرسوٹ سے بچ کر اپنا مقصد نکالے کیونکہ ان مہمات نے اس کی معیشت کا بھٹا دیا ہے ۔۔ بائیڈن پہلے اپنی معیشت کو درست کرے گا اور پھر کسی نئی مہم پر نظریں جمائے گا ۔۔ اس دوران وہ عالمی بساط پر اپنے مہروں سے کام لے گا ۔۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ہمیں کچھ واقعات کیلئے تیار رہنا ہو گا اور اس کے بچاو کیلئے اپنی ترجیحات ابھی سے طے کرنی ہوں گی ورنہ سانحات رونما ہوں گے (اللہ نا کرے)

Tuesday, July 13, 2021

گنتے رہا کریں

 ’’تم یقین کرو میں سانس کی نعمت سے واقف ہی نہیں تھا‘ کورونا کا بھلا ہو‘ یہ آیا اور اس نے مجھے نعمتوں سے جوڑ دیا‘‘ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ یہ ’’موسٹ پریکٹیکل‘‘انسان ہیں‘ قسمت‘ قدرت اور خدا پر یقین نہیں رکھتے‘کوشش کو بے انتہا اہمیت دیتے ہیں‘ بزنس مین ہیں‘ پوری زندگی پیسہ کمایا اور پیسہ جوڑا لیکن پھر اچانک ان کا رویہ 180 درجے بدل گیا‘ یہ اب روز اللہ کا نام بھی لیتے ہیں اور اس کی نعمتوں کا ورد بھی کرتے ہیں‘ نماز بھی پڑھتے ہیں اوران کا دل بھی بہت نرم ہو چکا ہے۔

اتوار کے دن میرے پاس تشریف لائے اور دوگھنٹے میرے پاس بیٹھے رہے‘ ہر لمبی سانس کے ساتھ ’’یا اللہ تیرا شکر ہے‘‘ کہتے تھے اور اوپر دیکھتے تھے‘ میں نے ان سے پوچھا’’عزیز بھائی خیریت ہے‘ آپ بالکل ہی تبدیل ہو گئے ہیں‘‘ وہ بولے ’’کورونا کی مہربانی ہے‘ میں وبا کا شکار ہوا‘ سانس بند ہونے لگی‘ بچے اسپتال لے گئے‘ علاج ہوتا رہا‘ ڈاکٹروں نے آخر میں آئی سی یو میں ڈال دیا‘ اسپتال پرائیویٹ تھا‘ روزانہ ایک لاکھ سولہ ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔

میں بیس دن اسپتال رہا‘ اللہ نے رحم کیا‘ موت کی سرحد چھو کر واپس آگیا‘ ڈس چارج ہوتے وقت بل دیکھا تو 31 لاکھ روپے تھا‘ میں نے ڈاکٹر سے کہا‘ آپ مجھے 20 دنوں میں جو ادویات اور سہولتیں دیتے رہے کیا آپ مجھے اس کا بریک ڈاؤن دے سکتے ہیں‘ڈاکٹر پریشان ہو گئے‘ میں نے زور دیا تو وہ مان گئے۔ بل سامنے آیا تو پتا چلا مجھے 9 لاکھ روپے کی آکسیجن لگی تھی بس یہ دیکھنے کی دیر تھی‘ میں نے وضو کیا‘ دو نفل پڑھے اور اپنے پروردگار کا شکر ادا کیا‘ یہ روز مجھے550لیٹر آکسیجن بھی دیتا ہے اور اس آکسیجن کو پھیپھڑوں تک پہنچانے اور واپس نکالنے کا بندوبست بھی کرتا ہے اوراس کے بعد مجھے کوئی بل بھی نہیں بھجواتا‘ آپ جاوید تصور کرو 20 دن تک آکسیجن پھیپھڑوں تک پہنچانے اور نکالنے کا خرچ 9 لاکھ روپے اور ٹوٹل خرچ 31 لاکھ روپے تھا جب کہ ہمارا اللہ ہمیں یہ سہولت روزانہ مفت دیتا ہے‘ ہم پر اس کا کتنا کرم کتنی مہربانی ہے؟‘‘ میں نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگایا‘ آسمان کی طرف دیکھا اور دیر تک اپنے رب کا شکر ادا کرتا رہا۔

میرے ایک سینئر دوست ہیں‘ سیاست دان ہیں‘ سینیٹر ہیں‘ بہت پڑھے لکھے‘ تجربہ کار اور سمجھ دار انسان ہیں‘ میں ہفتے دس دن بعد کافی کے دو مگ لے کر ان کے پاس پہنچ جاتا ہوں‘ ان کے ساتھ ان کے لان میں بیٹھتا ہوں‘ کافی اور ان کی گفتگو انجوائے کرتا ہوں‘ میں پچھلے ہفتے ان کے پاس گیا تو شاہ صاحب نے ارشاد احمد حقانی مرحوم کے بارے میں ایک واقعہ سنایا‘ ارشاد احمد حقانی پاکستان کے سینئر صحافی اور کالم نگارتھے‘ ایک معاصر میں کالم لکھتے تھے‘ میری پوری نسل ان کے کالم پڑھ کر جوان ہوئی اور ان سے لکھنا سیکھا‘ شاہ صاحب نے بتایا میں 1998 میں ایران جا رہا تھا‘ ارشاد احمد حقانی سے ملاقات ہوئی۔

انھوں نے پوچھا‘ کیا آپ مشہد بھی جائیں گے؟ میں نے عرض کیا ’’جی جاؤں گا‘‘ انھوں نے فرمایا ’’آپ میرے لیے وہاں خصوصی دعا کیجیے گا‘‘ میں نے وعدہ کر لیا لیکن اٹھتے ہوئے پوچھا ’’آپ خیریت سے تو ہیں؟‘‘ حقانی صاحب دکھی ہو کر بولے ’’میری بڑی آنت کی موومنٹ رک گئی ہے‘ پاخانہ خارج نہیں ہوتا‘ میں روز اسپتال جاتا ہوں اور ڈاکٹر مجھے بیڈ پر لٹا کر مشین کے ذریعے میری بڑی آنت سے پاخانہ نکالتے ہیں اور یہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے‘‘ شاہ صاحب نے اس کے بعد کانوں کو ہاتھ لگایا‘ توبہ کی اور کہا ’’ہمیں روز اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

ہم اپنے منہ سے کھا بھی سکتے ہیں اور ہمارا کھایا ہوا ہمارے پیٹ سے نکل بھی جاتا ہے ورنہ دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ اپنی مرضی سے کھا سکتے ہیں اور نہ نکال سکتے ہیں‘‘ یہ بات سن کر مجھے بے اختیار چوہدری شجاعت حسین یاد آگئے‘ چوہدری صاحب خاندانی اور شان دار انسان ہیں‘ میرے ایک دوست چند دن قبل ان کی عیادت کے لیے گئے‘ چوہدری صاحب خوش تھے اور بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے‘ میرے دوست نے صحت کے بارے میں پوچھا تو چوہدری صاحب نے جواب دیا ’’میں بہت امپروو کر رہا ہوں‘ میں اب اپنے منہ سے کھا بھی لیتا ہوں اور اپنے پاؤں پر کھڑا بھی ہو جاتا ہوں‘‘ دوست نے پوچھا ’’ آپ کی حالت اس سے پہلے کیسی تھی؟‘‘ چوہدری صاحب بولے ’’میری ٹانگیں میرا بوجھ نہیں اٹھاتی تھیں اور میرے پیٹ میں ٹیوب لگی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر مجھے اس کے ذریعے کھلاتے تھے‘ میں منہ کے ذائقے کو ترس گیا تھا‘ الحمد للہ میں اب تھوڑا تھوڑا کر کے کھا بھی لیتا ہوں اور چل پھر بھی سکتا ہوں‘‘ چوہدری صاحب میٹنگ کے بعد اٹھے اور مہمان کو دروازے تک چھوڑ کر آئے اور وہ اس سے بے انتہا خوش تھے‘ مجھے اسی طرح ملک کے ایک اور نامور سیاست دان نے بتایاتھا‘ آصف علی زرداری نے انھیں کھانے کی دعوت دی‘ یہ دعوت پر پہنچے تو ٹیبل پر درجنوں کھانے لگے تھے۔

ان کے بقول میں نے اپنی پلیٹ اٹھائی تو زرداری صاحب کا سیکریٹری آیا اور ان کا کھانا ان کے سامنے رکھ دیا‘ چھوٹی چھوٹی کولیوں میں تھوڑی سی بھنڈی‘ دال‘ ابلے ہوئے چاول اور آدھی چپاتی تھی‘ زرداری صاحب نے چند لقمے لیے اور خانساماں ٹرے اٹھا کر لے گیا‘ میں نے ان سے ان کی سادہ خوراک کے بارے میں پوچھا تو وہ ہنس کر بولے ’’میری خوراک بس بھنڈی اور سادہ چاول تک محدود ہے‘ میں ان کے علاوہ کچھ نہیں کھا سکتا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیاآپ گوشت نہیں کھاتے‘‘ وہ دوبارہ ہنسے اور بولے ’’میں گوشت کھا ہی نہیں سکتا‘‘ میرا بہت دل چاہا میں ان سے وجہ پوچھوں لیکن احترام کی وجہ سے خاموش رہا‘ میں کھانا کھا کر واپس آگیا لیکن آپ یقین کریں میں اس کے بعد جب بھی کھانا کھانے لگتا ہوں تو مجھے زرداری صاحب کی ٹرے یاد آ جاتی ہے اور میں کھانا بھول جاتا ہوں۔

میں بے شمار ایسے لوگوں سے واقف ہوں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اقتدار‘ شہرت اور پیسے سے نوازا‘ ان کی ہاں سے سیکڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل جاتی ہیں اور ناں سیکڑوں ہزاروں لوگوں کے قدموں سے زمین کھینچ لیتی ہے لیکن یہ خود اپنی قمیص پہن سکتے ہیں اور نہ اتار سکتے ہیں‘ یہ جھک کر اپناجوتا بھی نہیں پہن سکتے‘ میں بینک کے ایک مالک کو جانتا ہوں‘ یہ صبح جاگتا ہے تو چار بندے ایک گھنٹہ لگا کر اسے بیڈ سے اٹھنے کے قابل بناتے ہیں‘ یہ اس کے پٹھوں کا مساج کر کے انھیں اس قابل بناتے ہیں کہ یہ اس کے جسم کو حرکت دے سکیں۔

اس کی گاڑی کی سیٹ بھی مساج چیئر ہے‘ یہ سفر کے دوران اسے ہلکا ہلکا دباتی رہتی ہے اوران کے دفتر اور گھر دونوں جگہوں پر ایمبولینس ہر وقت تیار کھڑی رہتی ہے‘ آپ دولت اور اثرورسوخ دیکھیں تو آپ رشک پر مجبور ہوجائیں گے اور آپ اگر اس کی حالت دیکھیں تو آپ دو دوگھنٹے توبہ کرتے رہیں‘ پاکستان میں ہوٹلز اور موٹلز کے ایک ٹائی کون ہیں‘ صدرالدین ہاشوانی‘ یہ پانچ چھ برسوں سے شدید علیل ہیں‘ ڈاکٹر اورفزیو تھراپسٹ دونوں ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں‘ ان کے پرائیویٹ جہاز میں ان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔

فزیو تھراپسٹ دنیا جہاں سے ان کے لیے فزیو تھراپی کی مشینیں تلاش کرتے رہتے ہیں‘ مجھے جرمنی کے شہر باڈن جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ مساج اوردیسی غسل کا ٹاؤن ہے‘ شہر میں مساج کے دو دو سو سال پرانے سینٹرہیں اور دنیاجہاں سے امیر لوگ مالش کرانے کے لیے وہاں جاتے ہیں‘ چھ چھ ماہ بکنگ نہیں ملتی ‘ آپ وہاں لوگوں کی حالت دیکھیں تو آپ کی نیند اڑ جائے گی‘ مریض کے پروفائل میں دس دس بلین ڈالر کی کمپنی ہوتی ہے لیکن حالت دیکھیں گے تو وہ سیدھا کھڑا ہونے کے قابل بھی نہیں ہوتا‘ہم انسان ایک نس کھچ جانے کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتے‘ ہم چمچ تک نہیں اٹھا پاتے اور نگلنے کے قابل نہیں رہتے‘ یہ ہماری اصل اوقات ہے۔

میں ایک بہت ہی عام انسان ہوں‘ میری اچیومنٹس اے کے برابر بھی نہیں ہیں لیکن چند دن قبل میرے ساتھ بھی دو واقعات پیش آئے اور انھوں نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا‘ میں 22 سال سے مسلسل واک کر رہا ہوں‘ میرے لیے دس پندرہ کلومیٹر عام سی بات ہوتی تھی‘ میں خود کو ’’سپر فٹ‘‘ بھی سمجھتا تھا‘ خوراک انتہائی کم تھی اور دماغ پر سکون‘ لائف اسٹائل پیس فل اور دن میں دو بار ایکسرسائز اور رات کے وقت واک لیکن پھر ایک دن چلتے چلتے میرے گھٹنے نے میرا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا‘ ٹانگ میں شدید درد ہوا اور میں چلنے پھرنے سے تقریباً لاچار ہو گیا۔

اللہ کا کرم اور رحم ہے فزیو تھراپی کی وجہ سے میں اب نارمل ٹریک پر واپس آ رہا ہوں لیکن یہ واقعہ مجھے میری اوقات سمجھاگیا‘ مجھے چند منٹوں میں پتا چل گیا اللہ کے اس سسٹم میں میری فٹ نس اور احتیاط دونوں بے معنی ہیں‘ دوسرا واقعہ اس سے بھی خوف ناک تھا‘ میں نے گولی نگلنے کی کوشش کی اوروہ میرے حلق میں اٹک گئی‘ وہ دس سیکنڈ میرے گلے میں پھنسی رہی‘ آپ یقین کریں وہ دس سیکنڈ میری زندگی کا مشکل ترین دورانیہ تھا۔

میں نے اس دوران موت کو بالکل اپنے سامنے دیکھا ‘ وہ مشکل وقت بھی گزر گیا‘ گولی بھی حلق سے پیٹ میں چلی گئی لیکن وہ دس سیکنڈ مجھے میری اہمیت‘ وقعت اور اوقات سب کچھ بتا گئے‘ میں اس کے بعد ہر لمحہ اٹھتے بیٹھتے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور روز صبح جاگتے ہوئے اور رات سوتے وقت اللہ کی نعمتیں شمار کر کے سوتا اور جاگتا ہوں‘ آپ بھی اللہ کی مہربانیاں گنتے رہا کریں اور ان لوگوں سے بھی ملتے رہا کریں جن کو دوا‘ ڈاکٹر اور اسپتال تینوں سہولتیں دستیاب ہیں لیکن وہ اللہ کے رحم سے محروم ہیں چناں چہ کھا سکتے ہیں‘ اٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی بیٹھ سکتے ہیں‘صرف بے چارگی سے دائیں بائیں دیکھ سکتے ہیں۔

Thursday, June 24, 2021

ہم نے معاشرے کو عورت کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے

 میں الحمد للہ شریعت کے تمام احکامات کو لازم سمجھتا ہوں لیکن جہاں تک پردے‘فحاشی اور جنسی زیادتی کا معاملہ ہے میں ان تینوں کے تعلق کو سمجھنے سے قاصر ہوں‘ رسول اللہﷺ کے زمانے میں زنا کی تین سزائوں پر عمل ہوا تھا‘ میری علماء کرام سے درخواست ہے آپ یہ بتا دیں وہ لوگ کون تھے؟ یہ واقعہ کہاں پیش آیا‘ یہ سزائیں کس نے دیں اور یہ گناہ کس کے دور میں ہوا ؟ آپ کو اس کے بعد معاملے کو سمجھنے میں دقت نہیں ہو گی۔

دوسرا ملک میں زینب‘ مروہ‘ سیما اورحریم جیسی بچیوں کی آبروریزی ہوتی ہے‘ کیا یہ وارداتیں فحش لباس کی وجہ سے ہوتی ہیں؟ لاہور میں عزیزالرحمن نام کے ایک نام نہاد مذہبی رہنما نے مدرسے کے باریش طالب علم سے اغلام بازی کی‘ طالب علم نے دعویٰ کیا اس کے ساتھ تین سال تک یہ فعل ہوتا رہا‘ ملزم عزیز نے اپنے ویڈیو بیان میں تسلیم کر لیا یہ فعل جبراً نہیں ہوا تھا اور یہ واقعہ اڑھائی تین سال پرانا ہے۔

ملزم شاید یہ کہنا چاہتا تھا اغلام بازی رضا مندی سے ہو تو یہ جائز ہو جاتی ہے اور یہ واقعہ اگراڑھائی تین سال پرانا ہو تو اسے درگزر کر دینا چاہیے‘ سوال یہ ہے مدرسے کے باریش نوجوان نے کون سے فحش کپڑے پہن رکھے تھے جن کی وجہ سے ملزم عزیز روبوٹ سے انسان بن گیا اور اسے ترغیب (Temptation)مل گئی‘9ستمبر 2020کو موٹروے ریپ کیس ہوا تھا‘ دو درندہ صفت ڈاکوئوں نے بچوں کے سامنے ماں کو ریپ کر دیا۔

اس عورت نے کون سا فحش لباس پہن رکھا تھا اور ان ڈاکوئوں کو کار کے اندر سے کون سی ترغیب مل گئی تھی اور مختاراں مائی کے کیس کو 2002میں بین الاقوامی بدنامی حاصل ہوئی ‘ اس کیس میں پنچایت کے حکم پر مختاراں مائی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا‘ اس میں Temptationکہاں تھی؟ یہ واقعات آٹے میں نمک کے برابر ہیں‘ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات درجنوں نہیں ہیں‘ سیکڑوں اور ہزاروں ہیں‘ میں پردے کے خلاف نہیں ہوں۔

یہ اللہ کا حکم ہے اور ہمیں اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کیا پردے کی وجہ سے ملک سے ریپ کے واقعات ختم ہو جائیں گے اور کیا ان کی روک تھام کے لیے حیاء اور مذہب کافی ہے؟ جی نہیں اگر یہ واقعات حیاء اور مذہب سے رک سکتے تو عزیز الرحمن جیسا واقعہ بھی پیش نہ آتا‘ مختاراں مائی بھی گینگ ریپ کا نشانہ نہ بنتی اور زینب کی لاش بھی پانچ دن نہ ملتی لہٰذا ہمیں ماننا ہو گا ریپ اور جنسی بے راہ روی کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم نے معاشرے کو عورت کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے‘ ہم اسے مٹی کا کھلونا سمجھتے ہیں چناں چہ اسے روندنا‘ مسلنا اور برباد کرنا ہماری نظر میں کوئی جرم نہیں‘ ہم یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں ہمارے معاشرے میں ذہنی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ ایسے جانور ہیں جن سے عورت اور مرد تو کیا لاشیں بھی محفوظ نہیں ہیں اور تیسرا ہم نے بدقسمتی سے آج تک ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

ہم ہراسگی اور جنسی زیادتی کے کیسوں کا فوری فیصلہ کیوں نہیں کرتے اور ہم ذمے داروں کو قرار واقعی سزا کیوں نہیں دیتے؟ ہم معاشرے کو خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ کیوں نہیں بناتے؟ ہم شادی کو آسان اور سستا کیوں نہیں بناتے؟ ہم ملک میں پورن مٹیریل پر پابندی کیوں نہیں لگاتے‘ ہم دفتروں اور کمپنیوں میں خواتین کا کوٹہ مخصوص کیوں نہیں کرتے اور ہم گھریلو تشدد کا سخت نوٹس کیوں نہیں لیتے؟

ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا ہم جب تک خواتین کے بارے میں مردوں کا تصور اور رویہ نہیں بدلیں گے یہ ملک نہیں بدلے گا‘ ہمارے ملک میں آج بھی تقریبات میں مرد پہلے کھانا لیتے ہیں اور خواتین بعد میں‘ کیوں؟ ہم نے اپنے سیشنز اور ٹورز کے دوران اصول بنایا تھا خواتین مردوں سے پہلے کھانا لیں گی‘ آپ یقین کریں خواتین اور مردوں دونوں نے ایک دوسرے کا احترام شروع کر دیا‘ہم قومی سطح پر یہ اصول کیوں نہیں بناتے؟

وزیراعظم اگر اس کے باوجودیہ سمجھتے ہیں پردے کے علاوہ معاشرے کو ٹھیک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تو پھر وزیراعظم یہ نیک کام اپنی پارٹی سے شروع کیوں نہیں کرتے؟ کابینہ میں پانچ خواتین وزراء ہیں‘ آپ انھیں باقاعدہ شرعی پردہ کرائیں‘ محترمہ زرتاج گل اگر سعودی عرب اور یو اے ای کے شاہی وفود سے ملاقات کے دوران عبایا پہن سکتی ہیں اور اسکارف لے سکتی ہیں تو یہ عام زندگی میں ایسا کیوں نہیں کرتیں؟

اگر خاتون اول شرعی پردے میں رہ سکتی ہیں تو شیریں مزاری‘ فہمیدہ مرزا‘ زبیدہ جلال اور ثانیہ نشتر کیوں نہیں کر سکتیں؟ وزیراعظم اگر واقعی پردے کے معاملے میں سیریس ہیں اور یہ سمجھتے ہیں ملک میں اسی سے انقلاب آئے گا تو یہ شیریں مزاری سے اس کا آغاز کر کے ملک کے لیے روشن مثال قائم کریں‘ ملک خود بخود پردے میں چلا جائے گا‘ آپ کو اپنے دائیں بائیں موجود لوگ تو نظر آتے نہیں ہیں لیکن آپ پوری دنیا کو پردے پر لیکچر دے رہے ہیں‘ یہ کہاں کا انصاف ہے‘ یہ کہاں کی تبلیغ ہے؟

دنیا بدل چکی ہے

 دنیا بدل چکی ہے اظہر عباس  اسرائیل جو مظلومیت کا رونا روتا تھا اب ظالم کے روپ میں ہے۔ یورپ امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہا۔ امریکہ کے ایجنٹ ممال...